تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہعلم و ادب

کتنی تصویروں کے ساتھ آئی ہے شامِ زندگی –انور عباسی کی آپ بیتی حصہ 2

by انور عباسی 11/03/2017
written by انور عباسی 11/03/2017
114

یادوں کے پھُول:  سرِ دیوار لکھتا ہوں پسِ دیوار کے قصے

کتنی تصویروں کے ساتھ آئی ہے شامِ زندگی
وقت جب کم رہ گیا تو کام یاد آئے بہت

معاشی اور معاشرتی حالات

آزاد کشمیر، ضلع پونچھ (آج کا ضلع باغ)، نیلا بٹ (کھنتل)۔ گائوں کا نام نیلا بٹ تو بعد میں مشہور ہوا، اس وقت یہ کھنتل ہی تھا۔ انتہائی پس ماندہ سا بارانی علاقہ جہاں کے باسی زیادہ تر کھیتی باڑی پر ہی انحصار کرتے۔ اور بعض، جن کو زمین سے ناکافی فصل حاصل ہوتی، مری اور پنڈی میں محنت مزدوری کرکے بال بچوں کے رزق کا سامان کرتے۔ گائوں کے ہر فرد کے پاس اپنا مکان اور قطعہ زمین تھا۔ زمین سے مکئی اور گندم کی فصلوں کے علاوہ ہر قسم کی سبزی اور دالیں وافر مقدار میں حاصل ہوتی تھیں۔مکئی اور گندم کے علاوہ کنگنی اور چِین نامی دو فصلیں ہوا کرتی تھیں جن کا آج کل نام بھی سننے میں نہیں آتا۔چِین کی لیس دارروٹی بنائی جاتی جس کو ہم نے کبھی پسند نہیں کیا لیکن پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے اس کو من و سلویٰ کا درجہ دینا پڑتا۔شک گزرتا ہے بنی اسرائیل کو بھی یہی ٹیسٹ وغیرہ کی شکایت رہی ہو گی۔کنگنی کے دانے نکالنے کے لیے اسے اوکھلی کے حوالے کرنا پڑتا۔ اس کا کاڑھا بنا کر نزلہ بخار کا علاج کیا جاتا۔نزلہ بخار حتّیٰ کہ نمونیہ وغیرہ کے علاج کے لیے ’نیلیاں کھماں‘ استعمال کی جاتی تھیں۔ اسے تیار کرنے کے لیے کچی مکئی کے دانے نکال کر ٹھیکری میں بھونتے جس کا کاڑھا بنایا جاتا۔ رات کو اسے پی کر (یا کھا کر) لحاف کے اندر گھس جاتے اور پسینے میں نہاتے۔ صبح دیکھتے تو نزلہ زکام ختم ہو چکا ہوتا۔

اپنے گھر کا موسمی پھل ہر فرد کو میسر تھا۔ نہیں تو پاس پڑوس کے پھل پر ہر کوئی باقائدہ حق رکھتا تھا۔زیادہ تر لوگوں کے پاس ایک عدد گائے یا بھینس، اور بیلوں کی ایک جوڑی ضرور ہوتی تھی۔ یوں دودھ، دہی، گھی کے لیے کوئی کسی کا دست نگر نہیں تھا۔ہر گھر میں مرغبانی کا شعبہ قائم تھا۔ گوشت اور انڈے وافر مقدار میں ہوتے تھے۔ مہمان کی تواضع تو ہمیشہ اپنے گھر کی پالی ہوئی مرغی سے ہی کی جاتی تھی۔ بہت ہی کم ایسا ہوتا کہ کسی کے پا س یہ سہولیات نہ ہوتیں۔تعلیم عام تو نہیں تھی لیکن اخلاقی حس عام تھی چنانچہ اس صورت میں لوگ اپنے پڑوسیوں کا خاص خیال رکھتے۔ دہی، لسی اور ساگ سبزی میں سب کو شریک کرنا گویا ایک طرح کا دستور تھا۔ ترقی یافتہ اِس دور میں معلومات (جنہیں لوگ غلطی سے تعلیم سمجھتے ہیں) تو عام ہوئیں لیکن ہم سب اخلاقی حس سے بے حس اور محروم!

معیارِ زندگی سب کا تقریباً یکساں تھا۔ دولت کی تقسیم میں بہت زیادہ تفاوت نہیں تھا۔ ایک دو افراد ہی خوشحال تصوّر کیے جاتے تھے۔ اب ہم سیرت کی کتابوں میںجب یہ پڑھتے ہیں کہ قرونِ اولیٰ میں نبی اکرم ﷺ کے کپڑوں میں پیوند بھی لگے ہوتے تھے تو حیران سے ہو جاتے ہیں لیکن ہمارے گائوں میں یہ ایک عام سی بات تھی۔ نئے کپڑے وہ بھی عید کے موقع پرکبھی کبھار نصیب ہو جائیں تو الگ بات ہے ورنہ ایک آدھ جوڑے سے ہی کام چلایا جاتا تھا۔ ظاہر ہے جب ایک ہی جوڑا اوڑھنے بچھونے کا کام آئے گا تو کب تک ساتھ دے گا، لہذا بچوں کی مائیں کپڑوں میں پیوند لگا کر پھر سے نیا بنا دیتیں۔ اس میں اس بات کی کوئی قید نہیں تھی کہ کلر سکیم میچ بھی کرتی، کر بھی نہیں سکتی تھی۔ اِدھر اُدھر سے کوئی سا بھی کپڑا جو دستیاب ہوتا اسی کو دھو دھلا کر مہارت کا ثبوت دیا جاتا تھا۔شلوار کے اوپر والے حصے کو بڑی مہارت سے نچلے حصے میں تبدیل کردیتے جس کو ’پلا موڑنا‘ کہتے تھے۔ آج کل اسی طرح نوجوان پھٹی ہوئی جینزاستعمال کرتے ہیں جو فیشن کہلاتا ہے۔ہمارے دور کا بھی یہی فیشن تھا لیکن ہم یہ فیشن اختیارکرنے پر مجبور تھے لیکن آج کا نوجوان اپنے شوق کے ہاتھوں مجبورہے۔مجبور ہم بھی تھے،مجبور یہ بھی ہیں۔ نا حق ہم مجبوروں پر تہمت ہے مختاری کی۔ احساسِ کمتری کا کوئی سوال اس لیے نہیں تھا کہ اس حمام میں سب ہی اسی لباس میں ملبوس ہوتے تھے۔ یہی حقیقتِ منتظر تھی جو بغیر آرزو کیے،مجازی نہیں، حقیقی لباس میں سب کو نظر آتی تھی۔

پائوں میں جوتے کسی کسی کو میسر ہوتے تو اس کے پائوں زمین پر بمشکل ہی ٹکتے۔ایک زمانہ تھا عام لوگ پائوں میں پُولیں (گھاس کے جوتے) استعمال کرتے تھے۔ اس کی وجہ ایک تو وسائل کی عدم دستیابی تھی مگریہ اس دور کے ماحول کے عین مطابق بھی تھا۔ کچے مکان ہوتے تھے جن کی چھتوں پر گھاس پُھوس ڈال کر مٹی سے ڈھانپ دیا جاتا تھا۔ایسے میں جب بارش ہوتی توچھتوں کا ٹپکنا تو ایک لازمی امر تھا۔ جب چھتیں ٹپکتیں تو جوتے بیکار سے ہو جاتے، انہی پُولوں سی مکانوں کی چھتوں پر چڑھ کر مٹی کو دائیں بائیں ترتیب وار ایک ردھم کے ساتھ دباتے جاتے۔ یہ فطری ناچ لیس دار مٹی کی لیک کو ختم کر دیتا اور چھت ٹپکنا بند ہو جاتی۔اُن دنوں یہی لیک مشہور تھی جس کے ازالے کے لیے پُولیں کافی تھیں۔ زمانے کی ترقی نے ہمارے سامنے وِکی لیکس اور پانامہ لیکس لا کھڑی کی ہیں جن کو بند کرنے کے لیے پُولوں کی بجائے کسی اور چیز کی ضرورت ہے۔

ثابت ہوا کہ ہر کام جوتا نہیں کر سکتا۔ یہ دورِ جدید کا انمول تحفہ ہے کہ امن قائم کرنا ہو،کوئی مسئلہ حل طلب ہو، بحث مباحثہ ہویا سیاسی مطالبہ یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ اس کے بغیر کام ہی نہیں چلتا۔مکالمہ اور احسن مجادلہ کا دور ختم اوردھونس اور دھمکانے کا زمانہ آ لگا۔ یادش بخیر، سوویٹ یونین کے عروج کے زمانے میں ایک خروشیف صاحب ہوا کرتے تھے، جنہوں نے اقوام متحدہ کے ایک اجلاس کے دوران میں مسائل کے حال کے لیے جوتا ہی استعمال کیا تھا۔ وہ مسائل تو غالباًجوں کے توں رہے،لیکن سوویٹ یونین خود ختم ہو گیا۔ مسائل کے حل کے لیے ہماری لُغت میں ’جوتا کاری ‘ کے کئی مہذب نام ملتے ہیں۔ سیاست کے میدان میں مسائل کے حل کے لیے گفتگو کی بجائے گھیرائو جلائو، ایجی ٹیشن اور دھرنا، صنعتی اور کاروباری دنیا میں مزدوروں اور سرمایہ داروں کے درمیان تنازعات کو دور کرنے کے لیے ہڑتال اور تالا بندی اور مذہب کی دنیامیں اسے فتویٰ کے مقدّس نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

گھر عام طور پر ایک ہی کمرے پر مشتمل ہوتے۔ یہ کمرہ’ بسنی‘ کہلاتا، اس لیے کہ انسان اسی میں بستے۔یہی بیڈ روم، یہی ڈرائینگ روم اور یہی کچن۔ دادا، دادی، ماں باپ اور ان کے بچے تین چار چارپائیوں میں دھرے ہوئے ملتے۔بعض گھرانے ایسے ہوتے جو دوسرا کمرہ، جسے کوٹھی کہا جاتا، بمشکل افورڈ کرتے۔ ایسے میں ظاہر ہے کہ والدین جب بچوں کی شادی کرتے تو دولھا اوردولھن کو اسی کمرے کا کوئی کونا الاٹ کر دیتے اور خود دم سادھ کر سوجاتے یا سونے کی کوشش کرتے۔ کمرے میں کوئی ایک آدھ الماری بھی ہوتی، لیکن برتنوں کو سجا کر رکھنے کے لیے دیوار میں کئی ایک خانے بنائے جاتے جسے ’آلا ‘ کہا جاتا۔ اس کے ساتھ ساتھ الگ سے اسی طرح کی ایک آدھی دیوار تعمیر کی جاتی جسے ’اوٹالا‘ کہتے۔گھر کے اسی کمرے میں ایک دیوار کے ساتھ ملی ہوئی چکی ہوتی اور گھر کی خواتین مکئی اور گندم کو آٹے میں تبدیل کرتیں۔ ساتھ ہی ایک پتھر کی اوکھلی ہوتی جسے فرش میں گاڑ کر فکس کر دیا جاتا۔ کھرل الگ سے ہوتا۔ کام کی نوعیت میں انیس بیس کا ہی فرق رہا ہو گا۔ ہر گھر میں چکی،اوکھلی یا کھرل اور موسلا (موہلا) جیسی سہولیات لازماً ہوتی تھیں۔ ایک کونے میں ایک لکڑی کا ایک بڑا صندوق ہوتا جس میں غلہ وغیرہ رکھا جاتا اور ایک آدھ ٹین کا ٹرنک ہوتا جس میں کوئی کپڑا لتا رکھتے۔

کمرے کے عین بیچ میں ایک موٹا سا’ تھم‘،جسے ستون کا مہذب نام مل گیا، ہوتا جو چھت کی کڑی(بیم) کو سہارا دیتا۔ ہم کئی دفعہ اس سے ٹکرا کر گرتے اور پھر ٹکرانے کے لیے ہمہ وقت تیار اٹھ کھڑے ہوجاتے۔ دروازوں کو اندر سے بند کرنے کے لیے تالا یا چٹخنی نہیں ہوتی تھی۔ رات کو دروازہ بند کرنے کے لیے ’ریڑھو‘ استعمال کیا جاتا تھا۔یہ ایک لکڑی کا موٹا اور مضبوط سا دو شاخہ ڈنڈا ہوتا جو تین چار فٹ لمبا ہوتا۔ اس کی شکل انگریزی حرف وائیY سے ملتی تھی۔ دروازے کی طرف ذرا آگے کر کے ایک مضبوط سی لکڑی کی کھونٹی گاڑتے۔یہ کھونٹی دروازہ بند کرنے کے علاوہ ہمارے پائوں زخمی کرنے کے کام بھی آتی۔ دروازہ بند کر کے ریڑھو کے دوشاخے والے حصے کو اس کھونٹی میں پھنسا کر اس کے اگلے حصے کو دروازے کے ساتھ ملا کر مضبوطی سے دبادیتے۔ باہر سے کوئی آدمی بھی دروازے کو توڑے بغیرکمرے میں داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ البتہ سنا کرتے تھے کہ شیر آ کر دروازے میں گرجتا تو ریڑھو اچھل کر الگ ہو جاتا اور دروازہ کھل جاتا ! دیکھنے میں تو نہیں آیا لیکن عقیدہ یہی پایا جاتا تھا۔ بچپن کی یہ میٹھی یادیں میں اکثر چشمِ تصوّر میں لا کر محظوظ ہوتا ہوں۔

اب اوٹالا اور آلا کے لفظ سے کوئی آشنا ہے نہ ریڑھو یا ان کے مفہوم سے۔ اصل میں جب مرورِ زمانہ سے معاشرے ارتقا کی منزلیں طے کرتے ہیں تو کئی الفاظ اپنا نہ صرف مفہوم گم کر بیٹھتے ہیں بلکہ وہ الفاظ بھی غائب ہو جاتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب لڑکے بالے بکریوں کو پکارکر ’چھی چھی، شی شی اور ہش ہش‘ کہتے تو سب کو معلوم ہوتا کہ ان کو کیا کہا جارہا ہے اور بکریاں بھی اس مفہوم سے بخوبی آگاہ ہوتیں۔لیکن اب اس چھی چھی کا وہ لفظ تو موجود ہے لیکن مفہوم غائب ہے۔اب اوٹالا ہے نہ آلا اور نہ ریڑھو، کوئی مطلب کیا سمجھے گا۔قرآن مجید می بعض سورتوں کے آغاز میں چند حروف ملتے ہیں،جو حروف مقطعات کہلاتے ہیں۔ ان کا مطلب ڈھونڈنے میں جتنا بھی تکلف کیا جائے دل کا اطمینان نہیں ہوتا۔ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے توجیہہ کی ہے کہ جس دور میں قرآن نازل ہو رہا تھا اس دور کا یہ اسلوب ِ بیان تھا۔ خطیب اور شعرا دونوں اس اسلوب سے کام لیتے تھے۔ اس استعمال عام کی وجہ سے یہ مقطعات کوئی چیستاں نہ تھے جس کو بولنے والے کے سوا کوئی نہ سمجھتا ہو، بلکہ سامعین بالعموم جانتے تھے کہ ان سے مراد کیا ہے۔ لیکن بعد میں یہ اسلوب ہی متروک ہو گیا تو وہ مفہوم بھی غائب ہو گیا۔ یہ بالکل فطری بات ہے۔ لہذا ہم اپنی نئی نسل کو قطعاً یہ الزام نہیں دے سکتے کہ وہ ان چیزوں سے کیوں ناواقف ہے۔

مال مویشیوں کی رہائش کے لیے اسی ایک کمرے کے ایک طرف اعلیٰ انتظام ہوا کرتا۔ اپنے ’بیڈ روم‘ کے ساتھ ہی بالکل ملی ہوئی ان کی رہائش گاہ ہوتی جسے ’گوال‘ کہتے ہیں۔ شاید اسی سے لفظ گوالا نکلا ہو۔ ان دونوں بیڈ رومز میں کسی پارٹیشن کا تکلف نہیںکیا جاتا تھا۔ بس ایک تین چار فٹ کی آدھی دیوار سی کھڑی کی جاتی، وہ بھی شاید اس لیے کہ بھینس وغیرہ کہیں ہمارے چولھے کو ہی نہ روند ڈالیں۔ اسی چولھے میں کھانا بھی پکتا اور اسی سے مال مویشیوں کو گرمی پہنچانے کا سامان کرتے۔ آج کل کی نسل شاید نہیں،بلکہ یقینا اس کا تصوّر بھی نہیں کر سکتی۔ دن کو تو مویشیوں کو چرنے چُگنے کے لیے آس پاس جنگلوں، یا کھیتوں میں چھوڑ دیا جاتا لیکن’ ڈنر‘ بہرحال ان کو اپنے بیڈ روم میں ہی مہیا کیا جاتا۔ انسان تو رفع حاجت کے لیے کھیتوں اور جنگلوں کا رخ کرتے لیکن مال مویشیوں کو یہ سہولت حاصل ہوتی تھی کہ وہ اپنے ’بیڈ روم‘ میں ہی فارغ ہوتے۔ ظاہر ہے اس’ حسنِ انتظام‘ کے نتیجے میں انسان مویشیوں سے حاصل ہونے والے بائی پرادکٹس یعنی ’خوشبو‘ اور دوسرے ذرّات سے مستفید ہوتے رہتے تھے۔ یہ تو من شدی،من تو شدم کی کیفیت شاید برسوں کی تربیت کا نتیجہ تھی، لیکن بُرا ہو آگہی اور ترقی کا کہ یہ عالم آج دیکھنے تک کو بھی نہیں ملتا۔یہ ترقی ہی کہلائی جا سکتی ہے کہ ایک زمانہ تھا جب کھانا گھر میں تیار ہوتا تھا اور رفع حاجب کے لیے باہر جانا پڑتا تھا اور آج ہم کھانا باہر سے منگواتے ہیں اور رفع حاجت گھر میں کرتے ہیں۔مختصراً ہم لوگوں نے وہ حقوق جو پانچ چھے عشروں میں خود حاصل کیے، اپنے جانوروں تک کو پہلے ہی دے رکھے تھے۔ اور ہم پر الزام ہے کہ مساوات مرد و زن کے قائل نہیں،بھئی ہم نے تو جانوروں کو بھی وہ انسانی حقوق دیے جن کو خود سے بالالتزام دور رکھا۔کیا یورپ والے ایسا سوچ بھی سکتے ہیں؟

’گوال‘ صرف مویشیوں ہی کے کام نہ آتی بلکہ بڑے مشکل وقت میں یہ انسانوں کے زیادہ کام آتی۔ اب اس کا تصوّر کرنا شاید ممکن نہ ہو لیکن بہرحال ایک دور ایسا تھا کہ سڑکیں ناپید تھیں۔ لوگ میلوں کا سفر پیدل ہی طے کرتے۔ ہسپتال اور ڈسپنسریوں کا وجود تو کیا لوگ ان کے ناموں سے ہی مانوس نہیں تھے۔مختلف بیماریوں کا علاج ڈاکٹر نہیں بلکہ مولوی کرتے۔ تعویذ وں اور دم درود کرنے کا ٹھیکہ ان ہی لوگوں نے لیا ہوا تھا۔ لیکن بعض مواقع پر یہ ہتھیار کند ہو جاتے۔ خیر یہ تو ایسے ہی جملہ معرضہ درمیان میں آ ٹپکا ہم کہنے یہ جا رہے تھے کہ عام سہولیات انسانوں کے دسترس میں نہیں تھیں۔ زچہ و بچہ کی دیکھ بھال بلکہ اس سے پہلے والا مرحلہ بھی گھر میں ہی طے ہوتا تھا۔ اب گھر میں جہاں ایک ہی ’بسنی‘ ہو اور گھر کے بڑے،بوڑھے اور بچے رہائش پذیر ہوں اسی کمرے کو ڈلیوری روم کے طور پر استعمال کرنا شرفا کا طریقہ تو ہو نہیں سکتا۔ لہذا ایسے مواقع پر شرفابالعموم یہی ’گوال‘ کام میں لاتے۔

۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔

اس تحریر کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

اس تحریر کا تیسرا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

Facebook Comments Box
آزاد کشمیرباغ آزاد کشمیر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
انور عباسی

previous post
ٹرمپ کی پالیسیاں اور تارکین وطن ۔۔۔ احسان اخونزادہ
next post
امجد اسلام امجد کی نظم ۔۔۔ آخری حصہ

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...

06/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.