تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترین

گجرے —— غزالہ خالد

by دانش ڈیسک 28/09/2019
written by دانش ڈیسک 28/09/2019
85

نو عمری کے کچھ خواب ایسےبھی ہوتے ہیں کہ عمر پختہ میں پہنچ کر کبھی کبھی ان پر بے اختیار ہنسی آجاتی ہے چونکہ اب زمانہ بدل گیا ہے تو نوجوانوں کے انداز بھی بدلے ہیں اور یقیناً خواب بھی بدلے ہوں گے جو شاید آج سے چند دہائیوں پہلے والے نوجوانوں سے مختلف ہوں۔

میں اپنی تحریر چند دہائیوں پہلے کے دور سے شروع کرنا چاہوں گی۔

مجھے بچپن سے ہی لکھنے پڑھنے کا بہت شوق تھا اسکول کالج میں بہترین نمبر لینے کی سر توڑ کوشش کرتی اور جو وقت ملتا اس میں مختلف کتابوں کا مطالعہ کرتی جس میں خواتین کے ڈائیجسٹ بھی شامل تھے۔ کم عمر لڑکیاں جب ان ڈأیجسٹوں کی کہانیاں پڑھ لیتی ہیں تو خودبخود چوڑی۔ بندیا، کنگنا۔پایل، گجرے بھی خوابوں میں شامل ہوجاتے ہیں۔اس زمانے کی ہر دوسری فلم اور ڈرامے میں یہ سین ضرورہوتا تھا کہ سگنل پر گاڑی رکی ہےاور ہیرو ہیروئن کو گجرے دلوا رہا ہے اور ہیروئن شرما شرما کر ان گجروں کو وصول کر رہی ہے۔

مجھے سائنس کی طالبہ ہونے اور پڑھائی کا شوق ہونے کے سبب زیادہ خواب دیکھنے کا تو وقت نہیں ملا لیکن یہ “گجرے” والا سین ہمیشہ رومانوی لگتا اور ایسا پسند آیا کہ کہیں لاشعور میں چپک سا گیا اور پھر ہوا یوں کہ ادھر بی ایس سی کا امتحان دیا ادھر شادی ہوگئی۔ رزلٹ بھی شادی کے بعد آیا اور میں اپنے ننھے منے معصوم سے خوابوں کی چھوٹی سی پوٹلی تھامے پیا گھرسدھاری اور پیا ملے ایک ذہین فطین سمجھدار انسان اوپر سے انجینئر بھی، جنہوں نے ہمیشہ خوابوں پر نہیں بلکہ عمل پر یقین رکھا ان کی نظر میں شاعری دنیا کا فضول ترین کام بلکہ فالتو لوگوں کا مشغلہ اور رومانوی افسانے وقت کا زیاں۔

اگر ان کے معیار پر کوئی شاعر پورا اترتا تو وہ صرف اور صرف غالب یااقبال باقی سب بےکار۔ اب آپ لوگ خود سوچیں کہ غالب و اقبال روز روز تو پیدا ہوتے نہیں۔

خیر تو بات ہورہی تھی میرے اس وقت کے معصوم خوابوں کی جس میں “گجرے” سر فہرست تھے، شادی کے وقت اتفاق سے موتیا کا موسم عروج پر تھا شادی کے بعد دعوتیں بھی بہت ہوئیں جب بھی تیار ہوکر دعوت میں جانے کے لئے گھر سے نکلتے جگہ جگہ پھولوں کے گجرے بیچتے لڑکے نظر آتے لیکن مجال ہے کہ ہمارے دولہا میاں ان گجروں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ لیں، میں للچائی ہوئی نظروں سے ان گجروں کو دیکھتی تو وہ گجرے بیچنے والے لڑکے میری نظروں کی نیت کی خرابی بھانپ لیتے اور پیچھے لگ جاتے، “صاحب باجی کے لئے لے لیں” لیکن صاحب کو باجی کی وہ للچائی ہوئی نظریں نہ جانے کیوں نظر نہیں آتیں۔ میں اپنے دل کو سمجھاتی، “کوئی بات نہیں لڑکوں کو ان باتوں کی کم ہی سمجھ ہوتی ہے یا کیا پتہ شرماتے ہوں کیونکہ ابھی نئی نئی شادی ہوئی ہے”۔

لیکن نہیں جناب سال پہ سال گذر تے چلے گئے لیکن ہمارے صاحب کو کبھی گجرے لینے کا خیال ہی نہیں آیا اگر کبھی میری نظریں سمجھ بھی جاتے تو کہتے، “ابھی لینے وینےکا بالکل وقت نہیں ہے سگنل کھل جائے گا پیچھے پورا ٹریفک جام ہوجاےگا” اور میں اپنی گردن ایسے ہلاتی رہتی جیسے انہوں نے بڑی عقل کی کوئی بات کی ہو۔

صرف یہی نہیں بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ گجروں کے بارے میں ان کے ایسے ایسے سنہرے خیالات سننے کو ملے جو کبھی ہمارے بھوسہ بھرے دماغ میں آنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔

اللہ نے ہمیں اپنی گاڑی سے بھی جلد ہی نواز دیا تھا اس لئے میری یہ غلط فہمی بھی دور ہوگئی کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کے دوران “گجرے” کیسے خریدے جا سکتے ہیں۔ اکثر جیسے ہی سگنل پر گاڑی رکتی گجرے والا بھاگ کر آتا اور میرے میاں جو ریڈ سگنل پر رکے ہوئے ہوتے گجرے والے کو دور سے ہی گرین سگنل دے دیتے کہ “بھاگو قریب نہیں آنا” یا پھر گجروں کو دیکھ دیکھ کر غصہ کرتے رہتے کہ “دیکھو پیسہ کمانے کے چکر میں کتنی کتنی سی کلیوں کو توڑ کر گجرے بنالیے ہیں” ایک آدھ مرتبہ تو گجرے بیچنے والے سے بھی کہہ دیا کہ “ارے انہیں تھوڑا بڑا تو ہونے دیتا پھر توڑتا، چل پھوٹ یہاں سے” اور میں دل مسوس کر رہ جاتی۔

فرمائشیں کرنے کی عادت نہیں تھی لیکن شادی جیسے جیسے پرانی ہوتی گئی بولنے کی ہمت بھی آتی گئی مثلاً آٹھ دس سال بعد اگر سگنل پر گاڑی رکی ہوئی ہوتی اور گجرے والا قریب ہی ہوتا تو کبھی تو میں اسے دیکھ کر بڑے درد بھرے لہجے میں کہتی “غریب ہیں بے چارے” کہ شاید میاں کے دل میں کچھ عفو و رحم پیدا ہوجاے لیکن توبہ کریں جی، موصوف کو معلومات بھی تو اتنی کہ بات موتیا کے فی کلو تھوک کے بھاؤ سے شروع ہوتی اور ایک گجرے میں کتنے پھول اور پھر ایک گجرا کتنے میں پڑا پر ختم ہوجاتی اور میں دل ہی دل میں مرعوب ہوتی رہتی۔

کبھی میں لمبی لمبی سانسیں کھینچ کر کہتی “واہ کتنی اچھی خوشبو آرہی ہے” تو فوراً میری معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے فرماتے، “ہنہہ پھولوں پر نقلی خوشبو کے اسپرے کرتے ہیں یہ لوگ صحت کے لئے سخت نقصان دہ ہیں”۔
ایک آدھ مرتبہ ساری مروت بالائے طاق رکھ کر میں نے ڈھیٹ بن کر کہا کہ “لے لیں ناں” تو نہایت ناگواری سے گجرے والے کو بلایا اور غریب سے بحث کرکے پیسے کم کروانے کے بعد دو گجرے خرید کر مجھے ایسے دیے جیسے احسان کیا ہو اور ساتھ ہی آرڈر جاری ہوا، “انہیں بچوں سے دور رکھنا الرجی ہوجاتی ہے، ویسے ہی بچے بیمار ہوتے رہتے ہیں” چلو بھئی سارے ارمان ہی ختم ہوگئے، مجھےکونسا ان گجروں کو پہننا تھا یہی سوچا تھا کہ کمرے میں رکھ لیں گے ایئر کنڈیشنڈ کمرے میں اچھی سی خوشبو ہوجائے گی، ٹھنڈی سانس بھر کر سوچا چلو خود ہی سونگھ کر خوشبو سے لطف اندوز ہو جاتی ہوں یہ سوچ کر جیسے ہی گجروں کو ناک کے قریب لیجانا چاہا میاں صاحب کی آواز آئی،
“ہیں ہیں! یہ کیا کر رہی ہو ناک کے پاس نہیں لیجانا چھوٹے چھوٹے کیڑے ہوتے ہیں ان میں۔ ناک میں گھس جائیں گے”
یہ ایک نیا دل لرزا دینے والا انکشاف تھا سو گھر لاکر گجروں کو خاموشی سے فرج میں رکھا دو دن تک فرج کھولتے بند کرتے ان کے درشن کیے اور پھر کچرے دان میں پھینک دیئے۔۔

پھر جناب اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ ہم اپنے میاں کی کمپنی سے ملے ہوئے گھر میں شفٹ ہوگئے جس کے سامنے ایک بڑا لان بھی تھا اور اس لان میں موتیے کے پھولوں کے درجنوں پودے تھے جس میں ٹوکری بھر بھر کر خوشبو دار پھول آتےتھے۔
وہاں شفٹ ہونے کے بعد سے سولہ سال (کیونکہ ہم اس گھر میں سولہ سال رہے) تک ہمارے میاں نے ایک نئی بات شروع کردی یعنی اگر ہم کہیں جاتے اور کوئی گجرے والا پاس بھی آجاتا تو اس سے بڑے فخر سے فرماتے “ہمارے ہاں تو خود بہت پھول ہیں,چلو بھاگو یہاں سے” ایک آدھ مرتبہ تو گجرے والے کے پاس گاڑی روک روک کر بھی بتایا کہ” ہمارے ہاں تو خود بہت پھول لگے ہوئے ہیں”
میں نے کہا بھی کہ یہ کہنے کی کیا ضرورت ہے اسےاس سے کیا فرق پڑے گا لیکن بس کیا کریں؟

اس گھر میں سولہ سال گذرے عمر میں بھی سولہ سال اضافہ ہوا اور سیانے صحیح کہتے ہیں عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ عقل میں بھی اضافہ ہوتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ کچھ لوگوں پر یہ اصول صادق نہیں آتا لیکن شکر ہے کہ مجھے عقل آتی رہی۔
اب جب زندگی مزید آگے بڑھ چکی ہے تو کچھ مشاہدات اور کچھ تلخ تجربات نے یہ سمجھا دیا کہ “پھول دلوانا اتنا اہم نہیں ہے جتنا کہ پھولوں کی طرح رکھنا اہم ہے”

الحمداللہ کہ میرے میاں نے اسی بات پر عمل کیا انہوں نے مجھے پھول تو نہیں دلواۓ لیکن مجھے مرجھانے کمہلانے سے بچائے رکھا میرا دھوپ میں کھڑا ہونا یا باورچی خانے کی گرمی برداشت کرنا مجھ سے زیادہ انہیں تکلیف دیتا رہا اور یہی زندگی کی خوبصورتی ہے اور اس پر اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہےماشاءاللہ لا قوۃ آلا بااللہ۔

جیسا کہ میں نے ابتداء میں کہا تھا کہ نوعمری کے خواب الگ ہی ہوتے ہیں ہم نے بھی دیکھے اور ہمارے چھوٹے بھی دیکھ رہے ہیں انداز ضرور بدلے ہیں ترجیحات بھی بدلی ہونگی لیکن میرا یہ مضمون لکھنے کا مقصد اپنی نئی نسل خصوصاً لڑکیوں کو یہی بات سمجھانا ہے کہ ہمیشہ اس بات کو یاد رکھنا کہ مادی چیزیں اتنی اہم نہیں جتنا اہم ایک دوسرے سے محبت، عزت اور خیال ہے۔ یہ اگر نہیں ہوگا تو پھول تو کیا ہیرے جواہرات بھی بےکار ہیں اور لڑکے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے بیوی کا خیال رکھ لیں انہیں عزت اور محبت دےدیں تو زندگی اچھی گذر جائے۔

اللہ ہم سب کی بیٹیوں کا واسطہ ایسے لوگوں سے ہی ڈالے جو چاہے پھول نہ دلوائیں بس انہیں پھولوں کی طرح رکھ لیں۔ آمین۔

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
دیدہ عبرت بننے کے شوقین ——– خرم شہزاد
next post
عمران خان کا خطاب: ٹھنڈ پڑ گئی —- شازیہ ظفر

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.