تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتنقیدعلم و ادب

یاک دریدا، ردِ تشکیلیت اور آف گریماٹالجی —- الیاس بابر اعوان

by دانش ڈیسک 07/07/2019
written by دانش ڈیسک 07/07/2019
194

یاک دریدا بیسویں صدی کا ایک انتہائی اہم مگر متنازعہ فلسفی تھا۔ دریدا کو عام طور پر nihilist سمجھا جاتا تھا۔ بہت سی اساتذہ نے اس کے خلاف ایک خط بھی تحریر کیا تھا کہ دریدا کے ہاں فصاحت و بلاغت کی کمی ہے اور وہ فسلفے کے مروج اصولوں سے متصادم بھی ہے اور یہ کہ دریدا حقیقت، منطق اور علمی اساس پر حملہ کرتا ہے۔ دردیدا کے نظریات، فلسفے اور ردِ تشکیلیت کو سمجھنے کے لیے ہم ایک مثال لیتے ہیں۔ بظاہر تو دریدا کا بنیادی قضیہ نظامِ تحریرکا سائنسی مطالعہ تھا تاہم اس کا بنیادی مقصد تحریر کی اداراتی تشکیل کو نمایاں کرنا تھا۔ دریدا کا خود ماننا تھا کہ ردِ تشکیلیت کے پیچھے جو عوامل کارفرما تھے ان میں سے ایک یہ تھا کہ ریاستوں کی طاقت ور امیگریشن پالیسیوں، قومیت کے بیانیوں، مکاں کی سیاست، اور مقامی سرزمینوں کی زبانوں اور ان کی مابعد الطبیعات، کو ردِ تشکیل کرنا اور انہیں سمجھنا ہے۔ ردِ تشکیلیت کا مقصد قوموں کی طرف سے شناخت اور قومیت کے بیانیوں کی تشکیل کے سانپ سے زہر نکالنا ہے جن کو وہ دیگر اجنبیوں جیسے کہ عربوں، یہودیوں اور مہاجرین کے خلاف استعمال کرتے ہیں اور جواز گھڑتے ہیں کہ وہ یہ سب کچھ اپنے دفاع میں کررہے ہیں۔ سیاسی نظام، سیاسی جماعتیں، طاقت کے ماخذ، افسر شاہی اور ادارے، بظاہر تو عمارتوں، ویب سائٹس، ٹیلی فون نمبرز، عوامی دستاویزات، کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں تاہم یہ سب کے سب ایک روایت کی لڑی میں پروئے کام کرتے ہیں اوروہ روایت ہوتی ہے زبان یعنی ایک مشترکہ ذریعہِ اظہارجس میں لفظ اور جملے جتھوں کی صورت میں متشکل ہوتے ہیں ایک تصور بنتے ہیں، نظریہ بنتے، طاقت کا سرچشمہ بنتے ہیں اور وہ امور سرانجام دیتے ہیں جو ان اداروں کا بنیادی مقصد ہوتا ہے۔ جب دریدار یہ سب کچھ لکھ رہا تھا اُس وقت میں اور آج میں بہت فرق تھا۔ آج کے دور میں ادارے توڑ پھوڑ کا شکار ہیں اور بہت سی پیچیدگیوں کا شکار ہوگئے ہیں اس کی ایک وجہ ذرائع ابلاغ اور انٹریٹ بالخصوص سماجی رابطے کی سائٹس ہیں۔ لیکن ۶۰ کی دہائی میں امریکی فوج دوسرا بڑا طاقت ور ادارہ تھی جو ویت نام میں انصاف کے اصولوں اور قانون سے متصادم جنگ لڑ رہی تھی۔ اور یہ جنگ دراصل ویت نام کے خلاف نہیں تھی بلکہ وہاں امریکہ اپنے دوسرے مخالف سوویت یونین سے لڑ رہا تھا ویت نام پراکسی وار کی ایک اعلیٰ مثال سمجھی جا سکتی ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ براہِ راست جنگوں کا دور دوسری جنگِ عظیم کے بعد ختم ہوگیا ہے اب دومختلف ریاستی طاقتیں اپنی جنگ کسی تیسرے ملک میں لڑتی ہیں۔ ویت نام میں یہ جنگ سادگی سے نہیں لڑی گئی طاقت کے سفاکانہ استعمال کو ادارہ جاتی خوف میں متشکل کیا گیااور لاکھوں انسانوں نے جانیں دیں یا اس سے متاثر ہوئے۔ ایسے ہی ایک اور ادارہ یعنی مارکسزم ہے جس کو سیڑھی بناکر قوموں کے رہنما اپنی بقا کی جنگیں لڑتے ہیں۔ یہ تمام کے تمام نظریات زبان سے متشکل ہوتے ہیں۔ ان کو متشکل کرنے والے اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں وہ جو کچھ قرینہِ اظہار میں لا رہے ہیں وہ صداقتیں ہیں۔ ان تمام نظریات کے پیچھے کوئی نظریاتی فلسفہ ہوتا ہے اور اسے مہمیز عطا کرنے والوں میں نظریہ ساز، اساتذہ، تخلیق کار، جامعات، اور عام لوگ ہوتے ہیں۔ جیسے کہ امریکی قانون کے پیچھے جان لاک کا نظریاتی فلسفہ کار فرما تھا۔ اور آزاد اور خود مختار اکائیوں کو اپنے ارد گرد کے لوگوں کو فتح کرنے کا فسلفہ ۱۶۵۱ کی ہابسئین روایت سے جا ملتا ہے اور اس سے قبل بادشاہوں کے راج کو آفاقی آدرش سے ثابت کرنے کی امثال بھی ملتی ہیں۔ اور ایسے ہی بیسیوں صدی عیسوی میں سوویت یونین میں رہنے والے تیس کروڑ افراد بھی ایک شخص کارل مارکس کی تحاریر سے متاثر تھے۔

دریدا کو سمجھنے کے لیے ہمیں مذکورہ بالا تمام باتوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ دریدا ۱۹۳۰ میں پیدا ہوا جب کہ اس کی وفات ۲۰۰۴ میں ہوئی۔ دریدا مابعد جدید روایت کا فلسفی ہے جو ردِ تشکیل کا بانی ہے جس کا مقصد متن کی سیاست کو سمجھنا تھا۔ دریدا کا ماننا تھا کہ فلسفے کی تاریخ لوگو سنٹرک ہے۔ لوگو سنٹرسزم کا خالق جرمن فلسفی Ludwig Klages تھا۔ اس فلسفے کی رو سے کائنات میں ایک مطلق صداقت یا حقیقتِ مطلقہ اپنا وجود رکھتی ہے جس تک زبان کے ذریعے رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ دریدا اس تصور سے متاثر نہیں تھاوہ سمجھتا تھا کہ زبان کے الفاظ کے کوئی مطلق معنی نہیں ہوتے لہٰذا حقیقتِ مطلقہ کے بارے میں یہ دعویٰ غلط ہے۔ دریدار کو فرڈی نینڈ ڈی سوسیئر کے متوازی فلسفی کے طور پر پسِ ساختیاتی فلسفی سمجھا جاتا ہے۔ سوسیئر نے بیسیوں صدی کے آغاز میں اپنے تدریسی پیشے کا آغاز کیا اور اس کا یہ تصور مقبول ہوا کہ زبان میں معنی کو سائن سے ظاہر کیا جاتا ہے سائن کو اگر سکہ سمجھا جائے تو اس کے دو رخ ہوتے ہیں سگنی فائر اور سگنی فائیڈ۔ سگنی فائیر وہ لفظ یا صوتی تصور ہوتا ہے کہ جب آپ اسے پڑھتے ہیں یا سنتے ہیں تو دماغ میں اس کی شبیہہ بن جاتی ہے۔ جب کہ سگنی فائیڈ، سگنی فائر کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ سگنی فائیڈ ایک تصور ہوتا ہے ضروری نہیں جب ہم درخت کی بات کررہے ہوں تومراد حقیقی درخت ہی ہوعین ممکن ہے کہ لوگ جب درخت کہہ رہے ہوں تو ان کا تصورِ درخت مختلف ہو۔ سوسیئر کے نزدیک سگنی فائر اور سگنی فائیڈ دماغ میںایک ہی سکے کے دو رخ کے طور پر جمع ہوتے ہیں۔ اس کے نزدیک چیزوں کو جو چیز معنی عطا کرتی ہے اسے فرق Difference کہتے ہیں۔ بلی اس لیے بلی ہے کہ یہ چوہا، چمگادڑ یا کتا نہیں ہے۔ لہٰذا اس شے کو اس لیے بلی کے معنی عطا کیے گیے ہیں کہ اس کے یہ خصائص ہیں کہ یہ چوپایا ہے، اس کے جسم پر بال ہیں، یہ پالتو ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ سائنزکے معنی دیگر سائنز سے مختلف ہونے کی بنا پر طے ہوتے ہیں۔ یہ تمام اشیا ایک ساختیاتی دھارے سے جڑی ہوئی ہیں جو ایک دوسرے کی طرف اشارہ کرتی ہیں اس سے ان کے معنی کا تعین ہوتا ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جسے کہ آپ لغت کا استعمال کرتے ہیں آپ ایک لفظ کا معنی دیکھتے ہیں، پھر دوسرے کا پھر تیسرے اور پھر آپ پہلے لفظ پر آ جاتے ہیں۔ دریدا نے یہیں سے اپنا تصور مستعار لیا کہ سائنز نہ صرف ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں بلکہ ایک سائن کے معنی کے تعین کے وقت دیگر سائنز بھی اس کے ارد گرد ایک ہالے میں موجود ہوتے ہیں جسے وہ Trace کہتا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے ہم Pink، Big, Pig کی مثال لیتے ہیں۔ جب ہم کہتے ہیں Pig تو دیگر سائنز اور سگنی فائرز بھی ارد گرد موجود ہوتے ہیں جیسے کہ اس مثال میں Pink اور Big ہیں۔ لہٰذا سائن Pig میں کچھ کچھ Big , اور کچھ کچھ Pink کے علاوہ دیگر تصورات جیسے کہ غلیظ، ناپاک، نجس، ذائقہ، گوشت، پالتو، جانور وغیرہ بھی شامل ہیں۔ سائن کے مدار میں تیرتے ہوئے ان تصورات کو ہم کلی طور موجود یا لاموجود نہیں کہہ سکتے تاہم ہم انہیں Trace کے ذریعے شناخت کر سکتے ہیں۔

دریدا لکھتا ہے کہ ٹریس موجود نہیں ہوتا ہے بلکہ اس کا پرتو (شباہت) موجود ہوتا جو اسے اپنے مدارسے پرے یا دُور کرتا ہے۔ صحیح معنوں میں ٹریس کا کوئی مقام نہیں ہوتا بلکہ اس کی معدومیت اس کی ساخت کے اندر ہی موجود ہوتی ہے۔ دریدا کے مطابق ٹریس ڈفرانس Difference کا حصہ ہوتا ہے۔ جس کا معنی ہے معنی کا وجود سائنز کے درمیان اسپیس میں ناممکن ہوتا ہے۔ ڈفرانس، اسپیسنگ کے ٹریسز کے فرق کی دروں ایک منظم لچک کا نام ہے جس کے طفیل اشیا ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں۔ یہ اسپیسنگ کا مختلف دورانیوں میں پیدا ہونے والے خلا جوبہ یک وقت فعال اور غیر فعال ہوتا ہے، کی پیداوار ہوتا ہے۔ جس کے بغیر اصطلاحات سگنی فائی ہوں گی نہ ہی کوئی عمل کریں گی۔ ان تمام نکات سے دریدا کی مراد یہ ہے کہ زبان انتہائی subjective نوعیت کی ہوتی ہے لہٰذا قاری اور وقت کے ساتھ ساتھ معنی بھی بدلتے رہتے ہیں۔ لہٰذا کوئی ایسی مشترکہ صداقت یا حقیقت موجود نہیں جس تک ہم کسی ایک فلسفے، نظریے یا ادارے کے ذریعے رسائی حاصل کر سکیں۔ دریدا کے مطابق پورا مغربی فلسفہ ثنویت پر قائم تھا۔ جس میں ایک تصورکو قدرتی طور پرصداقت، استحکام، توقیر اور ارتفاع حاصل ہے۔ جیسے کہ دایاں اور بایاں، مرد اور عورت، درون اور بیرون، اونچا اور نیچا، کلام اور تحریر وغیرہ۔ بہت سے قلم کار دانستہ یا غیر دانستہ اپنی تحاریر میں اس ترتیب کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہیں۔

۱۹۶۷ میں دریدا نے ان تمام چیزوں کو مدِ نظر رکھ کر کتاب آف گریماٹالجی تحریر کی۔ یہ کتاب ایک مشکل کتاب کہلاتی ہے۔ یاد رہے کہ ادارہ جاتی تنقید کی ضرورت بہت اہم ہے خاص کر یہ سمجھنے کے لیے کہ دریدا نے فرانسیسی فلسفی جان جیک رُوسوکو کیوں اپنی بحث کا موضوع بنایا۔ رُوسوجدیدیت کے عہد کا اہم فلسفی تھا۔ آپ رُوسو سے لے کر جدیدیت اور پھر انقلابِ فرانس تک چند ایک ااشتراکات اور تسلسل دیکھ سکتے ہیں۔ تاہم کچھ لوگ اسے فروئڈ، مارکس اور کانٹ کے تصورات سے بھی جوڑتے ہیں۔ رُوسو کا ارتکاز تحریر کی نسبت کلام پر تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ کلام چونکہ براہِ راست ہوتا ہے لہٰذا اس میں تحریر کی طرح کا فاصلہ یا معنوی ابہام کا احتمال نہیں ہوتا۔ رُوسو کے نزدیک تمام اداراہ جاتی اثر و رسوخ تحریر کی نسبت سے قائم ہوتا ہے۔ رُوسو کے بقول احساسات کلام اور نظریات تحریر میںپیش کیے جاتے ہیں۔ رُوسو کا ماننا تھا کہ اس وقت تک کوئی effect ظہور پذیر نہیں ہو سکتا جب تک کہ کوئی Cause نہ ہو۔ سائنس اور آرٹس میں ترقی اور اکملیت کے حصول کے سلسلے میں انسانیت نے زیادہ نقصان اٹھایا ہے اور انسانیت کرپٹ ہوچکی ہے۔ رُوسو کے نزدیک اس کرپشن کی سب سے بڑی مثال تحریر ہے جب کہ کلام ہماری سوچ کو فوری طور دوسروں تک پہنچا دیتا ہے اس میں ابلاغ کا ایک قدرتی جوہر موجود ہے جب کہ تحریرپر انحصار کرنے سے ابلاغ میں کرپشن در آئی ہے چونکہ اس سے ابلاغ میں فاصلہ اور تفہیمی رکاوٹیں شامل ہوگئی ہیں۔ تحریر کے فاصلے، اور غیر قدرتی ادارہ جاتی جبرکو متن کیا ہے اور اس کی روایت ڈالی ہے۔ تحریر لفظوں کو تو نہیں بدلتی لیکن اس کی رُوح کو متاثر ضرور کرتی ہے اور اظہار میں اختصار کی بجائے طوالت کو لاتی ہے۔ تحریر انسان کو مجبور کرتی ہے وہ ایسے الفاظ کا چنائو کرے جو سب کے لیے قابلِ قبول ہوں جب کہ کلام میں متکلم اپنے لہجے سے ہی بہت معنی سجھا دیتا ہے۔

رُوسو کے ہاں یہ تضاد اس لحاظ سے بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ اس نے کلام پر اپنی پوزیشن کی وضاحت کے لیے بھی تحریر کا سہارا لیا۔ جب آپ کلام کو تحریر میں لاتے ہیں تو اس کا معنی یہ ہُوا کہ آپ کو کلام کی کسی خلا کا علم ہُوا ہے جسے آپ تحریر سے پُر کرنا چاہتے ہیں۔ رُوسو وہ فلسفی تھا جس نے نہ صرف دنیا کو فلسفہِ سیاست دیا بلکہ پہلی باقاعدہ سوانح بھی لکھی جس کا نام تھا Confessions۔ رُوسو کے نزدیک جدید دنیا اور ریاستوں کے قیام سے قبل انسان قدرتی ماحول میں ایک بہتر انسان کے رُوپ میں موجود تھا اب ایسا کیوں ممکن نہیں ہوسکتا؟ اُس کے نزدیک یہ کلچر ہے جس نے فطرت پر بیرون سے حملہ کیا۔ لہٰذا فطرت کی اکملیت پر بھی سوال اٹھتا ہے۔ رُوسو نے اپنے تصورِ سیاست کی وضاحت کے لیے فطری اور غیر فطری کے ثنوی جوڑے یا بائنری کی تشکیل کی۔ اس سے ایک نئی بحث نے جنم لیا کہ غیر فطری اور مصنوعی میں کیا فرق ہے چونکہ بعد ازاں جدید سائنس سے بہت سی فطری طور پر موجود خامیوں کو درست کیا جو لوگوسنٹرک قضایا سے بھی الگ تھی۔ لہٰذا ایک سطح پر فطری اور غیر فطری میں تفریق بھی ناقابلِ فہم ہوگئی۔ سوسییئر نے کہا تھا کہ سگنی فائر اور سگنی فائڈ میں تعلق صوابدیدی ہوتا ہے۔ لہٰذا ایک درخت (جسم، شے یا تصور) سگنی فائڈ ہے اس کا سگنی فائرمختلف زبانوں میں مختلف ہوگا۔ تاہم سوسیئر کا یہ کہتا تھا سگنی فائڈ کا صوتیہ، تحریر کی نسبت سگنی فائڈ سے قدرتی طور پر زیادہ قریب ہوتا ہے جب کہ دریدا کا ماننا تھا کہ اگر ایسا نہ ہو تو کلام تحریر کی نسبت فطری یا اہم نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا دریدا کے نزدیک تحریر زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ جب کہ رُوسو اور سوسیئر کے نزدیک کلام، تحریر کے جبر سے آزاد ہوتا ہے خود مختار ہوتا ہے۔ جب کہ دریدا نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو اس میں تضاد ہے کیونکہ فطرت خود ہی اپنے آپ کو غیر فطری کررہی ہے، فطرت کا بیرون خود اس کے دُرون میں در آیا ہے۔

دریدا نے کہا کہ رُوسو نے جو لکھا وہ بہت حقیقی اور فطری تھاتاہم رُوسو کی اپنی وجودیت سے متصادم تھاچونکہ متن کے باہر کچھ موجود نہیں ہے۔ دریدا کے فلسفے کا بنیادی نکتہ مصنفین کی تحاریر پر اعتراض اٹھانا یا ان پر حملہ آور ہونے کے مترادف ہے چونکہ وہ تضادات کو متن کے اندر سے ہی تلاش کر کے انہیں طشت از بام کرتا ہے۔ لہٰذا اس کا نظریہ تشکیک پر قائم ہے جو مابعد جدیدیت کی ایک بنیادی صفت ہے اسی لیے وہ کسی بھی ایسے مرکز کی انتہائی طاقت اور جبر کا قائل نہیں جو لوگوں کو متاثر کرسکتی ہے یا کررہی ہے۔ اُس نے نزدیک کوئی تصور ایسا نہیں ہونا چاہیے جو اعتراض یا تنقید سے بالا ہو۔ دریدا کا انداز ادق ہے، مشکل ہے جسے وہ Archi-writing کا نام دیتا ہے جو کہ ایک فلسفیانہ اندازِ تحریر ہے جس میں اُس نے ان تمام مشکلات کو متن کیا ہے جس کا اُس نے سامنا خود سامنا کیا تھا۔

اب اگلا مرحلہ یہ ہے کہ کسی متن کی ردِ تشکیل کرنے کا طریقہ کار کیا ہے۔ ان شا اللہ اگلے کسی کالم میں۔

نوٹ : اس کالم کے لیے مختلف صوتی، کلام، متنی ذرائع سے مدد لی گئی ہے۔ (مصنف)

Facebook Comments Box
Ludwig Klagesاردو ادباردو تنقیداردو فلسفہالیاس بابر اعواندردیداردِ تشکیلروسوفلسفہ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
لبرل بیان، مذہبی بیان —– علی عبداللہ
next post
لمحہ حیرت: پاکستان کے موجودہ حالات کا تاریخی تجزیہ (۳) —– محمد خان قلندر

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.