تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینشاعریعلم و ادب

غالب: میں گیا وقت نہیں ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد حمید شاہد

by محمد حمید شاہد 01/02/2019
written by محمد حمید شاہد 01/02/2019
103

اس پل پل بدلتے زمانے میں جمی جمائی تہذیب کے نوحہ خواں اور انیسویں صدی کے شاعر غالب کو یاد کرنا مجھے اچھا لگ رہا ہے۔ بیسویں صدی کے ایک ایسا انسان جو بظاہر کسی منضبط فکر آدمی سے جڑا ہوا نہیں تھا۔ جی، وہی غالب جنہوں نے ایسے اسلوب حیات کو چلن کیا تھا جس پر یار لوگ اب تک انگلیاں اٹھائے چلے آتے ہیں۔ جس کے مالی معاملات الجھے ہوئے تھے انہیں سلجھانے کے لیے وہ شاعری سے بھی کبھی کبھار مدد مانگ لیتے تھے کہ بے شک آباء کا پیشہ سپاہ گری تھا مگر وہ تو کب کا چھوٹ چکا تھا۔

غالب، وظیفہ خوار ہو، دو شاہ کو دعا
وہ دن گئے جو کہتے تھے نوکر نہیں ہوں میں

سلجوقیوں سے نسبی تعلق پر فخر بھی تھا مگر یہ نسبی تعلق کسی لائق ہوتا تو رُکی ہوئی پنشن بحال ہو جاتی جس کے لیے غالب کو مسلسل جتن کرنا پڑے تھے۔ کئی اور بھی دھندے تھے جن میں غالب اُلجھے ہوئے تھے۔ مثلاً اپنے قدر دان ریزیڈنٹ دہلی ولیم فریزر کے مارے جانے کے بعد غالب کا نواب شمس الدین کو اس قتل کے جرم میں پھانسنے اور پھانسی کے پھندے تک لے جانے میں سرگرمی دکھانا۔ محمد حسین قتیل دہلوی کی فارسی کو نیچا دکھانے کے لیے اس کی ذات پر بعد از موت شدید حملے کرنا؛ اسے فرید آباد کا کھتری بچہ کہہ کہہ کر تمسخر اڑانا اور جب دال کا نہ گلنا اور اپنے ہی دوستوں کا فاصلہ کرنے لگنا تو معذرت نامے لکھ لکھ کر انہیں منانا۔ مولوی عبد القادر رام پوری‘ مولوی کرم حسین بلگرامی اور مولوی نعمت علی عظیم آبادی جیسے فارسی کے اساتذہ کے سامنے سبکسار ہونا۔ درباری شاعر بننے کے لیے ملکہ وکٹوریہ کی خدمت میں درخواست گزارنا اور پھر اس کے جواب کے انتظار میں بے قرار پھرنا۔ ایک طرف ایمان، عقیدے اور عقیدت کا ایسا عمدہ اور اعلیٰ معاملہ ہونا کہ زبان سے بے اختیار سبحان اللہ نکل جائے:

اُس کی اُمت میں ہوں میں‘ میرے رہیں کیوں کام بند
واسطے جس شہ کے غالب‘ گنبدِ بے در کھلا

اور دوسری طرف ایسی انا کا ہونا کہ اندر سے بلاوا نہ آئے تویہ صاحب در کعبہ سے بھی لوٹ آئیں۔ جس بت کافر کو پوجنا آغاز کرنا زمانہ چاہے مخالف ہو جائے اور انہیں لاکھ کافر کہے مگر وہ اپنی لگن اور ہٹ نہ چھوڑنا۔

ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے

ایک طرف غالب کا ایمان تھا جو انہیں روکتا تھا اور دوسری طرف کفر جس کی کشش انہیں بے کل رکھتی تھی۔بجا کہ کعبہ کی جانب ان کی پشت تھی مگر کلیسا کی جانب لپکنا بھی انہیں کھلتا تھا۔ یہ اور اس طرح کے بیسیوں بکھیڑے تھے جو مرزانوشہ کی جان کو لگے ہوئے تھے۔ ایسی الجھی ہوئی زندگی رکھنے والے شخص کا نصیب دیکھیے کہ دنیا کو بازیچہ اطفال سمجھنے والے اس شاعر کے قلم سے جو اشعار انیسویں صدی میں ٹپکے تھے وہ آج کے زمانے میں زیادہ بامعنی ہو گئے ہیں۔

صاحب! اگرچہ اس نئی تنقید کی روشنی میں ’کہ جس میں لکھنے والا لکھتے ہی مر مرا کر فارغ ہو جاتا ہے‘ ’غالب کی زندگی کے حالات‘ ’ان کے ذہنی الجھیڑے‘ ’ان کے لسانی معرکے‘‘ اور ان کے اشعار کا زمانی پس منظر کوئی معنیٰ نہیں رکھتا مگر واقعہ یہ ہے کہ غالب تو اپنے زمانے کو ساتھ لے کر چھاتی تانے ہمارے سامنے کھڑا ہوئے ہیں۔ اپنے پورے جاہ و جلال اور تخلیقی جمال کے ساتھ۔ وہ وقفے وقفے سے گوشہ چشم سے اس نئی تنقیدی تھیوری کو دیکھتے ہیں اور اس پر طنزیہ مسکراہٹ یوں پھینکتے ہیں جیسے اسے اپنی بساط لپیٹنے کو کہہ رہے ہوں۔ یہ جو غالب کی شاعری نئے زمانے میں اندر تک گھسے چلے آتی ہے اور ساتھ ہی نہ صرف غالب کی اپنی شباہت کو اچھال رہی ہے ’’ان کی نارسائیوں اور رسوائیوں کو اس طرح نمایاں کر رہی ہے جیسے کہ یہ ان کی چھاتی کے تمغے ہوں‘‘ تو ادب کو محض متن سمجھنے والے اے بھائی لوگو! یہ تسلیم کرنا ہی ہو گا کہ اعلیٰ ادب ادیب کو مارتا نہیں بل کہ اسے اگلے زمانوں تک زندہ رکھتا ہے۔

ہاں تو بات غالب کی شاعری کی ہو رہی تھی۔ بیچ میں تنقید کا معاملہ چھڑ گیا اور اب آگے بڑھنے سے پہلے غالب کی مقامیوں کے بدن میں سنسنی مچاتی وہ تحریریں یاد آگئی ہیں جو بقول کسے وقتی ارتعاش کا نتیجہ تھیں یا پھر مصلحت کوشی ان کا جواز ہو گئی تھی۔ تاہم غالب کی ان تحریروں کو ان کے ذاتی حالات ’’جو بہت الجھے ہوئے تھے‘‘‘ سے جوڑنے کی بجائے اپنے ہاں کے ایک فلسفی کا مطلق فلسفہ ہندوستانیوں کے خلاف ایک چارج شیٹ کے طور پر استعمال کرنے لگا ہے۔ یہ سب کچھ میری نظر میں ہے مگر مجھے اس ’’عافیت کے دشمن اور آوارگی کے آشنا‘‘ غالب کی شاعری میں تہذیبی سطح پر مزاحمت اور معاشرتی سطح پر بے اطمینانی اور بغاوت صاف صاف محسوس ہوتی ہے۔

غالب کی تخلیقی انفرادیت کی ایک شان یہ بھی ہے کہ ایک طرف وہ تہذیبی آدمی تھے تو دوسری طرف فرسودہ اور جامد رویے بھی انہیں بہت کھلتے تھے۔ وہ جست لگا کر ان سے الگ ہونے کی للک رکھتے اور یوں اپنی تمنا کے برتے پر دشت امکاں کو نقش پا بنا سکتے تھے۔

ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یارب
ہم نے دشت امکاں کو ایک نقش پا ‘پایا

غالب نے جب دشتِ امکاں کو ایک نقش پا کی طرح پایا تھا تو یار لوگوں نے ’’پاپایا‘‘ پر ناک بھوں چڑھائی۔ اس شعر کی عظمت دیکھئے کہ غالب کے قارئین، یار لوگوں کی پیشانیوں پر پڑنے والی شکنوں کو لائق اعتنا نہیں جان رہے تھے۔ بہت پہلے یگانہ نے ان ساری دلیلوں کو ماننے سے انکار کر دیا تھا جو غالب کے ذاتی کردار اور ان کی شاعری کے دفاع میں دی جا رہی تھیں، ان کے مطابق غالب کا کریکٹر قابل گرفت تھا اور ان کی شاعری میں فنی کمزوریاں اور فارسی ادب کی چوریاں پائی جاتی تھیں۔ مثلاًغالب نے کہا تھا:

اسد بسمل ہے کس انداز کا، قاتل سے کہتا ہے
کہ مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر

اور یگانہ کا کہنا تھاکہ غالب نے اس شعر کا خیال شیخ علی حزیں قادری کے اس شعر سے اڑایا تھا:

چہ لذت بود از قاتل حزیں نیم بسمل را
کہ در خوں می تپیدو آفریں می گفت بردستش

تاہم انہی یگانہ کے حوالے سے یہ بھی ریکارڈ پر ہے کہ انہوں نے غالب کے اس شعر کو ’’بڑا بانکا شعر ‘‘کہا اور یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ غالب نے شیخ علی حزیں قادری کے خیال کو’’ ترقی ‘‘دِی تھی اور’’ نقل کو اصل سے بڑھا دیا تھا‘‘۔ تو یوں ہے کہ غالب شکنوں نے غالب کو ڈھانے کی کوششیں کیں اور بنایا بھی، وہ ڈھے تو نہ پائے، تا ہم بلندی پکڑ تے گئے۔ انہیں روکنے والے روکتے ہے مگر وہ انہیں روند کر بڑھتے ہوئے ہمارے زمانے تک چلے آئے ہیں۔

ہمارے زمانے کے بہت اہم اور نمایاں شاعر ظفر اقبال کا خیال ہے کہ غالب کے وہ اشعار جو ضرب المثل ہوگئے ہیں ایک عرصہ تک گھسنے گھسانے کی وجہ سے ان میں سے تازگی ماند پڑ گئی ہے۔ اجی، کہیے تو، کیا ضرب المثل اپنی سرشت میں وہی نہیں ہوتی جو نئے زمانے والوں کے الجھاوئوں کو سلجھانے کے لیے قدیم زمانوں سے لپک کرآتی ہے اور ’’نئے‘‘ کو تازہ معنیٰ عطا کر کے قدیم اور جدید کی تفریق مٹا دیا کرتی ہے۔ ظفر اقبال ہی نے شاید کہیں یہ بھی لکھا تھا کہ کوئی صاحب ان سے دیوان غالب مانگ کر لے گئے تو انہوں نے اسے اپنے حق میں غنیمت جانا تھا۔ خیر وہ اشعار جو غیر معروف ہونے کی وجہ سے گھسنے گھسانے سے بچ گئے ہیں، اچھی بات یہ ہے کہ غالب کے دیوان سے مستقل رابطے کو ناروا سمجھنے والے ظفر اقبال کو وہ اشعار اچھے لگتے ہیں۔ ظفر اقبال کا یہ اعتراف بھی کم اہم نہیں ہے کہ ’’غالب کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ ان کا جو شعر تازہ ہے، وہ ہمیشہ تازہ ہے۔‘‘

اس تازہ تر شاعر کا کمال یہ ہے یہ ایک ہی وقت میں عرفی، جامی، سعدی، بیدل اور میر سے متنی ربط استوار کرتے ہیں، اپنے عہد کی بپتا کہتے ہیں اور جست لگا کر نئے زمانوں کو بھی اپنے معنیاتی سلسلے سے جوڑ لیتے ہیں:

محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا
یاں ورنہ جو حجاب ہے پردہ ہے ساز کا

یاد رہے کہ غالب نے اپنے آپ کو ’عندلیب گلشن نا آفریدہ‘ کہا تھا۔ نیا زمانہ جس میں ہم غالب کو یاد کر رہے ہیں بہت تبدیل شدہ سہی ’’بہت آگے کا سہی‘‘ مگر کون ظالم ہے جو اسے گلشن ناآفریدہ نہ کہے گا۔ اُدھر دِلی اجڑتی تھی اور غالب کے دِل پر چرکے لگتے تھے۔ اِدھر گلوبل ولیج کے نام پر پورا گلوب دہشت کی زد پر ہے اور انسان کا دِل سہما ہوا ہے۔ وہ نسلی تفاخر جو غالب کو عزیز تھا اب مکمل طور پر مٹنے کو ہے۔ جس زمانے میں نسلوں کی نسلیں تیل اور قوت کے منابع کے حصول کے لیے کولہو میں پلوائی جا رہی ہوں وہاں نسلی یا مذہبی تفاخر تو کیا انسان کا اپنا وجود ہی ہیچ ہو جاتا ہے۔ وہ تہذیبی رویے جو غالب کو عزیز تھے اور ان میں ذرا سا بھی بگاڑ انہیں برہم کر دیتا تھا اب مسلسل معدوم ہو رہے ہیں۔ مارکیٹ اکانومی ہمیں مکمل طور پر صارف بنا ڈالنے کے درپے ہے۔ بظاہر ہم پر حکم رانی کا دعویٰ رکھنے والے دراصل اپنے معاشی مالکوں کا حق نمک ادا کرنے کے لیے ہمیں صارف ہونے کے آداب سکھانے میں جتے ہوئے ہیں۔ ایک دنیا کے انہدام کا منظر غالب کے سامنے تھا اور ایک دنیا کے انہدام کا منظر ہمارے سامنے ہے۔ انیسویں صدی کو غالب مل گیا جس کے کلام میں وہ صدی سما گئی ہے یوں کہ اب ہم گزرے حالات کو اپنے زمانے پر منطبق کرتے ہیں تو غالب ہمارے زمانے کے شاعر لگتے ہیں۔

اب میں ہوں اور ماتم یک شہرِ آرزو
توڑا جو تو نے آئنہ تمثال دار تھا

اچھا یوں گماں بھی مناسب نہیں ہے کہ غالب ہمیں اپنے تہذیبی انہدام اور اپنی نارسائیوں کی وجہ سے ہی یاد آتے ہیں۔ وہ اپنے زمانے سے نا خوش، سماجی سطح پر نا مطمئن اور مالی طور پر دبائو میں تھے مگر پھر بھی مکمل طور پر تبدیل نہیں ہو گئے تھے اورنہ ہی اپنے آپ کو اپنی ذات کے اندر سمیٹ لیا تھا۔ یوں دیکھیں تو وہ جدید تر احساس کے انسان تھے:

ہے آدمی بجائے خود اک محشر خیال
ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو

غالب نے ایک قدم اپنی صدی میں رکھا تھا اور دوسرا رکھنے کے لیے آنے والے زمانے بھی چھوٹے پڑ گئے تھے۔ اب ہمارے عہد کے شاعر ہیں کہ انہیں کوئی نیا مضمون کم کم سوجھتا ہے۔ پلٹ کر غالب کو دیکھتے ہیں مرعوبیت ان کے سینے جکڑ لیتی ہے۔ غالب کا رنگ لانا چاہتے ہیں وہ گرفت میں نہیں آتا۔ حالاں کہ غالب کا سا ہونے کے لیے غالب سے مرعوبیت کی نہیں ان کے جیسے تہذیبی شعور کی ضرورت ہے۔ نئے عہد کے چرکے تہذیبی شعور کے ساتھ ہی وقار کے ساتھ سہے جا سکتے ہیں اور اس کے لیے غالب کی فقط زمینوں کو روندنے کی بجائے انہیں تہذیبی اور حسی حوالوں کے ساتھ بلانا ہو تو انہیں آنے میں کوئی عار نہیں ہے:

مہرباں ہو کے بلالو مجھے چاہو جس وقت
میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں

میں اس نئے زمانے میں بھی غالب کے بہت قریب ہوں۔ غالب کے بھی اور غالب کے وسیلے سے غزل سے بھی۔ مجھے غالب کو تلاشنے کے لیے گزرے وقت میں نہیں جانا پڑتا کہ غالب خود چلتے ہوئے اپنے زمانے کو ساتھ لے کر آتے ہیں اور کچھ اس ادا سے اپناکلام پڑھے جاتے ہیں کہ مجھ پر طلسم روز و شب کے در کھلنے لگتے ہیں۔ غالب کے وہ اشعار جو ضرب المثل ہو گئے ہیں۔

اک کھیل ہے اورنگِ سلیماں مرے نزدیک
اک بات ہے اعجازِ مسیحا مرے آگے

آبرو کیا خاک اس گل کی کہ گلشن میں نہیں
ہے گریباں ننگ پیراہن جو دامن میں نہیں

قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

اصل شہود و شاہد و مشہود ایک ہے
حیراں ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں

ہے تجلی تری، سامانِ وجود
ذرہ بے پر تو خورشید نہیں

چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک تیز رو کے ساتھ
پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہ بر کو میں

مہرباں ہوکے بلا لو مجھے چاہو جس وقت
میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں

Facebook Comments Box
انیسویں صدیپنشنپھانسیپھانسی کے پھندےدر کعبہدرباری شاعرریزیڈنٹ دہلیریزیڈنٹ دہلی ولیم فریزرسلجوقشاعریغالبفارسیفارسی کے اساتذہکعبہمارکیٹ اکانومیمحمد حسین قتیل دہلویمرزا غالبملکہ وکٹوریہمولوی عبدالقادر رام پوریمولوی کرم حسین بلگرامیمولوی نعمت علی عظیم آبادیمیرمیر تقی میرنواب شمس الدینہندوستانولیم فریزر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
محمد حمید شاہد

محمدحمید شاہد اردو کے معروف افسانہ نگار، ناول نگار اور نقاد ہیں ۔ آپ 23 مارچ 1957 کو پنڈی گھیب ضلع اٹک (پنجاب) پاکستان میں پیدا ہوئے ۔ پنڈی گھیب سے میٹرک کے بعد زرعی یونیورسٹی لائل پور(فیصل آباد) سے ایف ایس سے کے بعد ایگری کلچر مضامین میں گریجویشن کی اور ایک بنکار کی حیثیت سے بتیس سال عملی زندگی سے وابستہ رہے۔ اس عرصے میں اندرون ملک شہر شہر گھومے، دیہی زندگی کو قریب سے دیکھا اور کئی ممالک کا دورے بھی کیے ۔ محمد حمید شاہد کی ادبی زندگی کاآغاز یونیورسٹی کے زمانے سے ہی ہو گیا تھا ۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے مجلہ "کشت نو" کے مدیر رہے۔ پہلا افسانہ بھی اسی زمانے میں لکھا۔ پہلی کتاب " پیکر جمیل" بھی یونیورسٹی کے زمانے میں لکھی ۔ افسانوں کا پہلا مجموعہ "بند آنکھوں سے پرے "تھا جب کہ "جنم جہنم"،"مرگ زار"اور "آدمی" آپ کے افسانوں کے دیگر مجموعے ہیں۔ "محمد حمید شاہد کے پچاس افسانے" معروف بزرگ ادیب اور شاعر ڈاکٹر توصیف تبسم کا منتخب کردہ ہے جب کہ محمد حمید شاہد کے نائن الیون کے پس منظر میں لکھے ہوئے منتخب افسانوں کو "دہشت میں محبت" کے نام سے غالب نشتر نے مرتب کیا تھا۔ محمد حمید شاہد کا ناول"مٹی آدم کھاتی ہے" کے نام سے چھپا اور مقبول ہوا ۔ فکشن کی تنقید محمد حمید شاہد کی ترجیحات کا ایک اور علاقہ ہے ۔ "ادبی تنازعات"،"اردو افسانہ:صورت و معنیٰ"، "اردو فکشن: نئے مباحث"،"کہانی اور یوسا سے معاملہ " کے علاوہ "سعادت حسن منٹو:جادوئی حقیقت اور آج کا افسانہ" اس حوالے سے چند معروف کتب ہیں ۔ اردو نظم پر تنقید کی کتاب"راشد ،میراجی، فیض" کے علاوہ آپ کی نثموں کی کتاب لمحوں کا لمس اور بین الاقوامی شاعری کے تراجم پر مشتمل کتاب "سمندر اور سمندر" بھی بہت معروف ہیں۔ حکومت پاکستان نے محمد حمید شاہد کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کے لیے صدارتی سول ایوارڈ "تمغہ امتیاز" 2017 کو دیا۔

previous post
چندرا ——- شہزاد حنیف سجاول کا افسانہ
next post
اے حمید کی کتابوں کی اشاعت نو ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعیم الرحمٰن

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.