تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

جماعت اسلامی: تری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی —– فاروق عادل

by دانش ڈیسک 17/01/2019
written by دانش ڈیسک 17/01/2019
107

کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ معاشرے کے بعض توانا اور انتہائی ناگزیر مظاہر دیکھتے ہی دیکھتے غیر متعلق ہوجاتے ہیں۔ ان معاشرتی عوامل کی بعض خوب صورت مثالیں میدانِ سیاست سے بآسانی دستیاب ہیں۔ تازہ ترین مثال جماعت اسلامی کی شکل میں سامنے آرہی ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران میں جماعت اسلامی کے تعلق سے دو اہم واقعات رونما ہوئے۔ اوّل، جماعت سے وابستہ ابتدائی نسل کی انتہائی اہم شخصیت یعنی چوہدری رحمت الٰہی انتقال کرگئے, اور دوم، اس جماعت نے متحدہ مجلس عمل سے علیحدگی اختیار کر لی۔ چوہدری رحمت الٰہی کا شمار جیسا مخدومی مجیب الرحمن شامی صاحب نے لکھا، ان ذمہ داران میں ہوتا تھا جنھوں نے اس جماعت کی بنیادیں مضبوط کر نے میں اپنی توانائیاں صرف کردیں اور سیاسی و جمہوری جدو جہد، اتحادوں کی تشکیل حتیٰ کہ اقتدار کے ایوانوں میں بھی اپنی خدمات کے گہرے نقوش چھوڑے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ متحدہ مجلس عمل کا بھی ہے۔ دینی جماعتوں کا یہ اتحاد ہماری حالیہ اور ماضی قریب کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ وطن عزیز میں جب جمہوری و غیر جمہوری سیاست اور پاکستان پر افغانستان کی صورت حال کے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا تو اس اتحاد کی ابتدا و انتہا کا مطالعہ بھی دلچسپی کے ساتھ کیا جائے گا۔ اس تذکرے میں جماعت اسلامی کا ذکر نمایا ں بھی ہوگا اور غیرمعمولی بھی لیکن اس کے باوجود یہ دونوں اہم واقعات توجہ سے محروم رہے ہیں، شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ جماعت اسلامی کی اہمیت میں کمی محسوس کی جانے لگی ہے۔ یہ دونوں مثالیں قومی سیاست کے طالب علموں، خاص طور پر ان دوستوں کے لیے دلچسپی کے بہت سے پہلو اپنے اندر رکھتی ہیں جو جماعت اسلامی کے امور، خاص طور پر اس کی سیاسی مدّوجذر سے دلچسپی رکھتے ہیں۔

حالیہ برسوں کے دوران میں جماعت اسلامی کی سیاسی کارکردگی زبوں حالی کا شکار رہی ہے۔ گزشتہ عام انتخابات اور ان سے قبل تمام ضمنی انتخابات سے ظاہر ہوا کہ اس کا حلقہ متاثرین ماضی کے مقابلے میں بہت سکڑ چکا ہے۔ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ ماضی میں اگر قومی اسمبلی کے ایک حلقے میں اس کا امید وارتن تنہا دس سے پندرہ اور بعض صورتوں میں بیس ہزار اور اس سے کچھ زائد ووٹ لے جاتا تھا تو اب یہ تعداد کم ہو کر چند سو تک محدود ہوچکی ہے۔ اس صورت حال نے جماعت کے ذمہ داران اور ہمدردوں کے حلقے میں یقینا خطرے کی گھنٹیاں بجائی ہیں اور بعض احباب نے بھی اس پر خامہ فرسائی کی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اضطراری کیفیت میں لیے گئے ان جائزوں میں بعض بنیادی عوامل توجہ سے محروم رہ گئے ہیں۔ ان تجزیوں میں بعض صورتوں میں شخصیات کو ہدف تنقید بنا کریا بعض معمولی اور ظاہری عوامل جیسے سوشل میڈیا کے غیر حکیمانہ استعمال پر اعتراض کرکے سمجھا گیا کہ جائزے کا حق ادا ہوگیا۔ 77 طویل برسوں پر مشتمل گونا گوں سرگرمیوں کی تاریخ رکھنے والی جماعت کے نشیب و فراز کو اتنے سرسری انداز میں سمجھنا اگر آسان ہوتا تو یہ جماعت بھی اپنی قیادت اور سوشل میڈیا پالیسی وغیرہ میں تبدیلی لاکر اپنے مسائل پر قابو پاچکی ہوتی۔

جماعت اسلامی ایک مقبول سیاسی قوت کیوں نہ بن سکی؟ اس مطالعے میں یہ سوال بنیادی اہمیت کا حامل ہے لیکن جماعت کا موجودہ مسئلہ یہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ معاشرے کی مختلف سطحوں پر پھیلے ہوئے اس کے وہ ہمدرد کیا ہوئے جن کے ووٹ اور اخلاقی حمایت سے قومی منظر نامے پر اسے ہمیشہ اہمیت حاصل رہی۔ اگر اس سوال پر سنجیدگی کے ساتھ غور کر لیا جائے تو توقع کی جاسکتی ہے کہ مسئلے کا سرا ہاتھ میں آجائے گا۔

برادرم عامر خاکوانی کا تجزیہ ہے کہ اسلامی جمیعت طلبہ جماعت اسلامی کی وہ نرسری ہے جو اسے افرادی قوت فراہم کرتی ہے، اس دعوے کے حق میں انھوں نے یہ ثبوت بھی پیش کیا ہے کہ جماعت کی آج کی تمام تر قیادت جمیعت ہی کی مرہون منت ہے۔ اس تجزیے کی اصابت میں کوئی کلام نہیں لیکن جماعت کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس کے حلقہ ہمدرداں کی تشکیل میں اگر جمیعت کا کوئی کردار ہے بھی تو بہت معمولی ہے کیونکہ قیام پاکستان کے بعد کے ان برسوں میں جب جماعت انتخابی سیاست میں متحرک ہوئی تو اس وقت معاشرے میں جمعیت کے متاثرین کا حجم اتنا نہیں تھا جو جماعت کو ایک انتخابی قوت کی حیثیت عطا کرسکتا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جماعت کا یہ حلقہ متاثرین جمیعت کے پھیلاو کے بجائے کسی اور سرگرمی کا نتیجہ رہاہوگا۔

ایسا لگتا ہے کہ جماعت اپنے متاثرین کے انداز فکر کو سمجھنے میں ناکام رہی اور قاضی حسین احمد مرحوم کے زمانے میں جماعت روایتی مذہبی طبقے بلکہ دیوبندی مکتبہ فکر کا رنگ ڈھنگ اختیا ر کرتی چلی گئی۔

جماعت سے وابستہ سنجیدہ فکر اصحاب سے گفتگو اور تاریخ کے مطالعے سے سمجھ میں آتا ہے کہ اپنے قیام کے بعد اس جماعت نے جس قدر بھی وسعت حاصل کی، مولانا مودودیؒ کے لٹریچر کے بل بوتے پرحاصل کی۔ کم از کم ستر کی دہائی تک جماعت اسلامی کے ذمہ داران اور وابستگان کسی سیاسی لالچ کے بغیر محض ایک دینی یا نظریاتی ذمہ داری کے احساس کے تحت اپنا لٹریچر لوگوں تک پہنچایا کرتے تھے۔ اس لٹریچر نے معاشرے کے ایک بہت بڑے حصے کو جماعت کا خاموش حامی بنا دیا۔ یہ طبقہ دین، سیاست اور ریاست کے بارے میں علامہ اقبالؒ کے انداز فکر ہی کو پاکستان کے نظریاتی و سیاسی مسائل کا حل سمجھتا تھا یعنی اسلامی طرز زندگی جدید عہد کے تقاضوں کے عین مطابق۔ پاکستان کی پڑھی لکھی مڈل کلاس کے ایک قابل لحاظ حصے کا تاثر یہ تھا کہ مولانا مودودیؒ اور ان کی جماعت ان کے اقبا ل ؒ برانڈ تاثر کے قریب تر ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ جماعت اپنے متاثرین کے انداز فکر کو سمجھنے میں ناکام رہی اور قاضی حسین احمد مرحوم کے زمانے میں جماعت روایتی مذہبی طبقے بلکہ دیوبندی مکتبہ فکر کا رنگ ڈھنگ اختیا ر کرتی چلی گئی۔ اس طرح جماعت اور روایتی مذہبی طبقات کے درمیان فرق تقریباً ختم ہوگیا، یوںجماعت کی طرف اس کے متاثرین کی کشش کم ہوتے ہوتے نہ ہونے کے برابر رہ گئی حالانکہ یہی وہ لوگ تھے جو انتخابات کے مواقع پر جماعت کی جھولی اپنے ووٹوں سے بھر دیا کرتے تھے۔ قربانی کی کھالوں کا معاملہ بھی اسی سے ملتا جلتا ہے۔ یہ لوگ اپنی مالی عبادات اور قربانی کی کھالیں محض اس لیے جماعت کے سپرد کردیا کرتے تھے کہ وہ ان سے حاصل ہونے والی آمدنی پوری امانت اور دیانت کے ساتھ مستحقین تک پہنچا کر ان کے لیے اجرو ثواب کا ذریعہ بن جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ لٹریچر کے بعد جماعت کے حلقہ متاثرین میں اضافہ کرنے والی دوسری بڑی قوت اس کی رفاحی سرگرمیاں تھیں۔

کم از کم گزشتہ تین دہائیوں کی تاریخ کے جائزے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جماعت کی انتخابی قوت میں وسعت پیدا کرنے والی ان ہی دو سرگرمیوں میں سب سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔ لٹریچر کے پھیلاو اور خدمت خلق کے سلسلے میں جماعت اسلامی کے لوگ گلی کوچوں میں پھیل جایا کرتے تھے ۔اس طرح ان کا عوام سے براہ راست رابطہ ہوتا اور وہ عام آدمی کی سوچ سے براہ راست واقفیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے۔ان سرگرمیوں کے ختم یا محدود ہوجانے کی وجہ سے جماعت کے عوامی رابطے بڑی حد تک متاثر ہوئے اور اس کی عوامی حمایت میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی۔ اسی کی دہائی کے بعد جوان ہوکر کاروبار زندگی سنبھالنے والی نئی نسلوں پر اس تبدیلی نہایت گہرے اثرات نظر آتے ہیں۔

انتخابی معاملات میں جماعت کی بڑھتی ہوئی عدم مقبولیت کے معاملے میں ایک اور معاملے پر توجہ بھی ضروری ہے۔اس کا تعلق اس بیانئے سے ہے جسے جماعت نے ستر کے انتخابات میں شکست کے بعد تشکیل دیا۔ان انتخابات میں مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلزپارٹی نے 18عشاریہ 6 ووٹ حاصل کر کے مغربی پاکستان میں فیصلہ کن برتری حاصل کرلی تھی ۔اس کے مقابلے میں دائیں بازو کی تمام جماعتوں نے مجموعی طور پر ان سے کہیں زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے۔ اس موقع پر جماعت نے یہ تصور پیش کیا کہ اگر دائیں بازو کی سیاسی قوتیں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیں تو سوشلسٹ رجحانات رکھنے والی پیپلز پارٹی کو شکست سے دوچار کیا جاسکتا ہے۔ 1977ءمیں تشکیل پانے والے پاکستان قومی اتحاد کے قیام میں اگرچہ بہت سی دیگر سیاسی وجوہات بھی کارفرما تھیں لیکن پس منظر میں جماعت کی یہ فکر بھی کام کررہی تھی۔بعد کے برسوں میں کچھ حالات میں تبدیلیاں رونما ہوئیں اور کچھ جماعت کی فکر میں انقلاب آیا جس کے سبب جماعت اس بیانئے سے لاتعلق ہوگئی لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ اپنے متاثرین اور ہم خیالوں کو اپنی نئی فکر کا قائل نہ کرسکی۔ ان لوگوں کے خیال میں جماعت اپنے نصب العین سے ہٹ کر خالصتاً سیاسی انداز فکر اختیار کرکے اقتدار کی سیاست کاحصہ بن چکی تھی۔ مایوسی کی اس کیفیت میں جماعت کا ووٹ پہلے مسلم لیگ ن کی طرف ملتفت ہوا جو اس وقت دائیں بازو کی ترجمان بن کر ابھر رہی تھی اور اب اس میں سے کچھ حصہ تحریک انصاف کی طرف بھی متوجہ ہوا ہے۔

جماعت کے وابستگان اور اس کی سیاست سے دلچسپی رکھنے والوں کے درمیان یہ ایک مقبول خیال ہے کہ جماعت کی موجودہ قیادت تبدیل کردی جائے یا اس کی ابلاغی حکمت عملی میں کوئی جوہری تبدیلی کردی جائے تو صورت حال بدل جائے گی۔ میرا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہوگا، اب جماعت کو کچھ ایسا کرنا ہوگا جو اس نے ابھی تک سوچا ہی نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیئے: دیر میں جماعت اسلامی کی شکست کے اسباب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ضیاء الرحمان
فکر مودودی اور جماعت اسلامی: تجزیہ ۔ مجاہد حسین(حصہ اول)
Facebook Comments Box
Jamat e IslamiJIجماعت اسلامیفاروق عادل
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
منٹو کے برے افسانے‎ —— ذیشان حسین
next post
اجنبی: بیاد واصف علی واصف —– افشان بنگش

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.