تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتنقیدعلم و ادب

منٹو کے برے افسانے‎ —— ذیشان حسین

by دانش ڈیسک 17/01/2019
written by دانش ڈیسک 17/01/2019
86

آجکل نندیتا داس کی فلم منٹو پر پابندی کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ میرا خیال تھا پابندی “فحش” مناظر دکھانے کی وجہ سے لگائی گئی ہو گی اور میں بہت حیران تھا کہ “اور کیا دیکھنے کو باقی ہے / سیٹھی تیری سپرایٹ کا ایڈ دیکھ لیا”۔ میرے ایک لبرل دوست نے پوچھا کہ بچوں کے ساتھ سیکس پر بات کرنی چاہیے۔ میرا جواب تھا کہ ضرور کرنی چاہیے اگر آپ نے کوئی نئی بات پوچھنی ہو۔ منٹو کے “فحش” مناظر تو اتنی پیچیدہ نفسیاتی الجھنیں لیے ہوتے ہیں کہ کوئی جنسی تلذذ حاصل کرنے بیٹھے بھی تو ذہنی خجالت کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ ایک زمانہ تھا جب شرفاء کی لڑکیاں چھپ چھپ کر منٹو کے فحاشی کے الزام لگے افسانے پڑھا کرتی تھیں۔ اب تو اور سے اور ہوءے درد کے عنواں جاناں۔ ویسے منٹو نے خود پر لگے فحاشی کے الزام کا دفاع خوب کیا۔ جج صاحب نے کہا کہ آپ کے افسانے سے کچھ فقرے نقل کیے ہیں جو فحاشی کے زمرے میں آتے ہیں تو منٹو نے کہا کہ اس طرح تو میں مقدس کتابوں سے بھی فحش فقرے نقل کر سکتا ہوں۔ سیاق سے ہٹ کر ظاہر ہے ہر خیال اپنا راستہ کھو دیتا ہے۔ کسی نے کہا کہ عورتوں کے لیے یہ افسانے شہوانیت کی ترغیب ہیں۔ منٹو نے کہا کہ شہوانیت کی ترغیب تو کسی مشین کی مخصوص حرکت سے بھی مل سکتی ہے۔ جج صاحب نے کہا کہ انہیں ٹھنڈا گوشت میں شہوانیت کر ترغیب نظر آتی ہے تو منٹو نے کہا کہ یہ تو ایک المیہ کی کہانی ہے جس میں ایک مرد کسی قبیح فعل کے احساس گناہ کے زیر اثر نفسیاتی ہیجڑے پن کا شکار ہو جاتا ہے اور اپنی داشتہ کے ساتھ جنسی تعلق قائم نہیں کر سکتا جو جنسی گھٹن کی تاب نہ لاتے ہوئے اس پر چاقو چلا دیتی ہے۔ اس میں شہوانیت کی ترغیب حاصل کرنے والا کوئی بیمار ذہن ہی ہو سکتا ہے۔ فیض احمد فیض نے سب سے اچھی بات کہی اور وہ یہ کہ منٹو کو ادب کے جمالیاتی اقدار کا خیال رکھنا چاہیے تھا کیونکہ کسی افسانے اور رپورتاژ کا فرق بہر حال واضح رہنا چاہیے یعنی قاری ایک ادب پارے سے محظوظ ہو اور اس میں چھپی تلخی کو غیر شعوری طور پر قبول کر لے۔ ان کا خیال تھا کہ منٹو کچھ فقرے نہ بھی لکھتا تو افسانہ مکمل ہی ہوتا بلکہ اپنی خوبصورتی قائم رکھتا۔

تقسیم اور فحاشی کے مقدموں کی وجہ سے جو افسانے مشہور ہوئے وہ سب بہت اعلیٰ پائے کے افسانے نہیں ہیں بلکہ اس میں بہت سے بچگانہ غلطیاں ہیں۔

منٹو نے انسانی نفسیات کی گتھیاں الجھائی بھی ہیں اور سلجھائی بھی۔ مرد کا زنانہ پن, شرفاء میں جنسی درندگی کے جراثیم، خارج میں رونما ہونے والے واقعات کا پوشیدہ جنسی آرزووں پر اثر، ٹھکرائے ہوئے لوگوں میں بڑا پن، بڑے لوگوں میں غلاظت، “بری” عورت کا اجلا پن اور باکرہ عورتوں کی جنسی درندگی، انسانیت اور نظریہ کا ٹکراو، مذہب اور محبت کی چشمک، وارفتگی اور بے دلی، برجستگی اور بے رحمی، بے قراری اور بے بے رخی، غرض منٹو نے زندگی کا کوئی پہلو نہیں چھوڑا لیکن ایک اہم بات بھی کہ منٹو نے ہر رخ پر حرف آخر نہیں کہہ دیا۔ انسانی اور سماجی نفسیات پر قلم نہیں توڑ دیا۔ تقسیم اور فحاشی کے مقدموں کی وجہ سے جو افسانے مشہور ہوئے وہ سب بہت اعلیٰ پائے کے افسانے نہیں ہیں بلکہ اس میں بہت سے بچگانہ غلطیاں ہیں۔ مثلاً، کھول دو، میں تقسیم کے دوران رضا کاروں کے ریپ کا شکار ایک لڑکی ریپ ہونے کی اتنی عادی ہو جاتی ہے کہ ڈاکٹر اگر کھڑکی کھولنے کا کہتا ہے تو وہ اپنا ازار بند کھول دیتی ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ ریپ کی شکار سے کوئی نہیں کہتا کہ کھول دو اور اگر کھول دو کہنے پر ازار بند کھولا جائے گا تو شاید وہ ریپ کے زمرے ہی میں نہ آئے۔ کھول دو کہنا اتنا مکینیکل ہو جاتا ہے کہ سوائے ازار بند کھولنے کے اس لڑکی کے لیے کھولنے کا کوئی ریفرنس ہی باقی نہیں رہتا۔ دوسری بات یہ کہ اگر وہ اتنے ہوش و حواس میں تھی کہ الفاظ کھول دو سن کر اضطراری طور پر اس کا ہاتھ ازار بند کی طرف چلا گیا تو اسے ماحول کی تبدیلی کا احساس سب سے پہلے ہونا چاہیے تھا اور کسی بھی طرح اس پر رد عمل کا اظہار کرنا چاہیے تھا۔

ناقدین اور فلم میکرز کو چاہیے کہ منٹو کے غیر معروف افسانوں کا احاطہ کریں تا کہ منٹو کا کرافٹ پوری طرح سامنے آ سکے۔

کالی شلوار میں بھی کوئی نفسیاتی یا سماجی الجھن نہیں ہے۔ بس سیدھا سا افسانہ ہے جس کا اختتام بہت عام سا ہے۔ میں کبھی اس افسانے کے بڑے ہونے کی وجہ نہیں سمجھ سکا۔ بابو گوپی ناتھ غیر معمولی طوالت کا شکار ہے اور کسی جھٹکے کے بغیر ختم ہو جاتا ہے۔ افسانے میں کوئی جھٹکا لگنا ہر گز ضروری نہیں لیکن جس پہلو کو اجاگر کیا جا رہا ہو اس سے فوکس ہٹنا نہیں چاہیے ورنہ افسانہ افسانہ نہیں رہتا بلکہ ایک تاثراتی سا واقعہ رہ جاتا ہے۔ تاثراتی واقعہ رہ بھی جائے اسے تکرار اور بوریت سے بچانا چاہیے۔ منٹو کے غیر معروف افسانے زیادہ اچھے ہیں مثلاً رندھیر پہلوان، کلونت کور، مامتا کی چوری، اس کا رامو، شاردا، فوجا حرامدا، سرکنڈوں کے پیچھے وغیرہ۔ نوادارت منٹو کے نام سے ایک کتاب بھی چھپی تھی جس میں منٹو کے کیے ہوئے روسی ادب کے تراجم، خاکے اور افسانے موجود ہیں۔ یہ سب منٹو کے مجموعوں میں شامل نہیں لیکن بہت شاندار تحریریں ہیں۔ ناقدین اور فلم میکرز کو چاہیے کہ منٹو کے غیر معروف افسانوں کا احاطہ کریں تا کہ منٹو کا کرافٹ پوری طرح سامنے آ سکے۔

یہ بھی پڑھیئے:  سعادت حسن منٹو : عزیز ابن الحسن
Facebook Comments Box
featuredMantoٹھنڈا گوشتذیشان حسینسعادت حسن منٹوکالی شلوارکھول دومنٹو
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
نظامِ تعلیم کا حل ——– ملک گوہر اقبال
next post
جماعت اسلامی: تری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی —– فاروق عادل

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.