تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترینعلم و ادبکتابوں پر تبصرے

ہندکو ادب دے چمکتے ستارے: اسدا سرمایہ ۔۔۔۔۔ سراج احمد تنولی

by Editor2 06/03/2018
written by Editor2 06/03/2018
278

بر صغیر کی قدیم ترین زبانوں میں سے ایک قدیم ترین زبان ہندکو ہے جو صدیوں سے یہاں موجود تھی بعض مئورخین کا کہنا ہے کہ یہ زبان گندھارا تہذیب سے قبل بھی یہاں تواتر سے بولی جاتی تھی ۔ جو آج تک پاکستان کے صوبے خیبر بختونخوا کے علاقوں میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ ہزارہ کے تقریباًسارے ہی علاقوں میں ہندکو زبان بولی جاتی ہے۔ آج بھی ہندکو ثقافت ، آرٹ کا ورثہ، آثار قدیمہ اور سکوں کا ہزارہ میں موجود ہونا ہندکو زبان کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ زبان اور بولی میں فرق بھی شاید یہی ہوتا ہے کہ بولی صرف اور صرف بولی جاتی ہے جبکہ زبان تاریخی ثقافت رکھتی ہے جو شعر و ادب سے اپنی تکمیل کو پہنچتی ہے۔ اس لیے ہم آج ہندکو زبان کی تاریخ اور شعر و ادب کو انہی خطوط پر دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ویسے تو آج کل بہت سی کتابیں ہند کو ادب پر چھپتی ہیں ۔ اگر ہم ہندکو کے قدیم شعراء و مصنفین کا ذکر کریں تو ان میں ہندکو کے بڑے شاعر استاد رحمت خان رحمت ، استاد محمد دین مایوں، استاد شادا، بابا وجیدہ اور استاد سائیں احمد علی پشاوری قابل ذکر ہیں۔ ہندکو شعری رسم الخط میں بہت سے شعراء نے کام کیا ۔

احمد حسین مجاہد صاحب بھی انہی شعراء میں سے ایک ہیں جنہوں نے بقول اختر رضا سلیمی کے ہندکو نظم کا ایک ایسا ظویل راستہ بنا دیا ہے اس کے بعد آنے والوں کے لیے اس سے بچ کے چلنا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہو گا۔ حال ہی میں ان کی منظوم لوک داستان پر مشتمل شعری مجموعہ ـ ’قینچی‘ شائع ہوا ہے جو کہ شائع ہوتے ہی قارئین کی توجہ کا مرکز بنا اور خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ مستقبل قریب میں یہ ہندکو ادب کے لیے شاہکار ثابت ہو گا۔ اب منظوم لوک داستان سے چند اشعار قارئین کی نظر کرتا ہوں۔

سڑے دے مقدر ، حلیمہ نہ آئی
اس اگ باہ کے پہنچی اے لسی دی جائی
میں فر پہانویں ہر کہار سی خیر پن دا
حلیمہ کو ہک واری فر دیخ کہن دا
حلیمہ نہ دیخی تے جیساں نہ مرساں
بنڑاں بچ حلیمہ حلیمہ میں کرساں

اگر ہم نثری تحقیق وتنقیدی کام کے حوالے سے ذکر کریں تو مختار علی نیر اور خاطر غزنوی قابل ذکر ہیں ۔ مختار علی نیر نے ہندکو ادب میں طنزو مزاح کے حوالے سے کافی شہرت پائی۔ ہندکو ادب میں نثر پر بہت کم کام ہوا ہے۔ سید ماجد شاہ صاحب بھی ہندکو ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے والے چمکتے ستارے ہیں۔ عنقریب اردو ادب میں اگر نثری ادب کے حوالے سے کسی کے رسم الخط کو فروغ ملا تو وہ انہی کو ملے گا۔ سید ماجد شاہ ایک بہترین افسانہ نگار ہیں ، اردو اور ہندکو ادب میں ان کا ایک بڑا نام ہے۔ حال ہی میں ان کی کتاب ’اورش ‘ منظر عام پر آئی جو ہندکو افسانوں کے مجموعے پر مشتمل ہے۔ اورش جھیل کے نام سے اس کتاب کا ٹائٹل ہے۔ ان کے افسانوں میں ہندکو زبان بولنے والوں کی ثقافت ، کلچرو تمدن سے بھر پور کردار نظر آتے ہیں۔ ان کے افسانے پڑھتے ہوئے پڑھنے والا افسانے کے اندر گھسا جاتا ہے یوں لگتا ہے کردار ہمارے سامنے چلتے پھرتے ہوں جیسا تھری ڈی ٹیکنالوجی میں ہوتا ہے ۔ ان کے افسانے دیہاتوں کی زندگی اور جدید زندگی کے مسائل کی عکاسی کرتے ہیں۔ میرے لیے یہ انتہائی خوشی کی بات ہے کہ وہ اپنی اور ہماری مادری زبان کا حق ادا کر رہے ہیں۔ آخر میں ان کے افسانے ’اکھیاںبچ شیشے ‘ سے چھوٹا سا اقتباس قارئین کی نظر کرنا چاہتا ہوں۔

’امریزاں مزماناں کول گئی تے مائو آخیاس : امریزاں ماسی آں سلام کر تے چاء بنڑا کے آنڑ۔ ماسی امریزاں آں دیخ کے خوش ہوئی۔ میری تہی! میرا کلیجہ! آخ کے گلے نال لایاس ، پیار کیتاس ، اتنا دلوں تے اساں کدے سکی مائو وی لاڈ پیار نینھ کیتا ایہا۔ اساںحیرت ہوئی اس توں پہلے کسی بڈ بڈیری اس نال ایہجا سلوک نینھ کیتا ایہا۔ بے بے خوش ہو کے ماسی آں آخیے : امریزاں ہنڑ تساں دی تہی اے۔ تساں دے بڈھیمے کا سہارا وی بنڑسی تے انشاء اللہ پتر ’حافظ جی‘ دیاں اکھیاں وی۔
اس لفظ ’حافظ جی ‘سنڑیاں تے اس دے ہتھے بچوں بخشے دیاں بساکھیاں ٹیہہ کے انہیرے کھوئے بچ جل لگیاں‘۔

Facebook Comments Box
برصغیررسم الحطزبانیںقینچی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
سالے پنجابی —— آصف محمود
next post
ہم روح سفر ہیں ہمیں ناموں سے نہ پہچان ۔۔۔۔۔۔۔۔ رئیس احمد صمدانی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.