تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

زینب کے قاتل کو پہلا پتھر کون مارے: فواد رضا

by دانش ڈیسک 24/01/2018
written by دانش ڈیسک 24/01/2018
102

شکر کہ حبس اور گھٹن کے اس ماحول میں کوئی تو خبر ایسی آئی کہ جس کے بعد ایک بار پھر نظام کی بہتری کی دم توڑتی امیدیں زندہ ہونے لگی ہیں۔ خبر ہے کہ زینب کا قاتل گرفتار کرلیا گیا۔ خبر یہ ہے کہ ملزم محلے دار ہے اور دور کا رشتے دار بھی۔ خبر یہ ہے کہ ڈی این اے میچ کر گیا ہے اور اقبالِ جرم بھی کرلیا گیا ہے۔ زینب امین کا قتل پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جانے والا ایسا باب ہے جس کی کسک آنے والے زمانوں میں بھی اہلِ درد اپنے دلوں میں محسوس کریں گے۔

only.beck sophie rain sex tape leak

یہ سوشل میڈیا کی قوت تھی کہ جس نے اس معصوم بچی کی تصاویر لے کر گویا ایک آسمان سر پر اٹھا لیا اور حکومت اور ریاست سے جڑے ایک ایک شخص کو مجبور کردیا کہ فی الفور کوئی کارروائی کی جائے بصورت دیگر کہیں یہ ایک واقعہ تاریخ کا دھارا بدلنے پر قادر نہ ہوجائے۔ گو کہ مجھے سوشل میڈیا پر آواز اٹھانے والوں کے طریقہ کار سے اختلاف تھا کہ وہ زینب کی تصاویر شیئر کررہے تھے‘ یہاں تک کچرا کنڈی پر پڑی اس مظلوم کی روندی ہوئی نعش کی تصاویر بھی شیئر ہوئیں۔ یقیناً یہ سب اہلِ خانہ کے لیے اذیت کا باعث ہوگا لیکن جس ملک میں صحافیوں کو ہی اس بات کا احساس نہ ہوکہ کیا دکھانا ہے اور کتنا دکھانا ہے وہاں سوشل میڈیا پر موجود غیر منظم اور غیر تربیت یافتہ افراد کا قصور کچھ اتنا بڑا نہیں۔

زینب کے قتل اور اس کی نعش برآمد ہونے کے بعد جہاں قصور میں ہنگامے ہوئے، سوشل میڈیا پر قاتل کی گرفتاری کے لیے تحریک چلی، وہیں کچھ اور چیزیں بھی ایسی رونما ہوئیں جن کے سماج پر انتہائی گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں اور آئندہ دنوں میں بھی ہوتے رہیں گے۔

سب سے پہلے تو پولیس اور مقامی حکام کی کارکردگی زیرِ بحث آئی جس کے نتیجے میں محکمہ پولیس کم از کم اس قسم کے کیسز پر مستعدی سے کام کرنے لگا اور ہم نے دیکھا کہ کچھ علاقوں سے ایسے کیسز رپورٹ ہوئے جہاں اغوا کی گئیں بچیاں بازیا ب کرالی گئیں‘ اللہ کرے کہ پولیس شرم کرتے ہوئے اپنی اس کارکردگی میں اضافہ کر ے کہ بیٹیاں توسانجھی ہوتی ہیں۔۔ آخر کوئی پولیس اہلکار یہ سوچ کر کیسے خاموش بیٹھ سکتا ہے کہ میری بیٹی تو محفوظ ہے۔

دوسری اور اہم بات جو ہوئی وہ بچوں کو آگاہی دینے کی تحریک سے ہوئی۔ ہمیشہ کی طرح دائیں اور بائیں بازو کے لوگ ایک دوسرے کے مدمقابل تھے‘ اور طرفین نے دلائل کے انبار لگادیے کہ آیا بچوں کو جنسی آگاہی دینے کا آغاز کم عمری سے کردینا چاہیے یا نہیں۔ اس معاملے میں سب سے اچھی بات جو میں نے دیکھی وہ یہ تھی کہ بہت سے ایسے افرادجو اپنےنظریات میں انتہا پسند سمجھے اور جانے جاتے ہیں وہ بھی یہی پکارتے نظر آئے کہ بچوں کو ان حقائق اور احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ لوگوں نے کتابیں کھنگال ڈالیں اور مختلف مضامین لکھے۔

ہمارے معاشرےکا المیہ یہی ہے کہ یہا ں مسائل اور ان کے حل پر بات نہیں ہوتی۔۔ اچھی بات یہ ہے کہ زینب کےا س بہیمانہ قتل نے بات کرنے کے عمل کا آغاز کیا جس کے یقیناً مثبت نتائج سامنے آئیں گے‘ اب آتے ہیں زینب کے قاتل کی جانب۔ اگر ثبوت مل گئے ہیں تو یقیناً وہ ایک سخت اور عبرت ناک سزا کا مستحق ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ پوری تندہی کے ساتھ زینب کے والدین کے ساتھ کھڑی ہوکر ملزم کو سخت ترین سزا دے کہ یہی انصاف کا تقاضا ہے۔

اب آتے ہیں ایک بار واپس سوشل میڈیا کی جانب‘ جہاں سے یہ سب شروع ہوا تھا۔ کل تحریک چلانے والے آج اس کے لیے سخت ترین سزا کا مطالبہ کررہے ہیں اور ان میں سے بیشتر ایسے ہیں کہ جو چاہتے ہیں کہ قاتل ان کے حوالے کیا جائے اور وہ از خود اسے سزا دیں۔ یہی وہ معاملہ ہے جس کے لیے سطریں لکھی جارہی ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ باہر ہمارے جیسی لاکھوں کروڑوں آنکھیں ہیں جو عورتوں اور بچیوں کے جسموں کو چھید رہی ہیں‘ ہم سب اجتماعی گناہ گار ہیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے روبرو ایک زانیہ کو پیش کیا گیا اور مجمع نے ضد کی کہ اسے سنگسار کیا جائے‘ اللہ کے نبی نے کہا کہ ’’پہلا پتھر وہ مارے جس نے خود کبھی گناہ نہ کیا ہو‘‘۔ یہ کہنا تھا کہ سب شرمسار ہوکر گھروں کو لوٹ گئے اور میدان میں بس حضرت عیسیٰ ؑ اور وہ عورت باقی رہ گئے۔تو پھر بتایے صاحب ہم میں سے کتنے ایسے ہیں کہ جس نے کبھی کوئی گناہ نہ کیا ہو۔ اگر ہم بہت ہی عمدہ اخلاق کے مالک ہیں تو کم از کم سطح پر بھی خود لذتی اور آنکھوں کو سینکنے کے مرض میں تو مبتلا ہوتے ہی ہیں‘ زینب کے قاتل کا محاسبہ تو اب شاید ریاست کر ہی لے گی لیکن یہ لمحہ خود احتسابی کا ہے اپنے گریبان میں جھانکنےکا ہے۔ کیا ہم بطور معاشرہ خواتین کی عزت کرتے ہیں اور انہیں انسان تسلیم کرتے ہیں۔ ہم محض اپنے گھر کی عورتوں کو اپنی عزت تصور کرتے ہیں اور انہیں پردے میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ باہر ہمارے جیسی لاکھوں کروڑوں آنکھیں ہیں جو عورتوں اور بچیوں کے جسموں کو چھید رہی ہیں‘ ہم سب اجتماعی گناہ گار ہیں۔

ایک اور اہم بات یہ کہ ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو اپنے ارد گرد ایسے جرائم سے آنکھیں چرا رہے ہوتے ہیں جو ابھی وقوع پذیر نہیں ہوئے ہوتے بلکہ پروان چڑھ رہے ہوتے ہیں۔ اب زیادتی کے واقعات کو ہی دیکھ لیں۔ ہم میں سے اکثر جانتے ہیں کہ ہمارے ارد گرد کوئی شخص ایسا ہے جس کا اخلاق اچھا نہیں ہے ‘ وہ جنسی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناجائز اور غیر قانونی ذرائع استعمال کرتا ہے یا اس کی صحبت کو شرفاء کی صحبت نہیں کہا جاسکتا۔ ہم اگر ایسے کسی شخص کو جانتے ہوں اور اسے تنبیہہ نہیں کرتے یا معاشرے کو ا س شخص کے بارے میں ہشیار نہیں کرتے اور کل کلاں کو وہ کوئی ہاتھ دکھا جائے تو صرف مجرم وہ نہیں ‘ ہم بھی شریکِ جرم ہوں گے۔

ہمیں اپنا اور اپنے گرد و پیش کی اخلاقیات کا ایسے ہی خیال رکھنا ہوگا جیسے ہم دیگر معاملات کا رکھتے ہیں‘ ہم گلیوں میں گاڑیوں کی بیٹری چرانے والے کو تو گرفتار کرنے کے لیے مستعد رہتے ہیں لیکن ایسے لوگوں کے معاملے میں سستی دکھا جاتے ہیں جن سے ہمارے بچوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اور اس رویے کی صرف ایک وجہ ہے۔ ہماری روایتی شرم ‘ کہ کیسے کہا جائے؟۔ صاحب اللہ نے جو منہ اور اس میں زبان عطا کی ہے اسے استعمال کریں اور کہیے۔ اگر آج نہیں کہیں گے تو کل بھگتنا ہوگا۔۔ برائی پر پردہ ڈالنا بھی جرم ہےاوریہ ایسا جرم ہے جو کبھی نہ کبھی پلٹ کر آپ کو ہی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

Facebook Comments Box
featuredJustice for ZainabZainabزینبزینب قتل
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
موڈی کے عالمی معیشت بارے ۲۰۱۸ کے اندازے اور معاشی حقائق: رائو جاوید اقبال
next post
اب جو خط آنے لگا ہے — شاید کہ خط آنے لگا ہے : مدثر ظفر

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.