تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

بےحیائی اور غیرت کی بے بنیاد راگنی: ثمینہ رشید

by دانش ڈیسک 08/12/2017
written by دانش ڈیسک 08/12/2017
88

پشاور کے واقعہ پہ گذشتہ روز دانش پہ محمد آصف کا مضمون شایع ہوا۔ اس حوالے سے ثمینہ رشید تصویر کا دوسرا پہلو خوبی سے اجاگر کرتی اس تحریر کے ساتھ موجود ہیں۔


عالمی منظر نامے پر سخت کشیدگی کے آثار نظر آتے ہیں تو ملکی درجۂ حرارت یوں تو سرد ہے لیکن سیاسی درجہ حرارت میں مسلسل گھٹنے بڑھنے کا عمل جاری ہے۔

لیکن کچھ لوگوں کے پشاور میں واقع شہید بینظیر یونیورسٹی کی طالبہ کی ڈانس پرفارمنس اس وقت سب سے بڑا عالمی اور قومی مسئلہ ہے۔ میڈیا میں رپورٹ ہونے والی اس ویڈیو کو لے کر سوشل میڈیا پہ لگتا ہے ایک بھونچال سا آیا ہوا ہے۔

میڈیا کی کارستانیاں تو ویسے بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ بی جمالو اور فسادی ہونے کی ساری تعریفیں اللہ کے فضل و کرم سے اس پر پوری اترتی ہیں۔ ان کی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی وجہ سے ملک میں کئی ناخوشگوار واقعات رو نما ہوچکے ہیں۔

اب اگر سوال کیا جائے کہ پیمرا کا ضابطۂ اخلاق کس نے بنایا اور وہ کہاں اور کس طرح نافذ ہوتا ہے کچھ علم نہیں۔ کیونکہ کسی بھی چینل پر پیش ہونے والے اشتہار ہوں، ڈرامے یا مارننگ شوز۔ کچھ سمجھ نہیں آتا کہ آدھا تیتر اور آدھا بٹیر والا کلچر اصل میں ہے کس کا۔ یہ چینلز پر کس قسم کے کلچر کو فروغ دیا جارہا ہے کس قسم کی کردار سازی اور ذہن سازی کی جارہی ہے کوئی پوچھنے والا ہے نہ کوئی لکھنے والا۔

لیکن اعتراض ہوتا ہے تو ایک طالبہ پر۔ ایک خواتین کی یونیورسٹی، جسمیں سو فیصد ناظرین بھی خواتین طالبات ہوں۔ وہاں ایک بیلے ڈانس پرفارمنس پیش کی جاتی ہے وہ بھی ایک طالبہ کی طرف سے جس نے بے شک مغربی لباس پہنا ہوا ہے لیکن اگر آپ اپنے میڈیا پہ ہر وقت چلنے والے اشتہارات دیکھیں، ہر صبح مارننگ شوز کے نام پر ہونے والے لچر پن اور پہنے جانے والے ملبوسات سے موازنہ کریں تو لباس میں بھی اسلئے کوئی خرابی نہیں کہ پرفارمنس دینے والی طالبہ کو یقین تھا کہ وہ اپنی یونیورسٹی کی چار دیواری میں اپنی ہی خواتین یونیورسٹی فیلوز کے سامنے پرفارمنس دینے والی ہے۔

لیکن بھلا ہو سما کے رپورٹر کا جو نہ جانے کیسے اندر پہنچنے میں کامیاب ہوا اور آج پورے میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس ایک طالبہ کی پرفارمنس کو لے کر بےحیائی کے فسانے سنائے جارہے ہیں۔ جس کو شاید اندازہ بھی نہیں ہوگا کہ اسکی ایک بے ضرر پرفارمنس کی اس قدر گھٹیا انداز میں تشہیر کی جائے گی۔

افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس گھٹیا تشہیری مہم اور تنقید کرنے والوں کو یہ بھی یاد نہیں رہا کہ کے پی کے جیسے صوبے میں خواتین یونیورسٹی تک آنے والی طالبہ کس قدر مشکل حالات میں تعلیم حاصل کرتی ہے۔ جہاں کے معاشرے میں عزت اور غیرت کا سارا بوجھ صرف عورت کےکاندھوں پر ہوتا ہو وہاں ایک پرفارمنس کو لے کر اس طرح تبرا، تنقید اور لعن طعن کرنے والوں سے میرا ایک سوال ہے کہ اگر آپ کی اس طرح کی لعن طعن کے نتیجے میں ایک طالبہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے تو کیا آپ (خدانخواستہ) اس کے قتل کی ذمہ داری قبول کرسکیں گے؟ کیا کل اپنی ضمیر کی آزمائش سے گزرنا آپ کے لئے اس قدر آسان ہوگا جتنا آج تنقید کرنا ہے؟

کے پی کے ہو، بلوچستان ہو، پنجاب، سندھ یا گلگت بلتستان آج سے نہیں صدیوں سے رقص ہمارے کلچر کا حصہ رہا ہے۔ کہیں کے پی کے اور بلوچستان میں مرد حضرات اپنا کلچرل رقص پیش کرتے نظر آتے ہیں تو کہیں پنجاب اور سندھ کا رِچ کلچر۔ آج بھی آپ پنجاب کے کسی پسماندہ گاؤں کی شادی میں شرکت کریں تو خواتین اور مردوں کی محفلیں علیحدہ ہوتی ہیں۔ لڑکیاں بالیاں اپنی خواتین کی محفل میں ٹپے اور ماہئے گاتی ہیں اور رقص بھی کرتی ہیں۔ اسی طرح سندھ میں بھی شادی ہوں یا کوئی خوشی کا موقع خواتین کے سندھی رقص کو خوشی منانے کے ایک طریقہ کے طور پر ہی جانا جاتا ہے۔ اسے نہ تو برا سمجھا جاتا ہے نہ ان خواتین کو بے حیا اور بد کردار گرداناجاتا ہے۔

اب اسی تہذیب کے تناظر میں واپس آئیے یونیورسٹی کی اس طالبہ کی طرف جس نے بیلے ڈانس کی پرفارمنس دی۔ ایک خواتین کی یونیورسٹی میں ایک خالصتاً خواتین کی تقریب میں۔ جہاں اگر میڈیا کو رسائی نہ دی جاتی تو یہ نہ بے حیائی کا ایشو بنتا نہ ہماری قومی غیرت اس پر بارِ جوش سے ابل ابل کر غلاظت کی شکل میں باہر آتی۔

خود میں نے خواتین کے کالج سے گریجویشن کیا۔ اور اس دوران کئی طرح کے فنکشنز پر ان طالبات کو بھی جو کالج کی چار دیواری کے باہر پردہ کیا کرتی تھیں نہ صرف ڈراموں، تقریروں اور گانا گانے میں حصہ لیتے دیکھا بلکہ ڈانس پرفارمنس، کلچرل اور فینسی شوز میں بھی ان کی شرکت کی شاہد رہی ہوں۔ کالج کی چار دیواری کے اندر جہاں ساری طالبات برقعے اور بڑی چادریں اتار کر نارمل سائز کی چادر اوڑھ کر آزادی سے نہ صرف تعلیم حاصل کرتی تھیں بلکہ خود کو محفوظ بھی تصور کیا کرتی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ غیر نصابی سرگرمیوں میں ان کا پردہ حائل نہ ہوتا تھا کیونکہ انہیں علم ہوتا تھا کہ ان کی ناظرین بھی صرف ان کے کالج کی طالبات ہی ہونگی۔ اسی اعتماد اور بھروسے کے تحت غیر نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا کسی کے نزدیک معیوب نہیں تھا۔ لیکن مجھے یقین ہے تب بھی اگر میڈیا کی رسائی کسی ایسی ایک تقریب تک بھی ہو جاتی تو یہ ان طالبات کی بے حیائی کے اشتہارات لگانے میں ہرگز پیچھے نہ رہتا۔

اب شاید کچھ لوگوں کو “بیلے ڈانس” پر بے حد اعتراض ہو تو جناب رقص کو اعضا کی شاعری کہا جاتا ہے۔ فنِ رقص ترقی کرتا اب کئی جہتوں میں تقسیم ہوگیا ہے۔ جس طرح کہ فنونِ لطیفہ کی دوسری اصناف میں نئی نئی تبدیلی آچکی ہیں۔ اور آپ اس پر کیا اعتراض کریں گے آپ کے کیبل پر انڈین چینلز کی بھرمار ہے اور نوجوان نسل میں نت نئی چیزیں سیکھنے کا رجحان ہمیشہ ہی رہا ہے۔ بات پھر وہی ہے کہ میڈیا اگر مذکورہ طالبہ کی اس پرفارمنس کی اس طرح تشہیر نہ کرتا تو یہ محض عام سے گھر میں رہنے والی طالبہ کا ایک ٹیلنٹ ہی شمار ہوتا نہ کہ بے حیائی۔

طالبہ کہ اس پرفارمنس پر اعتراض کرنے والوں سے درخواست ہے کہ اپنی آنکھوں کو اس وقت بھی زحمت دے دیا کریں جب یہی میڈیا والے اپنے چینلز پر اور خصوصاً ایوارڈ شوز میں خواتین کو شولڈر لیس ڈریسز میں فخر سے پیش کرتے ہیں۔ تو نہ کسی کو اعتراض ہوتا ہے نہ کسی کے قلم میں جنبش کے پیمرا سے اس بارے میں سوال کرسکیں۔ کہ ہم کس ملک میں رہتے ہیں اور یہ کونسا کلچر ہے جس کے پیچھے سب اندھا دھند دوڑ رہے ہیں۔

لیکن اب جبکہ میڈیا نے اپنی غیر زمہ دارانہ حرکت سے کیونکہ فساد برپا کر ہی دیا ہے تو یونیورسٹی انتظامیہ کی فوری ذمہ داری تھی کہ اس ویڈیو کو ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹیز سے کہہ کہ فورا ہٹوا دیا جائے تاکہ مذکورہ طالبہ کی زندگی کے حوالے سے کسی ممکنہ خطرے کو ختم کیا جاسکے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس پورے معاملے میں سب سے زیادہ زمہ داری ہی یونیورسٹی انتظامیہ کی ہے جنہوں نے خالصتا خواتین کی محفل میں میڈیا کو آنے کی اجازت دی۔ اصولا تو اس انتہائی غیر زمہ دارانہ طرز عمل پر نہ صرف معافی مانگنا چاہئے بلکہ انکوائری کرکے زمے داروں کے خلاف مناسب کاروائی بھی کی جائے تاکہ اس طرح کا معاملہ آئندہ پیش نہ آئے۔ ہماری درسگاہوں کو ہماری طالبات کی عزتوں کا امین ہونا چاہئے نہ کہ اپنی غیر زمہ داری کے ہاتھوں اپنے ہی اسٹوڈنٹس کی عزت اور زندگی کے لئے خطرہ بننے کی۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو اس سلسلے میں فورا متعلقہ چینل سے بات کرکے اس خبر کے کلپ کو ویب سائیٹس سے ہٹانے کے سلسلے میں بھی بات کرنی چاہیے۔

باقی جن معترضین کو اس ویڈیو میں بے حیائی کے اشتہار نظر آرہے ہیں ان سے گزارش ہے۔ پاکستان کے بڑے شہروں میں قائم بڑے بڑے مخلوط پرائیوٹ کالجز کے فنکشنز اٹینڈ کرنے کی جسارت کریں تو آپ کو اس طالبہ کہ پرفارمنس کے بے ضرر ہونے کا ضرور احساس ہوگا۔

اور سب سے اہم کام جو آپ اپنے قلم سے انجام دے سکتے ہیں وہ یہ کہ کاغذ اور قلم سنبھالئے اور ایک دن صبح نو بجے سے رات دس بجے تک کسی بھی انٹرٹینمنٹ چینل کی نشریات دیکھ لیجئے۔ یقین کریں آپ کے قلم کو بے حیائی کا مواد لکھنے کے لئے اس سےکئی سو گنا مواد میسر آجائے گا جس سے امید ہے کہ شاید آپ پیمرا اور سنسر بورڈ کو جگا سکیں اور اس ملک کے الیکٹرونک میڈیا کے لئے کچھ ضابطۂ اخلاق مرتب کرنے کے سلسلے میں کچھ مثبت کوشش کرسکیں۔

Facebook Comments Box
featuredPeshawar Danceبیلے ڈانسپشاور بیلے ڈانسپشاور ڈانس
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
صاحب پیٹ سے ہیں : محمد عثمان جامعی
next post
القدس ۔ ۔ ۔ لہو کی حرارت سے زندہ سر زمین : فواد رضا

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.