تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

القدس ۔ ۔ ۔ لہو کی حرارت سے زندہ سر زمین : فواد رضا

by دانش ڈیسک 08/12/2017
written by دانش ڈیسک 08/12/2017
92

مصر سے آزادی حاصل کرنےکے بعد یہودی صحرائے سینا کی خاک چھانتے رہے۔ یہاں تک کہ حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کی قیادت میں یروشلم میں داخل ہوئے. یہاں بھی انہیں چار صدیوں تک سکون سے بیٹھنا نصیب نہ ہوسکا اور وہ مقامی قبائل سے نبرد آزما رہے بالآخر حضرت داؤد علیہ السلام کے دورمیں انہیں دوام نصیب ہوا۔ یہی وہ دور تھا جب یہودیوں کے لیے ایک باقاعدہ عبادت گاہ کی تعمیر کا آغاز ہوا جسے حضرت داؤد علیہ السلام کے فرزند سلیمان نبی علیہ السلام نے پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ اسی نسبت سے اسے ہیکلِ سلیمانی کہا گیا۔

ابھی تاریخ کے زینے پر انہوں نے چند قدم ہی دھرے تھے کہ ایک بار پھر ان کا پیر پھسلا اور یرمیاہ نبی علیہ السلام کے زمانے میں بخت نصر کے حملےمیں یروشلم تاراج ہوا، ہیکل اجڑا اور یہودی ایک بار پھر در بدر تھے۔ اس کے بعد تاریخ نے دیکھا کہ کس طرح یہودی بار بار یروشلم پر تسلط حاصل کرتے اور اس کے بعد اپنی حرکتوں کی پاداش میں نکالے جاتے۔ اسی یروشلم کے ایک محلے ناصریہ میں عیسیٰ نبی علیہ السلام نے ظہور کیا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ یہودی کس طرح اللہ کےنبیوں پر زمین تنگ کردیا کرتے تھے۔ وقت گزرتا رہا، یہاں تک کہ خلیفہ دوئم حضرت عمر ؓنے اسے فتح کرکے بلادِ اسلامیہ میں شامل کردیا۔ پھر وقت اور حالات نے پلٹا کھایا اور اور یورپ کے صلیبی اس شہر پر غالب آگئے اب تاریخ کا دھارا بہتے بہتے صلاح الدین ایوبی تک آیا اوریروشلم ایک بار پھر مسلم قلمرو کا حصہ بنا۔

پہلی جنگ عظیم کے بعد جب مسلمانوں کا اثرو رسوغ اور قوت دم توڑنے لگے تو برطانیہ نے یہودیوں کو یہاں آباد کرنا شروع کیا اور پھر 1948 میں باقاعدہ اسرائیل کی ریاست کا اعلان کردیا گیا۔ اس وقت عالمِ اسلام کی صورتحال یہ تھی کہ مرد بیمار ترکی میں خلافت دم توڑچکی تھی، عالم عرب برطانوی سامراج کے زیرِ نگیں تھا اور برصغیر میں ہندوستان کی تقسیم کے بعد پاکستان، تاریخ کے سینے پر تازہ تازہ نمودار ہوا تھا گویا پورا عالمِ اسلام ہی مردِ بیمار بنا ہوا تھا اور اقوامِ عالم میں کوئی نہ تھا جو کہ پوچھتا کہ کس قاعدے اور قانون کے تحت یہاں یہودی آبادکاری کی جارہی ہے۔

اب صورتحال یہ ہے کہ اس زمین کے اصل مالک یعنی کہ فلسطینی اپنے ہی ملک میں پناہ گزین کی حیثیت سے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور دنیا بھر سے آکر آباد ہونے والے یہودی اس خطے کی اصل تقدیر کے مالک ہیں. امریکہ ان کی پشت پر ہے اور پچاسی لاکھ نفوس کی آبادی والے اس ملک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم ڈھائی سو ارب ڈالر بتایا جاتا ہے( یاد رہے کہ 21 کروڑ آبادی والے ایٹمی ملک پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر محض 20 ارب ڈالر ہیں). ایسی صورتحال میں امریکی صدر ٹرمپ نے مرے پر سو درے مارتے ہوئے یروشلم کو اسرائیل کا پایہءتخت تسلیم کرلیا ہے .جو کہ نہ صرف عالمی قرار دادوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس فیصلے سے شاید مشرقِ وسطیٰ میں امن کا باب ہمیشہ کے لیے بند ہوجائےگا۔

آخر اس شہر میں ایسا ہے کہ کیا کہ دنیا کے تین بڑے ادیان، یہودیت، عیسائیت اور اسلام. تینوں ہی اس شہر کا قبضہ اپنے ہاتھوں میں رکھنا چاہتے ہیں۔

یہودیوں کے نزدیک یہ ساری زمین ایک دن ان کے زیرِ نگوں آکر رہے گی اور اس سلطنت کا پایہء تخت یروشلم ہوگا۔ اسی لیے وہ تاریخ کے ہر موڑ پر یروشلم کی جانب مارچ کرتے ہیں۔ مسیحی کہتے ہیں کہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا شہر ہے اور ان کے لیے ایسے متبرک ہے جیسا کہ مسلمانوں کے لیے مکہ‘ حالانکہ یہی شہر ان کے عقائد کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قتل گاہ بھی ہے۔

جب اسلام آیا اور نماز کا حکم نافذ ہوا تو مسلمان ایک عرصے تک اسی جانب قبلہ رخ ہو کے نماز ادا کرتےرہے یہاں تک کہ اللہ نے پھیر دیا انہیں اس گھر کی جانب جو کہ رسول اللہ ﷺ کا پسندیدہ قبلہ یعنی خانہ کعبہ ہے۔ شبِ معراج میں رسول اللہ ﷺ نے دو سفر کیے ایک زمینی اور ایک آسمانی، حجاز سے آپ ﷺ یروشلم لائے گئے جہاں مسجد اقصیٰ سے آپ آسمانوں کی جانب روانہ ہوئے، سو مسلمان بھی اپنے قبلہء اول سے عقیدت رکھتے ہیں۔

ظاہر ہے تاریخ گواہ ہے کہ تینوں مذاہب کے دعوے دار اپنی جگہ بالکل درست ہیں اور یہ دنیا کا واحد شہر ہے جو کہ ایک دوسرے کی ضد سمجھے جانے والے مذاہب میں مشترکہ طور پر متبرک ہے۔

موجودہ یروشلم میں یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ جس جگہ آج مسجد اقصیٰ واقع ہے وہیں ہیکلِ سلیمانی قائم تھا( یہاں یہ واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہم مسلمانوں میں سے بہت سے یہ سمجھتے ہیں کہ سنہرے گنبد والی عمارت مسجد اقصیٰ ہے)۔ جی نہیں! اپنی معلومات درست کیجئے. سنہرے گنبد والی اس عمارت کا نام قبۃ الصخرا ہے جسے انگریزی میں Dome of Rock کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ عمارت اس پتھر پر تعمیر ہے جہاں سے رسول اللہ ﷺ معراج پر تشریف لے گئے تھے۔ اسی احاطے میں کچھ فاصلے پر مسجد اقصیٰ موجود ہے جس کا گنبد سنہرا نہیں بلکہ سیاہی مائل سرمئی رنگ کا ہے۔

اب مسلمان یہ بات سمجھیں کہ وہ کس چیز کے دفاع کےلیے امریکا اور اسرائیل سے برسرِ پیکار ہونے کا عزم کررہے ہیں بیت المقدس یعنی مسجد اقصیٰ یا گنبدِ صخرا تو صاحب یہ دونو ں ایک ہی احاطے میں واقع دو مختلف عمارتیں ہیں جو کہ مختلف ادوار میں تعمیر ہوئیں۔

یہودیوں کو گنبدِ صخرا سے مسئلہ نہیں ہے . ان کی توجہ کا تمام تر مرکز مسجد اقصیٰ ہے جس کے نیچے ان کے مطابق ہیکلِ سلیمانی کی بنیادیں موجود ہیں جن پر وہ نیا ہیکل تعمیرکرنا چاہتے ہیں حالانکہ وہ اپنے اس دعوے کو آرکیالوجیکل بنیادوں ثابت نہیں کرپائے لیکن جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ ہے۔

اب جب کہ امریکا یروشلم کو باضابطہ طور پر اسرائیل کا حصہ تسلیم کرچکا ہے تو ہم کیا کریں۔ ۔ ۔ مصر ‘ اردن اور شام نے جنگیں لڑ کر دیکھ لیں۔ ۔ ۔ ماسوائے اسرائیل لبنان معرکے کے اسرائیل نے خود کو ایک طاقتور فوجی قوت ثابت کیا ہے۔

اب دو ہی راستے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ یا تو تمام اسلامی ملک ایک متفقہ فورم بنائیں اور معاملے کو اقوام متحدہ کے پاس لے کر جائیں جہاں یروشلم کو فی الفور عالمی شہر کا درجہ دینے کامطالبہ کیا جائے، ایک ایسا شہر جو کسی بھی ریاست کی دسترس میں نہ ہو اور اس کے انتظامی امور براہ راست اقوام ِ متحدہ دیکھے ‘ یہاں مسلمانوں کے لیے سب سے مشکل مرحلہ یہ ہوگا کہ اس عالمی شہر میں اسرائیل کو کس طرح پابند کیا جائے کہ وہ ان آثار میں چھیڑ چھاڑ نہ کرے اور جو جہاں ہے ویسا کی بنیاد پر رہنے دے۔

دوسرا راستہ نسبتاً مشکل ہے کہ تمام اسلامی ممالک اسرائیل کا بائیکاٹ کریں اور جہاں جہاں مسلمان بستے ہیں، وہاں وہاں احتجاجی سلسلے شروع کرکے دنیا کو مجبور کیا جائے کہ اسرائیل مقبوضہ بیت المقدس کے فلسطینیوں کے حوالے کرے۔ ۔ یہ شاید اس لیے ممکن نہیں کہ زیادہ تر اسلامی ممالک اس وقت امریکا کی کاسہ لیسی میں مشغول ہیں۔ ۔ ۔ تو شاید ترکی، ایران اور پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک کے لیے ممکن نہ ہو کہ وہ طریقے پر عمل کرے سو اسے بھی بھول ہی جائیے۔

امتِ مسلمہ میں جاری جہادی تحریکیں بھی ثابت کرچکی ہیں کہ وہ محض بلاد اسلامیہ میں ہی جہاد کرسکتی ہیں. اس سے باہر نکل کر اسرائیل کو پنجہ مارنا ہے تو ان کے بس کی بات نہیں لہذا وہ لوگ جو فیس بک پر’ الجہاد الجہاد‘ کےنعرے لگا رہے ہیں وہ چپکے ہی بیٹھیں تو خیریت ہے۔

یقیناً ایک عام آدمی کا ذہن جھنجلا اٹھا ہوگا کہ آخر پھر کیا کیا جائے‘ ایسا کیا ہو کہ قبلہ ٔ اول صیہونی تسلط سے آزاد ہو۔ ۔ ۔ ذرا رکئے، ایک لمحے کو۔ ۔ صرف ایک لمحےکو اپنا محاسبہ کیجئے کہ آج دنیا کہا ں کھڑی ہے اور ہم کس قعرِ ذلت میں پڑے ہیں۔ ۔ اور کیوں پڑے ہیں۔ ۔ اس لیے کہ ہم کاہل، سہل پسند اور بے عمل لوگ ہیں۔ یہی کاہلی جب جب یہودیوں میں در آتی تو انہیں یروشلم سے نکال دیا جاتا تھا۔ ۔ آج وہ انتہائی زیرک طریقے سے دنیا کو کنٹرول کررہے کہ پھر کوئی انہیں یروشلم سے در بدر نہ کرسکے۔

آئیے میں اور آپ اپنا محاسبہ کریں اور اس سہل پسندی کو اپنی ذات سے جدا کر ایک جدید اور ترقی یافتہ مسلم امہ کے وجود کے لیے کوشاں ہوں تاکہ آنے والے کل میں ہم یہود کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرا نہیں چیلنج کرسکیں ‘ بصورت دیگر قرضے اور مانگے کی ٹیکنالوجی پر جینے والی اقوام دنیا میں سرخرو نہیں ہوا کرتی۔ یروشلم کا کیا ہے ‘ اس سرزمین کی تاریخ تو لکھی ہی لہو سے گئی ہے ‘ یہ اسی لہو کی حرارت تو ہے کہ یہ شہرآج بھی گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے۔ ۔ سو ایک بار پھر اس کے لیے اپنا لہو دینا پڑے تو امتِ مسلمہ پیچھے تو نہیں ہٹے گی لیکن صرف پہلے ایک لمحے کے لیے سوچ لیں کہ کیا ہمارا لہو مسجد اقصیٰ کی بنیادو ں کو قوی کرے گا یا صحرائے سینا کی خاک میں جذب ہو کر تاریخ کے سینے سے غائب ہوجائے گا۔

Facebook Comments Box
Jeruslamبیت المقدسفلسطینیروشلم
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
بےحیائی اور غیرت کی بے بنیاد راگنی: ثمینہ رشید
next post
نیو ورلڈ آرڈر : محمد خان قلندر

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.