تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادب

سرسید شناسی: مبالغے اور مغالطے: جنید رضا

by میاں ارشد فاروق 06/12/2017
written by میاں ارشد فاروق 06/12/2017
146

جو قومیں اپنی تاریخ بھلا دیتی ہیں تاریخ انھیں کبھی یاد نہیں رکھتی۔ جس جدید تعلیمی نظام میں اٹھارہ سال سے پڑھ رہا ہوں، اس کے بنیاد گزاروں میں سرسید احمد خاں کلیدی حیثیت کی حامل شخصیت ہیں۔ اب صورت حال یہ ہے کہ سرسید پہ بلا جواز اور غیر منطقی تنقید شروع کرنا ایک فیشن بن گیا ہے۔ تاریخ محض ایک مؤرخ کے بیانیے پر نہیں سمجھی جا سکتی۔ حقیقت کو جاننے کے لیے تین چار مؤرخین کی آرا یعنی ان کا بیانیہ سامنے رکھا جائے۔ پھر دیکھا جائے ان میں زیادہ دلائل کس جانب کے ہیں۔ اب ’’تاریخیت‘‘ کا نظریہ ایسا ہے جو تاریخ کے طالب علم کو تاریخ میں اترنے کی دعوت دیتا ہے۔ جس عہد کو سمجھنا مقصود ہو اس عہد کے حالات و واقعات و رجحانات کو سمجھ کر اس پر رائے دی جائے۔ اس کے سیاسی، سماجی، معاشی اور معاشرتی رجحانات کو مدنظر رکھا جائے۔ تب جا کر اپنی رائے بنائی جائے۔ محض غلط فہمی کی بنیاد پر یا کسی مخالف کے بیانات پر اکتفا کرنا کوئی علمی رویہ نہیں ہے۔

جب کوئی زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ وہ اپنے رستے کی تمام رکاوٹیں دور کرنے کے بعد اپنے مقابل کھڑے شخص کو اپنے قدموں تلے روندنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ وہ ترقی کی سیڑھیاں چڑھنا چاہتا ہے۔ اس لیے اگر اسے مٹی کی پکی ہوئی اینٹیں میسر نہ ہوں تو وہ زندہ بندوں کے اجسام کی سیڑھیاں بنانے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ اس لمحے کامیابی کی دھن اسے اس قدر اندھا کر دیتی ہے اسے کوئی اعلیٰ انسانی اوصاف یاد نہیں رہتے۔ یہاں مذہب بھی اسے روکنے میں کامیاب نہیں ہوتا۔ اس بے حسی کو دیکھا جائے تو عظمت انسانی کے دعوے محض نعرے لگتے ہیں۔ جب برصغیر کو برطانوی راج میں محکوم بنایا گیا یہاں کے باسیوں کی حیثیت صرف رعایا کی سی تھی۔ اس “Colonial” نوآبادیاتی عہد میں روائتی علوم کے ساتھ جدید علوم کی اہمیت بے انتہا بڑھ گئی۔ اسلام نے کبھی بھی جدید علوم کے حصول کو کار بے کار نہیں سمجھا بلکہ انھیں مذہبی علوم کے بین بین جگہ دی۔ اکثر علماکرام نے جدید علوم کے حصول کو اس لیے اہم قرار دیا کہ ان کے بغیر مذہبی علوم پر اعتقاد نہیں بڑھتا۔ جب مذہبی تعلیمات کو سائنس ثابت کر دیتی ہے تو لوگ اس طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں۔ اسی وقت غیرمسلم لوگ اسلام کی جانب راغب ہوتے ہیں۔

دین اسلام نے میں حکمت عملی سے تبلیغ کرنے کی ترغیب دی گیی ہے۔ ہر دور میں اجتہاد پر زور دیا گیا۔ یہی کام سرسید احمد خاں نے کیا۔ تعلیمی ادارے بنائے۔ انگریز سے مفاہمتی انداز اختیار کیا۔ انھی تعلیمی اداروں سے پڑھنے والوں سے مسلمانوں کے حقوق کا مطالبہ کیا۔ مسلمانوں کی حکمرانی کا مطالبہ کیا۔ اب مذہبی بنیادوں پر الزام لگانا۔ اس میں یہ ہے وہ امام مسجد نہیں تھے۔ وہ بطور مسلمان کام کرتے۔ مسلمانوں کے لیے کام کرتے۔ انھیں ان حالات میں جو اچھا لگا انھوں نے کیا۔ وہ کہا جس سے مسلمانوں کو فائدہ ہو۔ بطور انسان جو ان سے غلطیاں ہوئیں وہ بشری خصوصیت ہے۔ انھوں نے علمی، تعلیمی، ادبی اور سماجی بے انتہا خدمات سر انجام دیں۔ بطور انسان ان کی غلطوں کو درگزر کریں۔ انھوں نے مسلمانوں کا رہبر بن کر اپنی ساری زندگی ان کے نام کر دی۔ اب انھیں اپنے رہبر کے طور پر یاد کرنے والے خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ ان کی اکثر باتوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن معتوب سمجھ کر لیں پشت ڈال دینے کا رویہ بڑا ہی سنگین ہے۔

برادرم مجاہد حسین نے ایم-فل کی سطح پر سر سید احمد خاں پر تحقیقی کام کیا۔ محترم پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر کی خدمت میں حاضر ہو کر جب راہنمائی لیتے تو اکثر اسن سے سلام دعا ہوتی۔ آج ان کی محبتوں اور تعاون سے یہ مقالہ چھپ گیا۔ جس میں اپنے قومی رہبر کی خدمات کو یادکیا گیا۔ ان کی ایک دو غلطیوں کی طرف نشان دہی کی گئی جسے بنیاد بنا کر انھیں نقصان پہنچایا گیا۔ بات سرسید دشمنی تک پہنچ گئی۔ اس کتاب کو پڑھنا ضروری ہے تاکہ مسلمانوں کو ایک عظیم تاریخی شخصیت کی خدمات کو سمجھا جا سکے۔ ان کے بارے میں پھیلائے جانے والی افواہوں کی حقیقت جانی جا سکے۔ استاد محترم پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید ’’سرسید‘‘ صدی کے موقع پر ایک کتاب لے کر آئے ہیں۔ یہ بات نہایت حوصلہ افزا ہے۔ سرسید جیسے مخلص مسلم راہنما کو رب نے بڑے ہی محترم رفقا عنایت کیے۔ اسی بات کا تذکرہ مجاہد حسین ان الفاظ میں کرتے ہیں:

’’سرسید احمد خان کے زمانے ہی میں بہت سے لوگ انھیں ایسے میسر آئے ان کے ممد و معاون بنے اور ان کے نظریات کے شروع میں ان لوگوں نے سرسید کا ساتھ دیا۔‘‘ (۱)

ہمیشہ مخلص لوگوں کو ہی رب بہترین دوست عنایت کرتا ہے۔ اسی بات کا تذکرہ مجاہد حسین کر رہے ہیں۔ افہام و تفہیم اور بحث و مباحثے کی فضا سے معاملات طے کیے جا سکتے ہیں۔ اس لیے انھوں نے اس رویے کو ترویج دی۔ نواب محسن الملک لکھتے ہیں:

’’اور ان کو کیا کہوںخود مجھ کو بہت سے مسائل میں ان سے اختلاف کرنا پڑا، بحث مباحثے رہے۔‘‘ (۲)

یہ نہایت علمی سطح کی بات ہے۔ ان کے رفقا نہ صرف ان سے بحث کرتے بلکہ اختلاف رائے کا حق بھی رکھتے۔ ڈاکٹر سید عبداللہ کے نزدیک علما کو سرسید سے اختلافات تھے لیکن انگریزی تعلیم کے معاملے میں اختلاف نہ تھا، لکھتے ہیں:

’’ان کو انگریزی تعلیم سے اختلاف نہ تھا۔‘‘ (۳)

ان سے مراد علما کرام ہیں۔ یعنی سب جدید تعلیم کے حصول کی خواہش رکھتے تھے۔ گو کہ لارڈمیکالے ذہنی برتری کا شکار تھے لیکن اس بنیاد پر انگریزی زبان کو سیکھنا نہیں چھوڑا جا سکتا تھا۔ انھوں نے ۱۸۳۵ء میں تعلیمی نظام کی تبدیلی پر پیش کی جانے والی یادداشت میں لکھا تھا:

’’تمام طبقے اس بات پر متفق ہیں کہ ہندوستان کے اس حصہ کے بسنے والے جو مختلف بولیاں بولتے ہیں، وہ ادبی و علمی معلومات سے یکسر تہی دامن ہیں۔‘‘ (۴)

اس بیان میں وہ مقامی زبانوں کو غیرعلمی قرار دے رہے ہیں۔ اس کے باوجود سرسید ثابت قدم رہے۔ علم دوستی کا رویہ پروان چڑھایا۔ بطور مسلمان دنیا کی ہر زبان کو سیکھنا اچھی بات ہے۔ اس لیے مولوی عبدالحق نے انھیں ان الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے:

’’قصر پاکستان کی بنیاد میں ’’پہلی اینٹ‘‘ اسی پیرمرد (سرسید) کے مبارک ہاتھوں نے رکھی اور وہ اینٹ اردو زبان تھی۔‘‘ (۵)

یہاں مولوی صاحب ان کی ادبی خدمات کا اعتراف کر رہے ہیں۔ اردو زبان میں کتابیں لکھ کر اور اسے قومی سطح پر لانے کے لیے سرسید نے زبان اردو کی ترویج کی۔ ان پرسیر حاصل مباحث کو زندہ رکھنے کے لیے برادرم مجاہد حسین اور استاذی پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر بڑی مبارک باد کے مستحق ہیں۔

حواشی

(۱) مجاہد حسین، سرسید شناسی: مبالغے اور مغالطے، لاہور: نشریات، ۲۰۱۷ء، ص۱۳۶

(۲) نواب محسن الملک، مجموعہ پیکر زو لیچر، لاہور: نول کشور گس پرنٹنگ ورکس پریس، ۱۹۰۴ء، ص۵۰۸

(۳) سید عبداللہ،ڈاکٹر، سرسید احمد خاں اور ان کے نامور رفقا کی اردو نثر، لاہور: مکتبہ کارواں، ۱۹۶۰ء، ص۵۱

(۴) لارڈمیلاے، میکالے کا نظریہ تعلیم (مرتبہ عبدالمجید صدیقی)، کراچی: روہیل کھنڈ لٹریری سوسائٹی، ۱۹۶۵ء، ص۶۷

(۵) ضیاء الدین لاہوری، آثار سرسید، لاہور: جمیقہ پبلی کیشنز، ۲۰۰۷ء، ص۲۸۱

Facebook Comments Box
تنقیدسرسیدسرسید احمد خان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
میاں ارشد فاروق

previous post
سول بالادستی کا خوشنما نعرہ اور کرپشن کی پردہ داری : عماد بزدار
next post
تصوف: آمنہ بٹ

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.