تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتصوفعلم و ادبمذہبی

تصوف: آمنہ بٹ

by میاں ارشد فاروق 06/12/2017
written by میاں ارشد فاروق 06/12/2017
126

تصوف ایک ایسا موضوع ہے جو ناقابل بیان اور نا قابل سلاسل ہے۔ اس موضوع کی وسعت،گہرائی کی کوئی اتھاہ نہیں اور نہ ہی اسکا حتمی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے۔

کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تصوف صرف محسوس کرنے کی چیز ہے۔ اسے صرف اپنے قلب اور روحانی فکر سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ جسطرح خوشبو،کو صرف محسوس کیا جاسکتا ہے اسی طرح تصوف کو بھی صرف محسوس کیا جا سکتا ہے جس طرح پھولوں کی نرمی؛رنگوں کی وضاحت اور دیگر جذبات ناقابل بیان ہیں اسی طرح تصوف کا حتمی بیان بھی نا ممکن ہے۔

کلمہ”تصوف“ باب ”تفعل“ سے ہے جسکا خاصہ ہے کہ بہ تکلف فعل کا متقاضی ہو اور یہ”اصل“ کی ”فرع“ ہے۔ لغوی حکم اور ظاہری معنی میں اس لفظ کی تعریف کا فرق موجود ہے۔ تصوف صفا کی ایسی حکایت و تعبیر ہے جسمیں شکوہ و شکایت نہ ہو۔ صفا کے ظاہری معنی”تاباں“ کے ہیں اور تصوف اس مفہوم کی تعبیر ہے۔

لفظ ”صوف“ عربی زبان کا لفظ ہے جسکا لفظی مطلب ”اون“ ہے۔ عموماً دیکھاجاۓ تو ولی اللہ، صوفی انبیاء اکرام اور برگزیدہ ہستیوں کا معمول اون کا لباس زیب تن کرنا رہا ہے۔ اس نسبت سے انھیں ”صوفی“ کہا گیا یعنی اون کا لباس زیب تن کرنیوالے۔ بعض حضرات کاخیال ہے اصحاب صفہ سے نسبت رکھنے کی وجہ سے یہ لوگ صوفی کہلاۓ۔

کچھ لوگ صوفیوں کو ”صفاء“ سے مشتق کرتے ہیں۔ لیکن اگر اسکےاصطلاحی مفہوم کو لیا جاۓ تو اسکا مطلب جو ظاہر ہوتا ہے وہ ”نفس کا تزکیہ“ ہےـ اسکا تعلق براہ راست ضمیرکے ساتھ ہے ضمیر ہمیشہ سچائی کی طرف دکھیلتا ہے اور روشنی کاراستہ دیکھاتا ہے۔ اسی طرح صوفی اپنے ضمیرکی روشنی وسچائی سے اللہ کے عشق میں غوروفکر کے زریعے اسکے ساتھ گفتگو میں محو رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے اسے ہرطرف اللہ نظر آتا ہے اور وہ خدا کےعشق میں معمور و مشغول رہتا ہے۔

در حقیقت تصوف کی بنیاد توحید، محبتِ الٰہی، اطاعتِ الٰہی، تقویٰ اور عرفان نفس ہے۔ اسکی مثال کچھ اسطرح سے دی جاسکتی ہے خدا کو واحد مان کر اس کے ساتھ محبت کی جاۓ اور اسکی اطاعت میں سر بسجود خم کیا جاۓ۔ تصوف کا بنیادی مقصد رضاۓ الٰہی کا مقصود ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ذہنی یکسوئی کا ہونا بہت ضروری ہے اور یہ یکسوئی نماز کےزریعے ممکن ہے۔ انبیاء اکرام اس یکسوئی کو حاصل کرنےکے لیے اللہ سے دعا کیا کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی نسل کے لیے لیےیہ دعاکی:

”اےمیرے پروردگار!مجھ کو اور میری نسل میں سےلوگوں کو صلوٰۃ (رابطہ)قائم کرنیوالا بنا“
(سورہ ابراہیم ٤٠)

اللہ تبارک تعالیٰ نے حضرت موسی علیہ السلامٰ سےکہا ”اورمیری یاد کے لیے صلوٰۃ قائم کر“(یعنی میری طرف ذہنی یکسوئی کے ساتھ متوجہ رہ) سورہ طٰحٰہ:١٤

حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی:
”اے میرے بیٹے صلٰوۃ قائم کر“ سورۃ لقمان:١٧

نماز میں جسمانی حرکات و سکنات کے ساتھ ذہن کا اللہ کی طرف رجوع ہونا یعنی اللہ کی طرف متوجہ ہونا اور ایک روحانی کیفیت محسوس کرنا ”تصوف“ کی ابتدائی قدم ہے۔

اسی طرح روزے کی کیفیت میں احساسات و اعمال کی تبدیلی کا نام تصوف ہے۔

ایک انسان کا صبح سے شام بھوکا رہنا دیگر خواہشات نفسانی کو قابو میں رکھنا،روزہ نہ رکھنے کی صورت میں کسی قیمتی چیز کو کھو دینے کا احساس ہونا، رضاۓ الٰہی کے حصول کے لیے حلال چیزوں کو حرام کر لینا تصوف کی معراج کا حصول ہے۔

اسی طرح حج بیت اللہ کا حج کرنا، اس کے لیے اپنی خواہشات کو قابو میں کر کےارکان حج پورا کرنا، جسمانی مشقت اٹھانا تصوف کا حصول ہےـ

حضور ﷺ کا ارشاد ہے: ”جو شحص اللہ کے لیے حج کرے اسطرح کہ اسمیں فحش بات اور حکم عدولی نہ ہو تو وہ ایسا ہے جیسا ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو “مشکوٰۃ شریف۔ اس کے علاوہ ”زکر و ازکار“ بھی تصوف کی ایک کڑی ہے۔ اللہ تبارک تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں، اللہ کے ان بابرکت ناموں میں کچھ نام جلالی ہیں کچھ جمالی اور کچھ صفاتی ہیں۔  ہر اک اسم میں چھپا ہوا اک خزانہ ہےـ اللہ تعالیٰ کا ہر اسم اللہ کی صفت سے معمور ہے ہر صفت متحرک ہے جب کوئی اپنے اندر طاقت و زندگی رکھتی ہے جونہی کوئی شخص کسی اسم کو ورد زبان بناتا ہے اس اسم کی طاقت اور تاثیر ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

اسی طرح قرآن کریم کی تلاوت سے مراد ارشادات ربی پر تفکر و تدبر کرنا ہے احکامات ربانی پر غوروفکر کرتے ہوۓ اس پر عمل پیراء ہونا اور کثرت سے تلاوت کرتے ہوے اللہ سے رشتہ جوڑے رکھنا، حصول روحانیت کی کڑی ہے۔ جسکا حکم خود اللہ تبارک تعالیٰ نے دیا ہے۔ جیسا کہ سورۃ احزاب کی آیت نمبر ٤١ میں ارشاد ہوا ہے

”اۓ اہلِ ایمان! تم اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کیا کرو۔“ سورۃ انفال کی آیت نمبر ٤٥میں ارشاد ہوا  ”اۓ اہل ایمان!جب کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کا کثرت سے ذکر کرو“ حضرت سید علی عثمان ہجویری رحمۃ اللّٰہ علیہ اپنی تصنیف کشف المحجوب میں صوفیاء کی اقسام بیان کرتے ہوے فرماتے ہیں

تصوف کو ماننے اور اس پر عمل کرنے والوں کی تین اقسام ہیں۔

1) صوفی
2) متصوف
3) مستصوف

1:- صوفی وہ ہے جو خود کو فنا کر کے حق کے ساتھ مل جاے اور خواہشات نفسانیہ کو مار کر حقیقت سے پیوستہ ہو جاۓ۔

2:-  متصوف وہ ہے جو ریاضت و مجاہدے کے ذریعے اس مقام کی طلب کرے اور وہ اس مقام کی طلب و حصول میں صادق و راستباز رہے۔

3:- مستصوف وہ ہے جو دنیاوی عزت ومنزلت اور مال و دولت کی خاطر خود کو ایسا بنا لے اور اسے مذکورہ منازل و مقامات کی کچھ خبر نہ ہو ایسے نقلی صوفیوں کے لیے عرفاء کامقولہ ہے کہ

”المستصوف عند الصوفیۃ لالذباب و عند غیرھم کالذیاب“

صوفیاء کرام کے نزدیک نقلی صوفی مکھی کی مانند ذلیل و خوار ہے وہ جو کرتا ہے محض خواہش نفس کے لیے کرتا ہےاور دوسروں کے نزدیک بھیڑیے کے مانند ہے۔

جس طرح بھیڑیا اپنی قوت و طاقت مردار کے حاصل کرنے میں صرف کرتا ہے یہی حال اس نقلی صوفی کا ہے اس سے ظاہر ہوا صوفی”صاحب وصول“ ہے، متصوف”صاحب اصول“ہے اور مستصوف ”صاحب نقول“ اور” فضول“ ہے۔

حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں

”الصوفی اذانطق بان نطفۃ من الحقائق وان سکت نطقت عنہ الجوارح بقطع العلائق“
صوفی وہ ہے کہ جب بات کرے تو اسکا بیان اپنے حال کے حقائق کے اظہار میں ہو۔

یعنی کوئی ایسی بات نہیں کہتا جو خود آدمی میں موجود نہ ہو اور جب خاموش رہے تو اسکا معاملہ و سلوک اسکے حال کو ظاہر کرے علائق سے کنارہ کشی اسکے حال پر ناطق ہو یعنی اسکا بولنا بوقت کلام اصول طریقت پر صحیح ہو اور اسکا کردار بوقت سکوت مجرد محض ہے۔ دونوں حالتیں درست ہوں، بولے تو ہر بات حق اور جب خاموش رہے تو اس کا ہر فعل فقر ہو۔

حضرت حصری رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں
”التصوف صفاء السرمن کدورۃ المخالفۃ“
دل کو مخالف کی کدورت سے پاک و صاف رکھنے کا نام تصوف ہے۔
مطلب یہ کہ باطن کو حق تعالیٰ کی مخالفت سے مخفوظ رکھو۔

حضرت محمد بن علی بن امام حسین بن علی مرتضیٰ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں

” التصوف خلق فمن زاد علیک فی الخلق زاد علیک فی التصوف“
پاکیزہ اخلاق کا نام تصوف ہے جس کے جتنے پاکیزہ اخلاق ہوں گے اتنا ہی زیادہ وہ صوفی ہو گا۔

حضرت شبلی علیہ الرحمۃ کا قول ہے ”الصوفی لا یرٰی فی الدارین مع اللہ غیر اللہ” یعنی صوفی وہ ہے جو دونوں جہان میں بجز ذات الٰہی کے کچھ نہ دیکھے۔

لہذا ظاہر ہوا صوفی کا ظاہر وباطن یکجا ہوتا ہے اسکے کردار سے سچائی و پاکیزگی جھلکتی ہے اسکا قلب روحانیت کی روشنی سے معمور ہوتا ہے اور شریعت کے احکام کا پاسدار ہوتا ہے۔

Facebook Comments Box
اسلامتزکیہ نفستصوفصوفیصوفی ازمعشق
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
میاں ارشد فاروق

previous post
سرسید شناسی: مبالغے اور مغالطے: جنید رضا
next post
تجھ سے ناراض نہیں زندگی حیران ہوں میں ۔۔۔۔ ایک عورت ایک کہانی ۔ آخری قسط

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.