تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلم و ادبفکشن

مرزا صاحباں : محمد خان قلندر

by Daanish Editor 28/09/2017
written by Daanish Editor 28/09/2017
208

روایت یہ کہی جاتی ہے کہ صاحباں مرزا جٹ کی ماموں زاد تھی. کھیوا گاؤں کے چوہدری کی بیٹی، پنجاب میں دریائے سندھ، جہلم اور چناب سے آبیار ہونے والے علاقے کی ہر جٹی لازمی مٹیار ہوتی تھی. صاحباں تو تھی ہی بے مثال، سُتواں ناک ، ہلکا سا مخروطی چہرہ. طولانی قامت، کھلتے گلاب کی رنگت، غزالی آنکھیں، بدن کے نشیب و فراز متناسب، ہر گولائی اور مخروطی اتنی مناسب کہ کہیں نگاہ ٹک نہ سکے۔

قدرت نے حسن سے مالا مال کیا ساتھ بہت نفیس اور محبت کرنے والی شخصیت بھی عطا کی تھی. گاؤں کے نامور موچی خاندان کی عورتیں، سُنہری تلہ کاری سے مزین جوتی، اس کے لئے بنانا اعزاز سمجھتی تھیں۔

اس زمانے میں کپڑے کی بنائی گھریلو کھڈیوں پر ہوا کرتی تھیجسے پارچہ بافی کہتے ہیں. دیگر علاقوں میں یہ کام کرنے والوں کو جولاہا یا پاؤلی کہا جاتا تھا۔

کھیوا کے مشہور پارچہ باف، یا پاؤلی اللہ دین کا پوتا کرم دین عرف کرمو باہمن صاحباں کا محلہ دار اور ہم عمر تھا. اس کے ہاتھ میں قدرتی ہُنر تھا۔

کرمو اور صاحباں اکٹھے کھیلتے کودتے جوان ہو نے کو آئے تو رامو نے جب اپنی پہلی شاہکار پھلکاری ریشم اور کاٹن کے دھاگے ملا کر بنی . ساتھ ہی وہ صاحباں کو بطور تحفہ پیش کی، تو وہ اس پھلکاری کے رنگوں کے امتزاج کو دیکھ کے دنگ رہ گئی. رامو نے پھلکاری صاحباں کو اوڑھا دی تو جوانی کے تار بج اُٹھےـ اچانک پیار کے اظہار کے جلوے بوس کنار تک چھلک گئے۔

اگلے روز میرزا کی کھیوا آمد ہوئی، میرزا تو تھا ہی مردانہ وجاہت کا نمونہ، جب وہ اپنے ماموں کی حویلی میں اپنی مشہور گھوڑی، بکی کی پیٹھ سے اُترا تو صاحباں نے اس کی راس پکڑ کے اسے اتارا، بچپن سے میرزا کا آنا جانا تو تھا، بے تکلفی بھی تھی، لیکن آج جب میرزا نے بکی سے اترتے ہوئے، اپنا ترکش اور کمان صاحباں کو تھمائی تو وہ کپکپاگئی۔

صاحباں کی مرحومہ ماں، اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی، اس کا ملکیتی رقبہ بھی صاحباں کے نام وراثت میں منتقل ہوا تھا. صاحباں یوں کھیوا گاؤں کی مالداد حسینہ تھی ہی لیکن میرزا خود صاحب جائیداد تھا اور کرموں باہمن کی اوقات ہی نہیں تھی کہ وہ یہ رقبہ سنبھال سکتا.

میرزا اور کرموں کے عشق تو ساتھ ساتھ چلتے رہے ، لیکن صاحباں کے بے محابا حسن اور دولت کے لئے صاحبہ کی سوتیلی ماں کا دور پار کا رشتہ داد ظاہر خان، اچانک منظر عام پر نمودار ہو گیا.
اچانک ہی صاحباں کا رشتہ اس کے والد نے اس کی سوتیلی ماں کے اصرار پر جاہ و حشمت کے مظہر، ظاہر خان سے طے کر دیا.

صاحباں کے میرزا کے ساتھ حویلی سے باہر جانے، پر پابندی لگ گئی، گاؤں کا ماحول کشیدہ ہو گیا، صاحباں کے چار سوتیلے اور دو دُودھ شریک بھائی ڈنڈا کھونڈے سے مسلح گشت کرنے لگے،. میرزا نے خطرہ بھانپ لیا ، اور اس نے بھی ترکش اور کمان اس نے بھی ساتھ رکھ لئے تھے.

اتنے خطرات کے باوجود رات کو کسی طرح صاحباں میرزا سے ملنے راموں باہمن کے ڈیرے پر آگئی. پہلے تو اس نے علیحدگی میں راموں سے راز و نیاز کئے، پھر اسے پیشکش کی کہ پہلا عاشق ہونے کے ناطے اس کا حق فائق ہے اگر وہ سنبھال سکے تو وہ اس سے شادی پر راضی ہے.

لیکن راموں نے ہاتھ جوڑ کر معذرت کر ہی لی تب اچانک اس نے میرزا سے گھوڑی حویلی سے باہر نکالنے کو کہا، خود وہ حویلی سے کچھ سامان اٹھانے گئی. اس آمد و رفت میں صبح کاذب کے وقت دونوں گھوڑی پے سوار ہو کے کھیوا سے نکلے، میرزا کو اندازہ تھا کِہ پوری دفتار سے بکی دوپہر تک اس کے گاؤں پہنچا دے گی. صاحباں تو دو عملی سوچ کا شکار تھی. بار بار مُڑ کے پیچھے دیکھتی کبھی رونے لگتی، کبھی گھوڑی آہستہ چلانے کو کہتی رہی.

دوپہر تک وہ کھیوے کی حد سے نکل آئے، تو صاحبہ نے ایک جھنڈ کے پاس میرزا کو رکنے کا کہا، میرزا بھی رات بھر جاگنے ، سواری کی تھکن اور ذہنی دباؤ سے نڈھال تھا. اس نے گھوڑی روکی، زین اور لگام اتار کے بکی کو ایک جھنڈی کے نیچے باندھا اور لیٹا تو اس کی آنکھ لگ گئی. صاحباں کو خوف اور احساس جُرم نے جگائے رکھا. یہ خیال کہ بھائی تو اس کے پیچھے آئیں گے. لیکن لڑائی ہوئی تب تو میرزا ماہر تیر انداز انکو مار ڈالے گا.

اس اُلجھن میں اس نے تیر سارے توڑ پھینکے، کمان اچھال کے جھنڈی پر ٹانگ دی۔ پھر وہی ہوا جو انجام آپ پڑھتے آئے ہیں.صاحباں کے بھائی پہنچ گئے اور میرزا نہتا اور اکیلا، صاحباں کی کوتاہ بینی،.جذباتیت اور روایتی کم عقلی کی بھینٹ چڑھ گیا.

Facebook Comments Box
پنجابپنجابیپنجابی لوگ رنگصاحباںعشقیہ داستاںلوک داستاںمرزا صاحباں
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Daanish Editor

previous post
مرنا کہاں ہے آساں: عائشہ تنویر
next post
محرم اور شیعہ سنی اختلاف: خورشید ندیم

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.