تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادب

لارنس آف عربیہ کی حقیقی داستان ۔۔۔ آخری حصّہ

by دانش ڈیسک 25/07/2017
written by دانش ڈیسک 25/07/2017
125

جنوب مغربی انگلش کاؤنٹی ڈورسٹ کے نواحی علاقے کی ایک گلی میں روڈوڈینڈرون کی جھاڑیوں سے گھرا ہوا ایک دو منزلہ کاٹیج واقع ہے۔ یہ ایک چھوٹی سی عمارت ہے، پرانی کتابوں اور چمڑے کی بو میں بسی ہوئی، 700 مربّع فیٹ سے کم، ہر منزل پر دو کمرے، اور دونوں منزلیں ایک تقریباً عمودی اور خستہ حال سیڑھی کے ذریعے مربوط۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس میں نہ کوئی کچن ہے نہ ٹوائلٹ۔ کلاؤڈ ہل کے نام سے مشہور یہ ٹی ای لارنس کا آخری گھر تھا۔ لیکن اس کے پڑوسی اس سے واقف نہیں تھے، ان کے لیے وہ سراغرساں ٹی ای شا تھا، ایک الگ تھلگ رہنے والا ملازمت پیشہ، جو اسی وقت نظر آتا تھا جب وہ اپنی چہیتی “برو” موٹرسائیکل پر کھلے علاقوں کی سیر کے لیے نکلتا تھا۔
1921 میں برطانوی فوج میں دوبارہ شمولیت کے بعد، لارنس نے اگلے 14 برس زیادہ تر برطانیہ کے مختلف علاقوں میں پھیلے فوجی مرکزوں میں معمولی عہدوں پر گزارے۔ جب 1929 میں وہ ڈورسیٹ میں رہ رہا تھا تو اس نے کلاؤڈ ہل کو ایک پناہ گاہ کے طور پر خرید لیا جہاں وہ کتابیں پڑھ سکتا تھا اور موسیقی سن سکتا تھا۔ بہرحال اس شدید گھٹن کا احساس دلانے والے کاٹیج میں جاتے ہوئے اپنے آپ کو ایک تنہا اور دل شکستہ شخص کے عکس سے بچائے رکھنا بہت مشکل کام ہے۔
اپنے عرب دنیا کے خواب کو بکھرتے دیکھنے کی مایوسی کے ساتھ ساتھ، جنگ کے بعد کا لارنس واضح طور اس کیفیت سے دوچار تھا جسے آج کی زبان میں “پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر” (کسی مجروحیت کے بعد ذہنی دباؤ کے سبب بے ترتیبی) کہا جاتا ہے؛ 1920 کی دہائی کے پورے عرصے میں اور 1930 کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں وہ ڈیپریشن کی کیفیت سے دوچار ہوتا رہتا تھا، جس میں وہ مٹھی بھر پرانے دوستوں کو چھوڑ کر سب سے کٹ کر رہ جاتا تھا۔ 1935 میں 46 سال کی عمر میں اس نے ملٹری سے ریٹایر ہونے کا فیصلہ کیا – وہ واحد خاندان جو اس نے گزشتہ 20 سالوں میں دیکھا تھا – لیکن یہ ایک ایسا فیصلہ بھی تھا جس نے اسے ایک طرح کے خلجان میں مبتلا کر دیا۔ اسے خود معلوم نہیں تھا کہ وہ فوج سے فارغ ہو کر اپنی زندگی کے خلا کو کیسے پر کرے گا۔ جیسا کہ اس نے 6 مئی 1935 کو اپنے ایک دوست کو لکھا، جب وہ مستقل طور پر کلاؤڈ ہل میں بسنے جا رہا تھا: “فی الحال تو صرف وحشت کا احساس ہے۔ میرا گمان ہے کہ درخت سے ٹوٹنے اور فنا ہونے کے دوران پتّوں کو بھی کچھ اسی قسم کا احساس ہوتا ہوگا۔ چلو امید کریں کہ میری یہ کیفیت مستقل نہیں رہے گی۔ “

اور واقعی یہ کیفیت مستقل رہی بھی نہیں۔ ٹھیک ایک ہفتے بعد، کلاؤڈ ہل کے قریب ہی موٹر سائیکل چلاتے ہوئے لارنس ایک جان لیوا حادثے کا شکار ہوگیا۔ اس کے انتقال پر ونسٹن چرچل نے ان الفاظ میں اس کی مدح کی، ” میں اسے اس زمانے کے عظیم ترین فرد کی حیثیت دیتا ہوں۔ مجھے اس جیسا اور کوئی کہیں نہیں نظر آتا۔ مجھے اندیشہ ہے کہ ہمیں اس جیسے شخص کی جتنی بھی ضرورت ہو، ہم کو ویسا شخص اب کبھی نہیں ملے گا۔ “
عرب دنیا میں لارنس کی یادیں ملی جلی سی ہیں؛ بلاشبہ اس کے بارے میں بدلتے خیالات اس دائمی تلخی کو نمایاں کرتے ہیں جو ایک صدی قبل مسلّط کیے جانے والے امن کی وجہ سے آج بھی ماحول میں پائی جاتی ہے۔ یہ بات اس وقت واضح تر ہوجاتی ہے جب میں المدوّرۃ میں شیخ العطون کے استقبالیہ خیمے میں اس سے پوچھتا ہوں کہ آجکل لارنس کے بارے میں لوگوں کے خیالات کیا ہیں۔ شروع میں تو اس نے چالاکی سے اپنا دامن بچانے کی کوشش کی: “کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ واقعی عربوں کی مدد کرنا چاہتا تھا۔ ” اس نے جواب دیا، “لیکن دوسروں کا یہ خیال ہے کہ یہ سب کچھ ایک چال تھی، اور لارنس سارا وقت برطانوی سلطنت کے مفاد میں ہی کام کر رہا تھا۔ ” جب میں اس کو مجبور کرتا ہوں کہ وہ اپنا خیال ظاہر کرے تو شیخ کسی حد تک بے آرام سا ہو جاتا ہے۔ “کیا میں بغیر کسی رو رعایت کے بات کر سکتا ہوں؟ ہو سکتا ہے کہ بعض فرتوت اب بھی یہ سمجھتے ہوں کہ وہ عربوں کا بہی خواہ تھا، لیکن باقی سب لوگ حقیقت سے واقف ہیں۔ یہاں تک کہ میرا دادا بھی مرنے سے پہلے یہ بات سمجھ چکا تھا کہ اس کے ساتھ چال چلی گئی تھی”
اس تبصرے نے لارنس اور مشرقِ وسطیٰ دونوں کے المیّے کے دریا کو ایک کوزے میں بند کر دیا تھا – لیکن کسی جگہ اس المیّے کی ایک کہیں زیادہ تصویری صراحت بھی دستیاب ہے۔ یہ جگہ کارکیمش ہے۔
یہ کارکیمش ہی تھا جہاں لارنس سب سے پہلے عثمانی سلطنت کے استبداد سے متنفّر ہوا تھا، اور جہاں اس نے ایک خود مختار عرب قوم کا تصوّر قائم کیا تھا جس کا مرکز شام ہوتا؛ آج بلاشبہ ترکی ایک جمہوریہ ہے جبکہ شام ایک ناقابلِ بیان حد تک وحشتناک خانہ جنگی کی گرفت میں ہے۔ کارکیمش جہاں کی غنودگی مائل فضا ایک شرانگیزی کا سا تاثّر دیتی ہے، دونوں حقائق کو جدا کرنے والی حد پر واقع ہے۔
ہتیّوں کی باقیات کی حامل پہاڑی اب ایک ترکی پولیس چوکی ہے، آنے جانے والوں کی پہنچ سے باہر، جبکہ اس پہاڑی کی بنیادوں پر حال ہی میں ایک 15 فٹ اونچی کنکریٹ کی دیوار کھڑی کی گئی ہے جس کے اوپر کنسرٹینا تار لگائے گئے ہیں۔
دیوار کی دوسری طرف شام کا شہر جرابلس ہے جہاں ایک باغی گروہ کی جانب سے قائم کردہ “عراق اور لیوانت کی اسلامی ریاست” آئی ایس آئی آیس کے سیاہ و سفید جنگی پرچم لہرا رہے ہیں۔ یہ اسلام کے نام پر انتہا پسندی کا داعی گروہ اس قدر سفّاک قاتلوں اور حد سے گزر جانے والے لوگوں پر مشتمل ہے، کہ اس سے قبل اس کی پشت پناہ تنظیم القاعدہ نے بھی اس سے بیزاری اور بریّت کا اعلان کر دیا ہے۔

کرکمیز کے چھوٹے سے مہیب پارک میں بیکار بیٹھے شامی باشندے، جو کسی صورت بچ نکلنےمیں کامیاب ہو گئے، بتاتے ہیں کہ کیسے آئی ایس آئی ایس کے ہاتھوں ان کے خاندان اور دوست ذبح ہو گئے، یا کیسے جرابلس ایک آسیب زدہ شہر بن گیا۔
40 سال کے پیٹے کا ایک شامی شہری جو اپنا نام بتانے سے بھی گریزاں ہے، مجھے بتا رہا ہے کہ کیسے اس نے چھ ماہ پہلے اپنے خاندان کے ساتھ نکل بھاگنے کا منصوبہ بنایا تھا، جب عین موقع پر آئی ایس آئی ایس کے لوگ اس کے نوخیز بیٹے کو گھسیٹ کر لے گئے۔ “میں نے اپنی بیوی اور چھوٹے بچوں کو تو لبنان روانہ کر دیا”، وہ بتا رہا ہے، “لیکن میں خود پیچھے رہ گیا، تاکہ اپنے بیٹے کو چھڑانے کی کوشش کر سکوں۔ “

وہ ایک نوخیز لڑکے کی طرف اشارہ کرتا ہے جو نیلی جینز اور سرخ قمیص میں چند فٹ کے فاصلے پر ایک اینٹوں کی دیوار پر بیٹھا درختوں کی تانی ہوئی چھت کو دیکھتے ہوئے متانت بھرے انداز میں ایک دور دراز مسکراہٹ بکھیر رہا ہے۔ “یہ ہے وہ بیٹا”، وہ کہہ رہا ہے، “چھ دن بعد وہ مجھے واپس مل گیا، مگر دہشت پسند پہلے ہی اس کا ستیاناس کر چکے تھے”۔ اس کا باپ اپنی کنپٹی پر انگلی بجا کر پاگل پن کا ساری دنیا میں سمجھا جانے والا اشارہ کرتا ہے۔ “وہ اب صرف یہی کرتا ہے، سارا وقت اسی طرح مسکرانا۔ “
ترکی کی طرف والے علاقے میں دیوار کے پیچھے سے لاؤڈ اسپیکروں سے نشر ہونے والے جہادی ترانوں کی پھوار واضح طور پرمحسوس کی جا سکتی ہے۔ دیوار کے پار کہیں کارکیمش کے کھنڈروں سے نصف میل کے فاصلے پر لارنس کا قدیم تحقیقاتی پڑاؤ بھی ہے، ایک پرانا لکورش (ایک پودا) کا اسٹور ہاؤس جس کی اس نے بڑے پیار سے مرمّت کروائی تھی اور اسے ایک آرام دہ گھر میں بدل دیا تھا۔ اب یہ وہ جگہ ہے جسے ایک طویل عرصے تک کوئی مغربی باشندہ نہیں دیکھ سکے گا۔
ختم شد

پہلی قسط اس لنک پہ ملاحظہ کریں

دوسری قسط اس لنک پہ ملاحظہ کریں

تیسری قسط اس لنک پہ ملاحظہ کریں

Facebook Comments Box
ترک خلافتحجازخلافت عثمانیہسعودی عربلارنس آف عریبیا
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
مسئلہ کشمیر کا حل ــــ کیا اور کیسے؟ اسد خان
next post
خورشید ندیم صاحب کے تضادات: جواب آں غزل ۔۔۔۔ عماد بزدار

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.