تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزعلم و ادبکتابوں پر تبصرے

غربت اور غلامی ۔ خاتمہ کیسے ہو

by مجاہد حسین 17/07/2017
written by مجاہد حسین 17/07/2017
92

نسل انسانی کی تمام تر ترقی کے باوجود دنیا میں غربت بھی موجود ہے اور غلامی بھی کسی نہ کسی شکل میں پھیلی ہوئی ہے۔ اگرچہ اب وہ دور نہیں رہا کہ جب انسان خوراک کی تلاش میں دربدر پھرتا تھا اور اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا تھا لیکن دور جدید کے اپنے چیلنجز ہیں جن سے نمٹنے کے لئے مختلف نظریات ہمارے سامنے آئے ہیں۔ انسانی تاریخ کے جس مخصوص لمحے میں ہم موجود ہیں، یہاں سے آگے جانے کے لئے ہمارے اردگرد بے شمار رستے اور پگڈنڈیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ ذیشان ہاشم نے ان میں سے چند کا انتخاب کیا ہے اور اس انتخاب کے حق میں دلائل دیے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے دلائل بہت جاندار ہیں اور ذہن کو اپیل کرتے ہیں۔

ذیشان ہاشم (مصنف کتاب)

ذیشان ہاشم اپنا ایک مخصوص نکتہ نظر رکھتے ہیں جو اس کتاب کے صفحات میں جگہ جگہ بکھرا نظر آتا ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ نظام اور لبرل ازم کے بہت بڑے حامی ہیں۔ انہیں اپنے نظریات کی صحت پر مکمل یقین ہے اس لئے کہیں بھی ان کا انداز معذرت خواہانہ نہیں ہوتا۔ ایک خاص قسم کا اعتماد ان کے دلائل کو مضبوطی فراہم کرتا ہے۔ وہ دلیل دیتے ہوئے شرماتے نہیں بلکہ ان میں وزن پیدا کرنے کے لئے کہیں اعدادوشمار پیش کرتے ہیں تو کہیں مستبد تاریخی حوالے سامنے لاتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا مطالعہ کس قدر وسیع ہے۔

ساڑھے چار سو صفحات پر مشتمل یہ کتاب بنیادی طور پرعلم معاشیات کے جلو میں آگے بڑھتی ہے تاہم اس میں انسانی سماج کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ذیشان ہاشم نے عام قاری کو ذہن میں رکھ کر کتاب تحریر کی ہے جس کہ وجہ سے اس میں شگفتگی قائم رہتی ہے۔ پیچیدہ علمی موضوعات کو سلیس زبان میں پیش کرنے کی روایت اردو میں ابھی نئی ہے۔ یہ کتاب اس روایت میں ایک خوبصورت اضافہ ہے۔

انہوں نے کئی جگہ گرافس اور اعدا وشمار کو بطور دلیل استعمال کرتے ہوئے یہ دعوی کیا ہے کہ انسان نہ صرف پہلے سے زیادہ مہذب ہوا ہے بلکہ پوری انسانی نسل بہتری کی جانب گامزن ہے۔ یہ اس کتاب کا بہت اہم پہلو ہے جس کی وجہ سے رجائیت کی روشنی اس کے صفحات پر بکھری نظر آتی ہے۔ دیکھا جائے تو غلامی، سرف ڈم اور جاگیرداری جیسے ظالمانہ اداروں کے چنگل سے نکلنے کے بعد انسانیت نے سرمایہ دارانہ نظام کی بانہوں میں پہنچ کر کچھ سکون کا سانس لیا ہے۔ اگرچہ اس نظام میں بھی استحصال کے پہلو موجود ہیں لیکن اس سے یہ کریڈٹ نہیں چھینا جا سکتا کہ انسانوں کی ایک بڑی تعداد کو اس نے غربت اور جہالت کی گرفت سے نکالا ہے۔ اگر مصنف کے نکتہ نظر سے اتفاق کیا جائے تو منطقی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام بھی انسانی ارتقا کے ضمن میں ایک قدم ہے منزل نہیں ہے۔

مجاهد حسین (تبصره نگار)

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ اپنے عالمگیر پھیلاؤ کے سبب نیشن سٹیٹ کے ڈھانچے کو کمزور کرتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے مختلف ممالک اندرونی انتشار کا شکار ہو رہے ہیں۔ کم ترقی یافتہ معاشرے اس تیزرفتار روڈ رولر کا خصوصی نشانہ ہیں جہاں مقامی روایات اور ادارے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام ایک بدمست ہاتھی کی طرح جغرافیائی حدود کو روندتا جا رہا ہے لیکن نیشن سٹیٹ کا متبادل ابھی تک پیش نہیں کر سکا جس کی وجہ سے معاشی طور پر کمزور معاشروں میں انتشار کی کیفیت نظر آتی ہے۔ اس کتاب میں یہ پہلو تشنہ رہ گیا ہے۔ امید ہے کہ اگلے ایڈیشن میں اس حوالے سے بھی زیادہ تفصیل سے بات ہو گی۔

مجموعی طور پر یہ ایک بہت دلچسپ کتاب ہے جس میں نہ صرف معیشت کے بنیادی تصورات کو سلیس انداز میں بیان کیا گیا ہے بلکہ انسانی معاشرے کی پیچیدگیوں کو بھی سمجھنے کی مخلصانہ کوشش کی گئی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام اور لبرل ازم کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور یہ دونوں موضوعات پوری کتاب پر حاوی رہتے ہیں تاہم ان کا تقابل فاشزم اور سوشل ازم جیسے مختلف تصورات سے بھی کیا گیا ہے جس کی وجہ سے موضوعات کا تنوع قائم رہتا ہے اور قاری کی دلچسپی برقرار رہتی ہے۔

ایمل مطبوعات نے اردو میں اپنی نوعیت كی اس پهلی كتاب كو حسب روایت عالمی معیار په عمدگی سے شائع كیا هے۔

 

[animate animation=”bounce” duration=”1″ delay=”1″ iteration=”1″]


[/animate]

کتاب “غربت اور غلامی” اسلام آباد کے معروف پبلشر “ایمل مطبوعات” نے شایع کی ہے۔ دلچسپی رکھنے والے حصرات درج ذیل پہ رابطہ کرسکتے ہیں۔

پاکستان میں دستیابی کے لئے:

Ph: 051-2803096      یا      https://www.facebook.com/ghurbataorghulami/

پاکستان سے باہر کے خریدا ر

www.emel.com.pk

په رابطه یا آرڈر كرسكتے هیں۔  

Facebook Comments Box
ایمل مطبوعاتتبصرہ کتبغربتغلامی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
مجاہد حسین

مجاہد حسین خٹک کو سچائی کی تلاش بیقرار رکھتی ہے۔ تاریخ اور سماجی علوم میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اعتدال کا تعلق رویوں سے ہے، فکر کی دنیا میں اہمیت صرف تخلیقیت کی ہے۔ اسی لئے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مختلف موضوعات کا جائزہ لیتے ہوئے سوچ کے نئے زاوئیے تلاش کئے جائیں۔

previous post
چہروں کی تبدیلی کا نظام: متناسب نمایندگی
next post
جمہوریت کی تقدیس پر کچھ چون چرا: عثمان سہیل

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.