تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتنقیدعلم و ادب

ادب موضوعات سے نہیں، اسلوب سے بنتا ہے: اقبال خورشید

by دانش ڈیسک 18/06/2017
written by دانش ڈیسک 18/06/2017
132

ڈیل گارنیگی نے اپنی شہرہ آفاق کتاب

How to Win Friends & Influence People

 میں مباحثے میں فتح حاصل کرنے کے لیے جو بارہ اصول وضع کیے، ان میں پہلے اصول یہ ہے کہ بحث سے ہمیشہ گریز کیا جائے۔
گو ہمیں اس کا جملہ”مردہ کتے کو کوئی ٹھوکر نہیں مارتا“ اور” لکڑی کے برادے کو آری سے چیرنا بے کار ہے“ بھی پسند،مگر سب سے بھلا یہی لگا۔ البتہ سوشل میڈیا بڑا ظالم ہے۔ چپے چپے پر جذبات انگیختہ کرتے مباحثے دعوت گناہ کے ساتھ موجود۔اب گذشتہ دنوں نثری نظم کے ممتاز شاعر اور اجرا کے بانی مدیر، احسن سلیم کا یہ خیال کہ ”ادب موضوعات سے نہیں، اسلوب سے بنتا ہے“ شیئر کیا، تو خاصی بحث ہوئی۔ بزرگ بھی ادھر آئے، نوجوان بھی۔ اختلاف سے تو ہمیں اتفاق، مگر یہاں اس ابہام کا رد ضروری کہ ہم نے موضوع کو نظر انداز کیا ہے، یا اُس کی اہمیت گھٹائی ہے۔(یہ جھوٹا الزام ہے، اور ہم کسی جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوں گے!)
اس پوسٹ پر جہاں ایک جانب محمد حمید شاہد، اقبال حسن آزاد، یوسف حسن اورمرزا سلیم بیگ جیسے سینئرزنے اپنی رائے دی، وہیں علی اکبر ناطق، ظفر عمران، شاہد اعوان، حمیرا ثروت صدیقی، محمد جمیل اختر، مریا تسلیم کیانی اور ارشد علی نے کومنٹ کیے۔ فیض عالم بابر جیسا دوست بھی کودا۔ بڑی معصومیت سے پوچھتا ہے: ”یہ اسلوب کیسے بنتا ہے؟“ اور فرحان احمد خان جیسا عزیز، جس نے سوال کیا: ”گویا آپ کا بھی یہی مسلک ہے؟“
ہاں، یک سطری اسٹیٹس ابہام پیدا کرسکتا ہے (اور شاید اسٹیٹس کا مقصد بھی یہی ہو) مگر کچھ اہم شخصیات کے اس سمت متوجہ ہونے کے بعد لازم ہے کہ میں کسی کے اختلاف کا کرارا جواب دینے کے بجائے یا اپنی حمایت پر بغلیں بجانے کے بجائے سیدھے سبھاؤ، عام سے الفاظ میں، مختصراً اپنا موقف پیش کر دوں۔ پہلے سیف الدین سیف کا ایک شعر:
سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے
ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں
جن دوستوں نے کہا، جیسے یوسف حسن صاحب نے کہ ”کوئی ہیئت کسی موضوع کے بغیر نہیں ہوسکتی“ وہ درست ہیں۔ افسانہ یا فکشن پلاٹ کے بغیر تو بُنا جاسکتا ہے، اِس سے قطع نظر کہ وہ اچھا یا برا فکشن ٹھہرے، مگر موضوع بہ ہرحال موجود ہوگا۔ اگربنا موضوع لکھنے کی سعی کی جائے، تب بھی یہی، یعنی ”بنا موضوع لکھاجائے“ متن کا موضوع بن جائے گا، اور مقصد بھی۔ (مقصدی ادب سے جان چھڑانا دشوار ہے)
تو صاحب، موضوع تو ہر پل، ہر جگہ موجود ہے۔ یہ لازمی جزو ہے۔ سمجھ لیجیے عمارت کی اینٹ، مگر کیا ہر تخلیق بڑا ادب ہوتی ہے؟ دیکھیں ناں، ہجرت ایک بڑا موضوع ہے، اور سانحہ 9/11  بھی، مگر کیا دونوں پر تحریر کردہ ہر افسانہ، بڑے موضوع کے باعث بڑا ادب بن جائے گا؟ نہیں، یہ تو پلاٹ ہوگا، کردار نگاری، اور پھرتخلیق کار کا اسلوب یعنی اس کی تکنیک، زبان کا برتاؤ، اظہار، جو اُس تخلیق کو اچھا ادب بنائے گا۔ اب ماں کے موضوع کو لیجیے۔ یہ ایک عام سا موضوع ہے، جس پر ہرزبان میں ہزاروں کہانیاں لکھی گئیں۔ اردو میں بانو نے لکھی، اشفاق نے لکھی، شہاب نے لکھی، اووں نے بھی قلم اٹھایا۔ البتہ ہمیں گورکی کا ناول ”ماں“ اور شہاب کی تخلیق”ماں جی “یاد۔
اِس پوسٹ پر مرزاسلیم بیگ کا تبصرہ گرہ کھولتا ہے۔ لکھتے ہیں:
” انقلاب ایران کے ہنگاموں میں طلبا پر گولی چلائی گئی، اس سانحے پر بہت سے شعرا کے ساتھ ساتھ علی سردار جعفری، حبیب جالب اور فیض احمد فیض نے بھی نظمیں کہیں۔ قبولیت عامہ اور حیات جاودانی صرف فیض صاحب کی نظم ’ایرانی طلبا کے نام‘ کو ملی۔ کیوں؟ اس لیے کہ فیض صاحب کا اسلوب شاعری سے قریب ترین ہے۔ رہا سوال موضوع کا، وہ تو سب کا ایک ہی ہے۔“
جو ہم کہنا چاہتے تھے، شاید مسعود صابر نے ہم سے بہتر کہا:”دنیا میں کون سا موضوع رہ گیا ہے جو پامال نہ ہو؟ لیکن بڑا ادب پھر بھی تخلیق ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا، کیوں کہ یہ تخلیق کار کی شخصیت اور فن ہے جو پرانے موضوع میں تازگی اور کشش پیدا کر دیتی ہے۔“
برادرم عثمان انصاری، جنھوں نے اختلاف کیا، ایک بڑا عجیب سوال کیا تھا۔ پوچھا:” یکساں طور پر اسلوب کے شاہ کار دو فن پارے، ایک کا موضوع خدا اور دوسرے کا موضوع انسان یا حیواناتآپ کس کا انتخاب کریں گے؟“
اس سوال نے مجھے حیران کر دیا،اور تھوڑا پریشان بھی۔عزیز، شاہ کار تو شاہ کار، چاہے خدا کے موضوع پر ہو یا انسان کے موضوع پر۔ کیا ہم اس بنیاد پر ادب میںفرق کریں گے کہ ایک ناول ولی کے گرد گھومتا ہے، دوسرا طوائف کے گرد؟
یقینی طور پر مندرجہ ذیل شعر میں موضوع، موضوع نہیں۔
ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور
غالب کے اس شعر کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنے پر معذرت!

Facebook Comments Box
ادباسلوب
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
سندھی اخبارات کے ادارتی خیالات
next post
شب قدر: ڈاکٹر رئیس صمدانی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.