تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزدیگرعلم و ادب

محبت سراب نہیں: جویریہ سعید

by Daanish Editor 13/06/2017
written by Daanish Editor 13/06/2017
127

آپ کے ساتھ بھی یہ حادثہ ہوا ہے کیا؟ کوئی آپ کو اچھا لگتا ہے؟ بھلا کیوں؟ اس لیے کہ وہ اچھا لکھتا ہے؟ اس کی اواز بہت پیاری ہے؟ اس کا انداز گفتگو من موہ لینے والا ہے؟ اس کی حس مزاح خوب ہے؟ وہ بہت خوش شکل ہے؟ وہ ذہین ہے اور تعلیم یافتہ بھی؟ خوش لباسی اور انداز متاثر کرتے ہیں؟ اس کے ساتھ کچھ وقت گذارا، کہیں دور سے دیکھتے رہے اور دل میں انوکھے جذبے سر اٹھانے لگے۔

محبت بھی کیا عجب شے ہے! دھیمی دھیمی ، آنچ دیتی، کبھی حیران کرتی ہے اور کبھی سرشار۔۔ باہر کے موسموں کی پروا نہیں رہتی، خود اپنے اندر ٹھنڈی ہوائیں چلتی رہتی ہیں، بوندا باندی ہوتی رہتی ہے، پھول کھلتے ہیں اور ان پر تتلیاں منڈلاتی ہیں، اندھیرا ہو جائے تو جگنو چمکتے ہیں۔ وصال یار کے سوا درد کا درماں کیسے ممکن ہو؟

مگر پھر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ اگر اس کا ساتھ مل جائے تو سارے جذبے ایسے کھو جاتے ہیں جیسے تتلی کو مٹھی میں بند کر لو تو اس کے رنگ کھو جائیں، یا جیسے معطر ٹشو پیپر کو پیکٹ سے نکال دو تو اس کی خوشبو کچھ دیر میں اڑ جائے۔

ایک بار ایک ڈاکٹر کو اپنی مریضہ کو نصیحت کرتے سنا۔۔۔ “شادی کبھی نہ کرنا، یہ رشتوں کو برباد کر دیتی ہے!” میں نے سوچا کہ جس کو چاہتے ہیں، اس کا ساتھ زندگی خراب کیوں کر دیتا ہے بھلا؟

مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ نرم، گنگناتا جذبہ اکثر کسی تاثر پر بنائی گئی ایک حسین تصویرکے لئے ہوتا ہے۔ کسی کا چہرہ، کسی کا انداز گفتگو، کسی کے الفاظ، کسی کی ذہانت یا کسی کی کوئی ادا کلک کر جاتی ہے۔ وہ تھوڑا سا وقت جب آپ اس کی معیت میں رہے، اس کی شخصیت کا کوئی پہلو اپیل کرتا ہےاور ہمارا دل اس کے اس آدھے ادھورے تاثر کو لے کر بقیہ خاکہ خود تراش لیتا ہے۔ پھر ہم اپنے اس تصور سے محبت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ فاصلہ بذات خود جذبوں کی آگ کو مہمیز دیتا ہے۔ دور سے خدو خال دلکش ہوں یا نہ ہوں غیر واضح ضرور ہوتے ہیں۔ تشنگی اور اسرار. بے قراری کو سوا کردیتا ہے۔ ایسے میں ہر دوسری شے اور ہر دلیل بے معنی لگتی ہے۔ یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ زندگی کے ادھورے پن کی تکمیل اسی حسین خواب کے ساتھ ممکن ہے ورنہ جینے کا کیا فائدہ!

مگر حقیقت یہ ہے کہ الفاظ، چہرہ، ذہانت، انداز گفتگو اور دوسری خوبیاں سب ہی انسان کی شخصیت کے محض کچھ حصے ہیں۔ حقیقی انسان محض کا خوبیوں کا پیکر نہیں ہوتا۔ جب فاصلے مٹتے ہیں اور آپ قریب سے اسے دیکھتے ہیں تب علم ہوتا ہے کہ وہ بت کافر بھی ایک انسان ہی نکلا ۔۔ اور انسانوں کے جیسا ہی. وہ کھانستا بھی ہے یا رات کو خراٹے لیتا ہے، جب اسے بھوک لگتی ہے تو شعر سن کر خوش نہیں ہوتا بلکہ دستر خوان پر گرماگرم کھانا چنا دیکھنا پسند کرتا ہے۔ اسے کچھ باتوں پر غصہ بھی آتا ہے، وہ کچھ ایسے الفاظ و تراکیب کا استعمال کرتا ہے جو آپ کو اچھے نہیں لگتے. ہو سکتا ہے وہ کاہل ہو، یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی شخصیت کے جس “پروقار” انداز سے آپ متاثر ہوگئے، وہ اس کی مردم بیزاری کی ایک جھلک ہو، ہو سکتا ہے کہ اس کے پاس اچھی گاڑی ہو، لیکن وہ فضول خرچ ہواور حقیقی زندگی کی ضرورتوں کی اہمیت کا اسے احساس نہ ہو، اس کی جس خوش مزاجی نے آپ کا دل جیت لیا وہ آپ کو اس وقت کھلنے لگے جب وہ آپ کے علاوہ ہر ایک کے ساتھ بلاضرورت بھی اسی طرح پیش آئے۔۔۔۔ یہ تو عین ممکن ہے کہ جسمانی خدوخال کچھ وقت کے بعد اپنی دلکشی کھونے لگیں۔۔۔ پھر تلخیاں اور فاصلے آجاتے ہیں۔۔۔ دل صلح و سمجھوتے پر اس لئے مائل نہیں ہوتے کہ آپ سوچتے ہیں کہ یہ تو وہ ہے ہی نہیں جس کو چاہا تھا۔۔۔ بس اسی مقام پر، اور اسی بات پر مجھے لگتا ہے کہ آپ یہ کیوں نہ سوچیں کہ جس کو چاہا تھا

وہ یہ شخص نہ تھا بلکہ اپنے تصورات کا تراشا ایک ایسا بت تھا جس کی ہر جہت نرالی تھی، اور صرف اور صرف آپ کے لئے تھی؟ مگر اب جس کے ساتھ بسر کر رہے ہیں وہ تو انسان ہی ہے۔

دوسری طرف ایک تعلق وہ ہوتا ہے جس میں دھیرے دھیرے ایک دوسرے کو جاننے کا موقع ملتا ہے۔۔ بیک وقت اچھے اور برے پہلو سامنے آتے ہیں۔۔۔ چونکہ کسی خمار میں مبتلا نہیں تھے، اسی لئے “شاک” بھی نہیں لگتا۔ دل دکھتا ہے، کڑھتا بھی ہے۔۔۔۔ مگر کچھ اور باتیں اچھی لگتی ہیں۔۔۔ انسان جیسا بھی ہو، حقیقی صورت میں آپ کے سامنے آتا ہے۔۔۔۔ اس لئے اسے قنول کرنے میں ویسی دقت نہیں ہوتی۔

ایک دوسرے کے انسانی پہلووں کو سمجھتے ، برتتے ہوئے اور براشت کرتے جو تعلق پروان چڑھتا ہے ، اسے مؤدت اور رحمت کہتے ہیں۔ اس میں ہو سکتا ہے جذبات کی ویسی طغیانی نہ ہو، مگر ایک نرم گرم سا محفوظ احساس ضرور ہوتا ہے۔ پائیداری ہوتی ہے۔

ہو سکتا ہے کہ کسی کا تجربہ بہت برا ہو اور ہوتا بھی ہے۔۔۔ مگر یہاں استنثائی صورتوں کا ذکر نہیں ہے۔ عموما اس تعلق میں پائیداری ہی ہوتی ہے۔ میں دیکھتی ہوں کہ ایک معمولی شکل رکھنے والی درمیانی عمر کی ذرا فربہی مائل خاتون کے شوہر کس خیال سے انکے نیویگیٹر میں راستے کا نقشہ سیٹ کر دیتے ہیں اور محترمہ کہیں پھر بھی رستہ کھو جائیں تو پریشان ہو کر کس طرح لمحہ بہ لمحہ فون پر “ٹیکنکل سپورٹ” فراہم کی جاتی رہتی ہے۔ ایک انتہائی انٹلکچوئل اور ورکنگ خاتون کس طرح اپنے صاحب کے پھیلائے ہوئے کپڑے سمیٹتے ہوئے مسکرا کر کہتی ہیں، “اتنے برس ہو گئے، حضرت کو اپنی چیزیں سلیقے سے رکھنی نہیں آئیں ۔۔۔ چھوٹی چھوٹی چیزوں کا دھیان رکھنا بھی میری ذمہ داری ہے۔”۔ بہت اسمارٹ سے ڈاکٹر صاحب بارش کی چند چھینٹیں پڑتے ہی کلینک سے بھاگنے کی فکر میں ہوتے ہیں۔۔ سر کھجا کر کہتے ہیں” بیگم کے ساتھ تھیٹر میں فلم دیکھنے جانا ہے۔۔ بار بار فون آرہا ہے، میں نکلوںَ اب.” میں نے ان کی بیگم کو بھی دیکھ رکھا ہے، اس لئے مسکرا کر سوچتی ہوں کہ اتنے حسین موسم میں یہ ان خاتوں کے ساتھ فلم دیکھنے کو بیتاب ہو رہے ہیں؟

اس تحریر کا مقصد یہ نہیں کہ پسند کی بنیاد پر رشتہ قائم نہیں کرنا چاہئے یا ارینج تعلق ہی مسلط کرنا چاہئے ، بلکہ مقصد یہ ہے کہ تعلق کوئی بھی ہو، انسان کو اس کے پورے پیکج کے ساتھ سمجھنے اور قبول کرنے کی کوشش ہو۔ تب ہی تعلق اپنی خوبصورتی نہیں کھوتا۔ انسانوں کو ایک دوسرے پر دھیرے دھیرے کھلنے کی سپیس موجود ہونی چاہئے۔۔ دھیرے دھیرے سمجھنا بھی چاہیے۔۔ یہ وقت اور حوصلہ دونوں ہی مانگتا ہے۔ محبت بھرا تعلق وہ نہیں ہوتا جس میں صرف “فن” ہو، گھومنا پھرنا، خوبصورت الفاظ، رومانوی لمحات یا انٹلکچوئل مکالمے ہی ہوتے رہیں۔ یہ سب ہمیشہ نہیں رہ سکتا۔ سچا تعلق وہ ہے جس میں آپ بوریت میں بھی اسی کے ساتھ رہ سکیں، بغیر لپ اسٹک اور میک اپ کے ساتھ بھی بچوں کے پیچھے ہلکان ہونے والی عورت اور کبھی کاموں کے ہجوم میں تلخ کلامی کرنے کے باوجود آپ کو یاد رہے کہ وہ کتنی اپنی اپنی اور محبت کرنے والی ہے۔ اس کا غصہ اور نا پسند اس لئے برداشت کر لیں کہ کبھی وہ خوش بھی ہوتی ہے، اور آپ کا خیال بھی رکھتی ہے ۔ اس کی سیدھی سادی گفتگو اس لئے پیاری لگنے لگے کہ اسی سادگی کے ساتھ وہ آپ کا خیال بھی رکھتی ہے اور اسی کی بنا پر وہ آپ کے علاوہ کسی اور کا سوچتی نہیں۔

اس مؤدت و رحمت اور کبھی کبھی ریاضت کے نتیجے میں جو محبت پروان چڑھتی ہے، اس کی چھاؤں ٹھنڈی اور پرسکون ہوتی ہے۔

مسٹر یا مس پرفیکٹ دراصل خواہشات کے تراشے صنم ہیں جن کا حقیقی دنیا میں وجود ممکن نہیں رہتا اس لیے محبت تو کرنی چاہئے ۔ مگرصنم سے نہیں بلکہ انسان سے کہ جینا تو انسانوں میں ہی ہے .

Facebook Comments Box
ازدواجی زندگیجنسی کششِسرابشادیمحبتمودت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Daanish Editor

previous post
خلیج تنازع اور مسلم دنیا کے چیلنجز: وقاص خان
next post
نیا سفرہے پرانے چراغ گل کردو: احمد اقبال

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.