یہ حقیقت سہی کہ وقت لوٹ کر نہیں آتا مگر میری زندگی کا تجربہ مختلف ہے؛ میں نے کبھی اسے ایک سیدھ میں چلتے نہیں پایا۔ جسے آپ ماضی، حال اور مستقبل کی لکیر پر چلنا کہتے ہیں میری حیات کی اوبڑ کھابڑ میں آکر وہ ہڑبڑا کر ایک دائرے میں گھومنے لگتا ہے۔ بظاہر، میں حال کی زمین پر موجود ہ رہ کر مستقبل میں دیکھ رہا ہوتا ہوں مگرمیرے وجود کے اندر ہی اندر کچھ ایسا ہونے لگتا ہے کہ جاچکا وقت جھپاکوں کی صورت لوٹ آتا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے اظہار الحق کی شاعری میں تب ہوتا ہے جب وہ منہ زور زمانوں کی باگیں کھینچ لیتے ہیں اور ہم وہ سارے مناظر دیکھنے لگتے ہیں جو گزرے وقتوں کے تھے ؛ وہی تیغ کی دھار اور موتی کی آب میں الحمرا، وہی دریدہ شال اوڑھے خاک بسر قرطبہ، آتشیں لب و چشم والے پہاڑ اورسسلی کے وہی محل جن میں کبھی ہمارے سفید فرس ہنہناتے تھے۔وہی ہم کہ جن کی کمانیں شکستہ اور فولاد رائگاں ہیں اور وہی بصرہ و بغداد جو آگ اور خون سے آباد ہیں۔ گزر چکا وقت اظہار کی شاعری سے قضا نہیں ہوتا اور وہ اس کایوں ذکر کرتے ہیں جیسے وہ یہیں کہیں ہے:
یہیں کہیں مری آنکھوں میں ریت پڑ گئی تھی
یہیں کہیں مرا ناقہ سوار گم ہوا تھا
ہاں تو میرا کہنا یہ ہے کہ گزر چکا وقت کہیں گم نہیں ہوتا یہیں کہیں ہوتا ہے بس فرق اتنا ہے کہ یہ صرف انہیں روشنی عطا کرتا ہے جنہیں اپنے ظرف کی مٹھی میں سہار رکھنے کی توفیق عطا ہوتی ہے۔
ماضی میں یوں دور تک چلے جانا اور اسے کچھ ایسے دکھا دینا جیسے سب کچھ ہمارے اغل بغل میں ہو رہا ہے اظہار الحق کو توفیق ہوا ہے ؛ یہ ہما شما کے بس کی بات کہاں؟ اس کے لیے اپنی تاریخ کا علم چاہیے، اپنی تہذیب سے جڑے رہنے کی تاہنگ چاہیے اور اس اسم کا طلسم چاہیے جو اظہار الحق کو اپنے اجداد سے ورثے میں ملا ہے۔
یہ تمہید میں نے یوں باندھی ہے کہ مجھے اپنی زندگی کے اس پارچے پر لکھی تحریر کو پڑھنا ہے جسے وقت لپیٹ کرماضی بنا چکا ہے۔ بہت دور نہیں جاتا کہ اس کی تاب مجھ میں کہاں، میں آپ کو نصف صدی قبل لے چلتا ہوں۔ گزرے وقت کے جھپاکے کی روشن تصویر جو میرے دِل پر نقش ہے۔
جن دنوں اظہار الحق میری ہی نادانیوں کے سبب مجھ سے ناراض تھے۔ انہی دنوں ایک روز فون پر ہی طیش میں آکر مجھ پرلگ بھگ برس پڑے تھے اور خدا حافظ کہے بغیر لائن کاٹ دی تھیں تو جیسے میرا کلیجہ کٹ گیا تھا میں بار بار وہی منظر دیکھ رہا تھا جس کی بابت کہہ چکا ہوں کہ میرے دل پر نقش ہے۔
اس منظر میں اظہارالحق کے والد صاحب، حافظ ظہور الحق ظہور ہمارے ہاں بیٹھک میں تشریف فرما ہیں۔ پنڈی گھیب کے محلہ ملکاں میں جامع مسجد شیعان کی مشرقی دیوار سے متصل ہمارے گھر کی بیٹھک میں۔ اُن دنوں ہمارے گھروں میں سجی سجائی مگر الگ تھلگ بیٹھی دلہن جیسے ڈرائینگ روم نہیں ہوتے تھے، سادمرادی بیٹھکیں ہوا کرتی تھیں اور لطف یہ کہ یہ بیٹھکیں ملنے جلنے والوں سے آباد رہا کرتی تھیں۔ ہماری بیٹھک کا داخلی دروازہ اور دو کھڑکیاں برآمدے میں کھلتی تھیں جس کی گلی والی دیوار جالی دار تھی۔ کھڑکیاں کھلی ہوتیں تو روشنی جالیوں سے چھن چھن کر اندر بہتی رہتی اور جست لگا کر انہی کھڑکیوں سے بیٹھک میں جا اترتی تھی۔ ایک دروازہ گھر کے اندر برآمدے میں کھلتا تھا۔ جس دن کی میں بات کر رہا ہوں اس روز میں اسی اندر کے دروازے سے بیٹھک میں داخل ہوا تھا اور اس مہمان کو دیکھا تھا جس کے چہرے پر کھڑکی سے آنے والی روشنی پڑ رہی تھی ؛ یہ الگ بات کہ تب مجھے لگا تھا جیسے یہ روشنی انہی کے چہرے سے پھوٹ رہی تھی۔ جاچکے زمانے میں ہم اپنے بزرگوں کو ایسی ہی نظر سے دیکھا کرتے تھے۔ بیٹھک میں صوفے نہ تھے کہ ان کا رواج ابھی نہ آیا تھا، رنگلے پائیوں والے پلنگ تھے جو آمنے سامنے کی دیواروں کے ساتھ لگا کر بچھا لیے گئے تھے اور جن پر وہ سفید چادریں بچھی ہوئی تھیں جن پر میری ماں نے اپنے ہاتھوں سے پھول کاڑھے اور کرشئیے سے کناروں پر جھالر سی بنا دی تھی۔ میرے ابا جی کی پشت کھڑکی کی طرف تھی اور سامنے کے پلنگ پر بیٹھےاظہارالحق کے والد صاحب کا چہرہ کھڑکی سے اترنے والی روشنی کی طرف۔ ابا جی انہیں قاضی صاحب کہتے تھے۔ مجھے یاد ہے جب قاضی صاحب رخصت ہونے لگے تو انہوں نے ہاتھ ملانے کو بڑھا ہوا میرا ہاتھ تھام کر مجھے اپنے ساتھ چپکا لیا تھا اور محبت سے میرے کاندھے پر تھپکی دی تھی۔ جب اظہارالحق نے فون خدا حافظ کہے بغیر بند کر دیا تھا تو مجھے وہ منظر یاد آیا تھا، ابا جی بھی اور روشن چہرے والےقاضی صاحب اور ان کی وہ تھپکی بھی۔ میں نے فون اٹھایا اور اس سے پہلے کہ اظہار کچھ کہتے میں نے کہہ دیا تھا: “میری مجبوری یہ ہے کہ میں آپ سے ناراض بھی نہیں ہو سکتا۔”
ادھیڑ عمر ہی میں چل بسنے والے میرے ابا جی کا نام غلام محمد ہے اور انہوں نے ہی بتایا تھا کہ قاضی صاحب کے اباجی کا نام بھی غلام محمد تھا۔ فتح جنگ کی تحصیل کا ایک چھوٹا سا گاؤں جھنڈیال، جس میں انہوں نے بڑا سا مدرسہ بنا رکھا تھا۔ وہاں دور دور سے آکر طالب علم پڑھتے تھے۔ وہ معروف عالم دین ایسے تھے کہ انہیں اپنے وقت کا سعدی ثانی کہا گیا۔ میں اظہار الحق کی شاعری کے پانچویں مجموعے “اے آسماں نیچے اتر” کو دیکھ رہا تھا تو ایک غزل پڑھتے ہوئے دھیان میں اس بچے کا تصور آگیا جس نے اسی مدرسے کے کتب خانے سے اس وقت استفادہ کیا تھا جب اس کے ہم عمر گلیوں میں کھیلا کرتے تھے:
بہت مدہم تھا میں خسرو نے جب مجھ پر نظر کی
مرے ننھے فلک پر مطلع ِانوار اُٹھایا
یہ مزدوری تو بچپن ہی میں عادت ہو گئی تھی
نظامی کا کمر پر مخزنِ اَسرار اُٹھایا
اُدھر ہم سن مرے گلیوں میں نکلے کھیلنے کو
اِدھر جامی کا میں نے تحفۃ الاحرار اُٹھایا
اظہار الحق نے بتا رکھا ہے کہ پڑھنے کی للک اور عربی فارسی کی تعلیم اپنے داداسے پائی اور والد صاحب سے بھی۔ بعد میں وہ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے عربی ہوئے۔ ان کی بنیاد ایسی مضبوط اور موزوں تھی کہ اس پر اٹھی عمارت اپنی دلکشی، افادیت اور دیرپائی میں اضافہ کرتی گئی۔
اظہار الحق کے والد صاحب سے وہ پہلی یا آخری ملاقات نہ تھی جس کا میں نے ذکر کیا مگر کبھی کبھی کوئی تصویر ایسے رُخ سے بن جاتی ہے کہ شاہکار ہو جاتی ہے؛ ورنہ واقعہ یہ ہے کہ وہ گاہے گاہے پنڈی گھیب آجایا کرتے تھے۔ عیدین پر تو وہ ضرور آتے کہ عیدگاہ میں عید کی نماز سے پہلے انہی کی تقریر ہوا کرتی تھی۔ بھلا زمانہ تھا؛ شہر کے لوگوں نے یہ اہتمام کر رکھا تھا کہ عیدگاہ میں عید کی نماز حافظ گل محمد، جنہیں ہم وڈے استاد جی کہتے تھے پڑھاتے تھے مگر نماز سے پہلے تقریر قاضی صاحب کی ہوتی؛ کوئی دیوبندی بریلوی کا جھگڑا نہ تھا، شہر کا شہر وہاں مل کر عیدیں پڑھا کرتا تھا۔
اظہارالحق نے ہمارے شہر پنڈی گھیب کے ہائی سکول سے میٹرک کیا ؛ جی، اسی ہائی سکول سے جس سے بعد میں میں نے میٹرک کیا تھا۔ 2018ء میں اکادمی ادبیات نے میرے ساتھ “اوور اے کپ آف ٹی” کے عنوان سے ایک شام ملاقات کا پروگرام کیا تھا۔ یہ میرا اعزاز ہے کہ اس میں اظہارالحق نے بھی گفتگو کی تھی۔ انہوں نے وہیں یہ بتایا تھا کہ میرے چچا گل محمد اُن کے ہم جماعت رہے تھے۔ میڑک کے بعد اظہار الحق راولپنڈی آگئے۔ یہاں سے گریجوئیشن کے بعد ڈھاکہ یونیورسٹی سے ایم اے اقتصایات کرنے چلے گئے۔ وہاں سے فارغ ہوئے تو اٹلی اور پھر عملی زندگی کا ہر دروازہ ان پر یوں کھلتا چلا گیا کہ ہر چوکھٹ پار کرتے ہی کامیابی ان کے قدم چومتی تھی۔ کل نہ جانے وہ کس کیفیت میں تھے کہ مجھے واٹس ایپ پر لکھ بھیجا:
“برادر عزیز! تحدیث نعمت کے طور پر شئیر کر رہا ہوں۔ اور ایسی بات صرف آپ جیسے دوست سے شئیر کی جا سکتی ہے جسے میرا پس منظر معلوم ہے۔ گریڈ اکیس میں ایم اے جی رہا۔ پھر اللہ نے گریڈ بائیس سے نوازا۔ یہ خبر والد صاحب کو ان کے پاؤں پکڑ کر بتائی۔ ایڈیشنل آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے طور پر ریٹائر ہوا جو وفاقی سیکرٹری کے رینک کی پوسٹ ہے۔ کہاں گاؤں کا ایک شخص جس کی پشت پر کوئی ایم این اے تھا نہ جرنیل۔ اور کہاں یہ اللہ کی مہربانی۔ سب والدین کی دعا کا نتیجہ تھا۔”
جو بات اظہارالحق نے مجھے ایک راز کی صورت بتائی اور میں نے یہاں فاش کر دی تو اس لیے ہم میں سے بیشتر اپنی کامیابیوں کو ان دعاؤں سے الگ کرکے دیکھنے کے عادی ہو چلے ہیں جو ہمارے بزرگوں نے راتوں کو جاگ جاگ کر اور مصلے پر بیٹھ کر گڑگڑاتے ہوئے مانگی ہوتی ہیں۔ خیر، یہ اظہار کےوالدین کی دعاؤں، خود اان کی سعادت مندی اور خدا وندکریم کی عنایات اور عطا کی گئی توفیقات کا نتیجہ تھا کہ کامیابیاں ان کا مقدر ہوتی رہی ہیں۔ تاہم ان کی اصل اور بڑی کامیابی ایک شاعر کے طور پر الگ شناخت قائم کر نا ہے اور اس کا آغاز ان کے 1982ء میں شائع ہونے والے اور آدم جی ایوارڈ پانے والے پہلے مجموعے”دیوار آب” سے ہو گیا تھا۔ “غدر”، “پری زاد”، “پانی پہ بچھا تخت” اور”اے آسماں نیچے اتر” ایسے مجموعے ہیں جو ان کی قامت بلند کرتے گئے۔ “تلخ نوائی”، “میری وفات” اور “عاشق مست جلالی” جیسی نثری کتب الگ، جن کی لکھتیں کالم کالم ان کے قلم سے نکلیں۔
مجھے ستر کی دہائی والا ادبی منظرنامہ نہیں بھولتا۔ ایک سے بڑھ کر ایک نام کما رہا تھا۔ تب کراچی کی طرف دیکھتے تھے تو سلیم احمد اور سحر انصاری اگر بڑوں میں تھے تو ثروت حسین، جمال احسانی، افضال سید، انور شعور، صابر ظفر، سلیم کوثر، انور شعور نئے ہو کر بھی توجہ کھینچ رہے تھے۔لاہور کے بڑوں میں ظفر اقبال، منیر نیازی، احمد ندیم قاسمی جیسے کوہ قامت موجود تھے اور اظہار الحق کے معاصرین میں شہزاد احمد، نذیر قیصر، محمد خالد، علی اکبر عباس، غلام حسین ساجد، امجد اسلام امجد اپنا اپنا رنگ جمارہے تھے۔ سرگودھا میں اگر ان دنوں خورشید رضوی تھے تو فیصل آباد میں ریاض مجید، انور محمود خالد، احسن زیدی اور اُدھرپشاور میں غلام محمد قاصر اور محسن احسان۔ یہاں اس شہر سے ضیا جالندھری، توصیف تبسم، احمد فراز اور افتخار عارف کے بعد جلیل عالی، حلیم قریشی جیسے اہم غزل گو تھے۔ خواتین میں زہرا نگاہ کے بعد کشور ناہید، فہمیدہ ریاض، شاہدہ حسن، شبنم شکیل اور پروین شاکر کا چرچا ہونے لگا تھا۔ ان سب کے درمیان رہ کر اظہارالحق کو الگ ہونا تھا اور وہ اپنی شاعری کی بافت میں گئے زمانوں، پامال زمینوں اور ہر نئے دن کے ساتھ منہدم ہوچکی تہذیبی ساخت کے سنہری تار گوندھ کر الگ ہوئے اور نمایاں ہو گئے۔آنے والے زمانوں میں شاید یہ یاد رکھنا اہم نہ رہے گا کہ کوئی اظہار الحق ایسا بھی تھا جوایک پس ماندہ دیہات سے اٹھا تھا اور بہت بڑا افسر ہوا مگر اردو ادب کی تاریخ اُس شاعر اظہارالحق کو نہ بھول پائے گی جس نے بہ قول ظفر اقبال اردو غزل کے موسم کو یکسر تبدیل کر دیا تھا۔
مجھے آخر میں کہنے دیجئے کہ یہ سب اس روشنی کا کرشمہ ہے جو جھنڈیال کے ایک مدرسے سے چلی تھی، جسے میں نے قاضی صاحب کے چہرے پر پڑتے یا پھوٹتے دیکھا تھا اور جو اظہارالحق کے کلام میں یوں در آئی ہے کہ ورق ورق روشن ہو گیا ہے۔ مجھے یقین ہے یہیں سے یہ ورثہ اگلی نسلوں کو منتقل ہوگا اور ہوتا رہے گا۔
فنا ہونے کی صورت ہی نہیں اب کوئی اظہار
زمانوں کے خدا نے اس طرح پیدا کیا ہے
یہ بھی پڑھئے
عمران خان: وہ فرشتہ ہے نہ ساحر اظہار الحق
(اسلام آباد کلب کی لٹریچر اینڈ لائبریری کمیٹی کے زیر اہتمام محمد اظہارالحق کے لیے منعقدہ تقریب میں پڑھی گئی سطور)
