تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

عمران خان: ‎وہ فرشتہ ہے نہ ساحر —— اظہار الحق

by دانش ڈیسک 23/04/2019
written by دانش ڈیسک 23/04/2019
113

‎یہ آج نہیں ہو رہا۔ صدیوں سے ایسا ہوتا چلا آ رہا ہے۔

‎جس زمانے میں عرب پرتگال کی سرحد سے لے کر ماورا النہر تک چھائے ہوئے تھے جیسے پرزور گھٹا افق تا افق چھا جاتی ہے، اس زمانے سے محاورہ چلا آ رہا ہے من صنّف فقداستھدف۔ جو بھی نیا راستہ نکالے گا، طنزو تشنیع کے تیروں سے چھلنی کر دیا جائے گا۔

‎یہی بات اہل ایران نے کہی ؎
‎ازان کہ پیرویٗ خلق گمرہی آرد
‎ نمی رویم براہی کہ کاروان رفتست
‎اس راستے پر نہیں چلیں گے جس پر ہجوم چل رہا ہے اس لئے کہ اندھا دھند پیروی گمراہی کا پیش خیمہ ہے!

‎آج عمران خان میدان میں کھڑا ہے۔ اس پر تیروں کی بارش ہو رہی ہے۔ ہرچہار طرف سے! زہر میں بجھے ہوئے تیر! غیروں کی طرف سے اور اپنوں کی طرف سے! کوئی کہہ رہا ہے غیر منتخب مشیر اکٹھے کر لیے گئے ہیں۔ گویا اسحاق ڈار، سرتاج عزیز رضا ربانی اور کئی اور، ون مین ون ووٹ سے آئے تھے! کوئی الزام لگا رہا ہے کہ فلاں پیپلز پارٹی کے دور میں بھی وزیر تھا۔ جیسے وہ پاکستانی نہیں؟ ایک طرف سے یہ شہنائی بجائی جا رہی ہے کہ پنجاب میں شہباز شریف کی بیورو کریت ٹیم واپس لے آئے ہیں۔ اس قبیل کے اعتراضات کا جواب ایک مزاحیہ شاعر نے خوب دیا تھا۔ جس زمانے میں یہ غلغلہ برپا ہوا تھا کہ ہم سن آف سائل
(Son-of Soil)
‎ہیں تو اس شاعر نے تنگ آکر، تنک کر پوچھا تھا سب
Sons-of soil
‎ ہیں کوئی
Son of his Father
‎بھی ہے یا نہیں؟ کوئی شباز شریف کا ہے کوئی پیپلز پارٹی کا -خدا کے بندو! کوئی پاکستان کا بھی ہے یا نہیں! کیا زرداری یا شہباز شریف کے ساتھ کام کرکے انسان ہمیشہ کیلئے نااہل ہو جاتا ہے؟ اگر واپس کوئی لایا بھی گیا ہے تو شہباز توقیرشاہوں، فوادوں اور احد چیموں کو تو نہیں لایا گیا۔ سرکاری ملازم ریاست کا ملازم ہوتا ہے اگروہ احد چیمہ، توقیر شاہ یا فواد حسن فواد نہ بن جائے تو اس نے ہر حکومت کے دوران ریاست کی خدمت کرنی ہے! وہ کسی کا ذاتی خدمت گار نہیں!

‎اس ملک کے ساتھ ایک المیہ یہ ہوا کہ آل شریف کے طویل اقتدار نے لکھاریوں کی ایک ایسی ’’کہکشاں‘‘ پیدا کی جو اب تک ہمارے سروں پر چاندی جیسی روشنی بکھیر رہی ہے اور نہ جانے کب تک بکھیرتی رہے گی! ان لکھاریوں کی تین نمایاں خصوصیات ہیں۔

‎اوّل ان کے نزدیک کرپشن کوئی برائی نہیں! ان کی تحریروں کو محدب عدسہ لگا کر دیکھ لیجیے، کرپشن کا ذکر ہی نہیں! یہ برائی ان کے نزدیک برائی نہیں! یہ زرداروں اور شریفوں کا حق تھا جو انہوں نے استعمال کیا۔ حمزہ شہباز نے 2001 ء میں دو کروڑ بیس لاکھ روپے کے اثاثے ظاہر کیے۔ یہ اثاثے 2017 ء میں اکتالیس کروڑ سے بڑھ گئے۔ وراثت میں ایک فیکٹری ملی۔ پھر ایک سے گیارہ ہو گئیں۔ اکاؤنٹ میں 2005 ء سے 2008ء تک اٹھارہ کروڑ روپے دساور سے منتقل ہوئے، اپنی فیکٹری کو فائدہ پہنچانے کیلئے نالہ تعمیر کرایا۔ قومی خزانے سے اس پر بیس کروڑ سے زاید رقم ادا کی گئی۔ لیکن یہ سب کچھ ہمارے ان لکھاریوں کیلئے نارمل ہے! اس کا ذکر ہے نہ افسوس! عمران خان کی آنکھ کا بال تو دکھائی دیتا ہے دوسروں کی آنکھوں میں شہتیر بھی نظر نہیں آتے۔

‎جمہوریت کے یہ مجاہد اس وقت نہ جانے کیا پی کر سو رہے تھے جب دختر نیک اختر عملاً بادشاہی کر رہی تھیں۔ جب وہ سرخ قالین پر چلتی تھیں اور منتخب سپیکر، اس غلامانہ انداز سے ساتھ چلتا تھا کہ قالین پر پاؤں نہ پڑے کہ کہیں شہزادی کے جاہ و جلال پر آنچ نہ آ جائے! ان خاندانوں کے شاہانہ اخراجات جو بیت المال سے پورے کیے جاتے تھے ان بزرجمہروں کو کبھی نہیں چبھے۔

‎دوم۔ یہ لکھاری ہر حال میں کرپٹ ٹولے کی واپسی کے خواہاں ہیں، اس لئے کہ ان کے بقول انہوں نے ڈیلیور کیا ہے۔ یہ وہی غلامانہ ذہنیت ہے کہ بادشاہ آخر مخالفین کو قتل کراتے ہی ہیں۔ یہ وہی پست انداز فکر ہے کہ کھاتے ہیں تو لگاتے بھی ہیں! ہر چوتھے دن پھوہڑی ڈال کر یہ دانشور بیچ چوک کے بیٹھ جاتے ہیں کہ احد چیمہ کو واپس لاؤ۔ فواد کے بغیر دنیا تاریک ہے۔ شہباز شریف کا ہمسر کوئی ہے نہ ہو گا! کوئی ان سے پوچھے کہ فائدے تو قدرت نے بچھو اور سانپ میں بھی رکھے ہیں پھر انہیں بھی پالتو جانوروں کی طرح گھروں میں پالنا شروع کر دو۔ پھر انگریزوں کو بلا کر برطانوی راج کو بھی ازسرنو زندہ کرو کہ فائدے تو برٹش استعمار کے بھی بہت تھے۔ آخر انہوں نے ریلوے تعمیر کی لوکل گورنمنٹ سسٹم دیا۔ آڈٹ اور اکاؤنٹس کا ایک نظام دیا۔ امن و امان کے دور میں مجموعی طور پر مثالی تھا۔ حالانکہ یہ سارے فوائد ضمنی تھے۔ یعنی
By Default.
‎، ہندوستانیوں کے مفاد کیلئے انہوں نے اپنے ارادے سے
By Design
‎کچھ نہیں کیا۔ یہاں بھی کرپٹ ٹولے سے اگر کوئی تعمیری کام ہوا تو وہ ضمنی تھا، اصل مقصود اور مطلوب وہ کمائی تھی جو کی گئی۔ یہ
‎حضرات کبھی بھولے سے بھی اس طرف نہیں آتے کہ یہ سب کھرب پتی کیسے ہو گئے۔ کیا فواد اور احد چیمہ کے ساتھ کے سرکاری ملازم
(Batch Mate)
‎بھی اتنی ہی جائدادوں گاڑیوں، پلازوں اور بنک بیلنس کے مالک ہیں؟ آخر مریم گیلانی بھی احد چیمہ ہی کی بیچ میٹ ہے۔ دھان پان سی لڑکی وقت کے وزیر ریلوے کے سامنے ڈٹ گئی کہ ملازمتیں میرٹ پر دینی ہیں۔
‎ کوئی سفارش نہیں مانوں گی۔ معطل کر دی گئی برطرفی کا آرا چلا۔ ڈٹی رہی۔ اعلیٰ عدالتوں میں اپنا مقدمہ خود لڑی۔ باعزت بحال ہوئی۔ تاریخ رقم کردی۔ وزیر صاحب وضعدار تھے۔ اس سب کچھ کے بعد اس کے گھر تشریف لائے۔ کتنے اثاثے ہیں مریم گیلانی کے؟

‎رانا شکیل اصغر جو آج پاکستان ریلوے کے حسابات کا مدارالمہام ہے اور مشیر مالیات، اسی احد چیمہ کا بیچ میٹ ہے۔ اس کے اثاثے کتنے ہیں؟ کیا اتنے ہی جتنے چیمہ صاحب کے اور فواد صاحب کے ہیں؟ چنیوٹ میں آبائی جائداد فروخت کرکے شکیل نے گاڑی خریدی! یہ سب اور اس جیسے بے لوث بیوروکریٹ ،لکھاریوں کی اس ’’کہکشاں‘‘ کو کبھی نظر نہیں آتے، ان کی سوئی ایک ہی جگہ اٹکی ہوئی ہے۔

‎سومْ یہ عمران خان کی ہر پالیسی، ہر اقدام۔ ہر ایکشن پر معترض ہیں۔ گویا کہ آٹا گوندھتے وقت ہل کیوں رہی ہو؟

‎ایک ایسا شخص جس کا اپنا کوئی مفاد وابستہ نہیں، وہ اس قوم کو راس نہیں آ رہا! وہ جو پوری دنیا میں اپنے اثاثے تعمیر کر رہے تھے، وہ یاد آ رہے ہیں۔ اسحاق ڈار اینڈ کمپنی نے معیشت کو وینٹی لیٹر پر رکھا ہوا تھا۔ مصنوعی تنفس پر تندرستی کا گمان ہو رہا تھا۔ نئی حکومت نے آ کر وینٹی لیٹر ہٹایا۔ قرضوں کی صورحال معلوم ہوئی۔ عیاش نوابوں کے زمانے میں نواب مرتا تھا تو جانشین کو ساہوکار آ کر بتاتے تھے کہ اتنا قرضہ ہے تو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتی تھیں۔ کتنی رقم واگذار کرا کر خزانے میں جمع کی گئی، اس کی کوئی نہیں بات کر رہا۔ قسطیں کس طرح ادا کی جا رہی ہیں، کسی کو پروا نہیں! آج اگر لوٹ مار کرنے والے پلٹ آئیں، لکھاریوں کی مراعات بحال ہو جائیں، ہیلی کاپٹروں پر حکمرانوں کی معیت نصیب ہو جائے۔ غیرملکی دوروں پر مصاحبت مل جائے تو سب اچھا ہو جائے گا۔
‎پہلے زمانے میں کچھ لوگ دسترخوان حضرت امیر معاویہؓ کا پسند کرتے تھے اور نماز امیر المومنین علی المرتضیٰؓ کے پیچھے پڑھتے تھے مگر خدا کی پناہ! آج کے زمانے میں جہاں دستر خوان ہے، نمازیں بھی وہیں پڑھی جا رہی ہیں۔

‎کابینہ میں تبدیلیاں کی گئیں! کسی احساس کمتری کے بغیر ۔ کسی خوف لومتہ لائم کے بغیر۔ کیا اس سے پہلے بھی کسی حکمران نے یہ جرأت کی کہ ذاتی تعلقات کو خاطر میں لائے بغیر قلم دان واپس لے لئے؟؟

‎عمران خان فرشتہ ہے نہ ساحر! مگر چار دہائیوں کا مقابلہ چند مہینوں کے ساتھ؟

‎اے مری قوم ترے حسن کمالات کی خیر
‎تونے جو کچھ بھی دکھایا وہی نقشہ دیکھا

Facebook Comments Box
اظہار الحقپی ٹی آئی حکومتعمران خانوزیراعظم عمران خان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ایک ناکام لبرل کی داستان —– ملک آفتاب اعوان
next post
ہیرا منڈی کے کباب اور روبینہ سے گپ شپ —– سمیع احمد کلیا

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.