بھیڑوں کے ایک ریوڑنے ہمارا راستہ روک لیا۔ ہم کچھ دیر ان کے ننھے ننھے پائوں کی چاپوں کو محسوس کرنے کے لیے رُک گئے۔ میں ان کی نرم اون میں چھپے وجود کو محسوس کرنے لگا۔ کچھ ہی دیر کے بعد ہمیں راستہ ملا تو ہم پھر سبز پہاڑوں کی اوٹ میں چھپے تنگ راستوں کے مسافر تھے۔ ہم شہر ’باغ‘ سے راولا کوٹ کی طرف رواں دواں تھے۔ آپ اندازہ کر لیں؛ پہاڑوں میں گھرے اس شہر کا نام ہی باغ ہے تو وہ خود باغ ہوگا کہ نہیں۔ ’ باغ‘ واقعی باغِ عدن ہے۔ اس شہر سے نکلتے راستے بھی باغبان ہیں۔ باغ سے راولا کوٹ کا درمیانی راستہ سنگلاخ پہاڑوں میں نرم سبزے کی گود ہے۔ دونوں شہروں کا فاصلہ کوئی تیس پینتیس کلو میٹر ہوگا۔ جگہ جگہ پہاڑی جھرنے معانقہ کرنے کو ملتے ہیں۔ ایک چشمے پر کچھ دیر ٹھہرنے کی خواہش جاگی توظفر صاحب نے مجھے ٹھنڈے پانی کا ایک گلاس بھر کے دیا۔ میں پانی پینے سے زیادہ اس خاموش منظر میں بہتی خاموشی کو سن رہا تھاجسے چشمے کا پانی اپنے ساتھ بہائے جا رہا تھا۔ ٹھنڈے پانی کی طروات سے میں اپنے حبس زدہ چہرے کو دھونے کی کامیاب کوشش کر چکا تھا۔ کچھ دیر چشمے پر رُکنے کے بعد ظفر صاحب نے مجھے آگے چلنے کا اشارہ کیا۔
ہماری منزل راولاکوٹ تھی۔ ظفر صاحب نے مجھے بائیں طرف اشارہ کرتے ہوئے پہاڑوں کی بلندی دکھاتے ہوئے کہا کہ’’ وہ درختوں کے ایک جھنڈ کے پاس ہی ہمارا گائوں ہے۔ میں اس پہاڑ سے چلتے ہوئے اُس پہاڑ کے دامن میں واقع ایک سکول میں پڑھنے آتا تھا۔ میں پرائمری کا بچہ اکیلا یہ سارا پہاڑ پارکرتا اور سکول کی عمارت تک جا پہنچتا۔ ان پہاڑوں کی سنگلاخی میں ایک کشش محسوس ہوتی تھی جو ہمارے لیے سردیوں کی دھند بن جاتی جسے ہم چیرتے ہوئے اپنے گھروں سے نکلتے۔ ہم سکول کے دوست اکٹھے واپسی کا سفر کرتے اور اٹھکیلیاں کرتے گھروں کو واپس جاتے۔ مجھے ان اونچے پہاڑوں کے بھاری بھاری وجود ماورائی حقیقت کا کوئی حصہ لگتے۔ ‘‘ظفر صاحب مجھ سے باتیں کرتے ہوئے ان پہاڑوں کے سبزے کو دیکھ تھے۔ مجھے ایسا لگا جیسے وہ گاڑی سے نکل کر اسی بچپن کے راستے پر چل نکلے ہیں اور ان کے معصوم دوست ان کے ساتھ باتیں کرتے جا رہے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں ماضی کی باز آفرینی سکرین پر چلتے منظر کی طرح اتر آئی تھی۔ وہ کچھ دیر کے لیے اپنے وجود سے مکمل نا آشنا ہو چکے تھے۔ میں نے ان کی یادوں کی ندی میں کنکر پھینکا اور انھیں واپس آنے کے لیے سوال کیا۔ ’’راولا کوٹ تو اب بہت نزدیک ہوگا؟‘‘۔ انھوں نے جھٹ جواب دیا ’’جی۔ ۔ اب ہم کچھ ہی کلو میٹرز کے بعد راولاکوٹ میں داخل ہو جائیں گے۔ فیاض نقی نے ہماری لیے کھانے کا بندوبست کیا ہوا ہے۔ ہم پہلے ادھر ہی جائیں گے۔ ‘‘
میں نے اس شہر کا ذکر جنت نظیر وادیوں کے تذکروں میں سن رکھاتھا۔ راولا کوٹ، آزادکشمیر کے اہم مرکز ضلع پونچھ کا صدر مقام ہے۔ وادی اور شمالی پنجاب سے تقریباً ایک سا فاصلہ ہے۔ ایک طشتری کی طرح پہاڑوں کے دامن میں پھیلے اس شہر کی خوبصورتی ہی یہ ہے کہ اس میں دیہات اور شہر کے دو متضاد ذائقے اکٹھے مل جاتے ہیں۔ اس شہر کی سطح سمندر سے بلندی کوئی ۵۳۰۰ فٹ ہے۔ ہم نے شام تک اس شہر میں قیا م کیا اور دوبارہ اسلام آباد کے سفر کی راہ لی۔
ظفر حسین ظفر ان پہاڑی قبیلوں میں پرورش پانے والے وہ قیمتی بزرگ ہیں، جو اپنے اخلاق اور اخلاص کی وجہ سے مجلسوں کی جان بن جاتے ہیں۔ میری ان سے پہلی ملاقات ۲۰۱۵ء میں ہوئی جب وہ اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے اردو شعبے سے منسلک ہوئے۔ میں بھی اسی شعبے میں طالب علم تھا، سو ان سے ملاقاتوں کا ایک سلسلہ چل نکلا۔ بہت جلد میں ان کے خلوص کے حصار میں آتا گیا۔ کچھ عرصے بعد میرے ہمسائے میں کچھ ہی گلیاں چھوڑ کے وہ سکونت پذیر ہو گئے۔ پھر تو روز ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
ظفر حسین ظفر کا مزاج وسعت آمیز پہاڑ کی طرح ہے، جو بھیڑوں کے لیے چراگاہ بھی ہوتے ہیں اور میٹھے پانی کے چشموں کے لیے راستہ بھی ہوتے ہیں۔ یہ پہاڑکسی بھیڑ سے کوئی دام وصول نہیں کرتے۔ کسی مسافر سے پانی پینے کا معاوضہ نہیں مانگتے۔ ٹھنڈی طراوت کی تقسیم کرتے ہیں تو کرتے ہی جاتے ہیں۔ سردیوں کی دھوپ کی گرمائش پر سب کو حق دیتے ہیں۔ میں نے ظفر صاحب کی فراخ دلی کا بنیادی وصف ان کی تقسیم کرنے کی عادت میں تلاش کیا۔ میں ان کے گھر جاتا یا ان کے آفس میں بیٹھا ہوتا تو وہ صرف اپنے لیے لائے ہوئے کھانے کو بھی تقسیم کرکے کھانے میں روحانی لذت محسوس کرتے۔ میں بہت حیران ہوتا کہ وہ تھوڑے سے کھانے کو بھی تقسیم کرکے ایک انجانی سے خوشی محسوس کرتے ہیں۔ ایک دفعہ میںان کے دفتر میں بیٹھا تھا کہ انھوں نے ملازم کو بلایا اور بہت مزیدار بھنڈیوں کو گرم کرنے کا کہا۔ کچھ ہی دیر بعد وہ اٹھے اور ایک چکر لگا کے واپس آ گئے۔ میں سوچ رہا تھا کہ وہ باہر کیوں گئے ہیں۔ ابھی کھانا میز پر چنا ہی جا رہا تھا کہ ان کے دفتر کے تین کولیگ اندر داخل ہوئے اور میز کے اردگرد بیٹھ گئے۔ سب نے مل کر کھایا اورخوب سیر ہوئے۔ خدا کی قسم میں نے اتنی برکت کسی کے دستر خوان میں نہیں دیکھی، جتنی ظفر حسین ظفر کے سامنے سجے کھانوں میں ہوتی تھی۔ میں نے گھر میں اسی برکت کو آزمایا۔ بہت تھوڑا سا کھانا بھی نیت کی شفافی سے بہت زیادہ کیا جا سکتا ہے۔ ورنہ بھوک تو کبھی ختم نہیں ہوتی۔ پیٹ کی ختم ہوجائے تو آنکھوں اور جسم کی شروع ہو جاتی ہے۔ ظفر حسین ظفر اپنے کردار سے میرے لیے پیغام بنتے۔ تقسیم کی لذت لینے کا پیغام انھوں نے مجھے کردار پیش کرکے دیا، نہ کہ باتوں میں پھول سجاکے۔
حضرت علیؑ کا قول ہے:’’تسلیم و رضا بہترین مصاحب اور علم شریف ترین میراث ہے اور علمی و عملی اوصاف خلعت ہیں اور فکر صاف شفاف آئینہ ہے‘‘۔ ظفر صاحب میں یہ خوبیاں بدرجہ کمال موجود ہیں۔ ان کا شیوہ ہے کہ کسی کو اپنے قریب کرنے کا جتن کرنے کی بجائے، اس کے قریب جایا جائے۔ کسی کے قریب جانا آسان عمل نہیں۔ آپ کو بہت کچھ چھوڑنا پڑتا ہے، جو آپ کی ذات کا حصہ بھی نہ ہو، اسے بھی قبول کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے اندر فکر کے جھکڑ چلتے رہتے ہیں جو ہمیں آئینہ نہیں ہونے دیتے۔ ہم اپنے باہر وہ کچھ نہیں بنا پاتے جو ہمارے اندر ہوتا ہے اور اندر والا سارا گورکھ دھندااندر ہی رہ جاتا ہے۔ بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو اپنے اندر کوباہر اور باہر کو اندر نافذ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ظفر صاحب نے یہ کام کسی ریاضت سے نہیں کیا بلکہ ان سے خود بخود ہوتا گیا۔
میں جب یونیورسٹی میں بطور امیدوار ان سے مشورے کرنے لگا تو وہ مجھے صرف ایک ہی بات کہتے: بھیا فائول نہیں کرنا‘‘۔ میں ان کی بات کو نہیں سمجھتا تھا۔ فائول_______؟ اس کا کیا مطلب؟ کیا میرے اندر بہت فالٹس ہیں؟کیا میں فاؤل کرتا ہوں؟ یہ فائول اگر ہو بھی جائے تو کیا انسان کو معافی نہیں مل سکتی، اسے کوئی راستے نہیں دیتا؟ مجھے ان کی باتوں سے خود ہی محسوس ہونے لگا کہ وہ وہ بار بار فائول کا ذکر کیوں کرتے ہیں۔ ہرکلیٹس نے کہا تھا کہ آپ ایک دریا میں دو دفعہ چھلانگ نہیں لگا سکتے۔ جی اس لیے کہ جب آپ دوبارہ دریا کا سامنا کرتے ہیں تو دریا وہ نہیں ہوتا اور نہ آپ وہ ہوتے ہیں۔ دونوں بظاہرایسے دکھائی دیتے ہیں، جیسے کچھ نہیں بدلا۔ اصل میں سب کچھ بدل چکا ہوتا ہے۔ فائول کرنے والا بہت کچھ اپنے ہاتھ سے کھو دیتا ہے اور جب وہ دوبارہ حالات کا سامنا کرتا ہے تو نہ وہ پہلے جیسا ہوتا ہے اور نہ اس کی ہتھیلی پہ پڑاوقت اس طرح اس کی دسترس میں ہوتا ہے، مگربظاہر سب کچھ ایک سا دکھائی دیتا ہے۔
ظفر صاحب کی ہدایت ہوتی کہ’’ بھیا فائول نہ کرنا اب۔ اور یہ فائول انسان کرتا نہیں بلکہ اس سے ہو جاتا ہے۔ آپ نہ بھی کرنا چاہیں مگر آپ سے ہوجاتا ہے۔ زندگی کامیابی کے گول کہاں یاد رکھتی ہے مگر فائول نہیں بھولتی۔ بس تم فائول کو قابو پائو۔ کامیابی کے گول دنیا یاد رکھنا شروع کر دے گی۔ ‘‘
میں ان مشوروں کو سینچتا ہوا زندگی کی مشکل راہوں سے نکلتا گیا اور ایک جامعہ کا حصہ بن گیا۔ اسی جامعہ کا حصہ جس کا ظفر صاحب حصہ تھے۔ یوں میں ان کے دوست سے ان کا کولیگ بن گیا۔
وقت کی پیمائش کیسے ممکن ہے اور کون دعویٰ کر سکتا ہے کہ وقت اس کی دسترس میں ہے، اس کے لیے ٹھہر گیا ہے۔ وقت تو ایسی ہوا ہے جو اَن چھوئے ہمارے جسموں کو رائیگانی کا احساس دیے گزرتی جا رہی ہے۔ وقت توہوا میں تیرتے کاغذوں کی طرح ہے جو بلاخر زمین کی گود میں آ گرتے ہیں۔ گلزار کی ایک نظم بوسکی بہت خوبصورت ہے جو اس نے اپنی بیٹی کے لیے لکھی تھی:
وقت کو آتے نہ جاتے نہ گزرتے دیکھا
نہ اترتے ہوئے دیکھا کبھی الہام کی صورت
جمع ہوتے ہوئے اک جگہ مگر دیکھا ہے
شاید آیا تھا وہ خوابوں سے دبے پاؤں ہی
اور جب آیا خیالوں کو بھی احساس نہ تھا
آنکھ کا رنگ طلوع ہوتے ہوئے دیکھا جس دن
میں نے چوما تھا مگر وقت کو پہچانا نہ تھا
چند تتلائے ہوئے بولوں میں آہٹ بھی سنی
دودھ کا دانت گرا تھا تو وہاں بھی دیکھا
بوسکی بیٹی مری چکنی سی ریشم کی ڈلی
لپٹی لپٹائی ہوئی ریشمی تانگوں میں پڑی تھی
مجھ کو احساس نہیں تھا کہ وہاں وقت پڑا ہے
پالنا کھول کے جب میں نے اتارا تھا اسے بستر پر
لوری کے بولوں سے اک بار چھوا تھا اس کو
بڑھتے ناخونوں میں ہر بار تراشا بھی تھا
چوڑیاں چڑھتی اترتی تھیں کلائی پہ مسلسل
اور ہاتھوں سے اترتی کبھی چڑھتی تھیں کتابیں
مجھ کو معلوم نہیں تھا کہ وہاں وقت لکھا ہے
وقت کو آتے نہ جاتے نہ گزرتے دیکھا
جمع ہوتے ہوئے دیکھا مگر اس کو میں نے
اس برس بوسکی اٹھارہ برس کی ہوگی
یوں وقت گزرتا جا رہا ہے اور ہم اس دریا میں ایک ماہی کی طرح اس کی تیز لہروں کا حصہ بنے ابد کے سفر پر رواں ہیں۔ ظفر حسین ظفر کے ساتھ رفاقت کا حصہ بنے میں بھی ایک ابد آبادرستے پر رواں ہوں۔ پڑائو آتے ہیں اور پھر سفر چل پڑتا ہے۔ ظفر صاحب کا اس ابد آباد کا سفر ان کی کتابوں کے شکل میں جمع ہوتا جا رہا ہے۔ میں ان کے پیپرز اور کتابوں کی جمع آوری کے حوالے سے بہت متذبذب رہتا تھا۔ ان سے کہتا رہتا تھا کہ آپ جلد اپنے کام کو شائع کروائیں۔ سچی بات ہے کہ ان کے اندر لالچ نام کی کوئی چیز نہیں ہے کہ وہ ان کتابوں کو اپنے نام کے ساتھ ایک اضافے کے طور پر جوڑیں۔ وہ تو بس اظہار میں اپنا حصہ ڈالتے جاتے ہیں۔ ان کا بہت سا کام اس وقت کی بے مائیگی کے ہاتھوں محفوظ ہوکے ان کا اثاثہ بنا ہوا ہے مگر وہ اس کی اشاعت اور شہرت کا واویلا کرنے والوں میں نہیں۔ ایک عجیب سی بے نیازی ان کی ذات کا حصہ ہے جسے وہ کھونا نہیں چاہتے۔
ظفر صاحب کشمیر سے ہیں۔ کوئی جگہ آزاد یا مقبوضہ نہیں ہوتی، انسان ایک دوسرے کو قید اورآزادکر تے ہیں۔ کشمیر کی اداسی بعض اوقات ان کی تحریروں سے امڈ کے آنکھوں میں اتر آتی ہے۔ وہ کشمیر کے لیے بہت اداس ہو جاتے ہیں۔ وہ کشمیر کو ہندوستان یا پاکستان سے زیادہ انسانوں کے ساتھ وابستہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا موقف ہوتا کہ جینے کا جبر موت بن جاتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ سرینگر کی تصویر دیکھ کر اسے ’’وطناااا‘‘ کہہ کر پکارتے۔ جیسے ساری زمین ان کا وطن ہے۔
ظفرحسین ظفر ابد آبادرستوں پر رواں دواں ہیں۔
میں ان کے ساتھ زندگی کی اب گیر رفاقت کی سیپیاں چنتا رہتا ہوں۔ مجھے جب راولا کوٹ کے سبز پہاڑ یاد کرتے ہیں میں ان کی نرم گفتگو سے ہم کنار ہونے کی خواہش کرتا ہوں۔ میری دعا ہے کہ وہ ابدآثاررُتوں میں پُر دم و آفاق گیررکھے۔
