تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

مورخ اور محقق —– سعدیہ بشیر

by دانش ڈیسک 17/01/2022
written by دانش ڈیسک 17/01/2022
351

مورخ کے ہاتھ میں تعصب کا زنگ آلود آئینہ تھا اور ریپر میں لپٹے کینہ کے بے شمار چھوٹے بڑے پتھر , جن کی مدد سے وہ جسے چاہتا زخمی یا سنگسار کر سکتا تھا۔ دوسری طرف محقق کے ہاتھ میں نصابی چھلنی تھی وہ چھانتا بھی تو کیا ? اسے تو خبر ہی نہ تھی کہ اس کے ہاتھ میں کنکر ہیں یا ہیرے۔ مورخ اور محقق دونوں کے پاس بناریا کی سی ریاضت سرے سے ناپید تھی جو وہ صبح سے شام تک اورکئی زمانوں تک ریت چھان کر سونے کے ذرات جمع کرتے اور ‘سچے گہنے تخلیق کرتے جن کی چمک اگر صدیوں نہیں تو سالہا سال تک ہی نظر کو خیرہ رکھ پاتی۔

سونا چاندی تو کیا انھیں تو لوہے کی وہ کیل تک نہ مل پائی جس سے سرپٹ دوڑتے گھوڑے کی نعل کو ٹانکا لگایا جا سکتا۔ تہذیب حاضر کے ہاتھ میں ہزارہا کرشمے تھے مگر محقق اور مورخ دونوں کی آنکھوں پر حکومت کے اندھے مشیران کے تجویز کردہ دبیز پردے لٹک رہے تھے۔ جن سے آنکھیں چندھیا کر بھی ان کو دھندلا دکھائی دیتا تھا۔ انھیں تاکید تھی کہ جو عبارت انھیں فراہم کی گئی ہے وہ صرف اسی سے معلومات اخذ کریں۔ ا گویا تالاب سے مچھلیاں پکڑتے رہیں۔ دریا مگر مچھوں سے اور سمندر آدم خور شارک سے اٹے پڑے تھے۔ ان معلومات میں خوابوں کی تفصیل تو تھی مگر تعبیر کا ذرہ تک موجود نہ تھا۔

ان حالات میں دغا کو دعا پڑھنا ہی سکہ رائج الوقت ٹھہرا۔ تحقیق و تاریخ گوئی کے لیے انھیں ایسے بہت سے سرکاری چھاج فراہم کیے گئے جن میں دانے اچھالے تو جا سکتے تھے لیکن گیہوں اور گھن کو الگ کرنے کی ان پر نہ صرف قدغن لگائی گئی بلکہ مسلسل نظر بھی رکھی جا رہی تھی تا کہ ان کے اندر کسی بھی صورت کھوج کی خواہش نہ پنپ سکے۔ ” نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری”۔

مورخ چائے کی پیالی میں ہی طوفان اٹھاتے , سرحدوں کی حفاظت بھی یہیں پر ہوتی یا پھر شوبز میں دیے جانے والے ایوارڈز میں۔ یوں محقق کی تحقیق بھی محدود کر دی گئی۔ اب مشینی کاشت کی طرح خود رو نوٹیفیکیشن جاری ہوتے اور انھیں آنکھ جھپکنے کا موقع تک نہ ملتا ایسا نہیں تھا کہ محقق کا دماغ یا بصارت کم زور تھی لیکن کرگس و شاہین کی ملی جلی صفات نے کسی کو بھی “سپیشل کیس” نہیں بننے دیا۔ ذہنی غلامی کے منکرین کو ایسے صحت کارڈ تقسیم کیے گئے جن پر چپس منسلک تھیں

اور ہدایات کی navigation بھی۔ صحت کارڈز کو بھی تاش کے پتوں کی طرح پھینٹا جاتا۔ بادشاہ , ملکہ ,اکا , یکا اور جیت کے سارے پتے اس میں شامل ہی نہ تھے۔ مخصوص کوڈ وہیں لگتے جہاں لگنا چاہتے۔

محقق کی ساری تحقحق ایک طرف۔۔ اب جدید خطوط پر کام کرتے ہوئے انھیں وہ spinnig board دیا گیا جسے وہ ساری زندگی رخ بدل بدل کر بھی گھماتے تو نوزل انڈے پر ہی رکتی۔ گھومنے والا بورڈ گھومتے گھومتے لٹو بن چکا تھا۔ اس سے ایسی شعاعیں خارج ہوتیں جن سے روشنی کی بجائے گیس نکلتی یہ گیس شعلہ بننے سے قاصر تھی۔ زہریلی سموگ کو باد صبا تسلیم کرنے میں عافیت تھی۔ سو محقق کو کتنے ہی ایسے ماسک تحفتا” ملے جو منہ , ناک, آنکھوں اور سوچ کی شادابی کو کثافت میں بدل سکتے تھے۔

مائٹوسس کے ذریعے لٹو در لٹو کی افزائش پر کوئی روک نہ تھی۔ محققین کے سانس لینے کے لیے بغیر شکر کی چائے کی طرح بغیر آکسیجن ہوا لٹوؤں میں بھر دی گئی۔ محققین و مورخ سہمے بیٹھے تھے۔ جونہی کوئی نئی ویڈیو وائرل ہوتی ان کی تحقیق کا جوالا مکھی بجھ جاتا اور انھیں اپنی دستار کی فکر کھانے لگتی۔ ان ویڈیوز کا کوئی سر پیر نہ ہوتا۔ کسے یہ زحمت تھی کہ سر اور پیر میں باہمی ربط کھوجتا۔ لٹو ریڈار کی طرح بھنبھناتی مکھی بن کر ہر ڈھیر سے گند جمع کرتے۔ وہ شہد کی مکھیاں تو نہ بن سکے کہ شہد جمع ہو سکتا البتہ انھیں بھڑ بننے کی آزادی تھی جس کے ڈنگ کورونا اور ڈینگی سے کہیں زیادہ مہلک تھے۔

نام کی مماثلت اور موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لٹوؤں میں لٹیروں کی شمولیت دیکھ کر کسی کو بھی کوئی اچھنبا نہیں ہوا ۔ لٹو گھوم رہے ہیں ان کے پر بکھرتے جا رہے ہیں۔ ان ٹوٹتے پروں کی زد میں محقق و مورخ کے کتنے ہی مسودات پرزے بن کر اڑ رہے ہیں۔ مورخ کو بھلا لٹو کی گردش سے کیا دل چسپی۔ لٹو خریدنے والوں کو لٹو جمع کرنے کا سودا لے ڈوبا لیکن وہ تیراکی پر بضد ہیں۔

رہے نام اللہ کا

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
پاکستانی تعلیم یافتہ مڈل کلاس کے نظریاتی مخمصے —- نعمان علی خان
next post
جانوروں کے حقیر ہونے کا مغالطہ ——— قاسم یعقوب

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.