میں اس بات کا قائل ہوں کہ خواتین کو ان مسائل کی طرف متوجہ کرنا لازم ہے جن سے ہمارا تنہا نکلنا ممکن نہیں۔ ہم اپنی بقا کے مسئلےکاحل خواتین کی شمولیت کے بغیر تلاش نہیں کر سکتے۔ اس لیے دور جدید میں مسلم خواتین کی ذمہ داریوں کا تعین کرنا ضروری ہے۔ دور جدید ایک ایسا گرداب ہے جو تاریخ کے سمندر میں پیدا ہوا اور امت مسلمہ اس گرداب میں بے دست و پا جکڑی ہوئی ہے، جس سے باہر نکلنے کی ہم کوشش بھی نہیں کر رہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس بھنور سے ہمیں خواتین نکال سکتی ہیں لیکن اس کے لیے انھیں اپنے اس مقام اور مرتبے کے احساس کی ضرورت ہے تاکہ عملی قدم اٹھایا جاسکے، جس کا وقت آن پہنچا ہے۔
اس وقت امت مسلمہ تاریخ کے ایسے جنگل میں ہے جس میں ہائیناز Hyena کا پورا قبیلہ ہمارا گھیراؤ کیے ہوئے ہے۔ سب جانتے ہیں، وہ ایسی مخلوق ہے جسے کسی چیز کا لحاظ نہیں ہے۔ اس وقت نہ صرف ہم بلکہ خدا کو ماننے والی ہر روایت اس کے حصار میں ہے اور اس خطرے سے دو چار ہے کہ وہ ہائینا کی خوراک نہ بن جائے۔ دورِ جدید کے آغاز ہی سے ہم ایک طرح کی طمع، لالچ اور دست نگری کے عادی چلے آرہے ہیں۔ انسانی نفسیات کے ساتھ ساتھ دنیا میں ٹھیک سے رہنے اور دنیا کو ٹھیک سے جاننے کے لیے جن علوم اور آلات کی ضرورت تھی وہ سب ہم نے وہاں سے لیے ہیں جوعالمگیریت کی شکل میں جدیدیت کا منصوبہ پوار کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ مطلب اب تہذیبوں کی مقامیت بالکل ختم ہو جائے گی۔ ساری دنیا میں ٹیکنالوجی، معیشت جیسی دوسری چیزوں نے ایک طرح کی وحدت پیدا کر رکھی ہے۔ یہ وحدت پیوند کی ہوئی یا Crafted غیر فطری وحدت ہے۔ اسے وحدتِ الوہی کا متبادل بنایا جارہا ہے یعنی اس کے انکار کی طاقت کو اکٹھا کیا جا رہا ہے۔
وہ قومیں جو پیراسائیٹل تہذیب اور روایت رکھتی ہے۔ وہ چیزوں کے ادنیٰ عنصر کو پہلے قبول کرتی ہیں کیوں کہ وہ نہ کسی چیز کو بنا سکتے ہیں نہ کسی چیز کو مٹا سکتے ہیں۔ اس لیے وہ خود کو مطمئن کرنے اور حالتِ تسکین میں رکھنے والے عناصر کی تلاش میں رہتی ہیں تاکہ اُنہیں اختیار کر لیا جائے۔ جدیدیت ایک ایسی قوت ہے جو اہلِ دین کے لیے تخریبی اور خدا کے منکرین کے لیے تعمیری ہے، جسے کہیں سے کسی طرح کی کوئی مزاحمت درپیش نہیں۔ اس قوت سے پیدا ہونے والے ہر طرح کے مظاہر جو تہذیبی، انفرادی، نفسیاتی، ذہنی اور علمی ہوسکتے ہیں، جدیدیت کے باطن میں نمو پانے والی قوت کو عمل میں لا کر دکھا رہے ہیں۔ جس سے اس قوت کے اظہار کا تسلسل رکنے میں نہیں آرہا۔ آج دس تو کل پندرہ مظاہر پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کےمظاہر میں کشش اور ہیبت دونوں موجود ہوتی ہیں۔ مزاحمت نہ ہونے کی صورت میں اگر قوت خود کو عا لمگیر کرنے کا اور اپنی علمی قدر منوانے کا فیصلہ کر لے تو وہ ہر شے کو فتح کرتی جاتی ہے۔ اس قوت نے لوگوں کو غلام بناکر اور انھیں غلامی پر آمادہ کرکے، ان کے ہاتھ میں کشکول تھما کر اسے بھرا رکھنے کی ضمانت دے کر عالمگیربنا دیا ہے۔
ہم جیسی قومیں جن کے یہاں نہ تو تہذیب سے وفاداری کا کوئی تصور ہے اور نہ ہی ہمارے لیے دین ایسی حساسیت رکھتا ہے کہ وہ ذہن کو راستہ دکھائے اور جذبہ پیدا کرے۔ ہم جیسے ان سے اور چیزیں لے رہے تھے یہ بھی لے لیں گے۔ مغرب کی قوت کا مرکز ذہنی، ارادی اور عملی ہے۔ ان کی قوت ان کے ذہن سے خطاب کر رہی ہے اور ان کا عمل اور ارادہ ان کا تصرف ہے۔ اس تصرف کو انھوں نے دماغ پر، معقولات اور دنیا کی چیزوں پر غرض ہر موضوع پر ثابت کیا ہے۔ وہ موضوع کو اس حد تک کھنگالتے ہیں کہ وہ ان کے زیرِ تصرف آ جائے۔
جدیدیت ایک ایسا سایہ ہے جو رفتہ رفتہ حقائق کو اپنے اندر جذب کر کے ان حقائق کی پچھلی موجودگی یا حقائق کی قبولیت کے پچھلے اسالیب کو بالکل ہی معطل اور سن کرتاجا رہا ہے۔ اس صورت حال میں ہمارے اوپر اس کا جو اثر پڑا وہ ذہنی نہیں۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ ہم نے اس سے اپنے ذہن کو قوت دی ہو جس کے نتیجے میں ہمارے اندر نظریہ سازی کی صلاحیت اور کام چوری کا خاتمہ ہو گیا ہو۔ ہم ایک ایسی قوم ہیں جس نے عزم کے ساتھ اعمال کی پیداوار کا ذمہ کبھی اٹھایا ہی نہیں۔ ایسی نام نہاد تہذیب رکھنے والی قوموں کے لیے وہ لوگ اس قوت کو پُرکشش بناتے ہیں۔ یعنی جو لوگ ان کے دلائل اور ان کے نظریات کو نہ سمجھ سکتے ہوں ان کے لیے اس قوت کو جبلی سطح پر پُرکشش بنایا جاتا ہے۔ ان کے ہاں قوت کی مرکزیت جسم ہے۔
مغرب کی اس آزادی اور منشور سے ہم نے صرف جسمانی اور حیوانی آزادی کشید کی ہے تاکہ ہم مزے سے رہیں، باقی کام چلتا ہی رہےگا۔ ہم لوگ ان معنوں میں بہت بے بس ہو گئے ہیں کہ ہم نے کے انسان ہونے کی تمام ضرورتوں کا انکار کر کے حیوان بننا قبول کرلیا ہے۔ ہماری روحانی ساخت جو پہلے بھی کوئی خاص نہیں تھی اب بالکل ناگوار ہو گئی ہے۔ جسم کو لذت کی فراہمی کے اور آزادی کے تحفظ کی ضمانت کے ساتھ اتنے مواقع مل رہے ہیں کہ ایک آدمی جسم کی لذت اندوزی کے تمام چینلز کو استعمال بھی نہیں کر سکتا۔ ہم نے اسے قبول کر لیا ہےجس کے نتیجے میں جنسی بے راہ روی عام ہوگئی ہے اور پتا نہیں آگے ابھی کیا کیا ہونا ہے۔ ہم ہر تبدیلی سے صرف ایک مطالبہ کرتے ہیں، ہر نظریے سے صرف ایک طلب رکھتے ہیں، ہم بس مزہ کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں ہر تبدیلی اور نظریے سے صرف ایک ہی مطلب ہے کہ ہمیں مزے میں رکھو، ہم پر کوئی بوجھ، کوئی ذمے داری نہ ڈالو۔ بالکل بے قید آزادی ہو اور اس آزادی کو اصل قوتوں کی پشت پناہی حاصل ہوتا کہ ایک دوسرے کے ساتھ بغیر نکاح کے رہنے پر اعتراض نہ اٹھایا جا سکے۔ اب گویا یہ لوگ اپنی حفاظت کے یقینی ذرائع کی ضمانت کے ساتھ ایک تقدس کے حامل بنیں گے اور اپنے جاہلانہ اظہار کی طرف چل پڑیں گے۔
اس صورت حال میں جب ہم نے باڈی بین (انگریزی سلینگ) بننا قبول کر لیا ہے تو ذہن اور وجود کے بلند تر مطالبات جوہمارے اندر پیدا نہیں ہوتے اور اگر کسی کے کہنے سے پیدا ہو جائیں تو ہم اسے سنتے نہیں۔ اس لیے بہت آسان شکار ہیں۔ یوں کہہ لیں کہ ہم جدیدیت کے باڑے میں راتب کی حیثیت سے رہنے پر راضی ہو چکے ہیں۔
ہماری اس پستی کی زیادہ ذمہ داری خواتین پر ہے کیوں کہ تہذیب نفس کا سارا نظام خواتین پر چلتا ہے۔ خواتین اگر تہذیب کو رفعت، پاگیزگی اور شفاف پن کی سطح پر رکھیں تو بہت سے ایسے مسائل جو ہمیں اپنی زندگی کے بارے میں محکم اور مُطلق تصورات سے جوڑ سکتے ہیں وہ ہمیں نصیب ہو جائیں گے لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیں ہو رہا۔ اس وقت خواتین پر تنقید قطعی میرا مقصد نہیں بلکہ ان سے مدد مطلوب ہے۔ یہ طغیانی اور سیلاب جس کا ہمیں سامنا ہے یہ سیلاب قوت کا پیدا کردہ ہے، جو وجود کی چھتوں کو ڈھانے کے لیے ہے۔ اسے محض دماغ اور ماضی کے ان دلائل سے نہیں روکا جا سکتا جو کبھی ہمیں ماضی میں باطل کی یلغار سے بچاتے رہے ہیں کیوں کہ وہ دلائل اب کار آمد نہیں رہے۔ اس دلیل میں مخالف کے لیے اشتراق کا عنصرلازم ہے یعنی دلیل بالکل اجنبی نہ ہو اور اس کا آغاز غالب ذہن کے متروک علوم اور منطق سے نہیں ہونا چاہیے۔
اس وقت عالمگیری ذہن نے مذہبی منطق کو میتھلوجیکل پرسپشن (اساطیری ادراک) کہہ کر رد کر دیا ہے اور اس کے نتائج سے پیدا ہونے والے ہر راستے کو بند کر دیا ہے لہذا اب وہ کام نہیں آ سکتے۔ اب ذہن کو استعمال کرنا ضروری ہے۔ لیکن ذہن کہاں ہے؟ جس ذہن نے ہمارا دفاع کرنا ہے اس کی صورت حال یہ ہے کہ یا تو وہ جدیدیت کی منطق کو قبول کر چکا ہے یعنی جدید تعلیم کی پیداوار ہے یا اگر ذہن اپنی مذہبیت میں محفوظ ہے تو وہ غیر متعلق ہو چکا ہے۔ اس کا کوئی تعلق موجودہ اندرونی اور خارجی صورت حال اور مسائل سے نہیں ہے۔ ہمارے پاس دو ذہن ہیں جن میں ایک غیر متعلقہ مذہبی ذہن ہے اور دوسرا انھی کا پیدا کیا ہوا۔
اس عجیب صورت حال میں جہاں علم بھی کام نہیں آسکتا اور ذہن میں موجود قوتیں بھی کارآمد نہیں ہو سکتیں وہاں کسی ایسے راستے کی تلاش ضروری ہے جہاں ہم اپنے اُصولِ زندگی کے ساتھ، اپنے ایمان سے پیدا ہونے والے شعور کے ساتھ، اللہ کے ساتھ تعلق کی تربیت حاصل کر لینے والے وجود کے ساتھ اپنی بقا کی جنگ لڑسکیں۔ اس راستے کی تلاش میں ہم خواتین کے محتاج ہیں۔ یہ ان کے لیے کوئی درس، وعظ و نصیحت نہیں۔
اس وقت جذبہ اور اخلاق ایسی دو جیزیں ہیں جو ہمیں فنا ہونے سے بچا سکتی ہیں۔ حتمی احساس کی حالت state of final realization جذبہ کہلاتی ہے جہاں کوئی سوالیہ نشان نہ لگ سکے۔ جہاں “اور” اور “یا” کی گنجائش نہ ہو، وہ جذبہ ہے۔ یعنی چیزیں مکمل ذہن میں نہیں ہوتیں۔ میرے ذہن کے سب مسلمات اپنی تکمیل کے لیے، اپنی سچائی کےلیے، اپنی بقا کے لیے میرے دل میں اُترنے کے پابند ہیں۔ یعنی ہر بڑا خیال ہر بڑا حل بنے گا ورنہ وہ خیال کی حیثیت سے بھی محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ ہمیں وہ جذبہ درکار ہے جو بنیادی طور پر فرد کی ضرورت ہے۔ فرد کا اپنے بنیادی تصورات کے مطابق زندگی گزارنا اور ان نبیادی تصورات کا فرد کے لیے جذبہ بن جانا ضروری ہے۔ جذبہ محض جذبات کی قبیل نہیں ہے۔ جذبہ وجود کی وحدت، احساس، پُر احوالی یعنی وجود کے اندر احسا س کی جتنی بھی سکت ہے اسے ایک وحدت میں ضم کرنے کا نام ہے۔ تمام مختلف احساسات، جذبات، رنجشوں اور خواہشات کا ایک نئے کل میں ڈھل جانا جذبہ ہے۔ جذبہ دراصل جذبہ وجود ہے جس کی پیدائش اور اس کے اس کے تسلسل میں خواتین کا مرکزی اور قائدانہ کردار ہے، مرد ان کے مقلد ہے۔
اخلاق ہماری دوسری ڈھال ہے جو اجتماعیت کی ضرورت ہے۔ یعنی اجتماعیت کی محکم، بامعنی، حقیقی اور نظریاتی تشکیل کے لیے اخلاق کی ضرورت ہے۔ اخلاق پر مبنی معاشرے کا قیام مردوں کی ذمہ داری ہے یعنی باہر کی ذمے داری مرودوں کی ہے اور مائیکروکوزمک ذمے داریوں کی بنیاد عورتوں کو ودیعت کی گئی ہے۔ اگر اس تشکیلی عمل میں خواتین برابرکی شریک نہ ہوں تو معاشرہ اپنے اخلاقی نظریات پر قائم نہیں رہ سکتا یعنی معاشرت پر مبنی بَرخیر تعمیر کے عمل میں خواتین کی معاونت اور برابر کی شرکت ضروری ہے۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ ہماری خواتین اس کا احساس نہیں کر پا رہیں۔ خاص طور پر ایسی خواتین جن کا ذہن، سمجھ اور دل اچھا ہے لیکن وہ بھی اپنی ذمے داری اُٹھانے کا ارادہ نہیں کر پا رہیں۔ ہم صرف انھیں اس طرف مائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ جو خواتین مسلمان رہنا چاہتی ہیں وہ یہ بات سمجھ لیں کہ دورِ جدید میں انسان اور بالخصوص عورت کو اس کی روحانی فطرت سے انکار پر اکسایا جا رہا ہے۔
ہمارے تصور نساء میں عورت کوئی معمولی چیز نہیں۔ عورت میں موجود گہرائیوں، معنو یتوں اور روحانی اعتدالیوں سے مرد واقف نہیں۔ عورت ان گہرائیوں اور ان تہہ داریوں سے خلق ہوئی ہے۔ اس کا کردار غیاب کا ہے۔ غیاب پوشیدہ حقیقتوں اور صورتوں سے بلند ہونے کا سب سے قابل اعتبار مظہر ہے۔ یہ مظہریت صرف عورتوں کو دی گئی ہے کہ ان کی ذات سے غیاب اخلاق، معاشرےاور نفسیات کی قدر بنے۔ غیاب سے شعور مانوس ہو جائے اور قلب اس غیاب کے کھلنے کی طرف آمادہ ہو کر اسے اپنے لیے مختلف احوال کا سبب بنا سکے۔ یہ بلندی اور پوشیدہ گہرائی عورت کی وجودی ذمہ داری ہے کہ وہ بغیر کچھ کہے، بولے اور دعوی کیے اپنے وجود سے اس کا مظہر بن کر رہے یعنی اس کو یہ نہیں کہا گیا کہ مظہر بن کر دکھائے۔ اس کی ذمے داری صرف یہ ہے کہ جو مظہر تمہیں بنانا دیا گیا ہے اس کی مظہریت کو برقرار رکھے۔
جدیدیت اس کو اس مظہر بننے سے منحرف کرنے پر تلی ہوئی ہے اور مسلسل کامیاب ہوتی جارہی ہے۔
خواتین کو سوچنا ہو گا کہ وہ اپنے آپ کو محض ایک جنس بنا کر رکھنا چاہتی ہیں؟ محض باڈی کلٹ (شخصیت پرستی) میں رہنا چاہتی ہیں؟ کیا یہ چاہتی ہیں کہ ان کا تصور ہی جسم کے حوالے سے کیا جائے؟ ظاہر بات ہے کہ وہ اس کی ہرگز خواہش مند نہیں۔
اب ان کے لیے نیند سے بیدار ہونے اور کھیل تماشوں سے مسحور ہونے والی نفسیات کو چھوڑنے کا وقت آگیا ہے۔ اگر وہ آزادی کے اس جدید ماڈل کو اپنی توہین سمجھیں تو پھر یہ خواتین ہماری پیر ہیں۔ ان خواتین کی وجہ سے ہمارا ایمان ایک طرح سے قابل تجربہ بن جاتا ہے۔
اپنی قدرِ وجود پر قائم خاتون مردوں کو ایمان پر ثابت قدم رہنے میں جتنی مدد دیتی ہے وہ کوئی استاد نہیں دے سکتا کیوں کہ یہ غیاب کی بھی مظہر ہے۔ خواتین کی مدد سے وجود ایمانی پر طاری نزع کایہ عالم دور ہو سکتا ہے اور ان شاء اللہ دور ہو جائے گا۔
اسی طرح مرد اپنی ذمہ داری پوری کرے تو اس گھنے اندھیرے میں بھی ہمارا اجتماعی شعور حق کے نور سے روشن ہو سکتا ہے۔ ایک اُصولی بات یہ ہے کہ جدیدیت کے پھیلاؤ کے بڑے اسباب میں ایک سبب جسمانی حدود میں قید رہنے کی دعوت دینا اور جسم جو میری شخصیت کی حرارکی سب سے نیچے ہے اسے سب سے اوپر لے آنا۔ جدیدیت کا یہ اصراریا ہم پر جدیدیت کا یہ اثر کہ ہم ایک ایسا جسم بن کر رہنا چاہتے ہیں جس کی ہر جبلی تسکین ایک بٹن ڈبانے کے فاصلے پر ہو۔ اب جسمانی وجود کی بھی ایک تجریدی سی حیثیت رہ گئی ہے اور اس پر ذہن کا کام بھی جسم کو لذت فراہم کرنا، جسم کو جبلتوں سے ہم آہنگ رکھنا اور نئے نئے احساسات لطف فراہم کرنا ہے۔ موجودہ دور کا آدمی یہ بنتا جا رہا ہے۔
اصل مصیبت جسمانیت کے حدود میں رہتے ہوئے جسمانی تقاضوں کو اصل مطالبہ سمجھنااور جبلی ضرورت کو حقیقی ضرورت ماننا ہے مزاج کی یہ نفسیات جو پیدا کی جا رہی ہے اس کا کوئی رد نہیں ہو سکتا۔ عورتوں کے حرکت میں آئے بغیر باڈی کلٹ (شخصیت پرستی) قبول کرنے والے مرتدوں کا کوئی علاج نہیں ہو سکتا۔ یوں کہہ لیں جسم کی بادشاہت قبول کرنے والی جو ایک چیز ہمارے اندر پیدا ہوتی جا رہی ہے اس کو وجود کے نسائی احوال سے ہی رد کیا جاسکتا ہے۔ وجود کے غیاب اور برتری Transcendence کے قوام سے گندھا ہونے کی وجہ سےجو اس کے ذہنی اور احساساتی عکس ہیں انھیں وجود کے نسائی احوال کہا جاتا ہے۔ اگر یہ نسائی احوال ابھر کر اعلان، طاقت، جذبے اور مزاحمت کی پوری نیت اور منصوبے کے ساتھ ہمارے معاشرے میں پیدا نہ ہوئے تو ہمیں حیوان بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ عورت کا وجود ہی ہمیں حیوان بننے سے بچا سکتاہے اور انسان بننے کے لائق رکھ سکتا ہے۔ ہمارا معاشرہ عورتوں کے اس احسان اور مدد کا محتاج ہے۔ ہماری خواتین کو یہ ذمے داری اپنی زندگی کی سب سے بڑی سرگرمی کی حیثیت سے اٹھانی چاہیے تاکہ ان مشکلات کا حل ممکن ہو سکے۔
یہ مختلف نکات ہیں انھی نکات کے دائرے میں دو عملی باتیں بھی ضروری ہیں۔ وجود کی مردانہ ترتیب زیادہ تر قوت، مجاہدے، عمل اور ذہن پر ہے۔ اسی طرح تہذیب یا وجود کا نسائی نظام زیادہ تر قلب اور روحانیت پر ہے، جو حال کی صورت میں ہے یعنی وہ وجود کا مرکز ہے۔ وجود کو خود اپنے تجربے میں رکھوانے والی چیز وجود میں گندھی ہوئی نسائیت ہے۔ اس طرح وجوو کو اس کی خیر کی قدروں پر رکھنے والا شعور مرد کے ذمے ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی بات ہو چکی ہے کی شعور کی روشنی مرد فراہم کرتا ہے۔ جب کہ وجود کا پُر احوال اور پر جوش ہونا عورت کی ذمہ داری ہے لہذا ہم جہاں بھی کمزور پڑے وہاں ان دونوں طبقات کی کوتاہی شامل ہے۔
عملی طور پر جدید تعلیم کو کسی فن کی تعلیم پر فوقیت نہیں دی جانی چاہیے۔ مثال کے طور پر گلاس بنانا سیکھنا کیوں کہ بازار میں اس کی قیمت ملتی ہے۔ بازار میں جگہ بنانے کی غرض سے جدید تعلیم حاصل کی جا سکتی ہے۔ جدید تعلیم اگر بازا رمیں جگہ بنانے کے لیے حاصل نہ کی جائے تو یہ آ پ کے شعور، ایمانی ساخت، عورت کی حیا اور مرد کی حمیت کو برباد کر دے گی اور ہمیں کسی مشترک نفسیاتی اور تہذیبی اقدار کے نظام سے باہر پھینک دے گی جدید تعلیم اوسط درجے کے معمولی وجود پیدا کر رہی ہے اس لیے اس سے مرعوب ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
موجودہ دور میں سب سے قابل رحم وہ بچے ہیں جو آج کے کے سب سے اونچے سمجھے جانے والے تعلیمی اداروں میں علم حاصل کر رہے ہیں۔ اسکول، کالج اور جامعات میں آپ علم حاصل کرنے بلکہ بازار میں اپنی جگہ بنانے جاتے ہیں۔ اگر یہ مقصد صحیح کر لیا جائے تو اس کی تاثیر کے وہ دروازے بند ہو جائیں گے جو دروازے ابھی اس پے کھلے ہوئے ہیں۔ یعنی یہ ہمارا ذوق اور فہم بدل دیتی ہے۔ ہمارے اندر دین کے ساتھ ایک لا تعلقی بلکہ حقارت پیدا کر دیتی ہے۔ جدید تعلیم ہمارے مردوں، خواتین، بچوں اور بچیوں میں سے اپنے روحانی امتیاز کی جو حفاظت کا جذبہ ختم کر دیتی ہے۔
جدید تعلیم یافتہ ادارے، ان کے اساتذہ، ان کے طالب علم سب ہیومن اسکیل (انسانی پیمانے) پر نظر آتے ہیں ایسے لگتا ہے کسی اسٹیج پر جانے کے لیے میک اپ کرنے آئے ہیں۔ یہ سب غبی، مطلبی، دنیا پرست بلکہ نفس پرست ہیں اور یہی سکھاتے ہیں۔ یہ بات بلا استثنا کہی جا سکتی ہے کہ جتنے بھی انگریزی میں مہارت پیدا کروانے والے ادارے ہیں، وہ ہماری تہذیب اور نفسیات کے لیے سب سے بڑا امتحان ہیں جو اپنی اہمیت اور کشش دکھا کر ہمارے اندر کام کر رہے ہیں۔ جو بچہ ان اداروں میں پڑھنے کی اہلیت نہیں رکھتا وہ بے چارہ احساسِ کمتری میں مبتلا رہتا ہے۔ یہ پورا نظام ایسے ہے جیسے کسی مردار کا سنگھار کیا جا رہا ہو اور زندوں کو وہ سنگھار کیا ہوا مردہ بننے کی دعوت دی جا رہی ہو اس سلسلے میں انقلاب لانے والا لیجہ (liver) خواتین کے پاس ہے۔
ایک اور بات یہ کہ ہمارے یہاں غیاب ایک اُصول ہے یعنی غیاب خلا اور اندھیرا نہیں ہے بلکہ غیاب لامتناہی ہے اور حقائق کا کنٹینر (کنستر) بننے کے لیے ہے۔ حقائق محدود ظرف میں نہیں سما سکتے یعنی چیزوں میں اور ذہن میں پوری طرح نہیں سما سکتے۔ جوچیز نظامِ صورت میں رہتے ہوئے حقائق کی موجودگی کا سبب بنی رہے گی اور حقائق کی موجودگی اس کے وسیلے سے ہوتی رہے گی تو اس کے نتیجے میں بننے والی اقدار اپنا جواز اور حقیقت پیدا کر لیں گی۔ ہمیں سب سے زیادہ ضرورت اپنی پوشیدہ حقیقت سے جڑے رہنے کی ہے۔ یہ ضرورت عورت کی مدد کے بغیر پوری نہیں ہوسکتی۔ عورت غیاب کا مظہر بھی ہے اور غیاب کو حضور بنالینے والی قوت کی حامل بھی ہے۔
عورت اگر اپنے مرتبے کو پہچانے تو اس میں جن دو چیزوں کا ہونا ضروری ہے ان میں حیا اور دنیا سے محبت کا نہ ہونا شامل ہے۔ برتری دنیا کی محبت کو ختم کرتی ہے اور غیاب حیا پر مائل کرتا ہے۔ اگر عورت ان دونوں کو چھوڑ دے تو وہ اپنی ان حیثیتوں کا انکار کرے گی۔ اپنے اس مقام کو پہچاننا اور حیا کو شعار بنانا عورت کے لیے لازم ہے۔ دنیا کی محبت مردوں کے لیے امتحان ہے عورتوں کو اصلاً اس امتحان سے پاک رکھا گیا ہے۔ بہت سی خواتین ایسی ہیں کہ اگر وہ میدان عمل میں، دفتروں میں یا اعلٰی عہدوں پر نہ ہوں تو یہ معاشرہ واقعتاً درندوں کا معاشرہ بن جائے گا جہاں امانت، دیانت اور خلوص سب خاک میں مل جائے گا۔ صحرا کے گوپے میں رہنے والی عورت دنیا کی محبت میں مبتلا ہو سکتی ہے اورایک وزیرِ اعظم یا صنعت کار بن جانے والی خاتون دنیا کی محبت سے پاک ہوسکتی ہے۔ وہ موضوعی (Subjective) چیزہے جسے سب سمجھتے ہیں۔
دنیا کی محبت ہمارے نفس کو گدلا کرتی ہے۔ ہمیں اپنے بنیادی مقصد یعنی تزکیہ کی طرف جانے نہیں دیتی، جو کہ اپنے نفس کو جبلی سے روحانی بنانا۔ دنیا کی محبت گویا ہمارے اندر کی دنیا کو برباد کر دیتی ہے۔ اسی طرح حیا صاف اعلان ہے کہ اے لوگو! مجھے محض جسم سمجھنے کی جرات اور جسمانی حدود میں محدود رکھنے کی کوئی کوشش نہ کرنا۔ سچ بات یہ ہے کہ بچیوں کو ان عجیب عجیب حلیوں میں دیکھ رونا آتا ہے کہ انھیں تختِ شاہی دیا گیا ہے اور یہ اس حلیے میں بازار میں گھوم رہی ہیں۔ خواتین کو چاہیے کہ وہ اسے بات کو اپنی ملکیت سمجھیں اور آگے بڑھائیں۔ اللہ انھیں ایسا کرنے کی تو فیق دے۔
یہ بھی پڑھیں: فیمنزم کا جنسی انقلاب : بچائو کی تدابیر ، شائستگی اور پاکیزگی
