صاحب بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں نوکریوں کی کمی تو ہے لیکن روزگار کی بالکل بھی نہیں!! سادہ سی طبیعت کے نثار خان کی زبان سے ادا ہونے والا یہ جملہ کافی پیچیدہ تھا۔ میں نے جھٹ سے سوال رکھا کہ بھائی یہ تم کیسے کہ سکتے ہو؟ نثار خان کا جواب کچھ یوں تھا کہ یہ بات تو درست ہے کہ ہمارے ہاں نوکریاں بہت کم ہیں اور لوگ اس وجہ سے کافی پریشان بھی ہیں لیکن یہ کہنا کہ روزگار نہیں ہے ایک زیادتی ہے، کروڑوں لوگ سستی مہنگی لاکھوں اشیاء کی خریداری کرتے ہیں، کچھ بھی لے کر بیچا جا سکتا ہے، مجھے دیکھیں میں وزیرستان سے ہوں، ایک ٹانگ سے معذور ہوں، ان پڑھ ہوں مگر اس کے باوجود لاہور جیسے بڑے شہر میں نہ صرف کما رہا ہوں، کھا رہاہوں بلکہ اس سب کے ساتھ ساتھ حسب استطاعت بچا بھی رہا ہوں۔ میں جب لاہور آیا تھا بہت مشکل سے چلتے پھرتے چھوٹی چھو ٹی چیزیں بیچ کر ایک ریڑھی کے پیسے اکٹھے کیے تھے۔ صرف تازہ مکئی کے بھٹے لگانا شروع کیے تھے کہ وہ سستے میں مل جاتے تھے، اب میں محنت کرتا کرتا یہاں تک پہنچ آیا ہوں کہ آپ دیکھ سکتے ہیں میری ریڑھی پر مکمل بھٹہ، تازہ دانے، بھنے ہوئے سوکھے دانے، گڑ میں ملے ہوئے دانے، املوک، خشک خوبانی اور کالے چنے، پڑے ہیں، روڈ پر کھڑا ہوں اپنی سمجھ اور استطاعت کے مطابق بہترین انداز میں اپنا ساما ن لگایا ہوا ہے، کام چل رہا ہے نا؟صاحب !مجھے لگتا ہے کہ سب ہی ایسا کوئی نہ کوئی نظام چلا سکتے ہیں، میں رزق سے بھی بڑھ کر صحت کی دعا مانگتا ہوں، صحت ہو تو دنیا میں بڑے موقعے ہیں۔ دسمبر کی یخ ابر آلود دوپہر میںگرم گرم دانوں کو چھاننی میں ڈال کر انتہائی مہارت سے ہوا اچھال کر دوبارہ چھاننی میں کیچ کرتے ہوئے نثار خان نے کاغذ کے پیکٹ میں پیک کیا اور پیکٹ میری طرف بڑھا تے ہوئے بولا کہ صاحب بات یہ ہے کہ زندگی میں یا تو کام کیا جا سکتا ہے یا بہانے۔ مجھے تو کام پسند ہے۔
گزرے دسمبر میں مجھ تک پہنچنے والی نثار خان کی اس سادہ سی ایک پیرا گرافی کہانی میں سیلف ڈویلپمنٹ اور موٹیویشن کی دنیا کے کئی گروئوں کی باتوں کا عام فہم نچوڑ ہے۔ زندگی میں آگے بڑھنے کی سائنس کافی حد تک اس کہانی میں ہی موجود ہے۔ مجھے اس کہانی میں تین چیزیں ایسی نظر آتی ہیں جن پر زندگی کا طالب علم ہونے کی وجہ سے ہم سب کو غور کرنا چاہیے۔ سب سے پہلی بات جو نثار خان کی کہانی ہمیں بتانے کی کوشش کرتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ زندگی میں جس بھی مشکل سے دوچار ہوں آپ دو کام کر سکتے ہیں، ایک یہ کہ آپ بہانے تراشیں، اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار سسٹم کو قرار دیں، دوسروں سے گلے شکوے کرتے رہیں یا پھر یہ کہ آپ دیکھیں کہ آپ اپنے موجودہ حالات سے نکلنے کے لیے چھوٹے سے چھوٹا کونسا ممکنہ قدم اٹھا سکتے ہیں، وہ اٹھائیں اور پھر مڑ کر کبھی نہ دیکھیں۔ ہمارے لیے یہ اندازہ لگانامشکل نہیں کہ اس سارے وقت میں جب نثار خان زیرو سے ہیرو بننے کے سفر کے مختلف مراحل طے کر رہا ہے، ہر طرح کی مشکل کا سامنا کرتے ہوئے بہتر سے بہتر حالات کے لیے لڑ رہا ہے اس کے ساتھ کے ہی بہت سے نوجوان آج بھی اپنے زیرو کو گلے لگائے بیٹھے ہوں گے، وہ ہر روز صبح اٹھ کر گلوں شکووں سے اپنے زیرو کو فیڈ کررہے ہوں گے، کیوں بھلا؟؟کیونکہ انہیں خواب ہینڈل کرنا نہیں آتے، ان کے خوابوں میں وہ یا تو زیرو ہیں یا پھر راتوں رات بن جانے والے ہیروجبکہ نثار خان زیرو سے ہیرو کے درمیا ن کے سفر کی گیم کو سمجھ گیا ہے، وہ یہ جان چکا ہے کہ خواب مارجنز کی گیم ہیں، بڑے سے بڑے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے سب پہلا قدم یہ ہوتا کہ ہم اس خواب کو گول میں بدل کر اس کو مائیکرو مینیج کرنا سٹارٹ کر دیں۔ ہر روز صبح اٹھ کر بجائے اس کے کہ آپ یہ سوچیں کہ اتنا بڑا خواب میں کیسے حقیقت میں بدلوں گا آپ کو یہ سوچنا چاہیے کہ آج خواب سے حقیقت کے سفر میں میںکونسے مائیکرو گولز پر کام کر سکتا ہوںجو مجھے میرے خواب سے نزدیک کریں گے۔ ایسا کرنے سے پہلی بات تو یہ ہو گی کہ آپ آہستہ آہستہ اپنے خواب کے نزدیک ہوتے جائیں گے، دوسری بات یہ ہو گی کہ آپ جب بھی کوئی مائیکرو گول achieve کریں گے آپ کو اگلے مائیکرو گولز کے لیے موٹیویشن ملے گی۔ نثار خان اسی فلسفے کو لے کر ہی انتہائی خاموشی سے وزیرستان سے آیا اور آج لاہور میں اپنا کاروبار چلا رہا ہے۔ وہ جانتا ہے خواب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے گھورتے رہنے سے کچھ نہیں ہو گا، زیرو سے ہیرو کے درمیان کا سفر کسی چھلانگ کا نام نہیں، یہ چنے منے قدموں کی گیم ہے جس میں خون، پسینہ، آنسو اورلوگوں کے چبھتے، تیز کاٹ دار جملے سبھی تبرک کے طور پرشامل ہوتے ہیں۔ کامیابی کے مسافر زیرو سے ہیرو کے درمیانی فاصلے کو ان تمام تر مشکلات کے باوجود بہت باوقار انداز میں طے کرتے ہیں، تنکہ تنکہ جوڑتے ہیں، لمحہ لمحہ سنوارتے ہیں اور سانس سانس پر اپنے آپ کو تھپکی دیتے رہتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہوتے ہیں کہ کامیابی چنے منے قدم لیتے رہنے کی گیم ہے جس میں مومینٹم ملنے پرراہی کوکبھی نہ کبھی آخر چھلانگ بھی مل ہی جاتی ہے۔
ایک اوراہم با ت جو نثار خان کی اس کہانی میں ہم نوٹ کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم اپنی ترقی کے سفر کا پہلا قدم تو کسی ایک پروڈکٹ یا مہارت کے ساتھ لے سکتے ہیں مگر جوں جوں ہم آگے جائیں گے ہمیں اس چیز کی ضرورت پڑے گی جسے مارکیٹنگ کی زبان میں product diversity کہتے ہیں اور self development کی دنیا میں skill diversity ۔ یہ وہ concept ہے جو دنیا کا ہر بڑا ٹرینر تقریبا اپنے ہر سیشن میں لوگوں کو سمجھا رہا ہے اور خلاصہ اس کا یہ ہے کہ آج کی دنیا یا موجودہ صدی ایک ٹیلنٹ یا ایک پروڈکٹ کی دنیا نہیں ہے، ہمیں اگر مارکیٹ میں اپنی موجودگی کو برقرار رکھنا ہے تو ہمیں لگاتار نئی مہارتیں سیکھتے رہنا پڑے گا اور وقت کے ساتھ ساتھ اپنی پروڈکٹس کو بھی حسب استطاعت diversify کرنا پڑے گا۔ ویٹری، چوکیداری کرتے، چلتے چلتے چیزیں بیچتے، قدم پر قدم رکھتے ریڑھی خرید کر اس پر مکئی کے سادہ دانوں سے شروع ہونے والا سفر آج ایک diversified product model بن چکا ہے جہاں آج اسی ریڑھی پر گاہکوں کی پسند کی نمکین میٹھی اور ڈرائی فروٹ products موجود ہیں۔ بلا شبہ نثار خان کا بزنس بہت ہی بنیادی لیول کا بزنس ہے مگر جس ذہانت سے نثار خان اپنی صلاحیتوں، وسائل اور مارکیٹ کا تجزیہ کرتے ہوئے آگے بڑھا اور مختلف طرح کی prodcut/itemsکو وقت کے ساتھ ساتھadd کرتا رہا وہ کسی طور بھی کسی بڑی کمپنی کی کہانی سے کم نہیں ہے۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ نثار خان کی کہانی کو اگر اس کے بیک گرائونڈ کے ساتھ دیکھا جائے تو وہ اور بھی شاندار لگنا شروع ہو جاتی ہے، لاہور جیسا شہر جہاں بڑی بڑی ڈگریاں اٹھائے لوگ پونتھلے ہوئے پھرتے پھرتے اپنے جوتوں کی ایڑھیاں گھسا لیتے ہیں، اپنی روحوں کی چمک گنوا دیتے ہیں، وہاں معذوری کے ساتھ وزیرستان سے آکر اپنی استطاعت کے مطابق کام کا آغاز کرنا اور وقت کے ساتھ ہر لحاظ سے SWOT analysis کرنا اور product diversification جیسی advance حکمت عملیاں استعمال کرناایک عام ذہن اور ہلکے شعلے والے دل کا کام نہیں ہے، ایسا صرف نثار خان جیسے بھانبڑ دل ہی کر سکتے ہیں۔
آخری اور اہم ترین بات جو نثار خان کی کہانی سے ہم سیکھ سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ زندگی مستقبل کی تگ و دو کے ساتھ ساتھ حال کی کامیابیوںکو enjoy کرنے کا نام بھی ہے۔ جانے کتنے ہی کامیاب لوگوں کو ہم سب ہی جانتے ہیں جو بہت کچھ حاصل کرتے ہیں مگر ان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنی کسی کامیابی کا مزہ نہیں لے پاتے۔ انہوں نے اپنے ذہن کو پروگرام ایسے کر لیا ہے کہ وہ مستقبل کے اندیشوں یا توقعات سے ہٹ کر سوچ ہی نہیں پاتے، ہمارا نثار خان مستقبل کی قید میں نہیں ہے، وہ اپنے آج کا مزہ لے رہا ہے اور اپنے کل کے لیے جو ہو سکتا ہے وہ کر رہاہے، خوشی کو کسی چیز کو حاصل کرلینے تک ٹالا نہیں جا سکتا، جو ہے وہ قیمتی ہے، اس کا شکر اور مزید بہتری کے لیے محنت ہی بہترین حکمت عملی ہے۔ خود کو بہترین انسان کے طور پر تراشنے کے عمل میں ہر سٹیج کا اپنا ہی مزہ ہے اور مستقبل کے گولز کے چکر میں ایسے نہیں پھنسنا چاہیے کہ ہم اپنے حال کا مزہ ہی نہ لے پائیں اور الھکم التکاثر والے گروہ میں جا داخل ہوں۔
پرسنل ڈویلپمنٹ سیکٹر میں کام کرتے کرتے اور لیکچرز سن سن کر کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے ہم لوگ بھی اکتا جاتے ہیں، ایسے میں جب آپ دانے لینے جائیں اور ایسی تگری real life storyسے ملاقات ہو جائے تو گرما گرم خوشبو اڑاتے دانے جہاں آپ کو ٹھٹھرتی ٹھنڈ کے احساس چھٹکارہ دے کر اپنے مزے میں گم کر لیتے ہیں وہیں نثار خان جیسی کہانی ہمارے اندر کے اونگھتے جنگجو کو جھنجوڑ دیتی ہے۔ شاید یہ لوگ لمبے چوڑے فلسفوں یا ڈگریوں کو تو نہیں سمجھتے مگر اس بات کا انہیں کامل یقین ہوتا ہے our life should be our message۔ اس دن نثار خان سے ملاقات کے بعد جاتے جاتے یہ سوچ کر کہ نثار خان کے کانفیڈنس کا ہلکا سا ٹیسٹ بھی تو لیا جانا چاہیے میں نے نثار خان سے کہا کہ بھائی باتیں تو تمھاری سب ٹھیک ہیں مگر تب تک جب تک بارش نہیں آتی۔ ۔ اگر بارش آگئی تو تمھارا کاروبار تو ٹھپ ہو جائے گا، یہاں ریڑھی کھڑی کرنا ناممکن ہو جائے گا، پھر؟ ابھی میں اپنی بات مکمل ہی کر رہا تھا کہ نثار خان نے مسکراتے ہوئے اپنی ریڑھی کے نچلے خانے سے ایک جہازی سائز کی چھتری نکالی اور جھٹ سے ریڑھی کے درمیان لگے لوہے کے ایک خول میں ٹھونک دی، صاحب تیاری ہے، بار ش کا بھی تیاری ہے!! ایک زور دار اور خوشی سے بھر پور قہقہے کے بعد میرے منہ سے اس کے لیے یہی الفاظ نکل پائے کہ یار نثار۔ ۔ میں تجھ پہ نثار۔ ۔ اور وہ میری بات کا مزہ لے کر پھر سے دانوںکو تیار کرنے میں جت گیا کیونکہ یہی تو اس کا ماڈل ہے کہ جو ہے اس کا مزہ لو اور مزید کے لیے محنت کرو۔
