Connect with us

تازہ ترین

ساڑھے چار ارب ڈالرمیں کامیاب سوویت ڈیمولیشن اور تین کھرب ڈالر میں ناکام "نیشن بلڈنگ” — نعمان علی خان

Published

on

شنید ہے کہ مودی کے انڈیا نے افغانستان کے مسلمان مہاجرین کو پناہ دینے سے انکار کردیا ہے۔ مبصرین اسے انڈیا کی مسلم دشمنی اور منافقت قرار دے کر اسے خوب خوب تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ لیکن اگر معاملے پر ذرا غورسے نگاہ کی جائے تو یہ انڈیا کی محض روایتی مسلم دشمنی نہیں۔ یہ تو دراصل واشگاف انداز میں ھندوستان کا اپنے اورنیٹو طاقتوں کے پروردہ سیکیولر اور لبرل مددگاروں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کا عمل ہے۔ آخر وہ کون سے والے افغانی ہیں جو ھندوستان میں پناہ لینا چاہیں گے؟ کیا طالبان کی ھمدرد پختہ مسلمانوں کی عظیم افغان اکثریت کوھندوستان میں پناہ چاہئیے ہے؟ جی نہیں۔ جن لوگوں کو پناہ چاہئیے ہے ان میں سے بیشتر وہ لوگ ہیں جنہیں عالمی میڈیا پر "افغان انٹرپریٹرز” پکارا جاتا رہا اورجنہوں نےدم دباکر بھاگنے والی مغربی فوجوں کے جہازوں سے لپٹ کر فرار ہونے کی کامیاب اور ناکام کوششیں کی تھیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں گذشتہ بیس سال میں ھندوستان اور قابض مغربی طاقتوں نے افغانستان میں طالبان اوراسلامی طرزِزندگی کی مخالفت اور”میراجسم میری مرضی” یا "سیم سیکس میرج” جیسے بصیرت افروز فلسفوں کے نفاذ کیلئیے، بلینز اور ٹریلئینز امریکی ڈالرز خرچ کرکے تیار کیا تھا۔ اوراس پورے عمل کویہ سب طاقتیں مل کر، "اسلامی انتہاپسندی” سے پاک، افغان "نیشن بلڈنگ” قرار دیتی رہی ہیں۔ ھندوستان کی حکومت اب انہی بے چارے سیکیولراورلبرل افغانوں پراپنے لئیے خطرناک "مسلمان” ہونے کا الزام لگا کر پناہ دینے سے انکار کررہی ہے جنہوں نے گذشتہ بیس سال میں مسلسل افغانستان میں مغربی اور ھندوستانی سیکیولر ایجنڈے کے نفاذ کیلئیے جان کی بازی لگائے رکھی؟ تف ہے اس ھندوستانی سیاست پر۔ کیا اِس برصغیر کے ان تمام سیکیولر اور لبرل عناصر کے وہم و گمان میں بھی یہ بات تھی کہ ان پرٹریلینز آف ڈالرزخرچ کرنے کا جھوٹا اور سچا پروپیگنڈا کرکے، ان کے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ کیا جائےگا؟ اس انتہائی غلیظ دھوکہ دہی کی واردات کو "لبرل انسانیت” کے خلاف جرائم کی تاریخ میں بدترین الفاظ میں لکھا جائے گا۔

برصغیر میں سیکیولرازم کی ایک تاریخ ہے۔ تقسیم کے بعد ھندوستان کے اندر رہ جانے والے مسلمانوں اور ھندووں، دونوں نے ریاستی سیاست، سیکیولرزم کے اصولوں پر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان میں سے بہت سے سیکیولر پاکستان میں بھی موجود تھے۔ یہ سب بہت مہذب سیکیولر لوگ تھے کیونکہ ان کے سیکیولرایجنڈے میں کہیں بھی کسی خاص مذہب کے عقیدوں کو گالیاں دینے اوران کی توھین کرنے کا کوئی تصورنہیں تھا۔ اس سیکیولرزم پر عمل کرنے والے آج بھی ھندوپاک میں جستہ جستہ موجود ہیں۔ لیکن یہ جو "ٹریلین ڈالرسیکیولرزم اورلبرلزم” خصوصاً پاکستان میں انسٹال کیا گیا ہے اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ معلوم نہیں ھندوستان کے اندر بسنے والے سیکیولرز اور لبرلز اپنے افغان لبرل بھائیوں کو پناہ دینے سے انکار کے جرم کےخلاف آواز اٹھاتے ہیں یا نہیں لیکن یہ جو پاکستان کے اندر جعلی لبرلزاورسیکیولرز ہیں ان کو تو گویا سانپ سونگھا ہوا ہے اور وہ اپنے افغان سیکیولراور لبرل بھائیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر اپنے آقاوؑں سے معمولی احتجاج بھی کرنے کو تیار نہیں۔ شاید انہیں یہ فکر لاحق ہوگئی ہے کہ کہیں امریکی عوام ان پر خرچ کئیے جانے والے ڈالروں کا حساب لینے پر نہ اتر آئیں۔

دس لاکھ کے عدد کو مغرب والے ایک ملین کہتے ہیں۔ ان کے ہاں کروڑ نہیں ہوتا بلکہ ایک کروڑ کو وہ لوگ دس ملین کہتے ہیں۔ ہمارا ایک ارب، ان کے ایک بلین کے برابر ہے۔ ان کے ایک بلین ڈالرز میں ہزار ملین ڈالرز ہوتے ہیں۔ اور ایک کھرب یعنی ایک ٹریلین ڈالرز میں ایک ہزار بلین ڈالرز ہوتے ہیں۔ ٹریلینز پر بعد میں آتے ہیں۔ پہلے ذرا بلین ڈالر گیم کو ٹھیک طرح سے ہضم کرلیں۔

یہ بات اس لئیے لکھی تاکہ ہم معصوم پاکستانیوں کو ایک بلین ڈالرز کی اہمیت کا احساس شرح صدر کے ساتھ ہوجائے۔ آج کل ہمارے ملک کا سالانہ بجٹ تقریباً ۵۵ بلین ڈالرز کے اخراجات کیلئیے بنتا ہے۔ جبکہ ملک کی اصل آمدنی تقریباً ۲۱ بلین ڈالرز کے برابر ہوتی ہے۔ اس آمدنی میں ہم بیرون ملک پاکستانیوں کے اپنے خاندان کو بھیجے گئے ریمیٹنسز بھی شامل کرلیں تو ۵۵ بلین ڈالرز کے اخراجات کے مقابلے میں ہماری کل آمدنی محض بیالیس بلین ڈالرز کے آس پاس بنتی ہے۔ یعنی ہمارا پیارا وطن ہر سال تقریباً تیرا بلین ڈالرز کا قرض لینے پر مجبور ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے اب اس قرض لینے کی "لت” کو پاکستان کا اقتصادی "نارمل” بنادیا ہے۔ اگر بیرون ملک پاکستانیوں کے ریمیٹنسز نہ آتے ہوں تو یہ ملک اتنے بڑے اخراجات کی بنا پر کب کا دیوالیہ ہوچکا ہوتا۔ میرا مطلب ہے اعلانیہ طور پر۔

جنرل مشرف کی جس وقت اقتدار سے چھٹی ہوئی تھی تب مبینہ طور پر ملک کے خزانے میں قرض سے پاک تقریباً ساڑھے بارہ بلین ڈالرز کا ھارڈ کیش موجود تھا۔ تب سے پہلے ہماری مقتدرہ کے ہاتھ یکمشت اتنے بلین ڈالرز، اور وہ بھی ھارڈ کیش، کبھی خواب میں بھی نہیں لگے تھے۔ اس سے پہلے جو بڑی رقم کبھی ہمارے ہاں آئی تھی وہ ضیا صاحب کے دورِ بابرکت میں آئی تھی۔ اور وہ تھی آزاد دنیا کے واسطے افغان جہاد کیلئیے ملنے والے تقریباً ساڑھے چار بلین ڈالرز۔

اس سے اندازہ لگالیں کہ ان چند "بلین” ڈالرز، کہ جو مغرب کی جانب سے "اسلامی شدت پسند، جہادیوں” تک پہنچوائے گئے انہوں نے اس پورے ریجن کی تاریخ اور جغرافیہ بدلنے میں کیسا ہولناک کردارادا کیا۔ سوویت یونین جیسی طاقت صفحہ ہستی سے مٹ گئی اورلاکھوں افغان اور پاکستانی شہید ہوئے۔ انہی چند بلین ڈالرز کے عوض، سوویت یونین سے آذادی کی جو لہر افغانوں کی ایک نسل میں اٹھی تھی وہ آنے والی دوسری اور تیسری افغان نسلوں میں، طالبان کی تحریک کی شکل میں جاری رہی اور اب اس کا مقصد، خود امریکہ کے جبری قبضے سے آذادی تھا۔

اب امریکی حکومتوں یا میڈیا سے نہیں بلکہ براہ راست امریکی عوام سے یہ سوال کیا جانا ضروری ہوگیا ہے کہ کیا انہیں معلوم بھی ہے کہ ان کی خون پسینے کی کمائی پر لگائے گئے ٹیکس کی آمدنی اور قومی دولت کے چند بلین ڈالرز نے کتنے انسانوں کی نسلیں نگل لیں؟ اور آج بھی اس دنیا کی سات بلین سے زیادہ آبادی کی زندگیاں کسی وقت بھی کسی نئے نائن الیون کے نتیجے میں جہنم بنائی جاسکتی ہیں؛ تو کیا امریکی عوام اسے بھی خاموش تماشائی بن کے دیکھتے رہیں گے؟ کیا انسانی ضمیر، ہم "عام انسانوں” کے درمیان مشترکہ میراث نہیں؟ یا ہم انسان یہ تسلیم کرلیں کہ، مشترکہ طور پر، ہم دراصل اسلحے کی بیوپاری کچھ عفریتوں کے شکنجے میں ہیں؟ اور امریکی عوام سمیت ہم تمام دنیا کے ساڑھے سات ارب انسان ان عفریتوں کی بساط پرمحض مہرے اور نفسیاتی غلام بن کر ہی مرتے اورجیتے رہیں گے؟

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سارے افغان ہی طالبان اور شدت پسند ہیں انہیں اب آنکھیں کھول لینا چاہئیں۔ امریکہ اور "افغان حکومتیں” گذشتہ بیس سالوں میں جو "نیشن بلڈنگ” کرتی رہی ہیں وہ کیا ان شدت پسند اور طالبان ذہنیت اکثریتی افغانوں کے سہارے سے کرتی رہی ہیں؟ ہرگزنہیں۔ وہاں شہروں میں خواہ کتنی ہی قلیل تعداد میں ہو، ایک طبقہ یقیناً ایسا ہے جو مغرب کی جدیدیت کے ساتھ مکمل ہم آھنگ ہے ویسے ہی جیسے پاکستان میں میرا جسم میری مرضی کے ترانے گانے والا طبقہ۔ یہ سیکیولر، ملحد یا لبرلز پر مشتمل طبقہ اپنے مقاصد کے ساتھ اسی قدرشدت اور جنون کے ساتھ منسلک ہے جس قدرشدت کے ساتھ دونوں ممالک کے اسلام پسند اپنے مذہب کے ساتھ منسلک ہیں۔

ہاں پاکستان کے جدید لبرلزمیں سے ایک قلیل طبقہ ایک بات میں یقیناً افغان لبرلز سے بہت مختلف ہے۔ جعلی پاکستانیوں کا یہ لبرل طبقہ نہ اپنے لبرل مقصد سے اتنا مخلص ہے جتنے کہ افغان لبرلز اور سیکیولرز اور نہ ان میں افغانوں جیسی اپنے لبرل مقاصد سے بہادری کے ساتھ ڈٹے رہنے کی کمٹمنٹ ہے۔ افغان لبرلز کے مقابلے میں یہ ہمارے پاکستانی لبرلز تو محض ایک ڈالرخور مافیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر بزدل، سوشل میڈیا پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے جبری ہتھکنڈوں کے ہتھیاروں سے لیس، عالمی بدمعاشیوں کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبا دینے کے ماہرہیں۔ اس عمل میں سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمزکے اندر گھسے ہوئے ان کے اپنے بندے، ان کو جواب دینے والوں کواشاروں کنایوں میں دہشت گردی میں ملوث کردینے کی دھمکیاں دے کر چپ کروا دیتے رہے ہیں۔ ان میں سے بہت سے بزدل اندر سے ایک مذہبی جنونی کلٹ کےگھٹیا مقاصد کیلئیے، پاکستان کی ریاست کو کمزور کرنے کا کام کررہے ہیں۔ یعنی بیشترپاکستانی لبرلزاور سیکیولردراصل جعلی لبرلزاورجعلی سیکیولرہیں اوراندر سے مذہبی کلٹش جنون اور پاگل پن کے مریض ہیں۔ ان مریضوں میں سے ہر دوسرے تیسرے بندے پراچانک "وحی” آنے لگتی ہے اور وہ صحیفے لکھنے لگتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ یہ شیاطین ایک دوسرے کو وحی کرتے رہتے ہیں۔ ان بزدل مکاروں کا پاکستان کی ریاست اور اس کے کروڑوں مسلمان عوام کے خلاف لڑائی کا سب سے بڑا میدان سوشل میڈیا ہے۔ سوشل میڈیا پریہ محض لبرلز کے روپ میں اپنی کارروائیاں نہیں کرتے بلکہ اہلِ تشیع بن کر سنیوں کے خلاف، سنی بن کر اہلِ تشیع کے خلاف، بریلوی اور وہابی اور اہلِ حدیث بن کر ان سب کوایک دوسرے کے خلاف مشتعل کرتے اور ایک دوسرے کے خلاف اکساتے رہتے ہیں۔ اِن جنونیوں کا اصل مقصد صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنے مذہب، آئین اور ریاست سے بالکل مایوس کردیا جائے تاکہ جب ہماری جڑیں کھوکلی ہوجائیں تو یہ کلٹش جنونی مغربی طاقتوں کے کندھوں پرسوار ہوکرآئیں اورپاکستان پر اسی طرح قبضہ کرلیں جیسے جنوبی سوڈان یا ایسٹ تیمورپرقبضہ کروایا گیا یا مصر میں جعلی لبرلز کی تحریک چلو اکر منتخب مسلمان حکومت کو ختم کروایا گیا۔

یہ غداروں کا گروپ اب اپنی حرکتوں میں اتنا گرگیا ہے کہ سوشل میڈیا پرآخری نبی کریم حضرت محمد صلعم کا نام لے کر ہیٹ سپیچ اورتوھین کرتا ہے۔ آپ کی اپنے مذہبی عقیدے پر مبنی پوسٹ پرآپ کو ماں بہن کی گالیاں دے کر فرارہوجاتے ہیں۔ ایک جانب تو یہ خواتین کی عزت اور حقوق کے علمبردار ہونے کا چولا پہنتے ہیں اور دوسری جانب یہ منافق اپنے نظری مخالف پر حملے کی ابتدا ہی ان کی خواتین کی توھین سے کرتے ہیں۔ خود انہوں نے تو اپنی خواتین کو پاکستان کے مذہبی اور سماجی کلچر سے بے بہرہ کردیا ہے سو انہیں تو اپنی خواتین اور ان کی عزت کی کوئی پرواہ نہیں سو یہ بے غیرت اپنے مخالفین کی گھریلوباعزت مسلمان خواتین پر کیچڑ اچھالنے کی اشاروں کنایوں میں دھمکیاں دے کرشریف مسلمانوں کی جانب سے اپنے خلاف ہوسکنے والی کسی بھی قانونی کاروائی کو روک لیتے ہیں۔ چونکہ پاکستان کے سرکاری وسائل پر پاکستانی سماج سے نفرت پر مبنی اپنے گھٹیا عقاید کی بنا پریہ کھلم کھلا تو قابض نہیں ہوسکتے، اس لئیے پاکستان کے سرکاری نظام میں عمومی کرپشن کے ماحول کا فایدہ اٹھا کریہ اپنے چنے ہوئے مخالفین کو جھوٹے سچے الزامات لگا کر بلیک میل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس سب کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پر یہ پاکستان کی ریاست کو بدنام کرنے کی جو مسلسل مہم جوئی کررہے ہیں اس کا جواب دینے کی کسی محب وطن فرد کو جرات نہ ہوسکے۔ فیس بک پرتو گویا انہیں کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے کہ یہ جعلی ناموں اور پروفائیلز اور تصویروں کے پردے میں آپ کو گالیاں دیتے ہیں، دھمکیاں دیتے ہیں اور پھر وہ پروفائل فیس بک کا سسٹم ان ایکٹِو کردیتا ہے۔ اِن حرکتوں کے ثبوت بھی موجود ہیں۔ اس پورے کھیل کے پیچھے بہت سے جنونی پاکستان سے باہر بیٹھ کر پاکستانیوں کے خلاف یہ بدمعاشی جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ وہاں وہ پاکستان کے قانون کی ذد سے باہر ہیں اس لئیے وہ جو چاہیں کرسکتے ہیں۔ اِن بزدلوں کا علاج صرف یہ ہے کہ ان کی ان تمام حرکتوں کا ریکارڈ بنایا جائے، فیس بک کو شکایت کی جائے اور اس پر فیس بک کا کیا ردعمل تھا اس کا بھی ریکارڈ رکھا جائے۔ ان کا مقابلہ کرنے کیلئیے "سوشل میڈیا محب وطن پاکستانیز” کا ایکشن گروپ بنایا جائے۔ اس میں قانونی ماہرین کو شامل کیا جائے۔ ان کے جعلی ناموں سے نفرت انگیزی کرنے والوں کا فیس بک مینیجمنٹ کے ذریعئیے پیچھا کیا جائے۔ ان کی ہرمنافرت پر مبنی بکواس پرسوشل میڈیا پرعالمی مہم چلائی جائے اوران کے اپنے ممالک میں ان کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔ اطلاع ہے کہ کچھ سوشل میڈیا کمپنیوں کے نمائندے پاکستان کا دورہ کررہے ہیں۔ انہیں غالباً ڈر ہے کہ پاکستان اورمحب وطن پاکستانیوں کے خلاف جو میڈیا دہشت گردی کروائی جارہی ہے، اس کے جواب میں حکومت کہیں ان کمپنیوں کو ہی بین نہ کردے۔ مجھے یاد ہے کہ چند سال پہلے، کے پی کے کی ایک یونیورسٹی میں ایک طالبعلم کی ہجوم کے ہاتھوں شہادت کے بعد، ایک سوشل میڈیا گروپ کے اہم عہدیدار نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور کچھ دنوں میں ہی فیس بک کی استعمال کی شرائط میں سختی آگئی تھی۔ پاکستانی لبرلز کی جانب سے جعلی پروفائلز کے ذریعئیے مسلمانوں کے خلاف "ہیٹ سپیچ” اور اشتعال انگیزیاں بھی کم ہوئی تھیں۔ لیکن اب پھر سے ان بزدلوں نے جعلی ناموں سے یہ تمام حرکتیں دوبارہ شروع کردی ہیں۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے ان سوشل میڈیا کمپنیز پر یہ واضع کردینا ضروری ہے کہ ان کمپنیوں کی سرپرستی میں پاکلستان کی ریاست، آئین اور اس کے فیصلوں، پاکستان کے کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی عقیدے اور عوام کے مفاد کے خلاف کوئی بدمعاشی، آذادی اظہار و حقوق انساں، صحافت اور میرا جسم میری مرضی، کسی بھی عنوان کے تحت برداشت نہیں کی جائے گی۔

واپس آتے ہیں پاکستان کے ان جعلی اورافغانستان کے خالص لبرلزپر۔ افغان لبرلزکی "جدوجہد” کی توچلوایک بہت مضبوط بنیاد ہے کہ ان کے مقابل مغرب ہی کی پیدا کی ہوئی مذہبی ریڈیکلزم کی ایک انتہائی طاقتورافغانی مذہبی تحریک ہے۔ لیکن پاکستان کے اِن بزدل لبرل دہشت گردوں کا مقابلہ ایک پوری مہذب اسلامی تہذیب اوراس کی علمبردار اسلامی جمہوری ریاست سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغان لبرلز نے توکبھی بھی شعائرِاسلام کی توہین اس طرح سے نہیں کی جس طرح یہ کم ظرف پاکستانی لبرلز کرتے ہیں۔ جہاں کہیں بھی لبرلزاورجنل نہ ہوں اورمحض "سیکنڈری انفیکشن” کے نتیجے میں لبرل بنے ہوں ان کی زندگی کا مقصد محض مخالف کے عقیدے کی تذلیل تک ہی محدود ہوتا ہے۔ اِن کے پاس ریاستی پیمانے پر عام آدمی کی عمومی فلاح کا کوئی منصوبہ نہیں ہوتا۔ یہ ریاستی پیمانے پر مخالف گروہ، خواہ وہ کتنی بڑی ہی اکثریت میں ہو، کے انسانوں کے ریاستی حقوق کی کوششوں کو سیبوٹیج کرتے ہیں۔ ان کے مقابل، ھیگل کی کلاسیکل آئیڈئیلسٹ یا پوسٹ ماڈرن ڈیکنسٹرکشن جیسی بے سروپا تھیوریاں رائج کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی ڈیکنسٹرکشن، انسانوں کے عمومی فلاحی حقوق کو چھوٹے یا ثانوی مسلوں کے نان ایشوز کے شور میں دبا دیتی ہے۔ مثلاً خواتین کے حقوق، ہیجڑوں کے حقوق، ہومو سیکشولز کے حقوق یا سیم سیکس میرج وغیرہ۔

تصور میں لائیں کہ پاکستان کے یہ جعلی لبرلز دراصل افغانی تھے اوراولین فراری ایام میں وہاں کابل ایرپورٹ پرامریکی جہازوں میں بیٹھ کر فرار ہونے کی کوشش کررہے تھے۔ ہزاروں کے مجمعے اورجہاز کے اندر گھسنے کی کھینچا تانی میں، ان میں سے کوئی تو جہاز کے دروازے کے قریب امریکی فوجی سے یہ کہہ رہا ہوتا کہ اے عظیم سپاہی مجھے توجہاز کے اندر جانے دو میں تو ان کے، نبیﷺ جنہیں یہ لوگ آخری نبی اس طرح مانتے ہیں کہ اس عقیدے پر اپنی جان بھی قربان کردیں، میں تو سوشل میڈیا پر ان کے نبی کی توھین کرنے والوں کی ٹیم کا سربراہ تھا۔ اے عظیم فوجی میرا تو خیال کرو۔ تو وہ مرین جواب دیتا کہ اوذلیل انسان، کیا تجھے تیری اس خدمت کا معاوضہ نہیں ملا؟ ہم نے کیا پورے تین ٹریلین ڈالرزفقط اس افغانستان کی نیشن بلڈنگ پرلگائے ہیں؟ یہ سب کچھ تم جیسوں پر ہی تو خرچ ہوا ہے۔ چل پیچھے ہو۔ ایک اور سوشل میڈیا ماہر زور لگاکر جہاز کے دروازے کے قریب ہونے کی کوشش کرتا تو ایک اور مرین اس پر گن تان لیتا تو یہ گھگیاتا، مائی باپ، میں تو اچھے بھلے محب وطن پاکستانیوں کی جعلی آئی ڈی بناکران کی طرف سے پاکستان کے خلاف، مذہب کے خلاف یا دہشت گردی کی حمایت میں یا لبرلز کے خلاف دھمکیوں کی پوسٹس لگانے کا ماہر تھا۔ میں نے تو نجانے کتنے لوگوں کو کراوڈ ٹارچراور قانون کی پکڑ میں لا کر پھنسایا اور ان کے پورے پورے کنبوں کو برباد کردیا، اے عظیم فوجی میرا کیا جہاز کی ایک سیٹ پر بھی حق نہیں؟ تو وہ مرین اسے حقارت سے دیکھتا اور بتاتا کہ ہمارے تین ٹریلین ڈالرز میں جہاز کی سیٹس کی بکنگ شامل نہیں تھی۔ جہاز کی وہ سیٹ ہمارے اپنے کتوں کیلئیے ہیں۔ ایک اوربدبخت لجلجا کر ایک فوجی کے جوتے چومنے کی پوزیشن اختیار کرکے کہتا کہ میرے آقا، میں تو ان کے اندر سے ان کی خواتین کی غیرت نکالنے پر معمور تھا، میں تو عورت کی عزت و وقار کو ان کی پور پور سے نچوڑنے کی مہم کا سب سے بڑا علمبردار تھا، میں توان کی اس حساس غیرت کو ان کی کم زوری بنانے کی تاک میں رہتا تھا، مجھ سے تو ان کے بڑے بڑے پھنے خان دانشورمعاشرے میں اپنی عزت کے خیال سے ڈرتے تھے۔ یہ تو اس واقعے سے پہلے یہی سمجھا کرتے تھے کہ ان کا نسائی وقاراورغیرت کا نظریہ ناقابلِ شکست ہے۔ جس پر ہم نے کاری ضرب لگائی اورکیاان کی غیرت، یعنی عافیہ صدیقی کا مسلسل امریکی جیل میں سڑنا، پاکستانیوں کی اجتماعی غیرت کو لاشعوری طور پر بے بس کرکے کچلنے کا ایک موثرنفسیاتی حربہ نہیں؟ اگران کا سوشل نارم پہلے جیسا مضبوط ہوتا تو کیا میرا جسم میری مرضی جیسے چند سو لبرلز کے ڈرامے کرنے کی کسی میں جرات ہوتی؟ اے عظیم فوجی کیا میری خدمات کی اتنی اہمیت بھی نہیں کہ مجھے جہاز میں ٹوائلٹ کے سامنے والی اکلوتی سیٹ ہی مل جائے؟ فوجی، جوتے کی ٹو سے اس کے منہ کو واپس مجمعے میں گھسیڑ دیتا۔

ایک اور دانشور نما لبرل مجمعے میں سے کھینچا تانی کرکے جہاز کے دروازے کے قریب کھڑے فوجی کے ہاتھ چومنے کی کوشش کرتے ہوئے کہتا۔ اے عظیم فوج کے بہادر جوان، میں ان بہت سے دانشوروں میں شامل ہوں جو ہر امریکی ڈرون حملے پر سوشل میڈیا پر جسٹیفکیشن جرنلزم کی ٹیکنیک عام کرنے کے ماہرتھے۔ میری دیکھا دیکھی تمام لبرلز نے ہر ڈرون حملے میں مارے جانے والے معصوم سویلین مردوں، خواتین اور بچوں کی اموات اور ان کے گھرانوں کی بربادی کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا "کولیٹرل ڈیمیج” قراردینا شروع کردیا۔ میرا جہاز میں بیٹھنا تو بنتا ہے جناب۔ میں جہاز کے اندرتمہارے کتے کو اپنی گود میں لے کربیٹھ جاوں گا۔ فوجی نے اس پر اپنا کتا چھوڑ دیا ہوگا۔

پاکستان کے جعلی لبرلز کی اپنے افغانی لبرل بھائیوں کی بربادی پر خاموشی، اس پورے کھیل کا پردہ چاک کررہی ہے۔ کابل میں پھنسے ہوئے مغرب کے مددگار تمام افغانی، امریکی فوجی جہازوں میں بیٹھ کر نکل جانا چاہتے تھے۔ کسی بھی شدید ھنگامی صورتحال میں ریسکیو کا ایک اصول ہے، اور وہ یہ کہ بچے، بوڑھے، بیماراور خواتین کو پہلے ریسکیو کیا جاتا ہے۔ فوجی ریسکیو میں اسی ترتیب میں سویلین کو ترجیح دی جاتی ہے۔ سویلین میں بھی یہ نہیں دیکھا جاتا کہ یہ افغانی سویلین ہے یا امریکی سویلین اور فوجی۔ وہاں یقیناً بیماروں اور زخمیوں کو ترجیح بھی دی گئی ہوگی۔ لیکن طالبان کا ایسا خوف بھی کیا کہ بزدلی کے ریکارڈ قائم کرکے بھاگتی ہوئی فوج نے مبینہ طور پر جس طرح اپنے کتوں کو ان اپنے بیس سالہ لبرل افغان مددگاروں پر ترجیح دی وہی اس پوری مہم کوجنگی جرائم میں شامل کرنے کیلئیے کافی ہے۔ وہ صرف دو بندے نہیں تھے جو فوجی جہاز سے چمٹ گئے تھے اور ٹیک آف کرتے ہوئے جہاز سے نیچے گرے۔ وہ تو محض اس وقت کے کیمروں میں محفوظ رہ جانے والا ایک منظر ہے جو ٹی وی پر دنیا نے دیکھ لیا۔ ورنہ تو یقیناً وہاں ایک ہجوم تھا جو نجانے کتنے جہازوں سے چمٹتا رہا اور راستے میں نجانے کہاں کہاں پر وہ بیچارے گرتے رہے اور مرتے رہے۔ حیرت ہے کہ پاکستان کے لبرلز نے ایک لفظ بھی اس امریکی ظلم اور بے حسی کے خلاف اور اپنے لبرل افغان بھائیوں سے ھمدردی میں نہیں کہا اور نہ وہ اب انڈیا کی جانب سے انہیں پناہ دینے سے انکار پر کررہے ہیں۔ یہ پاکستانی جعلی لبرلز، ان کو شرم نہیں آتی کہ انکےاپنے افغان لبرل بھائی، فوجی بھگوڑوں کی بزدلی کی بھینٹ چڑھ گئے اور ان کے لب پر ایک لفظ بھی احتجاج کا یا ان بے چارے افغانیوں سے ھمدردی کا نہیں نکلا اور یہ محض پاکستان میں یا بیرون ملک بیٹھ کر انتظار کررہے ہیں کہ کب کہیں کسی افغان شہر سے طالبان کے خلاف کسی مزاحمت کی خبر آئے تو یہ پاکستان میں میرا جسم میری مرضی کے شیطانی رقص شروع کروائیں۔

امریکی عوام کو براہ راست سمجھایا جانا ضروری ہوچکا ہے کہ تمہارے وارمونگر، خون آشام عفریتوں جیسے حکمرانوں نے تمہارے تین ٹریلین ڈالرز، تمہارے ہی نام پر، تم جیسے لاکھوں انسانوں کو برباد کرنے پر پھونک دئیے اور تمہیں اس کا احساس تک نہیں۔

کیا افغانستان کی نیشن بلڈنگ کی کوئی نشانی ایسی ہے کہ جسے دیکھ کر کہا جاسکے کہ ہاں اس ملک میں ایک ٹریلین ڈالرز نہ سہی ایک بلین ڈالر تو یقیناً لگا ہوگا؟ امریکی عوام پوچھیں کہاں لگائے گئے وہ ٹریلئینزآف ڈالرز؟

کہاں تو "اسلامی شدت پسند” جہادیوں کیلئیے چند بلین ڈالرز کی امداد نے سوویت یونین کا قلع قمع کردیا تھا اور کہاں اس سے کئی ہزار گنا بڑی رقم، یعنی ٹریلینز آف ڈالرز ملنے کے باوجود اس خطے میں پائے جانے والے جعلی اور اصلی شدت پسند لبرلز، افغانستان کی نیشن بلڈنگ نہیں کرسکے۔ اور طالبان کو واپس اقتدارمیں آنے سے نہیں روک سکے۔

ان ٹریلینز میں سے کچھ نہیں تو چند سو بلین ڈالرز تو یقیناً خطے کے جعلی اور اصلی لبرلز کو بھی ملے ہوں گے۔ ان میں سے اگر پچاس بلین بھی پاکستان کے ان چڑی ماروں کے ہتھے لگے ہوں تو ان میں سے کون ہے جو اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ ہونے والے امریکی ظلم پر ذرا سی چوں چرا بھی کرسکے۔ لیکن امریکی عوام کو تو یہ بات براہ راست، پیپل ٹو پیپل میڈیا کانٹکٹ کے ذریعئیے بتائی جاسکتی ہے کہ پوچھیں اپنے خون آشام حکمرانوں سے کہ سوویت یونین کو ختم کرنے میں اگر مسلم شدت پسندوں پر فقط ساڑھے چار بلین ڈالرز صرف ہوئے تھے تو اِن لبرل شدت پسندوں پر سیکڑوں بلین ڈالرز صرف کرکے امریکہ نے اپنے عوام کیلئیے اورباقی دنیا کیلئیے آخر کیا حاصل کیا؟

نوٹ: ادارہ کا مصنف کی رائے سے اتفاق ضروری نہیں۔

Advertisement

Trending