تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ تریندیگرعلم و ادب

شوق، شغل اور عیاشی —– کومل راجہ

by دانش ڈیسک 24/08/2021
written by دانش ڈیسک 24/08/2021
172

رفقائے مکرم!
حال کچھ یوں ہے کہ الفاظ کے صوتی اظہار سے زبان نہیں بلکہ دماغ قاصر ہے۔ ذہن کی اس حالت سے برسرِ کلام ہوں جہاں مسلسل کام کرنے سے ذہن باآوازِبلند گویائی کے کسی بھی تجربے کو سویکارنے سے انکاری ہو۔ اپنے یہاں پچھلے کئی ماہ سے آغازِ سحر کا سلسلہ احمد جاوید صاحب سے شاعری پڑھنے سے جڑا ہے۔ استاذِ محترم سے ہر روز اتنا کچھ سیکھنے کو ملتا ہے کہ صبح سویرے ہی گوشہ ہائے شعور میں مختلف انواح کی تخیلاتی ممکنات کا انبار لگ جاتا ہے۔ جسکو ایک مربوط تحریری شکل دینے پر ذہن ہر لحظہ بضد رہتا ہے مگر ذہن کی ایسی طفلانہ بے تابیوں سے قطع نظر ہم جی کڑا کر کے اپنا دھیان ڈاکٹریٹ کے تحقیقی مقالے پر کام کرنے کی طرف کر لیتے ہیں۔ آج کا سارا دن تاریخِ کشمیر کے موضوع پر کیے مطالعے کا نچوڑ ایک تنقیدی جائزے کی صورت لکھنے میں صرف ہوا۔ شام تک شانوں، آنکھوں اور بازؤں نے ساتھ دینے سے صاف انکار کر دیا مگر ذہن کا یہ نفسیاتی مسئلہ ہے کہ جب اسے اس قدر فنکشنل طرز پر رکھا جاتا ہے تو وہ بآسانی اس سے نبرد آزما نہیں ہوتا جب کے جسم ایک خاص مدت تک ہی دماغ کے ساتھ نبھا کر پاتا ہے۔ ہمارےساتھ بھی آج کچھ یوں ہی ہوا کہ جسمانی طور پر ہم تھکن سے چور ہو گئے مگر ذہن بیش فعال ہونے کے کیف سے دوچار تھا۔ ایسے میں ہم نے چہل قدمی کی ٹھانی اور “نورڈ فریڈہاف” یعنی میونخ شہر کے شمالی قبرستان کی جانب جاتےہوئے کوچوں کی طرف ہو لیے۔ اوستروالد گلی کے نکڑ میں بیٹھ کر زرد روشنیوں تلےیہ تحریر سپردِ قلم کر رہے ہیں جسکامحرک احمد جاوید صاحب کا وہ ویڈیو لیکچر ہے جس میں انہوں نے علامہ اقبال کی نظم “مزرا غالب” کا زکر کیاہے۔

ہم نے سوچا شاعری کا ذوق کم شوق رکھنے والے اشخاص کی مشکل حل کر دینے میں ہمارا کیا جاتا ہے سوائے ایک آدھ تحریر کے۔ مرزا نوشہ پر لکھی اس نظم میں اقبال لاہوری نے نا صرف مرزا کی قصیدہ گوئی کی ہے بلکہ شاعری کے طلبہ کے لیے پوئٹکس کی تھیوری بیان فرما دی ہے۔ اب یہ ہر ایک کی صوابدید پر ہے کہ وہ اس سے کتنا سیکھتا ہے۔ علامہ کی نظم کے چند اشعار یوں ہیں:

فکرِ انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہوا
ہے پرِ مرغِ تخیل کی رسائی تا کجا

دید تیری آنکھ کو اس حسن کی منظور ہے
جس طرح ندی کے نغموں سے سکوت کوہسار

تیرے فردوس تخیل سے ہے قدرت کی بہار
تیری کشت فکر سے اگتے ہیں عالم سبزہ وار

زندگی مضمر ہے تیری شوخی تحریر میں
تاب گویائی سے جنبش ہے لب تصویر میں

جس طرح ہر فنونِ لطیفہ کے اعلیٰ اظہار کے پیچھے روایت سے جڑی کوئی نا کوئی تھیوری کارفرما ہوتی ہے اسی طرح عمدہ اور بڑی اردو شاعری کے بھی کچھ لازمی جزو ہیں جو بآسانی مندرجہ بالا اشعار سے کشید کیے جا سکتے ہیں۔ مثلاً

۱۔ حسنِ اظہار

۲- فکرِ انسانی

۳- تخیل

میری ناقص سمجھ کے مطابق حسنِ اظہار کا تعلق زبان پر عبور اور جمالیات سے ہے۔ فکرِ انسانی معنویت اور عقل و شعور کی بلندیوں سے عبارت ہے اورتخیل سے مراد طبیعات و مابعدالطبیعات کی وہ وسعتیں ہیں جہاں حیرت اور احساس، معنی اور عقل کو شکست دے دیں۔

ضروری نہیں ہر شعری اظہار ان تین اجزا کا پاس کرے بعض شعرگوئی ایسی بھی ہوتی ہے جسکے بارے میں خدائے سخن میر تقی میرؔ نے کہا ہے کہ

ایسی غزل سنا کے جو خواہ خاں ہوں داد کے
یہ بھی بڑا کرم ہے کہ ہوں ہوں کروں ہوں میں

مزید برآں ایسے شعری فن پارے تخلیق کرنے والوں کا حال چراغ حسن حسرت کی زبانی ان شعراء جیسا ہے جو “ذرا سا گھر میں شور ہوا اور وہ سر کے بال نوچنے لگے۔ ہائے عنقائے مضمون دام میں آکے نکل گیا۔ کم بختو ملعونو تمہارے شور نے اسے اڑا دیا۔ ” ????

خیر ہماری تحریر میں کسی کی تحقیر یا تمسخر مقصود نہیں۔ یہ تو بس یونہی زہن کی جگالی کے طور پر ہمارے فارغ الوقتی کا وہ عیش ہے جس کے بارے میں مرزا نوشہ نے اپنے کسی خط میں فرمایا ہے “سنو صاحب، جس شخص کو جس شغل کا شوق ہو، اور وہ اس میں بے تکلف عمر بسر کرے، اسے عیش کہتے ہیں۔ ”

آج کے لیے اتنا ہی!
دعاؤں کی طالب
کومل راجہ
ستمبر ۲۰۲۰
وِلی گراف ستراسے ۲۱
۸۰۸۰۵
میونخ، جرمنی

یہ بھی پڑھیں: دانشِ عصر: احمد جاوید (اردو ناول ،  کلاسیکی و جدید روایت) گفتگو: خرم سہیل- حصہ 1
Facebook Comments Box
Ahmad Javedاحمد جاوید
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
شیخاواٹی اور راجپوتوں کے قصے – 8 —- عطا محمد تبسم
next post
کیا طالبان کی فتح مغرب کی سلطنت کے خاتمےکا نکتہ آغاز بنے گی؟ —- ڈیوڈ ہرسٹ

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.