تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترینصنف/ جینڈر

بھیڑ اور بھیڑیے: نئی کہانی، پرانا انجام —– سعدیہ بشیر

by دانش ڈیسک 21/08/2021
written by دانش ڈیسک 21/08/2021
141

بھیڑ کا بچہ ندی پر پانی پینے آیا تو بھوکے بھیڑیے کی نیت خراب ہو گئی۔بھیڑیا بھیڑ کے بچے کو کھانا چاہتا تھا اس لیے اس نے بھیڑ کے بچے پر الزام لگایا کہ تم نے مجھے بہت تکلیف پہنچائی تھی۔ بھیڑ کے بچے نے معصوم نظروں سے بھیڑیے کو دیکھا اور کہا لیکن میں تو پہلی بار اس ندی پر آیا ہوں۔ بھیڑیے نے کہا لیکن میں پھر بھی تمہیں کھاوں گا مجھے یاد آیا کہ وہ تمہاری ماں تھی جس نے مجھے نقصان پہنچایا تھا۔ اس کہانی کے دو انجام پڑھے تھے۔

1۔ بھیڑیے نے بھیڑ کے بچے کو کھا لیا۔

2۔ بھیڑ کا بچہ بھیڑیے کی نیت سمجھ کر بھاگ نکلا۔

بس اس دن سے بھیڑیا روپ بدل بدل بدل کر بھیڑ کے پیچھے ہے۔ اس کی نیت میں کھوٹ ہے۔وہ جانتا ہے بھیڑ نے اسے کبھی کوئی نقصان نہیں پہنچایا لیکن اس کی الزام تراشی بند نہیں ہوتی۔ وہ ہر بار بھیڑ کو نئے سرے الزام دینا جانتا ہے۔افسوس تو یہ ہے کہ کچھ بھیڑیں بھی روایت اور اقدار کے نام پر اس الزام تراشی میں شامل ہو جاتی ہیں۔

شیطان کے چیلوں کے بارے میں تو سنا ہے لیکن اس غلیظ بھیڑیے کے گرگے ہیں جن کے پاس احساس یا شعور نام کی کوئی چیز ہی نہیں۔ ان کے پاس ہزارہا جواز ہیں۔کبھی بھیڑ کے کپڑے، کبھی اس کی تربیت، کہیں اس کے مقام، کبھی اس کی حدود اور کہیں خدا بن کر بھیڑ کی نیت کو بنیاد بنا لیتے ہیں اور کئی مقامات پر تو خود اس کی بنائی حدود میں جا کر اسے نوچ لیتے ہیں۔بھیڑ کسی ندی پر پانی پینے نہ بھی جائے تو بھی اس کو تلاش کر لیتے ہیں۔کئی بھیڑیے تو اپنی آئی ڈی پر بھیڑ کی تصویر سجا کر بھیڑ سے دوستی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور موقع نہ ملنے پر لعنت بھیج پر اپنا لبادہ تبدیل کر لیتے ہیں۔ کہیں پر تو وحشی بھیڑیے بھیڑ کو شرعی طور عزت سے اپنے گھر لاتے ہیں اور کبھی فورا ہی اور کہیں سسکا سسکا کر اور تڑپا کر اسے جان سے مار دیتے ہیں۔اور خود کو نفسیاتی مریض قرار دلوا لیتے ہیں۔کئی نفسیاتی مریض بھیڑیے جن کی روحیں بھی گل سڑ چکی ہیں

کبھی اسمبلی کے اندر بھیڑ کو غیر اخلاقی القابات سے نوازتے ہیں اور کبھی جلسوں میں بھیڑ کو للکارتے ہیں۔ کبھی چنگ جی پر سوار بچی پر، کبھی ماں پر، کبھی قبر کھول کر اور کفن اتار کر، کبھی ٹک ٹاکر کو ویڈیو بناتا دیکھ کر، کبھی کسی بچی کو مسجد یا سکول جاتا دیکھ کر ان کی بد نیتی اور ہوس سنبھالے نہیں سنبھلتی۔ یہ بھیڑیے کسی بازار میں بھیڑ کو چٹکی کاٹتے ہیں،کبھی اس کے کاندھے یا جسم کو چھونے کی کوشش کرتے ہیں، کبھی دوپٹہ کھینچتے ہیں،کہیں برقعہ کے اندر جھانکنے کی ہوس،

ان۔کو اس سے بھی کوئی غرض نہیں کہ کس ہاتھ میں قران ہے،کن آنکھوں۔میں اعتماد ہے، کس چہرے پر بے زاری ہے، کن ہاتھوں نے اس کے لیے دعا کی ہے۔ کس نے اس کے لیے کھانے پکائے ہیں کون ان کے بچوں کی ماں ہے۔ killing game گیم میں ایک شیر ہے جو شہر کی سڑکوں پر گھومتا ہے اور اپنے رستے میں آنے والے ہر فرد کا خون پی لیتا ہے۔اب شاید کچھ شیر بھی بھیڑیے بن چکے ہیں۔یوں لگتا ہے کہ شہر میں بھیڑیے ناچتے پھر رہے ہیں اور ایک دوسرے کو نہ صرف ہلہ شیری دیتے ہیں بلکہ دوسروں کی حیوانی حرکات پر داد بھی دیتے ہیں۔ اب بھیڑیے خالص بھیڑیے نہیں رہے ان میں دوسرے جانوروں خاص طور پر سور،گدھ اور پاگل کتوں کی خصوصیات پیدا ہو چکی ہیں اور بھیڑ صرف بھیڑ ہے خوف زدہ، ڈری سراسیمہ۔۔ بھیڑیے کے پاس کوئی بہانہ یا جواز نہ بھی ہو لیکن وہ اپنے آپ کو روبوٹ ثابت کرنے سے بچانے کے لیے بھیڑ پر پل پڑتا ہے آخر اسے تحفظ اسی جواز نے ہی فراہم کیا ہے ناں۔ بھیڑ سمجھ لے کہ اس کہانی کا تیسرا انجام بھی لکھنا ہے۔اگر اس بھیڑیے کی حدود اور فوری قانونی سزا نہ دی گئی تو باہر کے دشمن کے بچے پڑھانے اور رائفلوں کے رخ باہر کے بجائے ان بھیڑیوں کی طرف کر دیے جائیں ورنہ یہ مہلت کم ہوتی جائے گی۔

سعدیہ بشیر

Facebook Comments Box
Ayesha Akramعائشہ اکرم ٹک ٹاکعائشہ اکرم ٹک ٹاکر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
عرفان صدیقی کی شاعری کا مطالعہ کلاسیکی شعریات کے تناظر میں —- معراج رعنا
next post
کالرہ اور کلاسرا ——– محمد خان قلندر

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.