تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیعلمیکالم

قائد اعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے: اسلامی یا سیکولر؟ —- احمد الیاس

by دانش ڈیسک 13/08/2021
written by دانش ڈیسک 13/08/2021
195

جب سے ہوش سنبھالا ہے، یہ بحث مسلسل سنی ہے کہ قائد اعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے ۔۔۔ کیسا پاکستان سے مراد عموماً یہی ہوتی ہے کہ اسلامی پاکستان یا سیکولر پاکستان۔ کتابوں میں قائد کے جو اقوال حوالوں کے ساتھ پڑھے تھے ان کے اعتبار سے تو قائد اسلامی سیاسی سوچ کے شخص ہی معلوم ہوتے تھے۔ یوں بھی جس شخص نے مذہب کی بنیاد پر ایک ملک توڑ دیا ہو، اسے سیکولر کیسے مانا جاسکتا ہے؟ کامن سینس ہی یہ بات تسلیم نہیں کرتی تھی۔ لیکن میڈیا پر ایک بھرپور تحریک تھی جو گیارہ اگست انیس سو سینتالیس والی تقریر کی روشنی میں قائد اعظم کو سیکولر سوچ کا فرد بتاتی تھی۔ جب ہم بڑے ہورہے تھے تو پہلے مشرف اور پھر پیپلز پارٹی کا دورِ حکومت تھا۔ دونوں کا رجحان سیکولرازم کی طرف تھا لہذا سیکولر قائد تحریک کو حکومتی سرپرستی بھی حاصل تھی۔ پھر مذہبی شدت پسندی اور دہشت گردی کے ردعمل میں اٹھنے والے “متبارل بیانیے” نے بھی قائد اعظم کو سیکولر ثابت کرنا ریاست اور انٹیلیجنشیا کی مجبوری بنا دیا تھا۔

اب نہ تو ملک میں سیکولرازم کی طرف مائل حکومت ہے نہ مذہبی شدت پسندی کا ویسا زور ہے کہ جس کا ردعمل پیدا ہو۔ لہذا اب کچھ سال سے یہ معاملہ کچھ ٹھنڈا پڑگیا ہے۔ لیکن قائد کی نظریاتی پوزیشن کیا تھی؟ یہ سوال اب بھی کئی ذہنوں میں ہے اور زیادہ تر ذہنوں میں اس کا کوئی واضح جواب نہیں ہے۔

واضح جواب نہ ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ اب ہم جن نظریات کے حوالوں سے سوچتے ہیں اور جن پیمانوں سے قائد کی نظریاتی پوزیشن کا اندازہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ نظریات اور پیمانے قائد کے زمانے میں یا کم از کم ان کی نظریاتی تشکیل کے زمانے میں اس طرح وجود ہی نہ رکھتے تھے۔

اب لوگ یہ بحث کرتے ہیں کہ قائد Islamist تھے یا Secularist ۔۔۔ مزے کی بات یہ ہے کہ قائد کے دور میں یہ اصطلاحات اول تو آج کی طرح رائج ہی نہیں تھیں، اور اگر تھیں بھی تو ان کے یہ معنی نہیں تھے جو آج ہیں۔

آج بھی ان دونوں الفاظ کے کوئی مخصوص معنی نہیں ہیں۔ سیکولرازم کی کوئی ایک طئے شدہ تعریف ملتی ہے نا اسلام ازم کا کوئی ایک برینڈ ہے۔ یہ دونوں الفاظ انتہائی مختلف قسم کے، رنگ ہا رنگ کے طرز ہائے حکومت و سیاست کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

ایکیڈیمیا اور میڈیا وغیرہ میں اصطلاحی طور پر اسلام ازم مولانا مودودی، حسن النباء، سیدّ قطب اور امام خمینی کی سیاسی فکر کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ چاروں شخصیات قائد سے کافی جونئیر ہیں۔ اسی طرح سیکولرازم کی اصطلاح اور اس کا شور بھی ہمیں قائد کے زمانے میں نظر نہیں آتا۔ خود قائد نے تمام عمر یہ لفظ استعمال نہیں کیا۔

قائد کی نظریاتی پوزیشن کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کے تشکیلی دور کو دیکھا جائے۔ جب قائد کے نظریات اور مزاج تشکیل پارہے تھے، اس دور میں ہمیں کراچی ایک بورژوا کاروباری، شیعہ مسلم، گجراتی فیملی سے تعلق رکھنے والے اس معتدل مزاج نوجوان پر وقت کی دو بڑی تحریکوں کے اثرات مرتب ہوتے نظر آتے ہیں : مسلم برصغیر کی علیگڑھ تحریک اور انگلستان کی کلاسیکل لبرل تحریک۔ قائد فکری طور پر ان ہی دو تحریکوں کی پروڈکٹ تھے۔

جس شخص نے مذہب کی بنیاد پر ایک ملک توڑ دیا ہو، اسے سیکولر کیسے مانا جاسکتا ہے؟

یہ تو ظاہر ہے کہ ان دونوں تحریکوں کی فکر مودودی یا خمینی والی اسلامی تحریکوں سے مختلف تھی لیکن ان دونوں میں سے کوئی بھی تحریک سیکولرسٹ بھی نہیں تھی۔ علی گڑھ تحریک تو مبنی ہی مسلمانوں کے الگ قوم ہونے اور ان کی تہذیبی نشاتہ ثانیہ کے نظریے پر تھی، انگلینڈ کی کلاسیکل لبرل تحریک بھی کوئی سیکولر تحریک نہیں تھی جس کے لیڈروں (گلیڈسٹون وغیرہ) کی تقاریر نوجوان قائد پارلیمنٹ میں جا کر سنتے تھے۔ بلکہ کلاسیکل لبرل ازم کو ماڈرن لبرل ازم سے کو چیزیں ممتاز کرتی ہیں، ان میں ایک بنیادی فرق یہی ہے کہ کلاسیکل لبرل ازم سیکولرازم پر مبنی نہیں ہے بلکہ لبرل قدروں کو مذہب ہی کی لبرل تشریح سے اخذ کرنے کی کوشش کرتی تھی۔

لیکن خود قائد کی شخصیت اتنی بڑی اور قدآور تھی کہ انہیں کسی ایک ازم میں بند کرنا ہی بے قوفی ہے۔ جس ملک نے دنیا کے سب سے بڑے ملک کا نقشہ بدل دیا ہو اس کے تو اپنا نام کئی ازمز پر بھاری ہے، اسے کیسے آپ کسی ایک بنے بنائے ازم میں بند کرسکتے ہیں؟

اگر قائد کے اوپر کوئی ایک لیبل لگانا ہی ہو تو بہترین نام جو انہیں دیا جاسکتا ہے وہ مسلم ڈیموکریٹ کا ہے۔ کیونکہ جن دو باتوں سے انکار ممکن نہیں ان میں ایک تو ان کا مسلمان ہونا (اور صرف نجی نہیں بلکہ سیاسی معنوں میں مسلمان ہونا) ہے اور دوسرا جمہوریت پسند ہونا۔ وہ اگرچہ مودودی یا خمینی والے معنوں میں اسلامسٹ نہیں تھے لیکن ان کی سیاسی قدروں کے لیے سورس اوف انسپریشن بہرحال اسلام ضرور تھا اور ان ہی قدروں میں ایک مرکزی قدر دستوری جمہوریت کی ہے۔

بات رہی سیکولر اور اسلامسٹ کی تو قائد کے حوالے سے یہ لفظ استعمال کرنے یا نہ کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ ان لفظوں کا کوئی ایک معنی طئے کرلیا جائے۔ اگر اسلامسٹ کا مطلب اسلام کو ایک زندہ فکری و تہذیبی قوت سمجھنا اور جمہوری سیاست میں اس سے رہنمائی اخذ کرنا ہے تو یقیناً قائد اسلامسٹ تھے لیکن اگر اسلامسٹ وہ ہے جو ایک تھیوکریٹک مذہبی ریاست بنانا چاہتا ہے جہاں مسلمان غیر مسلم سے برتر ہوں تو یقینا وہ اسلامسٹ نہ تھے۔ اسی طرح اگر سیکولرازم کا مطلب صرف مذہبی آزادی اور بلاامتیازِ مذہب ہر شہری کے برابر حقوق ہیں تو یقیناً قائد سیکولر تھے لیکن اگر اس کا مطلب دین اور اس کے سب حوالوں کو اجتماعی زندگیسے نکال کر گھر اور عبادت گاہوں میں بند کرنا ہے تو ظاہر ہے کہ آل انڈیا مسلم لیگ کا صدر محمد علی جناح سیکولر نہیں تھا۔

Facebook Comments Box
featuredIslamic PakistanMuslim JinnahQuaid e AzamQuaid i Azam SecularSecular JinnahSecular Pakistanاحمد الیاسپاکستان اسلامی یا سیکولرسیکولر جناحمسلم جناح
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
اسلامی فیمنزم : مصر، ترکی اور ایران میں تانیثی رجحانات (2) —- وحید مراد
next post
“حیاتِ محض” کی تفہیم —— Aleksandar Dugin پروفیسر ڈوگن

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.