تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

کیا بیوی کو شوہر کے جوتے اٹھانے چاہئیں —– فارینہ الماس

by فارینہ الماس 07/08/2021
written by فارینہ الماس 07/08/2021
124

ہندوستان کی اہم قدیم روایت یہ بھی تھی کہ طبقہءامراء خصوصاً بادشاہ، نواب، جاگیردار اپنے حرم میں خاص طور پر خوبصورت بیویوں کا جتھہ اکٹھا کئے رکھتے۔ وہ اپنی بیویوں کو قیمتی لباس و زیورات سے لدا پھدا دیکھنا چاہتے تھے۔ جس سے ان کے مزاج کی رنگینی اور ان کی امارت و اختیار کا غرور عیاں ہوتا۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ان کے نزدیک ”عورت“ بھی ان کے خزانے کے قیمتی ہیرے جواہرات ہی کے جیسے کوئی انمول شے تھی، جسے اس کے جوبن اور جوانی تک چھپا کر اپنی ملکیت میں رکھنا ان کے مزاج کے عین مطابق تھا۔ عورت کی آزادی، انا اور خودداری کو تلف کرنے سے ہی وہ اپنے مجازی خدا کی فرمانبردار اور اطاعت شعار بنی رہتی۔ محض خادمائیں یا غریب کی جورو ہی کام کاج کے لئے آزاد تھی۔ جب دنیا میں عورت کا مقام ازسر نو تشکیل دیا جارہا تھا اور جب برصغیر کا معاشرہ بھی اس تبدیلی کو اپنے دروازے پر دستک دیتا محسوس کر رہا تھا تو یہاں سرسید احمد خان جیسے روشن خیال مصلح کو بھی کہنا پڑا کہ ”وہ عورت کی تعلیم کے اس لئے مخالف ہیں کہ جاہل عورت اپنے حقوق سے نابلد ہوتی ہے اس لئے مطمئن رہتی ہے۔ اگر تعلیم یافتہ ہو کر اسے اپنے حقوق سے واقفیت ہوگئی تو اس کی زندگی عذاب بن جائے گی۔“ وقت کے ساتھ ساتھ حالات اس نہج پر آرہے کہ یہاں عورت کو کسی برابری کے نعرے سے بچانے کے لئے اور کمزور پڑتے جاگیردارانہ سماج میں مرد کو اعلیٰ و ارفع مقام دلائے رکھنے کی خاطر مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کو ”بہشتی زیور“ جیسا نسخہ لکھنا پڑا۔ تاکہ مغربی اقدار اور مشرقی اقدار کے اس تصادم میں کہیں مرد کے اختیار کو کوئی گزند نہ پہنچ پائے۔ جس میں بتایا گیا کہ عورتوں کو کیا پڑھنا چاہئے اور کتنا پڑھنا چاہئے۔ گھر کے کیا کیا کام کاج اس کی ذمے داری ہیں شوہر کے احکامات کو ہر صورت ماننا اس کا فرض ہے۔ اور اگر کہیں حکم عدولی یا لاپرواہی کا کوئی شبہ بھی پیدا ہو جائے تو اسے فوراً ہاتھ جوڑ کر اپنے شوہر سے معافی کا خواستگار ہو جانا چاہئے۔ مطلب کہ اس کے فہم و شعور کے در تک کوئی ایسا خیال نہ آسکے جو اسے اپنے لئے یا اپنے حقوق کے لئے سوچنے پر مجبور کرسکے۔ یا جو اسے شوہر کی حکم عدولی پر مائل کرسکے۔ پچھلے زمانوں میں لڑکی کو اپنے گھر سے رخصتی کے موقع پر اس کتاب کا ایک نسخہ تھما دیا جاتا جسے تمام عمر اسے قرآن کے برابر رتبہ دینا ہوتا وہ اس میں درج احکامات کی تابعداری اس لئے کرتی کہ اسے ایک بڑے، ہولناک و دہشت انگیز جہنم کے مقابلے میں ایک چھوٹے جہنم میں ہنسی خوشی کود جانا بہتر لگتا۔ نکاح نامے کے ساتھ ہی اس کے جسم و روح کے حقوق ملکیت کا بیع نامہ بھی تیار کر کے اس کے شوہر کے ہاتھ میں تھما دیا جاتا۔ اب وہ چاہے تو پیار سے چاہے تو زور جبر یا مار سے اس پر اپنا حق ملکیت جتائے۔

شادی بیاہ کا تصور رومانویت انگیز ہوتا ہے لیکن جلد ہی رومانوی احساس کی دلکشی و پر فریب رنگینی ماند پڑنے لگتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس تعلق میں بندھنے والے دونوں ہی افراد کا اسلوب خیال و اسلوب بیاں انتہائی مختلف ہو۔ زندگی بسر کرنے کا ان کا رنگ ڈھنگ اور نقطہء نظر بھی یکساں نہ ہو۔ شخصیتوں کا تضاد اس قدر زیادہ ہو کہ یہ فیصلہ کرنا بھی دشوار ہو جائے کہ آیا کبھی ان دو الگ الگ روحوں کے درمیاں دوستی، تعلقداری یا محبت کا کوئی تعلق استوار ہو بھی پائے گا یا نہیں۔ لیکن بہشتی زیور پڑھ کر رخصت ہوئی لڑکی ان تفرقوں کو کوئی یادہ اہمیت نا دیتی تھی۔ کیونکہ ہر طرح کے ممکنہ حالات میں گزر بسر کرنے کا ایک فارمولہ زبانی بھی اسے سمجھا دیا جاتا تھاکہ ”بی بی، سسرال میں سسرالیوں کے ساتھ گزر بسر کے دو ہی طریقے ہیں کہ یا تو انہیں بدل لو یا پھر ان کے مطابق خود کو بدل لو۔ تو اتنے بھرے پرے سسرال میں سب ہی کو بدلنا تو تم سے ہو نہ پائے گا، تو مناسب یہی ہے کہ تم خود کو ان کے مطابق بدل ڈالو۔ جیسا رنگ ڈھنک ان کا ہو بس اسی رنگ میں رنگ جاؤ۔“ بس اسی ایک گر کا کام آجانا بری بھلی زندگی بسر ہو جانے کا باعث ہو جاتا۔ اس زمانے کی عورت ذیادہ پڑھی لکھی نہ تھی اس لئے انائیت یا خودسری والی کوئی بات اس میں نہ تھی۔ وہ اپنے ناز اور نخرے، انا اور ضد اپنے میکے ہی چھوڑ جایا کرتی۔ اسی لئے سب سہہ جاتی تھی۔ اس کا شوہر اس کے دکھ درد میں اس کا ساتھ دے یا نہ دے، سسرال کے ہنسی ٹھٹھے میں شامل ہو کر خواہ بیوی کی انا اور عزت کی دھجیاں ہی اڑائے وہ پھر بھی شوہر کے جوتے اٹھانا اپنی عبادت سمجھتی تھی۔

وجہ یہ بھی ہے کہ اب عورت ایک بڑے جہنم سے بچنے کے لئے خود کو چھوٹے جہنم میں جھونکے جانے کے لئے تیار بھی نہیں۔

عورت کے لئے سسرال اور سسرالیوں کے مسائل آج بھی وہی ہیں جو صدیوں پہلے ہوا کرتے۔ آج بھی مرد کی پشت پر اس کے والدین، بہن بھائی اور سبھی عزیز رشتہ دار ہیں اور عورت اکیلی تن تنہا۔ آج بھی سسرال میں اس کی ہر ہر حرکت کا فی الفور نوٹس لیا جانا سسرالیوں کا اولین فرائض سمجھا جاتا ہے۔ وہ کیسے چلتی ہے، کیا بولتی ہے اور کتنا بولتی ہے۔ بولے تو منہ پھٹ، نہ بولے تو میسنی۔ سب کا خیال کرے تو چالاک لومڑی نہ کرے تو بے حس، خود غرض، لاپرواہ۔ اگر سسرال کی سبھی ڈھکی چھپی سیاست کو جانتی ہے تو پڑھ پخت، نہیں جانتی تو”ماں نے کچھ سکھا یا ہی نہیں“ بات بات پر اسے کمتر، پھوہڑ، بد سلیقہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ شوہر کو بدظن کرنے کو ثابت کیا جاتا ہے کہ اسے شوہر کی پرواہ ہی نہیں جبھی تو اس کے چھوٹے موٹے کام ڈھنگ سے نہیں کرتی۔ وہ بد دماغ ہے اسی لئے اس کے جوتے پالش نہیں کرتی۔ اس کے ساتھ برتے گئے سلوک میں کوئی بھید بھاؤ نہیں۔ وہ ان پڑھ ہے، کم پڑھی لکھی یا پھر ڈاکٹر، انجینئر کوئی فرق نہیں۔ کمال کی بات تو یہ ہے کہ اکثر شوہر بھی بیوی سے ایسا ہی سبھاؤ رکھتے ہیں کہ جس سے انہیں کم تر اور کم حیثیت ثابت کیا جا سکے۔ لیکن پھر بھی توقع یہی ہے کہ وہ سبھی کام کاج کے علاوہ اس کے جوتے بھی اٹھا کر اپنی جگہ پر رکھے۔

آج کی عورت پڑھی لکھی ہے اس لئے تھوڑی سرکش ہو گئی ہے۔ اب اس نے بہشتی زیور کا مطالعہ بھی چھوڑ دیا ہے۔ کیونکہ وہ چاہتی ہے کہ اگر اسے بہشتی زیور کا سبق یاد کروایا جانا ضروری ہے تو ایک اس سے ملتا جلتا نسخہ مردوں کے لئے بھی لکھا جائے۔ جو ان کے لئے آسمانی صحیفے کے برابر ہی اہمیت رکھتا ہو۔ جس میں لکھا جائے کہ شوہروں کو اپنی بیوی کی روح اور بدن کو گھائل ہونے سے بچا نے کا کیا حکم ہے؟ کیونکہ جہنم تک گھسیٹنے کے لئے تو دونوں ہی صنفوں کے لئے خدا نے اعمال ہی کی شرط رکھ دی ہے۔

محبت سے ادا کیا گیا حق تمام عمر ہماری روح کا طواف کرتا ہے۔ ہمیں عزت دیتا ہے۔ مقام مرتبہ دیتا ہے۔ چھینا چھپٹی سے حق نہ عورت کو ملے گا اور نہ ہی مرد کو مل سکے گا۔

وجہ یہ بھی ہے کہ اب عورت ایک بڑے جہنم سے بچنے کے لئے خود کو چھوٹے جہنم میں جھونکے جانے کے لئے تیار بھی نہیں۔
ہوسکتا ہے کہ ایک لڑکی جو دن رات بنا کسی صلے کے اپنی ماں کو اپنے باپ کی خدمت کرتا دیکھتے ہوئے جوان ہوئی ہے، تو یہ بات اس کی گھٹی میں شامل ہے کہ اسے بنا کسی بھید بھاؤ کے اپنے شوہر کو ایسا مقام دینا ہی ہے۔ لیکن اگر اس نے اپنے باپ کو سنت نبویﷺ پر چلتے ہوئے اپنے چھوٹے موٹے کام مثلاً اپنے کپڑے خود استری کرتے یا اپنے جوتے خود پالش کرتے ہوئے دیکھا ہے تو اس کے شعور میں شوہر کے ایسے ہی کردار اور بیوی کے لئے اس کے ایسے ہی احساس کا تاثر موجود ہو گا۔

تو سوال یہ تھا کہ آیا عورت کو اپنے شوہر کے جوتے اٹھانے چاہئیں یا نہیں۔ بلکل اٹھانے چاہئیں لیکن اس مرد کے جو اپنی بیوی پر جوتا نہ اٹھاتا ہو۔ جو اپنی بیوی کے دکھ درد کا حقیقی ساتھی بننے کا حوصلہ و وصف رکھتا ہو۔ جو بات بات پر دوسروں کے بہکاوے میں آکر اس کی روح کو تار تار نہ کرے۔ جو اس کی خوشی اور خواہش کا اتنا ہی خیال کرے جتنا کہ وہ اس کا کرتی ہے۔

بانو قدسیہ آپا کی بات یاد آجاتی ہے کہ ”کچھ مانگنا ہے تو اصل حق مانگو۔ اصل حق ہے محبت۔ جب محبت ملے گی تو سبھی حق خوشی سے ادا ہوں گے۔ محبت کے بغیر ہر حق ایسے ملے گا جیسے مرنے کے بعد کفن ملتا ہے“ ایسے ہی محبت سے ادا کیا گیا حق تمام عمر ہماری روح کا طواف کرتا ہے۔ ہمیں عزت دیتا ہے۔ مقام مرتبہ دیتا ہے۔ چھینا چھپٹی سے حق نہ عورت کو ملے گا اور نہ ہی مرد کو مل سکے گا۔ اس لئے ہم دونوں کو ہی اپنی اناؤں کے بت گرانے ہوں گے تاکہ محبت اور احترام سے اک دوسرے کا حق ادا کر سکیں۔

Facebook Comments Box
featuredSadaf KanwalShoes of Husbandآزادی نسواںاسلام اور عورتخواتین کے حقوقشوہر کی ذمہ داریشوہر کے جوتےصدف کنولعورت کے حقوقفارینہ الماس
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
فارینہ الماس

فارینہ الماس نے سیاسیات کے مضمون میں تعلیم میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں "جیون مایا ” اور "اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں

previous post
اقتدارکی مجبوریاں: مرزا اسلم بیگ کی چشم کشا داستانِ حیات — نعیم الرحمٰن
next post
اسلامی فیمنزم : اصلاح مذہب کا مغربی ایجنڈا (1) —- وحید مراد

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.