تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہعلم و ادب

کتنی تصویروں کے ساتھ آئی ہے شامِ زندگی   – انور عباسی کی آپ بیتی حصہ 7

by انور عباسی 26/04/2017
written by انور عباسی 26/04/2017
91

(۳) رسم و رواج

شرعی طہارت

ہرملکے و ہر رسمے۔ ہر ملک میں چند رواج ایسے ملتے ہیں جو دوسرے میں لائقِ تعزیرسمجھے جائیں تو تعجب نہ ہونا چاہیے۔ الحمد للہ ہمارے علاقے کے لوگ سب مسلمان ہیں۔ہم کلچر کو مذہب سمجھتے ہیں اور الحمد للہ ’کلچری مذہب‘ پر سو فیصد عمل کرتے ہیں۔ اپنے علاقے سے تھوڑا اِدھر اُدھر ہوں تو سمجھتے ہیں وہاں کے لوگوں کا اسلام خطرے میں جا پڑا۔ معاشرے نے جو بات سمجھا دی اس پر سو فیصد عمل کرکے جنت حاصل کرنے کی ترکیبوں پر عمل کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ بالخصوص ایسی ترکیبیں اور رسومات جن پر کچھ زیادہ محنت نہ کرنی پڑے۔ ہم نے دیکھا لوگ روزہ افطار کرنے کا سوچیں گے بھی نہیں چاہے سفر میں پیاس کی وجہ سے ان کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے، لیکن نماز کے قریب بھی نہ جائیں گے۔ ہم نے اپنے مطلب کا پِک اینڈ چوزکر کے اسلام کو اختیارکر رکھا ہے۔خیر یہ بھی گوارا سہی لیکن۔۔۔، چلیں جانے دیں ان اصولی باتوں کو، یہ بہت بعد میں ہمیں سمجھ آئیں۔ ’کلچری مذہب‘ نے ہمیں بچپن میں شرعی طہارت حاصل کرنے کا ایک طریقہ سکھایا تھا، جو(شاید) کم بخت مغربی تعلیم نے تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ یہ ایک ایسا رواج تھا جو ہمارے گائوں کے علاوہ آزاد کشمیر کے دیگر گاصوں میں بھی دیکھنے کو ملتا تھا۔ لیکن افسوس ؎ وے صورتیں الہٰی کس ملک بستیاں ہیں اب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں۔ اب چراغِ رخِ زیبا لے کر بھی نکلیں تو یہ رواج یا طریقہ کہیں دکھائی نہ دے۔
طہارت کے اِس عمل کو ’بٹوانی‘ کہتے تھے۔ آج جب یہ عمل تو کیا یہ لفظ ہی متروک ہو چکا ہے تو ایسے ہی شیطانی خیال ذہن میں آیا کہ ان لوگوں کا کیا بنے گا جو اس عمل سے محروم رہ گئے؟ اس شرعی عمل کی مکمل تشریح و توضیح تو شاید قابلِ دست اندازیِ پولیس ہو سکتی ہو لہذا ہم صرف اشارے ہی کر سکتے ہیں۔ آج کل شرفا رفع حاجت کے بعد آبدست لیتے ہیں اور طہارت حاصل کرتے ہیں۔ مگر جس دور کی بات ہم کر رہے ہیں اس میں آبدست سے پہلے بھی ایک مرحلہ ہوا کرتا تھا۔ عام حالات میں تو لوگ کھیتوں کا رخ کرتے تھے مگر ایمرجینسی میں راستے میں ہی کوئی مناسب سی جگہ دیکھ کر تھوڑا سا ہٹ کرفارغ ہوتے۔ لیکن اس سے پہلے ایک دو بڑے سائز کے کنکر اٹھانا نہ بھولتے۔ان کو پتھر اٹھاتے اور تولتے دیکھ کر دور سے ایسا لگتا تھا کہ کتوں کو مارنے کی مہم پر نکلے ہیں۔ فارغ ہو کر اٹھتے، دائیں ہاتھ میں ازاربند اور بائیں میں پتھر پکڑکر شلوار کے اندرگھسیڑتے اور سب کے سامنے یہ شہادت پیش کرتے کہ شرعی طہارت یوں حاصل کی جاتی ہے! یہ فعل کھڑے کھڑے اور چلتے چلتے بھی کیا جاسکتا تھا۔ زیادہ متقی حضرات کو کرِس کراس کر کے ٹانگوں کو دائیں بائیں مروڑتے رہتے اور آخری قطرہ تک نچوڑ کر دم لیتے۔ ایسے افراد کواسی مہارت کی وجہ سے آج کل محکمہ انکم ٹیکس میں لیا جا سکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جس کے کپڑے پر پیشاب کا قطرہ لگ جائے وہ جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ لہذا یہ عام رواج تھا جس کی خلاف ورزی کا تصوّربھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔
آزاد کشمیر سے باہر پاکستان میں ہزارہ اور خیبرپختونخواہ کے باسی بھی اس پر عمل پیرا تھے۔ ہم جب شعور کو پہنچے تو ہمارے ہاں یہ شریفانہ فعل متروک ہو چکا تھا۔ ہم کراچی گئے اور بھول بھال گئے۔ ہمارے سعودی عرب کے دوران میں بینک میں ایک سعودی ساتھی فریاد کرتا ہوا آیا کہ تم پاکستانی یہ اور وہ ہو۔ پوچھا، بھلے آدمی کیا ہوا۔ اس نے سب کے سامنے تفصیل سنائی کہ فلاں سڑک کے کنارے ایک پاکستانی یہ نامعقول حرکت کر رہا تھا۔ ہم نے کہا بھئی یہ طہارت کا طریقہ ہے اور بعض جگہوں پر خال خال ہی ملتا ہے۔ لیکن اس اللہ کے بندے نے ہم کو نکو بنا کر چھوڑ دیا۔ سب لوگ ایک طرف تھے اور ہم شرمسار سے منہ چھپاتے پھرے۔ بچپن میں تو شرم نہیں آئی، نہ فاعل کو نہ تماشائی کو۔ یہاں تویہ شرعی فعل تماشہ بن کر رہ گیا۔ انجانے میں وہ کیا کہہ رہے ہیں، ان کو پتہ ہی نہیں۔ یقینا اللہ ان سب کو معاف فرمائے گا۔ ہم ان کے لیے اللہ سے ان کی ہدایت کی دعا ہی کرسکتے ہیں۔

جاری ہے

اس تحریر کا چھٹا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

اس تحریر کا آٹھواں حصہ یہاں ملاحظہ کریں

Facebook Comments Box
آزاد کشمیرباغ آزاد کشمیر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
انور عباسی

previous post
عالمی قانون کی ملکی سیاست پر چھاپ – قسط: 1
next post
ہندو توا کی جنونیت اور مسلمان ۔۔۔۔ فارینہ الماس

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...

06/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.