”نوآبادیات اور جدیدیت” کے الفاظ سے میری آشنائی تنقید کے کورس ورک میں ہوئی تھی۔ اس سے پہلے میں ان اصطلاحات سے بالکل ناواقف تھی۔ تاریخ کو پڑھنا اور یاد رکھنا میرے لیے شجر ممنوعہ۔ ایک تعریف پکڑی رٹے لگائے، مفہوم لکھا، پرچہ تمام۔ یہ چیزیں مجھے ایم۔ فل کا مقالہ لکھنے کے دوران اس وقت محسوس ہوئیں جب اصل متن کو پڑھ کر اس پر اپنی رائے دی۔ پی ایچ ڈی کے کورس ورک میں استاد محترم نجیبہ عارف نے پرانے زمانے ایسے یاد کروائے کہ آج بھی ذرا سا زور دینے پر یاد آہی جاتے ہیں۔ یہاں سے اس جانب دل چسپی بڑھی اور اب ہم ہیں اور یہ کتابیں ہیں دوستو۔ تو بات شروع ہوئی تھی نوآبادیات اور جدیدت کی کہانی سے۔ میری نظر میں یہ کہانی تو اسی وقت شروع ہو گئی تھی جب آدم علیہ السلام کو اس دھرتی کو بسانے کی خاطر ایک پورے پلین کے تحت بھیجا گیا تھا۔ سب کچھ سیکھ سمجھ کر اماں حوا کے ساتھ آئے اور کر لیا اس زمین پر قبضہ جسے آج تک ان کی نسل بھگت رہی ہے۔ اب میری تاریخ تو ”نوآباد کار” کے حوالے سے یہاں سے جنم لیتی ہے۔ اس بیان پر جانے کیا ردِ عمل سامنے آئے۔ یہ بھی ممکن ہے کوئی مجھ سے پہلے بھی یہ کہہ چکا ہو جسے میں اپنی کم علمی کی وجہ سے نہ پڑھ سکی ہوں، مگر میں اسی پر قائم ہوں کیوں کہ کہیں نہ کہیں ہم سبھی اس کہانی سے، اس کو لکھنے والے سے اور اس کے کردار تشکیل دینے والے سے بخوبی واقف ہیں۔ یہ اک گماں تھا جو بیاں ہوا اگرچہ اس پر دلیلیں بھی دی جا سکتی ہیں مگر وہ فی الوقت اس کہانی کا حصہ نہیں ہیں۔
جہاں تک ”جدیدیت” کاتعلق ہے تو وہ بھی اسی زمانے سے شروع ہوئی جب ہم نے خود کو انسان سمجھنا شروع کر دیا۔ ہمارا اوڑھنا، بچھونا، کھانا، پینا، رہنا، بولنا غرض ہر شے جو ہمیں حیوانات سے ممتاز بناتی ہے میں تبدیلیاں رونما ہونے لگیں۔ ہم نے اسے تہذیب وتمدن کا نام دے دیا کیوں اس وقت یہ اصطلاحات بھی نہیں جانتی تھیں کہ انہیں نوشین قمر کی نالائقی اس زمانے سے جوڑ دے گی۔ ساتھ ہی اپنا وہ مطالعہ بھی یاد آیا جس میں آغا افتخار حسین اور ناصر عباس نیر بھی جدیدیت سے متعلق کچھ ایسے ہی خیالات بیان کر چکے ہیں۔ یہ چند ابتدائی باتیں تھیں جن میں وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ توسیع ہوتی رہی۔ کتابیں ترجمہ ہونے لگیں۔ کچھ سے ہم نے خود استفادہ کیا اسے اپنے طور سے سمجھا اور اردو میں بیان کر ڈالا۔ اس کے باوجود بھی ابھی تک کسی ایک نکتے پر ٹک نہیں پائے ہیں کہ کسے حتمی وضاحت کہا جاسکے۔ کس کی تعریف پر ایمان لایا جائے اور کس مفہوم کو سہل مانا جائے۔ ناصر عباس نیر نے جدیدت کی اس کہانی کو اس سوال کے ساتھ انتہائی آسان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ (کیا جدیدت محض مغربی مظہر ہے؟)
تاریخی مفہوم میں جدیدت کل سے آگے کا سفر ہے۔ ”آگے کا سفر” جدیدت کا اہم استعارہ ہے۔ جہاں میکس ویبر نے اس حوالے سے اپنا بیان دیا ہے کہ ”جدیدیت مغرب میں ہی ممکن تھی کیوں کہ وہاں عقلیت نے مذہبی تصور کائنات کا خاتمہ کیا اور اس کے نتیجے میں سیکولر ثقافت وجود میں آئی۔” مغرب نے جدیدیت کو ادارہ جاتی شکل دی ہے۔ مغرب نے جدیدیت کا اجتماع بالاتفاق تجربہ کیا ہے اور ان قوتوں کو شکست دی ہے جو جدیدیت مخالف تھیں۔ ان باتوں اور حقیقتوں کو مان لینے میں ہمیں کوئی عار نہیں لیکن جہاں اس بنیادی تصور کو صرف اور صرف مغرب سے جوڑا جاتا ہے تو سوال جنم لیتے ہیں اور اس پر کئی مباحث کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ ان سوالات کو ناصر صاحب نے ہمارے لیے انتہائی آسان پیرائے میں بیان کیا ہے۔ جسے مثالوں کے ساتھ اس مقدمے میں دیکھا جا سکتا ہے۔
اگر میں یہ کہوں کہ ہمارے شہری علاقے میں ایک گھرانے نے گیس کے بحران سے نکلنے کے لیے اپنے گھر کے ایک حصے میں وہ چولہا لگایا ہے جسے لکڑی اور اُپلوں سے جلایا جاتا ہے۔ دوسری جانب دیہی باشندوں نے سخت گرمی سے نجات حاصل کرنے کے لیے سولر سسٹم کا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان دونوں صورتوں میں ہی وقت کی ضرورت کے لحاظ سے جدیدیت موجود ہے۔ جدیدت کوئی ایک سیدھا راستہ نہیں ہے، یک رخا مظہر نہیں ہے اور نہ ہی پتھر پر لکھی کوئی لکیر ہے۔ یہ برگد کی جڑوں کی طرح شش جہاتی پھیلا ہوا ہے۔ شاخ در شاخ گھنا ہو رہا ہے۔ پرانے پتے نئے پتوں کو جگہ دے رہے ہیں، مگر یہ اسی روز سے اپنی جگہ پر کھڑا ہے جب انسان نےزمین پر گندم کا دانہ بویا تھا اور پتوں سے خود کو ڈھانپا تھا۔
جدیدیت ایک آفاقی مظہر ہے۔ جس کو کسی بھی فریم ورک میں رکھ کر اس کا تجزیہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ہمیں اس ٹیبو کو توڑ کر سمجھنے کی ضرورت ہے کہ انیسویں صدی میں جدید ہونے کے مطلب کو جس طرح مغرب سے جوڑ دیا گیا ہے اور جس کا نمائندہ برطانوی حکومت کو قرار دیا جاتا ہے وہ محض اس کا ایک جُز ہے۔ یہ کلی طور پر کون ومکاں اور حدود و قیود سے آزاد ایک مظہر ہے۔ جدیدیت کی وضاحتوں اور مختلف فکروں میں جہاں لیوی اسٹراس کا تصور آیا ہے کہ ”وحشی ذہن کی ایک کمزوری یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ تجریدی فکر کا حامل نہیں ہوتا۔” یہ بات مغرب کے سائنسی تصور کے جواب میں لکھی گئی ہے۔ اس کی وضاحت میں مغربی مفکرین کی اس سوچ کو بھی بیان کیا گیا ہے کہ وحشی قبائل کی زبان غیر ترقی یافتہ ہوتی ہے۔ میرے مطابق کیا وحشی ذہن ہی ارتقا کی منازل طے کرتا آج جدید فکر کا حامل ذہن کہلانے لائق نہیں ہوا ہے؟ کیا زبان ہمیں شروع ہی سے ایسی جدید اور مکمل شکل میں ملی تھی؟
دوسری جانب جہاں اردو زبان کو انگریزی کے مقابلے میں وحشی سمجھنے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ وہیں اس معتصبانہ تصور کو توڑنے کی ضرورت ہے جو مغرب زدہ سوچ سے ہمارے ذہنوں پر حاوی ہوا ہےاور اس کے اثرات آج تک ہمارے اندر موجود ہیں۔ انگریزی زبان کی تاریخ میں بھی وہی پیچیدگیاں اور رک رک کر چلنے والا سفر شامل ہے جس سے ہر زبان دوچار ہوئی ہے۔ فرق یہ ہے کہ ہم نے اسی کو پیٹنا شروع کر دیا اور مغرب نے اس میں کئی اصلاحات کر کے اسے ایک عالمی رابطے کی زبان بنا ڈالا۔ اس بات سے مکمل اتفاق کہ ”کسی زبان کی استعداد اور اس کے بولنے والوں کی استعداد میں فرق ہوتا ہے۔۔۔ الفاظ مستعار لیے جا سکتے ہیں لسانی استعداد نہیں۔” نوآبادیاتی فکر نے انگریزی زبان کی شکل میں امربیل (Dodder) والا کردار ادا کیا ہے۔ جس سے بظاہر تو ہم اس پیلے رنگ میں ہرے بھرے نظر آرہے ہیں لیکن ہم پر چڑھی یہ آکاس بیل پھیلتی چلی جا رہی ہے۔ اس نے ہمارے اندر کا ہرا رنگ چوس کر ہماری جڑوں تک کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ ہمارے اذہان سوکھ گئے اور ہمارے بڑے بظاہر نظر آنے والے اس ہرے اور پیلے رنگ کے امتزاج کو دیکھتے رہ گئے اور اس کے متاثرین میں شمار ہونے لگے۔
زبان کے حوالے سے دی جانے والی مثالیں اور وضاحتیں قابل غور ہیں جو کئی طرح کی گتھیوں کو کھولنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔ جس میں کارل پاپر کا تین دنیاؤں کا نظریہ قدرے سہل ہے۔ لسانی استعداد کے حوالے سے رائج زبان کے سانچوں کو توڑ کر روایت شکن شعرا کی مثالیں بھی ایک نیا رخ سامنے لانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ اور اس سوال پر اٹھنے والی یہ تحقیق بیدل اور غالب کی تفصیلی مثالوں سے اس بت کو توڑتی ہے کہ جدیدت مغرب کی میراث نہیں ہے۔ اس مقدمے کے اختتام پر جو ابن طفیل کے ناول کی مثال پیش کی گئی ہے۔ قوی امکان ہے کہ ایسی اور بھی کوئی مثال موجود ہو جو مغربی جدیدیت کے ثنویت اور تصادم کے تصور کے رد میں پیش کی جاسکے۔
”یورپی جدیدیت، نوآبادیات اور اردو جدیدیت” کا باب ان بنیادوں کو سامنے لانے اور سمجھنے کی ایک کامیاب کوشش ہے جہاں سے یہ نئے تصورات جنم لیتے ہیں۔ یورپی جدیدت کو سمجھنے کے لیے بھی جدیدیت کو ماضی سے اپنا رشتہ قائم کرنا پڑا ہے۔ جس کا آغاز نطشے کی کتاب ”المیے کی پیدائش” سے لیا گیا ہے اور ساتھ ہی ڈاڈائیت اور سررئیلیت کے منشور کو اس کے مرکزی تصورات کو سمجھنے کی خاطر سامنے رکھا گیا ہے۔ نطشے نے جس جدید دنیا کا ذکر کیا تھا اس پر سائنس اور علم کا غلبہ تھا جو اپنی تہہ میں وحشی، قدیمی اور بے رحم قوتیں چھپائے ہوئے ہے۔ جسے پہلی عالمی جنگ ( 1918ء-1914ء) نے ثابت کر دکھایا تھا۔ اور یہ بات ان پر صادق آئی کہ جرمنی اور برطانیہ نے فتح کرنے کو آسمان کو آخری حد سمجھا تھا۔ ساتھ ہی فرانس کے عالمی طاقت بننے کے خواب بھی شامل تھے۔
”یورپ کے قوم پرست سرمایہ دار حکمرانوں نے اپنی طاقت میں اضافے کے لیے آسمان کو آخری حد سمجھا تھا اور یورپ کی عوام نے موت، بربادی اور دہشت گردی کی آخری حدوں کو دیکھا اور بھگتا۔”
یہیں فلسفیانہ جدیدیت اور جمالیاتی جدیدیت کے فرق کو بھی واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ میرے مطالعے میں یہ موضوعات بہت کم رہے ہیں جن کا تعلق یورپی جدیدیت کی بنیاد سے ہے۔ مختصراََ تعارف کی حد تک میں نے ان کا ذکر کیا ہے ان پر تفصیلی رائے ان کے مطالعے کے بعد ہی دی جاسکتی ہے۔ تاہم اسی باب کا جو حصہ نوآبادیات اور اردو جدیدیت پر مشتمل ہے اس سے مطالعے کی حد تک کچھ تعارف ہو چکا ہے۔ نوآبادیات اور جدیدیت کو تاریخی ہم رشتگی کہا جاسکتا ہے۔ ان کے آپسی تعلق کو والٹر مگنولو نے ایک ہی جملے میں تمام کر ڈالا ہے ”وہ جدیدیت کو ایسا یورپی بیانیہ قرار دیتے ہیں جس کا تاریک رخ نوآبادیات ہے۔” مارکس نے جس طرح سفید آدمی کا کالے آدمی کو اپنی تہذیب سکھانے کا ذکر کیا ہے اس سے یہی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ اس سفید آدمی نے تہذیب سکھانے بوجھ اپنے کاندھوں پر ایسا اٹھایا کہ کالے آدمی کی تہذیب کی تعمیر ِ نو کے آثا ر نظر نہیں آتے ہیں۔
جہاں جدیدیت اور نوآبادیات کے زمانی تعلق کی بات کی گئی ہے وہیں ان کی علمیات کو یکساں نہیں گردانا گیا جس کی وضاحت یوں پیش کی گئی کہ۔ ”جدیدیت فرد کی آزادی، اپنی دنیا اپنے بشری وسائل سے آپ پیدا کرنے سے عبارت ہے، جب کہ نوآبادیات آدمی کو ایک ایسا بچہ اور زیادہ تر جانور سمجھتی ہے جو فیصلہ سازی، انتخاب اور برے بھلے میں امتیاز کی قوت سے ہی محروم ہے۔” اس کی وضاحت میں دی جانے والی مثالیں یہ کہنے کو بہت ہیں جن کے اثرات برصغیر کے ہر شعبہ زندگی پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ اس کی کہانی کو اس جملے کے ساتھ بڑی خوبصورتی سے تمام کیا گیاہے کہ ”نوآبادیات مغرب کی جدید تاریخ کا ایک تاریک رُخ ہے۔ جس کا وہ دفاع نہیں کر سکتا۔” اس حصے میں وہ تما م وضاحتیں موجود ہیں جن میں سرسید، حالی، آزاد، شبلی، نذیر احمد کی خدمات۔ اردو میں انجمن پنجاب کے تحت ہونے والے مناظموں سے جدید اردو شاعری کے آغاز۔ اپنی پرانی ادبی روایت پر چوٹ کرنا۔ اصلاحی جدیدیت کی مانند قومی شاعری کا یورپی تصور۔ اردو شاعری میں من مرضی کے مضامین داخل کرنا اور اردو شاعری پر جھوٹ، کفر، فحاشی، توہم، مبالغے اور غیر حقیقت پسندی جیسے الزامات لگانا جن کی نوعیت سیاسی تھی ادبی نہیں کیوں کہ ویسی ہی تشبیہات، استعارے، علامتیں، اشارے انگریزی شاعری میں پہلے سے موجود تھے جنہیں مشرقی اردو شاعری کے لیے نازیبا اور غیر اخلاقی قرار دیا گیا تھا۔ اکبر کو پہلا رد استعماری شاعر قرار دینا۔ شعرا اور افسانہ نگاروں کی تحریروں کی مثالیں۔ ان میں ہونے والی تبدیلیاں ان کے ادب اثرات اور ایسی کئی دیگر مثالیں مکمل دلیلوں کے ساتھ موجود ہیں۔ آخر میں اٹھائے جانے والے سوالات بنیادی اہمیت کے حامل ہیں جن پر ایک الگ باب جنم لیتا ہے۔ جنہیں قاری خود پڑھ کر باآسانی سمجھ سکتا ہے۔
میرا مسلہ سرسید کے اس وحشی جانور کے بیان سے جڑا ہے جس کی ڈور انگریز کے ہاتھ میں تھما دی گئی اور اسے کھلی اجازت کا پروانہ جاری کر دیا گیا کہ اب اس وحشی جانور کو جس طرح چاہے سدھایا جائے۔ اس کا بیان خود ان کی زبان سے ادا ہوتا پڑھ کر ”حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں” والا احساس پیدا ہوتا ہے جملے ملاحظہ ہوں:
”تمام ہندوستانیوں کو انگریزوں کی تعلیم وتربیت اور شائستگی کے مقابلے میں درحقیقت ایسی ہی نسبت ہے جیسی لائق اور خوبصورت آدمی کے سامنے نہایت میلے کچیلے وحشی جانور کی۔” اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی ایسی تصویر پیش کرنا کہاں کی عقل مندی یا عاجزانہ بیان ہے کہ ہم اس قدر تہذیبی طور پر گر چکے ہیں کہ ہمیں کوئی نام دیا بھی گیا تو وہ ” وحشی جانور ”۔ تہذیب سکھانے سے پہلے، تہذیب سے محروم ہونے یعنی وحشی ہونے کا یقین دلانا لازم تھا۔ یہاں پھر غیروں سے کوئی گلا کرنے کا جوازپیدا نہیں ہوتا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس عہد کے اختتام پر انگریزی یورپی کتب، مشرقی کتب کو بے مایہ و حقیر ثابت کر رہی تھیں۔ یہ وہی سرسید تھے جن کی ذہنی آبیاری مشرقی علوم سے ہوئی تھی۔ وہ مشرقی زبانوں کی تعلیم چاہتے تھے مگر مشرقی علوم کی نہیں۔ اس حوالے سے اس کتاب کا یہ باب ”نوآبادیاتی جدیدیت کی صبح اور مشرقی علوم کی شام (مشرقی علوم پر سرسید کی تنقید کا مطالعہ )” ان گتھیوں کو سلجھانے اور سرسید کی نمک پاشی کرنے پر قدرے مرہم کاکام دیتا ہے۔ پس منظر، محرکا ت، فکری بدلاؤ، وقت کی ضرورت کو سمجھنا، اداروں کے قیام و مقاصد، تعلیمی پالیسی و اصلاحات، قبولیت و انکاریت کی کہانی جیسے تمام تر موضوعات اپنی وضاحت کے ساتھ موجود ہیں۔ اسی باب میں مشرق اور مشرقی علوم والا حصہ ہماری چلی آنے والی ادبی روایات کو توڑتا ہے جس کو از سر نو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
”بیدل: جدیدیت اور خاموشی کی جمالیات” کے باب سے مجھے اس لیے خاموشی سے گزرنا پڑا کیوں کہ میں نے بےشک بیدل کے چند اشعار نصابی ضرورت کے تحت پڑھ رکھے ہیں لیکن جس طرح حالات زندگی کے ساتھ ایک مکمل مطالعہ کیا جاتا ہے وہ میرے مطالعے میں شامل نہیں ہے اس لیے اس باب پر کسی بھی قسم کی رائے دینے کے حوالے سے میں خود کو نالائق خیال کرتی ہوں۔ اس باب کے اختتامی صفحات پر جو غالب و بیدل کے حوالے سے اثرات قبول کرنے کی بات کی گئی ہے وہ غالب کو سمجھنے کی ایک بنیاد ہے جسے اگلے ہی باب ”انگریزی استعمار اور غالب کی جدیدیت” میں تفصیلی پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔ غالب کی فکر، تجربہ، مشاہدہ، لفظ، زبان، شعری و نثری لکھت، یورپی کینن، برصغیری کینن، لسانیات کے اتار چڑھاؤ، لفظوں کی حرمت کا پاس رکھنا اور ایسے ہی کئی سوال اور ان کے جواب مکمل وضاحت اور مثالوں کے ساتھ موجود ہیں۔ غالب کی جدیدیت کا جو سفر بیدل سے شروع ہوا اور پھر ان کی اپنی آزاد دنیا کا حوالہ دیا گیا اسے جس طرح ہر گوپال تفتہ کے نام خط پر اختتا م کیا گیا ہے میری نظر میں وہی غالب کی جدیدیت اور انگریزی استعمار کی کہانی کا بہترین اختتامیہ ہو سکتا ہے۔ ہر قسم کی حد اور قید سے آزاد۔
”اردو میں کلاسیکیت اور جدیدیت کے مباحث” کا باب پرانی شاعری کی بازیافت اور جدید پر چوٹ و وضاحت پر مشتمل ہے۔ اس باب میں ایک نئی بحث کو موضوع بنایا گیا ہے۔ یہ کلاسیکیت کے لفظ سے شروع ہو کر معنی، قوم، تہذیب اور روایت کو جوڑ کر ان کی عالمی وضاحت کے ساتھ اردو کی ادبی وضاحت تک کا سفر طے کرتا ہے۔ اس میں دبستانوں کے حصے بھی شامل ہیں اور روایات کی لوک داستانیں بھی جو استعماری عہد کے ڈسکورس کی گھمن گھیریوں میں اپنی راہ تلاشنے کی کتھا بھی بیان کرتی ہیں۔
آخری باب ”انسانی اختیار کے اثبات و نفی کی کش مکش” کے عنوان سے ہے جس کا یہ جملہ ”ہندوستان کے برطانوی حکمرانوں کی خطابت، ذہن پر اخیتار کی کوشش کا دوسرا نام تھا۔” اس کا نچوڑ ہے۔ ذہن کے اس اختیار کو حاصل کرنے کے لیے برطانوی حکومت نے شاطرانہ طریقے سے بیج بوئے اور اسی سرزمین پر ایک ایسی فصل تیار کی کہ جس کا پھل صرف انہی کے لیے فائدہ بخش رہا اور اس کےمحض چکھنے کے اثرات آج تک مشرقی اذہان بھگت رہے ہیں کیوں کہ اس کی جڑوں سے بہر حال ہم آج بھی نہیں نکل پائے ہیں۔ اس عرصے کے ثقافتی بحران نے جس شکل میں اپنا آپ بیان کرنے کا طریقہ کار اختیار کیا تھا وہ ” علمی و منطقی ” ضرور تھا جس میں حکومتِ وقت کے خلاف آواز اٹھانے کی سعی شامل تھی جسے قومی شناخت کو مستحکم کرنے کی ایک کوشش بھی کہا جاسکتا تھا، لیکن جہاں اذہان قید ہو چکے ہوں وہاں اپنا اندروں بیان کرنے کا جذبہ کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے سوائے گنی چنی مثالوں کے۔
”نوآبادیاتی جدیدت خود کو محض حال تک محدود رکھتی ہے۔ زمانہ حال کو یکسر منفرد سمجھتی ہے اور ماضی و روایت سے ارادی لاتعلقی اختیار کرتی ہے۔” اس حوالے سے اس باب میں نمونے کے طور پر خالدہ حسین کے افسانوں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے خالدہ حسین اور انتظار حسین کے بیچ کے فرق کو بڑی باریک بینی سے سمجھ کر مثالوں کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ افسانوں میں اس جدید بشر کی کتھا بیان کی گئی ہے جو نام نہاد سیاسی آزادی حاصل کر چکا ہے۔ اس کے اندر چھپے انسان اور اس کی فکر کو سامنے لایا گیا ہے جو جدید دور کا انسان ہے مگر اس کے شعور میں کہیں وہ زمانہ بھی موجود ہے جہاں وہ جکڑن کا شکار رہ چکا تھا۔
جدیدیت اور نوآبادیات کی کہانی جو ناصر عباس نیر ہی کے ہاتھوں سے لکھنا شروع ہوئی تھی یہ کتابستان بھی اسی کی ایک کڑی ہے۔ اس کڑی میں نہ صرف جدیدت اور نوآبادیات کی ہم رشتگی کے تصورات کی کھل کر واضح مثالوں کے ساتھ سامنے آئے ہیں بل کہ مصنف نے اس بت کو بھی توڑنے کی کامیاب کوشش کی ہے جو مشرقی ادبی ذہنوں میں اس بنیاد پر کھڑا تھا کہ انیسویں صدی میں بنائے گئے تعلیمی اداروں نے انہیں جن علوم سے روشناس کروایا ہے وہ ان کی بہتری اور و قومی ترقی کے لیے بنائے گئے تھے۔ ایک حد تک جسے میں سو فیصد میں سے پانچ فی صد کا حصہ مانتی ہوں وہ اس تعلیمی نظام کے نتیجے میں ہونے والی چند تبدیلیاں اور سہولیات تھیں جن سے ہم نے افادے کی بجائے استفادہ حاصل کیا تھا۔ یہاں بلا جھجھک اس بیان کو اس بات سے جوڑا جا سکتا ہے جو ولیم جونز نے ایک تمثیلی پیرائے میں بیان کیا تھا کہ یورپ ایک خودمختار شہزادی ہے اور ایشیا نوکرانی۔ تو شہزادی کو خوش رکھنے کو جہاں نوکرانی اتنی تبدیلیاں قبولتی ہے وہیں شہزادی بھی اگر اسے چھنگے میں ایسی چند سہولیات اس کے خاندان والوں کے لیے سونپ دے جسے نوزائیدہ خاندان کہنا چاہیے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ وہ خاندان جو ابھی زمینی قدم بھی اٹھانے کے قابل نہیں تھا اور مستقبل قریب میں شہزادی کی جانب سے دیا جانے والا یہ چھنگا اسے اس کے قدموں پر کھڑا کرنے کا دعوی کر رہا تھا جس میں اس کی اپنی میراث یا خاندانی لہو شامل نہیں تھا بل کہ ملاوٹ شدہ تھا۔
کسی بھی قوم کے اذہان کو اپنے تابع کرنے کا یہ فارمولا علمی و ادبی نظریات کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ یورپی مفکرین اس بات سے بخوبی واقف تھے۔ انہوں نے بظاہر تجارت کرتے ہوئے اور اندرونی سطح پر سیاست کرتے ہوئے غیر محسوس طریقے سے اپنی کارروائی سرانجام دی جس کے اثرات آج تک ہمارے مشرقی ایشیائی اذہان سے نہیں نکل سکے ہیں۔ ہم سرسید احمد خان کی انگلی تھامے دو کشتیوں کے سوار کی عملی مثال بن کر سامنے آئے جو نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ہمارے ان مفکرین کا ذکر بھی تاریخ کے ان اوراق میں نہیں ملتا جنہوں نے اس کے خلاف آواز بلند کی تھی۔ یہ وہ سیاسی چالیں اور لسانی استعماریت ہے جسے جدیدت اور نوآبادیات کے ملاپ کا شاخسانہ سمجھنا چاہیے۔ زبان کے ذریعے ہونے والی تبدیلیوں کو کس طرح رائج کیا جاتا ہے اور اسے اپنے نظریات کی تشہیر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اس کی مثال تو ان مفکرین کے ناموں کے اندر کی جانے والی تبدیلی سے بھی دیکھی جا سکتی ہے جو مسلمان تھے اور جنہوں نے مختلف علوم میں تجربے کر کے ان میدانوں میں اپنے کارہائے نمایاں سرانجام دیے اور یورپی اقوام نے انہیں ایسا تبدیل کر کے پیش کیا ہے کہ یہ انہی کا ایک حصہ معلوم ہوتے ہیں اور ان کی شناخت مشرقی مفکرین یا سائنسدانوں کی بجائے یورپی و مغربی سطح پر ہوتی ہے۔
نوآبادیاتی سطح پر ڈسکورس کی صورت میں جس طرح مشرق کو انیسویں صدی میں کمزور ثابت کر کے ان کے کمزور پہلوؤ ں پر چوٹ کی گئی تھی بعد کے آنے والوں نے اس پر سوائے افسوس کے کچھ نہیں کیا۔ ہمیں پڑھ کر، ہماری تہذیب کو سمجھ کر ہماری کمزوریوں کا ہمارے خلاف استعمال بڑے غیر محسوس طریقے سے سر انجام دیا گیا تھا جس کی ہمیں کانوں کان خبر تک نہ ہوئی اور ہم اپنی اس کمزوری میں بہتے چلے گئے۔ نوآبادیاتی ڈسکورس اور اس عہد کا ایک تاریک پہلو یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ اس قلم کو اور اس زبان کو خاموش کروا دیا جاتا تھا جو اس نظام کے خلاف آواز اٹھاتا۔ کتابیں ضبط کر لی جاتیں اور لوگوں کو کسی الزام کے تحت اٹھوا کر ایسی جگہ بھیج دیا جاتا جہاں سے ان کی واپسی ممکن نہ تھی ایسے ناموں کو اور کارناموں کو تاریخ میں شامل کرنے سے منع کیا جاتا جو اس وقت کے نظام کو کسی بھی سطح پر بدلنے میں کوئی کردار ادا کر سکتے تھے۔ محترم ناصر عباس نیر کے نام اور ان کے کام کو ان بڑی کمیوں اور خلا کوپر کرنے کے حوالےسے تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
تمام ابواب پر اس طرح تفصیلی رائے نہیں دی جا سکی جس طرح ان کا حق ہے مگر ان کا تعارف کروانا اس لیے ضروری خیال کیا ہے تاکہ ایک مختصر سا تعارف سامنے لایا جا سکے۔ جہاں یہ کتاب ابواب کے اعتبار سے اپنے اندر پرت در پرت ایک جہاں رکھتی ہے وہیں مجھے اس کتاب کے حواشی بھی اپنے اندر کئی کتابوں، وضاحتوں اور علمیت کا ایک الگ جہاں معلوم ہوتے ہیں۔ یہ کتاب اور اس کی کہانی عمرو عیار کی وہ زنبیل ہے جس کی ہر بار کی پڑھت ایک نیا سوال ایک نئی داستان جنم دیتی ہے۔ یہ کتاب سوال اٹھاتی ہے اور ٹھوس دلائل کی شکل میں ان کے جواب دیتی ہے۔ ان بتوں کو توڑتی ہے جو ہم تک ایک تسلسل کے ساتھ تاریخی اغلاط اور اس کے یک رخے مطالعے کی صورت میں جانے کب سے چلے آرہے ہیں۔ یہ محرکات تلاش کر ان پر غور و فکر کرنے دعوت دیتی ہے۔ اس کے ساتھ تبھی انصاف کیا جا سکتا ہے جب انہیں پڑھنے والا ان موضوعات سے عشق کرتا ہو، تبھی اس کی محبت میں مبتلا ہو کر اس کا حق ادا کیا جا سکتا ہے۔ میں نے اپنی سی سمجھ کے مطابق ایک ابتدائی کوشش پیش کی ہے ابھی اس جہاں میں کئی دنیائیں آباد ہیں جن کی سیر کرنا باقی ہے۔ میں محترم ناصر عباس نیر کی کہانی کو گوتم اور نوشین قمر کی سمجھ کو آنند کا قصہ کہوں گی جسے ابھی اس کہانی کی الف بھی نہیں آتی۔
