تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ تریندیگرسماجیعلمیکالم

تحقیقی مجلات کی مجالسِ مشاورت: یہ نمائش سراب کی سی ہے — معین الدین عقیل

by دانش ڈیسک 27/05/2021
written by دانش ڈیسک 27/05/2021
249

ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے تحقیقی مجلات کے لیےمقررہ مجالس مشاورت سے متعلق اب تک جو ہدایات جاری ہوتی رہی ہیں وہ اب تک بھی نہ صرف ناکافی ہیں بل کہ ان ناکافی ہدایات میں ترامیم و اضافوں کے بعد انھیں زیادہ بامقصد اور مؤثر بنانے کی ضرورت بھی موجودہے۔

اس ضمن میں اب تک جو ہدایات جاری کی گئی ہیں ان کے اہم نکات یہ ہیں:

  • مجلس مشاورت کے ۵۰ فی صد اراکین کا تعلق بیرون ملک سے ہوگا؛
  • مجلس مشاورت موصولہ مقالات کی تنقیح کرے گی اور ان کے قابلِ اشاعت ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں فیصلہ کرے گی؛
    مدیرانِ مجلہ اُن باعث ِ زحمت مقالات (Troublesome Cases) پر حتمی فیصلہ کرنے کے لیے مجلس مشاورت کو ارسال کریں گے جن کےبارے میں ماہر مقالہ نگاروں (Peer Reviewers) میں سے ایک رائےضرورحق میں ہو ؛اور
  • حالیہ دنوں میں اس ضمن میں یہ فیصلہ بھی سامنے آیا ہےکہ تحقیقی مجلات اور مقالات کے تعلق سے سال ۲۰۲۰۔ ۲۰۲۱میں دیگر موضوعات کے ساتھ ساتھ مجلس مشاورت یا مشاورتی بورڈ سے متعلق ہدایات بھی جاری کی جائیں گی۔

ان نا کافی ہدایات کا نقصان یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بہت سے تحقیقی مجلات کے مدیران نے اپنے مجلات کو وقیع ظاہر کرنے کے لیے ملکی اور غیرملکی معروف محققین کے نام بلا اجازت اپنی مجالس مشاورت میں شامل کر لیے ہیں، جو ایک غیر اخلاقی عمل ہے اور بددیانتی پر مبنی ہے۔

بہت سے ملکی اور غیر ملکی محققین ایسے ہیں جن کے نام ایک سے زائد تحقیقی مجلات میں ملتے ہیں۔ اگر ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے اس ضمن میں تفصیلی ہدایات جاری کی جاتیں تو ایسا شاید کبھی نہ ہوتا۔ ایک ممتاز غیر ملکی اسکالر نے اپنا نام صیغۂ راز میں رکھنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ان کا نام پاکستان کے کم از کم پانچ تحقیقی مجلات کی مجلس مشاورت میں شامل ہے جن کے مدیران نے ان سے مجلس مشاورت میں نام شامل کرنے کے بارے میں اجاز ت لینے کی زحمت بھی گوارا نہ کی۔ ستم یہ ہے کہ ان تحقیقی مجلات نے نہ تو ان سے اس ضمن میں کبھی کوئی رابطہ کیا ہے اور ایک دو تو ایسے بھی ہیں جو انھیں اپنے تحقیقی مجلات ارسال کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے۔ ایسی صورت میں مجلس مشاورت میں شامل اسکالرروں کو تصفیے کی غرض سے باعث ِ زحمت مقالات (Troublesome Cases) کا ارسال کرنا ضروری بھی نہ ہونا چاہیے۔

اس ضمن میں تحقیقی مجلات کے مدیران کا سلوک ملکی اسکالروں کے ساتھ بھی کچھ مختلف نہیں۔ ایک اسکالر کئی کئی مجالس مشاورت میں شامل ہے۔ اُس اسکالر کی نمائشی شرکت کسی کے لیے قابلِ اعتراض نہیں۔ مجالس مشاورت میں ایسے نام بھی اکثر شامل ہوتے ہیں جن کا علمی تحقیق سے دور کا بھی تعلق نہیں۔

یہاں اس ضمن میں کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں جوہم وطن عزیز کے مدیران کی خد مت میں رکھنا چاہتے ہیں کہ :

انھوں نےمجلس مشاورت میں شامل اسکالروں کی موجودگی سے کس طور فائد ہ اٹھایا؟
مجلس مشاورت کے شرکأنے مجلے کے کن امور میں دل چسپی ظاہر کی؟
ان کی مشاورت کا معیارکیا رہا؟ اور ان کی مشاورت سے مجلے کو اور متعلقہ علمی تحقیق کو کیا فائدہ پہنچا؟
کتنے باعث زحمت مقالات کے بارے میں رائے حاصل کی گئی؟ اوران کا تصفیہ کرنے کے بارے میں مشاورتی مجلس میں شامل اسکالروں کی رائے کیا رہی؟

ایک معیاری تحقیقی مجلے کے لیے ضروری ہے کہ اُن اسکالروں کاا نتخاب کیا جائے جن کے پاس مجلس مشاورت کے رکن کی حیثیت سے تجربہ ہو، اور۔ مجلے کے مدیر یا ادارتی مجلس اور مجلس مشاورت میں موجود اسکالروں کے درمیان باہمی مشاورت کا سلسلہ استوار رہنا چاہیے۔ مقالات، اداریوں کے موضوعات اور مستقبل کے منصوبوں کی بابت بھی باہمی مشاورت قائم رہنی چاہیے۔ فاصلاتی وسائل کے تحت مشاورت ( زوم آن لائن میٹنگز) کا اہتمام بھی ہونا چاہیے اور ان آن لائن ملاقاتوں کی روداد برائے ریکارڈقلم بند ہونی چاہیے اور انھیں عام بھی ہونا چاہیے۔ ہرفاصلاتی مشاورت سے پہلے ایک ایجنڈا مرتب ہونا چاہیے اور میٹنگ سے پہلے شرکا میں تقسیم ہونا چاہیے۔ مجلس مشاورت میں موجود اسکالروں کے درمیان اختلافی آرا کو اہمیت دی جانی چاہیے اور ان مخالف آرا کی روشنی میں مناسب تصفیے کا انتظا م وضع ہونا چاہیے جس کے لیے دیگر اسکالروں کے نقطہ نظر سے بھی مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔

اس ضمن میں ہم ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان سے ملتمس ہیں کہ:

  • ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کے قیام کے بعد سے تحقیقی مجلات کی مجلس مشاورت سے متعلق اعداد و شمار جاری کیے جائیں، یعنی:
    • وہ کو ن سے عوامل تھے جن کی وجہ سے ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان نے مجلس مشاورت جیسی اہم مجلس کی تشکیل کی پابندی ضروری سمجھی؟ اور ملکی اسکالروں کے ساتھ غیرملکی اسکالروں کی شمولیت کو بھی لازم قرار دیا گیا؟
    • کیا تحقیقی مجلات کے مدیر کی جانب سے مجلس مشاورت کی تشکیل کے لیے متعینہ یا رسمی قواعد و ضوابط پر عمل کیا گیا؟
    • ان کی ادارت میں چھپنے والے کتنے باعثِ زحمت مقالات کے تصفیے کس تناسب سےکیے گئے؛
    • باعثِ زحمت مقالات کا تصفیہ کن بنیادوں پر کیا گیا؛
    • کسی تحقیقی مجلے کو ہائر ایجوکیشن کمیشن او ف پاکستان کی جانب سے منظورکرنے اور درجہ بندی میں مجلس مشاورت کی رائے کو بھی حاصل کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی یا ان کی آرأ کو پیشِ نظر رکھا گیا؟
    • وہ کون سےاسباب تھے جن کی وجہ سے مجلس مشاورت سے متعلق موضوعات و مسائل کو اداریوں کا موضوع نہ بنایا جاسکا؟

ہمارا خیال ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان نے تحقیقی معیار کی بہتری اور تحقیقات و مجلات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے جن اقدامات کا فیصلہ کیا یقیناًا ن میں ایک لائق و مؤثرمجلس مشاورت کی گنجائش بھی رکھی تاکہ یہ مجلس اپنی لیاقت ودانش مندی اور اپنے تجربات کے مطابق مجلے میں اشاعت کے لیے آنے والے مقالات کے معیار کو جانچے اور ان کی شمولیت واشاعت کی منظوری دے یا نہ دے۔ منظوری نہ دینے کی صورت میں وہ اپنی لیاقت اور اپنے تجربات کے مطابق مقالہ نگار کو دیانت دارانہ اور مفید مشورے دے تاکہ مقالہ معیاری صورت اختیار کرسکے اور اس کے نتیجے میں معیاری تحقیق کو بھی فروغ حاصل ہو۔ لیکن لگتاہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اپنے اختیارات کے تحت شائع ہونے والے مجلوں کی خود مجلس مشاورت کو جانچنے یا ان کے معیار و کارکردگی کا جائزہ لیتے رہنے کا کبھی کوئی اہتمام نہ کیا اس لیے سارے ہی مجلوں کی مجلس مشاورت قابلِ اطمینان نہیں کہی جاسکتی، جس کی جانب کمیشن کو سنجیدگی سے غور کرکے ایک مناسب حکمت عملی وضع کرکے اس پر عمل کرنا چاہیے تاکہ مجلوں کا اور ساتھ ہی تحقیقات و مطالعات کا معیار بھی بہتر ہوسکے۔

Facebook Comments Box
featuredHECResearch Journalsمعین الدین عقیل
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ڈالروں کی خاطر فلسطین کا سودا کرنے والے دانشور — Yvonne Ridley (ترجمہ:وحید مراد)
next post
“ڈھاڈری” ایک تہذیبی ناول — ڈاکٹر خاور چودھری

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.