Connect with us

تازہ ترین

جیتو —— سرحد پار سے ملکیت سنگھ مچھانا کا افسانہ

Published

on

کیا دیش آزاد ہوگیا؟ کتنے دن ہوئے ہیں؟ ایک انجان سی آواز کانو ں میں پڑتی تھی۔۔۔

چل چھوڑ جانے دے۔۔۔
وہ آغاز ستمبر تھا۔۔۔۔۔۔
بھادوں کے مہینے کی گرمی زوروں پر تھی تو اس بار موسم ِ برسات بھی کچھ زیادہ ہی مہربان رہی اور تقریباََ روزانہ ہی بارش ہو جاتی تھی۔۔۔۔۔اس سے موسم میں ٹھنڈک کم اور امس زیادہ پڑتی تھی۔ پنجاب میں نرمے کپاس کی فصل بار آور ہو چلی تھی۔۔۔۔۔ چری، گوارہ، مکّی، مونگ پھلی اور باجرا وغیرہ کی فصلیں اپنے جمال پر تھیں۔

اس دن دوپہر کے بعدکا وقت تھا لیکن دھوپ کی تمازت میں کوئی خاص کمی محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ کرنیَل سنگھ بیل گاڑی لے کر مویشیوں کے لیے چری لینے کھیت کی طرف نکل پڑا تھا۔ وہاں پہنچ کر اس نے چری کاٹنا شروع کیا ہی تھا کہ اچانک اسے چری میں سرسراہٹ سی محسوس ہوئی۔ وہ دراصل سرسراہٹ نہیں تھی بلکہ کسی کے سسکنے کی آواز تھی جسے کرنیل سنگھ سرسراہٹ سمجھ بیٹھا تھا۔ وہ چری کا پولا وہیں چھوڑ کر یک دم کھڑا ہو گیا اور اس آواز کی جانب آہستہ سے آگے بڑھنے لگا۔تھوڑے ہی فاصلے پر اس کی نظروں کے سامنے جو منظر تھا اسے دیکھ کر وہ مبہوت ہی رہ گیا۔ اسے وہاں ایک سولہ سترہ سالہ لڑکی درخت کے تنے سے لگی بیٹھی کراہتی ہوئی نظر آئی۔ اس کے بدن کے کپڑے جگہ جگہ سے پھٹے ہوئے تھے۔ اس کا دوپٹہ بھی جانے کہاں رہ گیا تھا۔ چہرے پر خوف کے سائے لہرا رہے تھے اور آنسوؤں نے اس کے گالوں پر اپنے بہنے کے نشان چھوڑ دیئے تھے۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتی، اچانک ایک اجنبی کو اپنے سامنے پا کر وہ حد درجہ گھبرا گئی۔ اپنے دونوں ہاتھوں کی مدد سے پھٹے کپڑوں سے باہر جھانکتے ہوئے اپنے بدن کو ڈھانپنے کی بے سود کوشش کرتے ہوئے وہ زور سے چلّائی۔۔۔۔۔۔

’’ظالموں۔۔۔۔۔تُم پھر آ گئے ہو۔۔۔۔۔۔۔آؤ آؤ۔۔۔۔۔۔۔نوچ لو۔۔۔۔مجھے بھی نوچ لو۔۔۔۔۔ ہائے اللہ۔۔۔۔۔ ہم نے کیا بگاڑا ہے ان ظالموں کا؟۔۔۔۔ یہ کیوں ہمارے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہو ئے ہیں؟۔۔۔۔‘‘ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
کرنیَل سنگھ نے اپنے آپ کوسنبھالتے ہوئے اور صبر و تحمل کے ساتھ، شفقت بھری نظروں سے اسے دیکھا اور کہنے لگا۔۔۔۔

’’دیکھو بیٹی مجھے غلط مت سمجھو۔۔۔۔۔ ڈرو نہیں۔۔۔۔۔۔ میں تُمھیں کچھ نہیں کہوں گا۔۔۔۔۔۔ تُم میری بیٹی جیسی ہو۔۔۔۔۔اور تمھیں شایدیہ احساس نہیں ہے کہ اس وقت کتنی گرم ہوا چل رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔ایسے میں تمھارا یہاں جنگل میں اس طرح تنہا بیٹھے رہنا خطرے سے خالی نہیں۔۔۔۔۔۔ چلو بیٹی میرے ساتھ میرے گھر چلو۔۔۔۔۔۔ تم جو سمجھ رہی ہو میں وہ ظالم نہیں ہوں۔۔۔۔۔ کیا کوئی اپنی بیٹی کے لیے بھی ظالم ہو سکتا ہے؟‘‘

کرنیَل سنگھ کی بات سُن کر اس کا رونا تو کسی حد تک تھم گیا لیکن اب بھی تذبذب کے آثار اس کے چہرے پر نمایاں تھے۔
’’پانی‘‘
کرنیَل سنگھ اپنی بیل گاڑی میں رکھی صراحی سے اس کے لیے پانی لے آیا۔ اس لڑکی نے ہاتھ آگے بڑھا کر گلاس لیا اور ایک ہی سانس میں سارا پانی پی گئی تب کہیں جاکر اس کی جان میں جان آئی۔ گلاس واپس کرتے ہوئے وہ کرنیل سنگھ کے چہرے کا بغور جائزہ لینے لگی گویا اس کی کہی باتوں کی صداقت اس کے چہرے سے چانچنے کی کوشش کر رہی ہو۔

’’اوئے۔۔۔۔۔ میں جانتی ہوں۔۔۔ پہلے تو تُو میٹھی میٹھی باتیں کرکے مجھے بہلا ئے گا۔۔۔۔ اور پھسلائے گا بھی اور پھر اپنے گھر لے جا کر اپنی من مانی کرے گا!۔۔۔ مجھے نہیں جانا تیرے ساتھ‘‘ وہ شاید کرنَیل سنگھ پر بھروسہ کرنے سے ڈر رہی تھی۔

’’چھی چھی چھی۔۔۔۔۔۔ کوئی باپ اپنی بیٹی کے بارے میں کیا بھلا ایسا سوچ سکتا ہے ؟ کرنیَل سنگھ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ پھر اپنے نیفے سے چادر کھول کر اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ’’یہ لو بیٹی چادر۔۔۔۔۔ اس سے اپنا تن ڈھانپ لو۔۔۔۔۔ باپ کے سامنے بیٹیاں یوں نہیں آتیں۔۔۔۔۔۔۔‘‘

یہ جملہ سُن کر وہ سٹپٹا سی گئی لیکن یہ سمجھ بھی گئی کہ یہ سردار تو کھرا سردارہے۔ ان ظالموں کی طرح ظالم نہیں۔۔۔ اسی یقین کے ساتھ اس نے سردار سے چادر لی اور اپنے جسم کو ڈھنک لیا۔ یہ چادر کا لینا اس کے اندر کے اطمینان کو بتلا رہا تھا مانو وہ اپنے آپ کو محفوظ ہاتھوں میں تصور کر رہی تھی۔
’’مجھے چری کاٹنی ہے تب تک تم سوچ لو۔۔۔۔۔۔ بیٹی میں تمھیں ساتھ چلنے کے لیے مجبور نہیں کروں گا ‘‘ کہتا ہوا کرنیل سنگھ چری کاٹنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے بیل گاڑی چری سے لد گئی۔ اس نے سوالیہ نظروں سے پلٹ کر دیکھا تو لڑکی بیل گاڑی کے پاس ہی کھڑی تھی۔
’’بیٹھ جاؤں‘‘
اس نے نظریں جھکاتے ہوئے قدرے توقف سے کہا تو کرنیل سنگھ نے اپنی خوشی پر قابو پاتے ہوئے اسے چری میں یوں بٹھا دیا کہ وہ آسانی سے کسی کو نظر نہ آئے۔

کرنیَل سنگھ خدا ترس آدمی تھا اور اپنے آس پاس کے ماحول سے با خبر بھی کہ آدمی ادمی کے خون کا پیاسا بن بیٹھا ہے۔ وہ اس وقت ہو رہی قتل و غارت گری سے از حد دُکھی تھا جو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ بیل گاڑی کو ہانکتے ہوئے بھی وہ یہی سوچ رہا تھا کہ سورج کا آتش فشاں ہونا تو سمجھ میں آتا ہے۔۔۔۔۔۔ یہ تو قدرت کا کھیل ہے۔۔۔۔۔ جس کی آب و تاب کی بدولت ہی چرندوپرند حیات پاتے ہیں مگراس مُشتِ گل کو کیا کہیں جس احمق نے چاروں طرف آگ لگا رکھی ہے اور انسانیت کا دشمن بن بیٹھا ہے۔

تقسیم ِ ہند کے وقت دراصل تقسیم تومحض پنجاب یا پھر بنگال کی ہوئی تھی۔کسی بھی ملک کی یا گھر و بار کی تقسیم محض تقسیم ہوتی ہے۔ یہ تقسیم کبھی بھی بوال ِ جان و انسانیت نہیں بننی چاہیے۔ اگر تقسیم زمین و جائداد کی ہوتی ہے تو کوئی خاص بات نہیں ہوتی۔۔۔۔۔ بھائی بھائی بھی اکثر الگ ہو ہی جاتے ہیں مگر یہاں تو اس تقسیم کے سبب آسمان و زمین سیاہ ہوگئے تھے۔۔۔ ایسے میں انسان کی انسانیت بھی سیاہ ہو جاتی ہے اور پھر کچھ نہیں بچتا۔۔۔ یہاں بھی کچھ نہیں بچا تھا!!!۔۔۔

ہر طرف لوٹ مار کا بازار گرم تھا۔۔۔۔۔ سب سے زیادہ آزار بہو بیٹیوں نے اٹھائے تھے جنھیں سرِ عام ننگا کیا جا رہا تھا۔ یہ ستم کسی غیر کی جانب سے نہیں بلکہ اپنوں کی طرف سے اپنوں پر ہی برپا کیا جا رہا تھا۔ اس لوٹ مار میں اقلیت اقوام بھی شامل تھیں پراکثریت ان مذہبی جماعتوں کی تھیں جو پانی میں آگ لگا رہی تھیں۔ اُس پار سے بہت سارے بے گناہوں کا قتل ِ عام کیا جار ہا تھا اور اِس پار سے بھی ہجرت کرنے والے معصوموں کی خون ریزی عروج پر تھی۔ ندی نالوں میں پانی کی جگہ خون بہہ رہا تھا۔ صدیوں سے یکجا بسی قوموں کا لہو اور پانی ایک سا ہو گیا تھا۔ نِتّ کے بہم نشست و برخواست والے۔۔۔۔۔۔ہم پیالہ، ہم نوالہ اور دم ساز ایک دم میں ہی ایک دوسرے سے آنکھیں پھیر گئے تھے۔ مگر پھر بھی کہیں کہیں انسانیت کو چاہنے والے اور اس کا پرچم بلند کرنے والے کچھ ایسے انسان دوست اور خدا ترس لوگ بھی موجود تھے جو دونوں جانب فرقہ وارانہ فسادات کا شکار ہو رہے مظلوموں کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے تھے۔ سردار کرنیَل سنگھ کا خاندان بھی ان میں سے ایک تھا اور اس وجہ سے گاؤں کے اکثر لوگ بالخصوص آٹھوں پہر میان سے باہر رہنے والے چھوکرے ان کی مخالفت کرتے تھے۔

کرنیَل سنگھ نے گھر پہنچ کر بیل گاڑی کھڑی کی۔ پھر بھاگ کرصدر دروازہ بند کر آیا۔ مُڑ کر اس نے لڑکی کو گاڑی سے اترنے میں مدد کی۔ جب وہ اتر گئی تو وہ اسے اپنی بیوی پریتم کور کے پاس لے گیا جو اپنے کمرے میں بیٹھی خیالوں میں گم تھی۔اس کا بیٹا بہادرسنگھ اس وقت چادر تانے ساتھ والے کمرے میں سو رہا تھا۔

اپنے شوہر کے ساتھ ایک نوجوان مگر ڈری سہمی لڑکی کو دیکھ کر وہ بھونچکی سی رہ گئی اور سوالیہ نظروں سے کرنیل سنگھ کو دیکھنے لگی۔
’’پریتم کورے!۔۔۔۔۔ تو اس لڑکی سے مل۔۔۔۔۔ اور پہلے اسے جلدی سے کچھ کھانے کو دے۔۔۔۔۔ پھر میں تمھیں سب کچھ بتاتا ہوں۔۔۔۔۔۔‘‘ کرنیل سنگھ نے اس لڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنی بیوی سے کہا۔

پریتم کور جھٹ سے گرم گرم دودھ میں ہلدی ڈال کر اور گھر میں بنے کچھ گلگلے بھی ساتھ لے آئی اوروہ سب اس لڑکی کوتھما کر اس کے قریب ہی بیٹھ گئی۔

پھر کرنیَل سنگھ نے پوری کہانی اپنی بیوی کو بتا دی۔۔۔۔۔ پریتم کور نے بھی اس لڑکی کے سر پر ہاتھ رکھ کر اپنا پیار جتایا مگر اندر سے خوف زدہ ہو کر چل رہے مخدوش حالات پر کرنیَل سنگھ سے فکر مندی کا اظہار کیا تو آگے سے اس نے خود اعتمادی سے کہا۔۔۔۔۔
’’پریتم کورے ! ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔۔۔۔واہے گرو بھلی کرے گا۔۔۔ ‘‘
’’بیٹی۔۔۔۔۔ تیرا نام کیا ہے ؟ ‘‘ پریتم کور نے چندمنٹ بعد اس سے پوچھا۔
’’جی میرا نام جاناں ہے ‘‘ لڑکی نے دودھ پی کر گلاس ایک طرف رکھتے ہوئے جواب دیا۔
’’بیٹی تُم اس مصیبت میں کیسے پھنس گئی؟ ‘‘ پریتم کور اب اصل مدعے پر آ گئی۔
’’ہم لوگ آج صبح قافلے کے ساتھ پاکستان جا رہے تھے کہ اچانک قافلے پر حملہ ہو گیا۔۔۔۔ جان بچانے کے لیے جس کا جدھر کو مونہہ ہو گیا بھاگ نکلا۔۔۔۔۔۔ ایسے میں میَں قافلے سے بچھڑ گئی اور بچتے بچاتے اس چری کے کھیت میں جا چھپی جہاں سے میں آپ کے سردار جی کے ہاتھ لگ گئی ‘‘ جاناں نے بڑے دل گردے سے اس کے ساتھ گزرے ہولناک سانحات کو بیان کیا۔

’’بیٹی دُنیا میں جب بھی کوئی دنگہ فساد ہوتا ہے تو سب سے زیادہ تکالیف عورتیں ہی اٹھاتیں ہیں۔۔۔۔۔ تیرے خاندان کابھی کیا بنا ہوگا۔۔۔۔۔۔ پتہ نہیں بیچارے کہاں کہاں بھٹک رہے ہوں گے؟‘‘ پریتم کور نے اس سے ہمدردی جتائی۔
’’وہاں بہت مار کاٹ ہوئی ہے امّی جان (پریتم کور کے ہمدردانہ روّیہ اختیار کرنے پر جاناں کے مونہہ سے بر جستہ ’امّی جان‘ کے الفاظ ادا ہو گئے)۔۔۔۔ حملے کی جیسی شدت تھی۔۔۔۔۔ لگتا نہیں ہے کہ میرے خاندان کا کوئی فرد بچا ہوگا‘‘ یہ کہتے ہوئے جاناں ایک بار پھر رو پڑی۔ اس کے خاک آلود چہر ہ پر (شایدجو اس نے وقت کی کھوٹی نگاہوں کو دھوکا دینے کے لیے اپنے چہرے پہ مل رکھی تھی) پڑے آنسوؤں کے نشان اور بھی گہرے ہو گئے۔ پریتم کور نے اسے گلے لگاتے ہوئے چُپ کرایا۔ اس کی خود کی آنکھیں بھی نم ہو گئی تھیں۔

پھر پریتم کور نے ایک صندوق پر سے خاک جھاڑی۔۔۔۔۔ لگتا تھا اس کو کھولے کافی دن گزر گئے تھے۔۔۔۔۔۔ اس میں سے ایک نیا نکور رنگدار خوب صورت زنانہ سوٹ نکالاجو اس کے حساب سے جاناں کو پورا آسکتا تھا۔۔۔۔۔ وہ چند منٹ اس کو اُلٹ پُلٹ کرکے نہارتی رہی۔۔۔۔۔۔ پھر اسے سینے سے لگا کراپنی آنکھیں موند لیں۔۔۔۔۔۔ اس سوٹ کا لمس پا کراس پر ایک ایسی نفسیاتی کیفیت طاری ہو گئی جس سے اس کی پلکیں تربتر ہوگئیں۔۔۔۔۔۔ بعد ازاں اپنے آنسو خشک کرتے ہوئے اس نے وہ سوٹ جاناں کو تھما دیا اور اسے نہانے کے بعد پہننے کی تاکید کی۔ وہ سوٹ پہن کر اور اپنے بالوں کو سنوار کر قدآور جاناں ماہ ِ تمام کی طرح نِکھر گئی تھی۔

جاناں کے کمرے میں آنے پر کرنیَل سنگھ نے اس کے بیٹھنے کے لیے کُرسی چھوڑ دی اور خود پریتم کور کے قریب چارپائی پر بیٹھ گیا۔ تینوں کے درمیان کچھ گفتگو جاری تھی کہ جاناں کی آواز دوسرے کمرے میں لیٹے ہوئے بہادر سنگھ کے کانوں میں جا پڑی جو آٹھوں پہر پژ مردہ اور گم صم سا بنا چادر تانے چارپائی پر پڑا رہتا تھا۔ اس اجنبی اور جاذبہ آواز کی مالک کو دیکنھے کے لیے وہ جھٹ سے چارپائی سے اترا اور ان تینوں محو ِ گفتگو افراد کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ جاناں ڈر کر کھڑی ہو گئی اور ساتھ ہی پریتم کور بھی کھڑی ہو گئی۔ جاناں کو دیکھ کر بہادر سنگھ کا چہرہ کھِل اُٹھا۔ اس کے چہرے پر خوشی کے کئی رنگ آ جا رہے تھے۔ اس نے بے ساختہ اونچی آواز میں کہا۔۔۔۔۔

’’ارے پگلی۔۔۔۔۔تو اُدھر کیوں کھڑی ہے؟۔۔۔۔۔۔ آ میرے پاس آ۔۔۔۔۔‘‘ اورجبھی اس نے جاناں کو اپنی باہوں میں لینے کے لیے بے اختیار ہاتھ پھیلائے تو وہ سکڑ کر پیچھے ہٹ گئی اور پریتم کور یک دم ان دونوں کے مابین آ کھڑی ہوئی۔ اس نے بہادر سنگھ کے ہاتھوں کا رُخ موڑتے ہوئے پورے زور سے اس کو پیچھے دھکیل دیا اور قہر آلود نگاہوں سے اس کی سرزنش کی۔۔۔۔۔
’’یہ کیا کر رہا ہے؟۔۔۔۔۔۔تو ہوش میں تو ہے؟۔۔۔۔۔۔‘‘

کرنیَل سنگھ اس کا بازو پکڑ کر باہر لے گیا اور تمام قصہ بیان کرتے ہوئے اسے تاکید کی کہ بیٹا یہ بات باہر نہ جا نے پائے۔دونوں ہاتھوں سے اپنا گریبان قدرے بلند کرتے ہوئے اور مسکراتے ہوئے بیٹے نے باپ کو یقین دہانی کرا دی۔

بہادر سنگھ اب خوش تھا۔۔۔۔۔ اس میں پہلے جیسا جوش و خروش لوٹ آیا تھا اور تندہی سے ہر کام انجام دینے لگا تھا۔ ایک دن وہ گرما گرم بھّٹے لے آیا اور جاناں کوکھانے کا اشارہ کیا لیکن پریتم کور کی نگاہ جاناں پر ہی مرکوز تھی۔۔۔۔۔ عاقل را اشارہ کافی ست۔۔۔۔۔ اس لیے اس سے آنکھیں ملتے ہی اشارہ فہم جاناں کے پیر وہیں ٹھٹھک گئے۔

جاناں کو دیکھ کر بہادر سنگھ کے چہرے پر کئی رنگ آ جاتے تھے۔۔۔۔۔ وہ بڑی محبت بھری نظروں سے جاناں کو دیکھتا تو پریتم کور ڈر جاتی تھی اور بہادر سنگھ کا اس کے پاس بیٹھنے کا سبب بننے ہی نہیں دیتی تھی۔۔۔۔۔ اندر سے تو وہ خوش تھی کہ بہادر سنگھ مُڑ چست و درست ہو گیا تھا۔۔۔۔۔ اس کے چہرے کی آب و تاب لوٹ آئی تھی۔۔۔۔۔ اُس کی سوچ کے مطابق اس چنچل پن کا سبب چاہے جاناں ہی کیوں نہیں تھی مگر ایک خوف سا ہر وقت اس کے دل و دماغ پہ طاری رہتا تھا کہ بہادر سنگھ خوبرو ہٹا کٹا نوجوان ہے اور جاناں دوسرے مذہب کی الھڑ دوشیزہ۔۔۔۔کیا پتہ۔۔۔۔۔ کہیں کوئی اونچ نیچ نہ ہو جائے۔۔۔۔۔۔ اس لیے وہ جاناں کو ہر وقت اپنے پاس رکھتی۔۔۔۔۔ رات کو اپنی چارپائی اس کی چارپائی سے لگا کر سوتی اور وقفے وقفے کے بعد جاگ کر اپنی تسلی کرتی۔

ایسی باتیں پوشیدہ کہاں رہتی ہیں۔۔۔۔۔ بالخصوص ایسے زہرآلود اور کشیدگی بھرے ماحول میں جہاں آدمی کی قیمت ایک پھوٹی کوڑی بھی نہ ہو۔ آہستہ آہستہ سارے گاؤں کو پتہ چل گیا کہ کرنیَل سنگھ نے اپنے گھر میں ایک غیر مذہب کی لڑکی کو نہ صرف پناہ دے رکھی ہے بلکہ اس کو اچھا کھلاتا پلاتا بھی ہے اور اپنی بیٹی کی طرح دیکھ بھال بھی کرتا ہے۔ اس کی گلی میں شورش پسندوں کی آمد و رفت بڑھنے لگی جن میں زیادہ تر نوجوان طبقے کا بول بالا تھا۔

کرنیَل سنگھ کے خاندان کو بھی اس کی بھنک لگ چکی تھی۔۔۔۔ نڈر اور جیالے بہادر سنگھ نے اپنا گنڈاسا تیز کرنا شروع کر دیا تھاجس کو وہ اپنا زیور قراردیتا تھا۔ کرنیَل سنگھ نے بھی اپنی تلوار نیام سے نکال کر انگوٹھے سے اس کی دھار جانچ لی تھی۔ دونوں میر میدان مذہب و مِلت پر مٹنے کے لیے تیارتھے۔ پھر ایک دن یہ ہوا کہ بلوائی کرنیَل سنگھ کے گھر کے سامنے آن کھڑے ہوئے اور اسے دھمکیاں دینے لگے۔۔۔۔۔۔
’’کیَلیا (کرنیَل سنگھ)!!! باہر نکل اوئے۔۔۔۔۔‘‘
’’اُسے باہر نکال اوئے۔۔۔۔۔‘‘
’’اوئے تجھے ذرا شرم نا آئی۔۔۔۔۔ تو نے تو سارے گاؤں کو گندا کر دیا ہے‘‘

گھر کے باہر بلوائیوں کی زبان پر مغلّظات کی کثافت کی تہہ متواتر فربہ ہوتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔ گھر کے اندر باپ بیٹے میں ایک دوسرے سے پہلے ان سے بھڑنے کی کشمکش چل رہی تھی۔ بالآخر دروازہ ذرا سا کھُلا۔۔۔۔۔ اس میں سے بہادر سنگھ نے نصف گنڈاسا باہر نکالا۔۔۔۔۔ بلوائیوں نے جب گنڈاسے کی چمکتی دھاردیکھی تویک لخت سہم کر تھوڑا تھوڑا پیچھے ہٹ گیے۔۔۔۔۔ جہاں ایک لمحہ قبل شور و غُل برپا تھا۔۔۔۔۔ ایک دم سے خاموشی چھا گئی۔ پھر دروازہ نصف کھُلا۔ بہادر سنگھ گنڈاسا تانے باہر نکلا۔ کرنیَل سنگھ بھی اس کی بغل میں جا کھڑا تھا۔ پریتم کور اور جاناں سر ڈھنکے اور چہرے کو دوپٹّے میں چھپا کر دروازے کے پیچھے سے بلوائیوں کو دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔۔ ان کی آنکھوں میں خوف و ہراس کے سائے لہرا رہے تھے۔

’’بولو اوئے !۔۔۔۔۔کیا چاہیے تُمھیں؟۔۔۔۔۔‘‘ بہادر سنگھ اس مجمعے سے گویا ہوا۔
’’وہ چاہیے جو آپ نے چھپا رکھی ہے‘‘ ہجوم میں سے ایک آواز آئی۔ اس پر جاناں تھر تھرانے لگی۔
’’مونہہ سنبھال کے بول اوئے۔۔۔۔۔۔ وہ بھی انسان ہے۔۔۔۔۔ کوئی جانور نہیں‘‘ وہ شیر کی طرح دہاڑا۔
’’دیکھ بہادر سیّاں۔۔۔۔۔۔ تیرے سے ہمارا کوئی جھگڑا نہیں ہے۔۔۔۔۔ بس اس کو ہمارے حوالے کر دے‘‘ ایک اور نے اپنی طرف سے حتمی فیصلہ سُنایا۔
’’وہ نہیں ملے گی۔۔۔۔۔ کوئی اور بات ہے تو بتاؤ‘‘ بہادر سنگھ نے بڑے اعتمادسے جواب دیا۔
’’کیوں نہیں ملے گی؟۔۔۔۔۔ تیری کیا لگتی ہے جوتو نے گھر میں سجا کے رکھی ہے‘‘ ایک اوباش قسم کا نوجوان اُبل پڑا۔
بہادر سنگھ نے بائیں ہاتھ میں گنڈاسا تھاما اور لپک کردائیں ہاتھ سے اس نوجوان کا گریبان جا پکڑا اور اسے زمین سے بالشت بھر اوپر اٹھا کر پوچھا ’’جاننا چاہتے ہو کہ وہ کون ہے اور میری کیا لگتی ہے؟‘‘
’’ہاں ہاں۔۔۔۔۔ تمھیں بتانا ہی پڑے گا۔۔۔۔۔ وہ کون ہے۔۔۔۔۔۔ تمھاری کیا لگتی ہے۔۔۔۔۔؟‘‘ نوجوان بھی ڈٹ گیا۔
بہادر سنگھ اس کا گریبان چھوڑ کردروازے کی طرف لپکا اور کواڑ کے پیچھے لرزتی کانپنی جاناں کا ہاتھ تھامے اسے سب کے سامنے لے آیا۔۔۔۔۔پھر اس کا ہاتھ بلند کرتے ہوئے فلک شگاف آواز میں گرجا۔۔۔۔۔۔
’’اسے غور سے دیکھو اوئے۔۔۔۔یہ کون ہے۔۔۔۔ تمھارے یہاں آنے سے پہلے یہ میری کوئی نہیں تھی۔۔۔۔ اب تمھارے یہاں آنے کے بعد یہ میری بہن جیتو ہے۔۔۔۔ جیتو۔۔۔۔۔بلجیت کوَر۔۔۔۔۔جس کو ہم سب پیار سے جیتو کہہ کر بُلاتے تھے۔۔۔۔۔ سمجھ گئے اوئے؟‘‘ اس کے مونہہ سے ایسی غیر متوقع بات سُن کرمتحیر بھیڑ ایک دوسرے کا مونہہ تاکنے لگی۔
’’یاد ہے تُمھیں؟۔۔۔۔۔۔ میری جیتو تین مہینے پہلے گولی کا شکار ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔ اس کی موت کے بھی تُم لوگ ہی ذمے دار ہو‘‘ یہ سُن کر ہجوم کی نظریں نیچی ہو گئیں۔۔۔۔۔۔لاڈلی بہن کو یاد کرکے بہادر سنگھ کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ اس نے جاناں کا ہاتھ چھوڑ دیا اور اس جم ِ غفیر کی طرف انگلی اٹھاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔
’’اس دن جب ان کا قافلہ چُپ چاپ یہاں سے گزر رہا تھا تو وہ تم لوگ ہی تھے جنھوں نے ان پر اچانک دھاوا بول دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’میری جیتو اس وقت گھر کا کوڑا کرکٹ باہر پھینکنے اسی جانب گئی ہوئی تھی۔ قافلے نے اپنے بچاؤ کے لیے آگے سے گولی چلا دی اور اس فائرنگ کی زد میں آ کرمیری جیتو۔۔۔۔۔ ارے میری جیتو موقع۔۔۔۔۔۔ موقع پر ہی۔۔۔۔۔۔۔‘‘ بہادر سنگھ یہ جملہ پورا ادا نہیں کر پایا۔ اس کے ہاتھ سے گنڈاسا چھوٹ گیا۔۔۔۔ اس کا غم اتنا شدید ہو گیا تھا کہ وہ اس وقت ادھ مرا سا لگ رہا تھا۔

زندگی کے غم بعض دفعہ یوں سمجھ میں نہیں آتے۔ جب کوئی سمجھائے یا احساس کرائے تو بہت سمجھ میں آتے ہیں۔ بہادرسنگھ کا غم، کرنیل سنگھ کی ہنسی اور پریتم کور کی اپنایت ایسے ہی کسی کے سمجھانے سے سمجھ میں آتی ہے۔ یوں ہی کوئی انجان اپنا سا لگتا ہے تو اس کے اپنا ہونے کی کوئی اہم وجہ ضرور ہوتی ہے۔ جاناں سے جیتو تک کا سفر ایسی ہی ایک معقول وجہ ہے۔

پاس ہی کھڑی پریتم کور اپنے جوان بیٹے کو سہارا دینے کے لیے تڑپ کر آگے بڑھی اور اس کا سر اپنی گود میں رکھ کر سہلانے لگی۔ اس نے پیچھے مُڑ کر دیکھا تو جاناں اپنے دوپّٹے کی کنی کاٹ کر بنائی ہوئی راکھی ہاتھ میں لیے کھڑی مسکرا کر بہادر سنگھ کو دیکھ رہی تھی۔ پریتم کور نے فرط ِ جذبات میں جاناں کو گلے سے لگا لیا۔

یہ منظر دیکھ کر خجالت بھرا مجمع نظریں جھکائے چُپ چاپ وہاں سے کھسک گیا۔۔۔

شاید دوپٹے کی ایسی ڈھیروں کٹی کنیوں کی آج بھی ضرورت ہے جو نہ صرف جاناں سے جیتو تک بلکہ انسان سے انسان کی انسانیت تک کے رشتے کو مضبوط کر دے، پھر یہ سماج یہ دنیا کسی کو نام سے نہ پہچان کر بس انسان اور اس کے چہرے یا اس کی انسانیت سے جانیں۔۔۔ پھر تو یہ سماج انسان کے جینے کے لائق ہوگا۔

Advertisement

Trending