تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
فکنگ بِچ —– افسانہ
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیصنف/ جینڈرعلمیکالمکلچرکلچر، آرٹ

لزبئین فیمنزم : مردوں کے ساتھ زبان کا بھی دشمن؟ — وحید مراد

by وحید مراد 30/04/2021
written by وحید مراد 30/04/2021
254

رد عمل کے طور پر وجود میں آنے والی تحریکوں کے سرکردہ افراد عموماً ضد، ہٹ دھرمی، غصے اور نفرت کے جذبات سے مغلوب ہوتے ہیں۔ وہ ڈیڑھ اینٹ کا آشرم الگ بنانے کی خاطر ہزاروں سال کی انسانی تاریخ، ثقافت، روایات، اقدار اور بعض اوقات زبان اور اصطلاحات کو بھی اپنے مذموم مقاصد کی بھینٹ چڑھا نے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ یہی کچھ علیحدگی پسند لزبئین Lesbian فیمنزم کے رہنمائوں کے ہاتھوں سرزد ہوا۔

لزبئین Lesbian خواتین نے جب وومن لبریشن اور گے لبریشن موومنٹس سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اپنی الگ تنظیم کی بنیاد رکھی تو منشور کا پہلا نکتہ یہ طے پایا کہ وہ ہر اس چیز کو مسترد کرتی ہیں جسکا مردانہ بالادستی سے ذرا سا بھی کوئی تعلق نظر آئے۔ چنانچہ انہوں نے مردوں سے بالکل علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اب وہ نہ مردوں سے کسی قسم کا تعلق رکھیں گی اور نہ انکی طرف سے دی جانی والی مراعات اور تحفظ وغیرہ سے فائدہ اٹھائیں گی۔ خاندان جیسے معاشرتی اداروں کے ذریعے صرف مردوں کو جنسی خواہشات سے لطف اندوز ہونے کا استحقاق حاصل رہا ہے لہذا اس ادارے سے بھی علیحدگی اختیار کی جائے گی۔ مخالف اور متضاد اصناف (مرد و عورت) کا جنسی تعلق بھی پدرسری نظام کا شاخسانہ ہے اس لئے لزبئین عورتیں اسے مسترد کرتے ہوئے صرف آپس میں تعلق استوار کریں گی۔ ظلم کے نظام کو مسترد کرنے کیلئے ضروری ہے کہ عورت صرف عورت سے ہی محبت اور جنس کا تعلق رکھے اور جو عورتیں ایسا نہیں کرتیں وہ اپنی لزبئین بہنوں سے غداری کی مرتکب ہونگی۔

آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی جینڈر اسٹڈیز ڈکشنری کے مطابق لزبئین خواتین دو طرح کی ہوتی ہیں؛ ایک وہ جو پیدائشی طورپر اس طرح کے رجحانات رکھتی ہیں اور انہیں معاشرتی طور پر دبائو کا سامنا ہوتا ہے لیکن دوسری وہ جو بلوغت کی عمر میں پہنچ کر کسی وقت اپنی مرضی سے اس کا انتخاب کرتی ہیں۔ انہیں کسی دبائو یا جبر کا سامنا نہیں ہوتا اس لئے وہ اپنی اس شناخت کا سیاسی طور پر اظہار کرنا ضروری نہیں سمجھتیں۔ لیکن علیحدگی پسند لزبئن اسکالر شیرل کلارک (Cheryl Clarke) بضد ہیں کہ ان سب کو یکساں طور پر معاشرتی جبر کے خلاف کھل کر نفرت کا اظہار کرنا چاہیے تاکہ مردانہ ادارے (خاندان وغیرہ) کو یہ پیغام مل سکے کہ اب ہم  انہیں مزید برداشت کرنے کو تیار نہیں۔

لزبئن فیمنسٹ اسکالرز کی نفرت صرف ثقافت اور اقدار تک ہی محدود نہیں انگریزی زبان بھی انکا تختہ مشق بننے سے نہیں بچ سکی۔ یہ فلسفہ تراشا گیا کہ ‘Female’ کا لفظ ‘male’ سے نکلا ہے اور ‘man’، ‘woman’ سے مشتق ہے۔ یہ مغالطہ بھی پیدا کیا گیا کہ woman لفظ میں’wo’ دراصل ‘w/o’ ہے جسکا مطلب ہوتا ہے’کے بغیرwithout’ یعنی پدرسری نظام معاشرت می woman کی اپنی الگ کوئی شناخت ہی نہیں تھی، اسے ایک ایسی مخلوق سمجھا جاتا تھا جو مردانگی (man) کے بغیر ہو۔

اسی طرح یہ افسانہ گھڑا گیا کہ پدرسری نظام معاشرت میں عورت پر ہونے والے ظلم کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس نظام نے ہر شعبے میں مرد کا راج قائم رکھنے کیلئے عورت کو نرم و نازک، کمزور اور مرد پر انحصار کرنے والی مخلوق باور کرایا۔ ‘woman’ کا لفظ آج بھی عورت کو مرد کی محکومی کی یاد دلاتا ہے لہذا یہ لفظ استعمال کرنے سے پرہیز کیا جائے۔ آج کی عورت اگر اس ظالمانہ نظام سے آزادی حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے چاہیے کہ دیگر مراعات کی طرح ‘woman’ کا لفظ بھی مردوں کے منہ پر دے مارے اور کوئی متبادل لفظ استعمال کرے۔

چنانچہ لزبئین فیمنسٹ اسکالر ز نے ‘woman’ لفظ ترک کرتے ہوئے ‘womyn’، ‘wimmin’ اور ‘womin’ جیسے الفاظ کا استعمال شروع کیا۔ اس سے انہیں کوئی نفسیاتی تسکین میسر آئی ہو تو کہہ نہیں سکتے لیکن اصل لفظ مین ہجوں کے علاوہ کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ اگر صرف الفاظ اور زبان میں تبدیلیاں کرنے سے معاشرے تبدیل ہوتے تو ایک لفظ انقلاب پھونکنے سے دنیا میں ہر طرف تبدیلی رونما ہوجاتی۔

اسی طرح مرد اور عورت کے بجائے Gender جیسے لفظ کا بھی بھرپور استعمال کیا گیا تاکہ عورت کو کم ازکم لفظی طور پر مردانہ تسلط سے آزاد کیا جا سکے۔ فیمنسٹ تاریخ میں یہ وہ موقع ہے جب مردوں سے علیحدگی کے بعد  ‘woman’ لفظ سے بھی مکمل علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اسے حرف غلط کی طرح مٹا دیا گیا۔ یہ عہد کیا گیا کہ آئندہ یہ لفظ کسی پروجیکٹ میں استعمال نہیں کیا جائے گا۔ یو ایس ایڈ پروگرام کی طرف سے بھی دنیا بھر کی این جی اوز کو خاص ہدایت جاری کی گئی کہ مساوات (Equality) کے بجائے صنفی مساوات (Gender Equality) کا لفظ استعمال کیا جائے چنانچہ امریکی امداد پر چلنے والے پروگرام کا نام Gender Equality Program رکھا گیا۔ کسی این جی او کو اس وقت تک باہر سے فنڈز کا اجراء نہیں ہوتا جب تک وہ اس نظریے کی تبلیغ و ترویج پر کاربند نہ ہو۔

اسی طرح ‘Chairman’ اور ‘Businessman’ جیسی اصطلاحات کے بارے میں بھی غلط فہمیاں پھیلائی گئیں کہ ان سب کے آخر میں man آتا ہے اس لئے یہ مردانہ تسلط اور جنسی تعصب (Sexism) کی علامات ہیں۔ دلیل یہ پیش کی گئی کہ یہ الفاظ استعمال کرنے سے عورت کی مرئیت visibility کم ہوجاتی ہے اس لئے انکی جگہ غیر متعصبانہ الفاظ استعمال کئے جانے چاہیں جیسے Chairperson اور Businessperson وغیرہ۔ یہ مغالطہ اس وقت انتہا پر نظر آیا جب 2014 میں Rona Fairhead بی بی سی ٹرسٹ کی پہلی خاتون سربراہ بنیں۔ بین الاقوامی میڈیا میں یہ غلط فہمی شہ سرخیوں کا حصہ بنی کہ انہیں Chairman لکھا جائے، Chairperson، Female Chairman یا Women Chairman سے خطاب کیا جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ انسان ہونے کی حیثیت سے عورت کا مرد سے بہت گہرا تعلق ہے لیکن لفظ ‘female’ کا لفظ ‘male’ سے کوئی تعلق نہیں۔ اسی طرح ‘woman’ ایک مکمل لفظ ہے، ‘wo’ اس لفظ کا حصہ ہے سابقہ نہیں۔ ‘woman’ کا لفظ لاطینی زبان کے لفظ ‘femella’ اور ‘femina’ سے نکلا ہے جنکے معنی ظاہر ہے عورت ہی ہیں۔ جبکہ ‘male’ لفظ قدیم فرانسیسی زبان کے لفظ ‘masle’ سے نکلا ہے اور جدید فرانسیسی زبان میں اسے ‘male’ بولا جاتا ہے۔ یعنی ‘male’ اور ‘female’ دو الگ زبانوں کے الفاظ ہیں لیکن وقت کے ساتھ یہ اس طرح مستعمل ہوئے کہ انہیں ایک دوسرے کے مقابل میں بولا جانے لگا لیکن ان میں سے کوئی بھی لفظ ایک دوسرے سے مشتق نہیں۔

اسی طرح ‘Man’ کا لفظ شخص کے معنی میں استعمال ہوتا تھا اور یہ کسی صنف کی طرف اشارہ نہیں کرتا تھا (gender neutral)۔ کسی انسان کے لئے بھی خواہ وہ مرد ہو یا عورت مین کا لفظ استعمال ہوتا تھا۔ یہ قدیم انگریزی زبان کے لفظ ‘mann’ سے نکلا ہے جسکا مطلب ‘انسان human, person’ ہے۔ یہ لفظ عورتوں، مردوں اور بچوں سب کیلئے استعمال ہوتا تھا لیکن جب اسے صرف مردوں کیلئے مخصوص کرنا ہوتا تو اسے ‘waepmann’ بولا جاتا۔ بعد میں ‘waep’ کا استعمال ختم ہوگیا لیکن لفظ’Man’ کو صنفی تخصص کے بغیر بولا جاتا رہا۔ پرانی انگلش میں عورت کیلئے’Wif’ یا ‘Wifmann’کا لفظ بھی بولا جاتا تھا جو بعد ازاں ‘wif’ اور پھرماڈرن لفظ ‘wife’ میں تبدیل ہوگیا۔ ‘wifmann’ کے بجائے لفظ ‘woman’ اپنا لیا گیا لیکن اس سارے عمل سے یہ بات کہیں بھی ثابت نہیں ہوتی کہ ‘man’ اور ‘woman’ کا ایک ہی روٹ ہے۔

ان الفاظ کے حوالے سے ابتدائی غلط فہمی شاید اس وقت پیدا ہوئی جب انگریزی زبان اور ثقافت پر کنگ جیمز ورژن آف بائیبل کا اثرورسوخ ہوا۔ عیسائی عقیدہ ہے کہ حوا کو آدم کی پسلی سے پیدا کیا گیا۔ اس کا بیان بائیبل میں اس طرح سے ہے:

Radical and Lesbian Feminism – Literary Theory and CriticismShe shall be called ‘woman’ for she was taken out of ‘man

وہ اب عورت کہلائے گی کیونکہ وہ مرد سے نکالی گئی ہے

اس عقیدے کے تناظر میں کچھ لوگوں نے یہ سمجھا کہ جس طرح عورت، مرد سے پیدا ہوئی ہے اسی طرح شاید لفظ ‘woman’ بھی ‘man’ سے نکلا ہے اور ‘woman’ لفظ میں’wo’ سابقہ ہے جس کا مطلب ‘out of کے بغیر’ ہوتا ہے۔ فیمنسٹ ماہرین نے چند لوگوں کی اس غلط فہمی کی بنیاد پر نفرت کا ایک نظریہ تشکیل دیتے ہوئے بے شمار لوگوں کو گمراہ کیا۔

مشرقی زبانوں خاص طور پر عربی، فارسی اور اردو وغیرہ میں مرد اور عورت کے لئے استعمال ہونے والے الفاظ میں کوئی غلط فہمی نہیں پائی جاتی اور نہ ہی مشرقی ممالک میں مرد دشمنی کی بنیاد پر کوئی لزبئین کمیونٹی وجود رکھتی ہے۔  اسکے باوجود ولایتی فیمنسٹ اسکالرز کے دیسی مریدین مرد دشمن روایت کی اندھی تقلید میں یہاں بھی مغرب کے مغالطے پھیلانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے۔

Facebook Comments Box
A Return to Modesty: Discovering the Lost VirtueAndrea DworkinBarbara L. Fredricksonbody perceptionBusinessmanbuzzwordCatharine MacKinnonchairmanchairperson Gender EqualityCheryl ClarkeCrisis of Masculinitydehumanize Sexualized womenDiane ArcherDr. Melissa FarleyDr. Michael MilburnDr. Sally StreetDr. Sophie WoodwardDunkelEqualityFemaleFeminismFeminist theoryFeminized Mengender discriminationhyper SexualizationLGBTmaleMale ChauvinismmanMisogynyobjectifying gazeObscenityOpen relationsPage MellishPatriarchyPopular FeminismPornographyProstitutionStiletto FeminismProvocative dressPublic DecencyPublic nuditySamantha M. GoodinSandra Lee BartkySexismsexual encounterSexual ObjectificationSexual revolutionSexualityShe shall be called ‘woman’ for she was taken out of ‘manSheila JeffreysSocial perceptionTheory of Sexualitytoxic masculinityTrisha MWaheed MuradWendy Shalitwomanwoman chairWoman EqualityWomen Empowermentاسقاط حملباپ کی حکمرانیبرہنگیپاکدامنیپاکیزگیپدرسری نظامپدرشاہیپورنوگرافیجارحیتجنسی آلاتجنسی آلودگیجنسی امتیازجنسی انقلابجنسی ٹوائیزجنسی جبرجنسی ہراسمنٹجینڈر اسٹڈیزجینڈر پالیٹکسچولیخاندانخودکشیخودلذتیدیسی لبرلزسویڈنسیکس انڈسٹریسیکس ورکزسیکولرزشائستگیشہوانی جذباتصنفی سیاستصنفی مساواتعریانیعصمتعفتعمران خان کا فحاشی کے خلاف بیانعورت کی آزادیعورت مارچعورتوں کی بیماریاںفحاشی اور طلاقیںفحاشی کا لباس کے ساتھ تعلقفحاشی کے خلاف امریکی قوانینفحاشی کے خلاف برطانوی قوانینفحاشی کے خلاف چینفحاشی کے خلاف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے قوانینفحاشی کے خلاف کنیڈین قوانینفحش نگاریفیشنفیمنزمکام کی جگہوں پر ریپمانع حملمشت زنیمنی اسکرٹمیک اپناروےنسوانی شناختنفسیاتی و ذہنی بیماریاںننگا پنہارسنگھارہم جنس پرستیوزیراعظم پاکستان عمران خانوومن اسٹڈیز پروگراموومن ایمپاورمنٹوومن لبریشن اور گے لبریشن موومنٹسیورپی یونین اور ہنگری کے قوانینیونیورسٹی کیمپس میں ریپ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
وحید مراد

previous post
ہست ونیست اور تخلیق ِکائنات کے رَمز —- مجیب الحق حقّی
next post
”بندہ“، محمد ابدال بیلا کی چشم کشا آپ بیتی — نعیم الرحمٰن

Related Posts

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

فکنگ بِچ —– افسانہ

27/03/2026

07/12/2025

10/11/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.