تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

آپشنز کی کمی، نسلوں کا بگاڑ —– ہمایوں تارڑ

by دانش ڈیسک 03/04/2021
written by دانش ڈیسک 03/04/2021
73

بچوں کو جگانے کا درست طریقہ کیا ہے؟

“آنکھیں بند کرو اور سو جاؤ، ورنہ خُون پینے والی بَلا آجائے گی۔ کالی مائی کو پتہ چل جائے گا آپ ابھی تک جاگ رہے ہو۔ جو بچے ماں کی بات نہیں مانتے، اُن کو فقیر بابا پکڑ کر لے جاتا ہے۔۔” وغیرہ۔ رات بستر پر سُلانے کی کوشش میں، یا کھانا کھلانے، پڑھانے، تمیز و تہذیب سکھانے کے نام پر بچوں کو اندھیرے، بِلی، کتے، ماؤس، ٹائیگر، بھوت، زومبیز وغیرہ سے ڈرایا جاتا ہے۔ یہ جانے بِنا کہ معصوم کا ذہن ایسے وقتوں میں تبدیلی Transition اور نشوونما growth کے مرحلوں میں سے گذر رہا ہوتا ہے۔

یہی دماغ انسان کا اصل سرمایہِِ حیات ہے جس کے بل بوتے پر اس نے آگے چل کر ساری لَرننگ کرنی اور اکیڈیمکس کا سفر طے کرنا ہے، کامیاب زندگی گذارنے کو اُسے رویوں اور تعلق داری کی داستان رقم کرنا ہے۔ اگر اس تِھنکنگ مشین میں پیچیدگیاں پیدا ہو گئیں تو مقامِ دل بھی متاثر ہوگا جو ایموشنز یعنی جذبات کی آماجگاہ ہے۔ نفسیاتی صحت بھی خراب، جذباتی صحت بھی متاثر۔ بچے میں طرح طرح کے جنون یا فوبیاز پیدا ہو جائیں گے۔

عجلت پسندی بھی ایک آپشن ہے مگر جان چھڑانے کی حِرص میں والدین اور بالخصوص مائیں اپنے بچوں کے تعمیر ی شب و روز برباد کر ڈالتی ہیں۔ آپ اکثر سنتے ہوں گے: “نہلا نادھلا نا، کپڑے دھونا، پہنانا، کھانا کھلا نا، گھر کی صفائی۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ میں کیا کرتی؟ تنگ کر رہا تھا۔ دو ہاتھ جڑ دئیے۔ کچھ دیر رُوں رُوں کی، پھر اچھا بھلا سو گیا۔”

دیکھا جائے تو ‘نہلانا دُھلانا، کھانا کھلانا۔۔۔’ کی صورت بچے کی مادّی / فزیکل ضروریات پوری کر دی گئیں جن کا تعلق بچے کے گوشت پوست والے بدن سے تھا مگر جونہی کوئی ذہنی، یا جذباتی ضرورت پیدا ہوئی، اُس emotional need کو کچل دیا گیا۔ حالانکہ اس ضرورت کے پورا کیے جانے کی صورت ہی اُس بچے نے ایک معقول، معتدل، نارمل انسان بننا ہے، بصورتِ دیگر متشدّد ذہنیت کا حامل ایک نفسیاتی مریض۔

کیا ہم پرفقط بچے کے ہارڈ ویئر کو maintain رکھنے کی ذمہ داری ہے، یا اس کے سافٹ ویئر کی بھی۔ سافٹ ویئر میں وائرس بھر گیا، وہ بگڑ گیا تو ہارڈ ویئر بھی ناکارہ ہو جائے گا۔

جذباتی اعتبار سے اَپ سیٹ لوگ فیس بُکوں پر بلاک ہوئے پڑے ہیں، دوستوں اور رشتہ داروں سےبگڑے تعلقات کے ساتھ ناخوشگوار زندگی بِتا رہے ہیں ـــ ناکام زندگی!

بھائی کی جانب سے یہ کتاب ‘نئے اِمکاں، نئے نئے شب و روز’ پُرتشدّد رویوں سے نجات کا یا ایگریشن فرِی زندگی گذارنے کا گویا ایک کورس ہے۔

ایسی ماں بھی کیا کرے بیچاری ! ــــ جو واقعتاً نہیں جانتی کہ اُس مخصوص مسئلہ سےنمٹتے سمے جو کچھ وہ کر رہی ہے، اُس کے علاوہ آپشنز کیا ہیں۔ یہ ایک باقاعدہ علم ہے، تہذیب ہے۔ اِسے سیکھنا، خود اپنے اندر پیدا کرنا ہو گا۔

یہ سب آپشنز کی گیم ہے۔ یعنی ایک ماں، یا باپبچے سے متعلق کسی مسئلہ پر ردّ عمل دیتے ہوئے، کوئی نصیحت یا رہنمائی پیش کرتے ہوئے وہی کچھ کرے گا جو اس کے ذہن میں ہو گا۔ جو کچھ کیا، اگر اس سے بہتر کوئی آپشن ہوتا تو نتیجہ بھی مختلف ہوتا۔ یوں، آپ کی پہلی ضرورت آگاہی ہے، جاننا ہے، پھر اُسے عملاً نافذ کرنے کا تردّد۔ گوارا کرنا۔

بھائی کی جانب سے یہ کتاب ‘نئے اِمکاں، نئے نئے شب و روز’ پُرتشدّد رویوں سے نجات کا یا ایگریشن فرِی زندگی گذارنے کا گویا ایک کورس ہے۔ اس میں نسلوں کا سنوار ہے۔ نئے اضافوں کے ساتھ اس کا دوسرا ایڈیشن جون یا جولائی میں آجائے گا۔ آج کا کالم اسی کتاب میں سے لیے کچھ مواد پر مبنی ہے۔ موضوع کی طرف واپس آتے ہیں۔

یاد رہے، بچپن میں پیدا کئے خوف اور برتے گئے سخت رویے سنجیدہ ذہنی بیماریوں میں ڈھل سکتے ہیں۔ ایسی ایک بیماری وقتی ہو سکتی ہے، اور تا عمر جاری بھی رہ سکتی ہے۔

بچے کو سُلانے کا بہترین ذریعہ کہانی ہے۔ اور دن کے اوقات میں ایسے بچوں سے نمٹنے کو اُن کے لیے مصروفیات اور سرگرمیاں طے کرنا ہے۔ اور اس مقصد کے لیے بچوں سے مکالمہ کرنے کی روایت کو اپنے گھر میں استوار کرنا ہے۔ بچے کی جذباتی ضرورتوں سے آگاہ ہونا ہے۔ یہ باقاعدہ ایجوکیشن ہے جو آپ کو آزادی عطا کرتی ہے، مسائل کا حل پیش کرتی ہے، زندگی کو نسبتاً خوشگوار تر اور وقت کی گذران کو معنی خیز بناتی ہے۔ آئیں، یہاں ہم تربیت کے ایک پہلو پر بات کرتے ہیں: بچوں کو جگانے کا درست طریقہ کیا ہے؟

wake up song | morning song | kindergarten nursery rhymes for kids | cartoon videos for toddlers - YouTubeبچوں کو جگانا

بچوں کو جگانے کا یہ طریقہ غلط ہے:

1) اُن کے اوپر سے کمبل، رضائی، لحاف کھینچ لینا۔
2) اُن پر پانی چھڑکنا۔
3) درشت لب و لہجہ میں غرّاتے ہوئے بار بار کہنا “اُٹھو، اُٹھو”۔ 4) اُنہیں کوسنے دینا۔ طنز وتشنیع بھرے جملے یوں ادا کرنا جیسے پتھر مار رہے ہوں۔
4) دھمکیاں دینا۔۔۔” دو منٹ میں باہر نہ آئے تو یہ کر دوں گی، وہ کر دوں گی/گا۔”

یہ سب بدتمیزی کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔ ایسا کرنے میں نقصان کیا ہے؟بچے قطرہ قطرہ یہ کلچر جذب کر رہے ہیں۔

اِس صورتحال کے لیے اُنہیں بس یہ تربیت ملی کہ کسی خلافِ توقع اور خلافِ مزاج وقوعے پر “اِس” مزاج اور طرزِ عمل کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔ وہ اپنے بچوں کو اسی طور جگائیں گے، اور یوں یہ “تہذیبی ورثہ” نسل در نسل منتقل ہو گا۔

درست طریقہ کیا ہے؟

اوّل، بچوں کو اِس طور ڈسپلن کرنے کی خواہش و عادت ترک کرتے ہوئے خود اپنے آپ پر نظم و ضبط لاگو کریں۔ سادہ سی بات ہے، جو خوبیاں بچوں میں دیکھنا چاہتے ہیں، اُنہیں خود اپنے اندر پیدا کرنا ہو گا۔ دیکھیں کہ فالٹ کہاں ہے؟ کہیں خود آپ سے کوئی غلطی تو نہیں ہو رہی؟ کیا آپ اور بچے رات درست وقت پر سو جایا کرتے ہیں؟ یا گھر کا نظام قطعی ڈھیلا ڈھالا، بےاصول قسم کا ہے جس میں کسی بھی معاملہ میں کوئی ترتیب، کوئی نظم و ضبط نہیں پایا جاتا؟

ضروری نہیں آپ گھر کو کیڈٹ کالج بنا ڈالیں مگر چند ایک اصول و ضوابط۔۔۔؟

اوّل، کیا آپ نے ‘بتدریج’ والے اصول پر عمل کرتے ہوئے بچوں کو آواز دینے پر ‘اٹھ جانے’ کی ترتیب و تہذیب سکھائی/بتائی ہے۔ کسی ڈسپلن کے لیے ذہناً تیار کیا ہے؟ کیا آپ خود اس معاملے میں درست طرزِ عمل اپنائے ہوئے ہیں؟

دوم، بوجوہ بچوں میں یہ پرابلم ہے تو اس معاملے میں ‘پہلے سے’ کہہ رکھنے والی نفسیاتی ترکیب پر عمل کریں۔ ترتیب اور کوڈ بتا دینے کے بعد دو ہفتے اس پر سختی سے عمل کرنا اور کروانا ہو گا۔ ہر روز درجِ ذیل قسم کا مکالمہ کرنا ہو گا۔ بچوں کے ساتھ مل کر ایک ‘Rising Code’ طے کریں کہ صبح کیسے اٹھنا ہے، جوش و خروش والے انداز میں، تب عملاً اسے لاگو کرنے کو یہ کچھ کریں:

 عملی طور پر کیسے؟

کوشش کریں رات نو بجے یا ساڑھے نو بجے آپ اور بچے بستر پر ہوں۔ بیڈ ٹائم سٹوری سنانے کی روایت مضبوط کریں۔ تب سونے سے پہلے سنجیدہ لب و لہجے میں پوچھیں:

“نو بج کر پچاس منٹ ہو گئے۔ صرف دس منٹ باقی ہیں۔ دعا پڑھنے سے پہلے بتائیں کہ ماما جب صبح آواز دیں گی تو کیا کرنا ہے؟ رِپیٹ کریں شابش۔”

بچے (ہنستے مسکراتے ہوئے): پہلی آواز پر نہیں اٹھنا۔ صرف نیند سے واپس آنا ہے real world میں۔

آپ: اور دوسری آواز پر؟
بچے: دوسری آواز پر بھی نہیں اٹھنا۔ بلکہ کروٹ بدلنی ہے، اپنا مائنڈ ریڈی کرنا ہے، اور تیسری آواز کا انتظار کرنا ہے۔
آپ: بہت اچھے۔ پھر؟
بچے: تیسری آواز پر اپنا ہاتھ کمبل میں سے نکال کر ماما / بابا کی طرف بلند کرنا ہے، یعنی جو بھی جگانے آئے گا۔ پھر اُٹھ کر بیٹھ جانا ہے۔
آپ: پھر؟
بچے: سب سے پہلے بیدار ہونے کی دُعا پڑھنی ہے۔ پھر پورا ایک منٹ بیٹھے رہنا ہے، ایک دم سے کھڑے نہیں ہو جانا، یہ میڈیکلی نقصان دہ ہے۔ اس دوران جو بھی سامنے ہو اُسے سلام اور گڈ مارننگ کہنا ہے۔
آپ: پھر؟
بچے : تب اٹھ کر کھڑے ہو جانا ہے۔

صبح آپ خود اسی ترتیب کا مظاہرہ کریں۔ کیسے؟

1۔  پاس آ کر نرم آواز میں پکاریں۔
2۔  آپ کی آواز زیادہ پچکارنے اور لاڈ کرنے والی نہ ہو، اور نہ حد سے زیادہ سنجیدہ و سپاٹ یا غصیلی۔
3۔  بچے کے سر پر اور گالوں پر ہلکا سا تھپتھپا دیں تا کہ وہ نیند سے واپس آ جائے۔
4۔  منہ سے بول کر کہیں “اٹھ جائیں بیٹا۔ ۔ ۔ ” ساتھ میں وقت بتا دیں۔ پھر ہٹ جائیں۔
5۔  دوسری آواز تین سے پانچ، سات منٹ کے بعد، دور سے: “فرحان، اٹھ جائیں بیٹا۔۔۔ دِس از سیکنڈ ٹائم” لب و لہجہ خوشگوار یا نارمل۔
6۔  تیسری دفعہ پاس آ کر، وقت بتاتے ہوئے:
“فرحان، آ جائیں بیٹا۔ آپ نے عائشہ سے پہلے واش رُوم جانا ہے۔ یہ تیسری دفعہ ہے۔ لائیں جی، اپنا ہاتھ باہر نکالیں۔۔۔”
بچے ابتدا میں چوں چرا کریں گے۔ رفتہ رفتہ ترتیب بن جائے گی۔ ثابت قدم رہیں۔
7۔  بچے جب سکول سے واپس آ جائیں، یا شام کے کھانے پر، یا رات سونے سے پہلے آپ مثبت لب و لہجہ میں سوال کریں، “آج کس کس نے کوڈ آف رائزنگ کو فالو کیا تھا؟”

یہ سوال بذات خود تنقید ہے۔ بچوں سے باتیں کرنا، باتوں سے باتیں نکال کر مزید باتیں کرنا ماہرین کے نزدیک تربیتِ اولاد کے اہم ترین ٹُولز میں سے ایک ہے۔ اس لیے قدرے سنجیدہ لب و لہجے میں مکالمہ کریں۔ بتدریج بچے ٹیون ہو جائیں گے۔ ہر روز تھوڑی سے اِمپروومنٹ آنی چاہیے۔۔۔ اور بالآخر یہ سب اِس گھر کا کلچر بن جائے گا۔ نسلوں تک جائے گا۔

خلاصہ کیا ہے؟

عین موقع پر نہیں! پہلے سے، پیچھے سے۔

ذہنی تیاری، ترتیب، تدریج، خود عمل، صبر و استقامت۔

یہ بھی پڑھیں: بچوں کی سماجی تربیت: کیسے؟ ------------------------ قاسم یعقوب
Facebook Comments Box
featuredHow to awake childrenKids TrainingParentingبچوں کو جگانابچوں کی تربیت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
پاکیزہ خاتون — حسن غزالی
next post
میرے پیارے اللہ —— مجیب الحق حقی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.