تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیصنف/ جینڈرکالم

مقبول اور جارحانہ فیمنزم : عورتوں کی خوشیوں کا قاتل …. وحید مراد

by وحید مراد 11/01/2021
written by وحید مراد 11/01/2021
312

کیا مرد و زن کی مکمل مساوات کےحصول کیلئے خاندان کی تباہی ضروری ہے؟

مونا چارین پارکر Mona Charen Parker امریکہ کی ایک مشہور کالم نویس، صحافی، اور سیاسی مبصر ہیں۔ وہ خارجہ پالیسی، دہشت گردی، سیاست، غربت، خاندانی ڈھانچے، عوامی اخلاقیات اور ثقافتی موضوعات پر لکھتی ہیں۔ وہ اپنی مشہور کتاب Sex Matters: How Modern Feminism Lost Touch with Science, Love, and Common Sense میں فیمنزم کو ‘خاندانی اقدار’ میں کمی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے لکھتی ہیں کہ ترقی کے لبرل مفروضوں کو اپناتے ہوئے ماڈرن فیمنزم نے کئی ایسے غلط رخ اختیار کر لئے ہیں جنکی وجہ سے خواتین نے اپنی پیشہ ورانہ اور ذاتی اور خاندانی زندگی میں چھوٹی بڑی بے شمار خوشیوں کو اپنے ہی ہاتھوں سے قتل کر دیا ہے۔ 1972 کے بعد کے تمام سرویز کے مطابق امریکہ میں عورتوں کی خوشیاں مسلسل زوال کا شکار ہیں۔ بالغ افراد کی خوشیوں کا اسکیل دس میں سے صرف ایک سے تین کے پیمانے پر ہے اس لئے اب انسانوں کی خوشیوں کی خاطر ‘جنسی جنگ بندی’ کا اعلان کیا جانا چاہیے۔

موناچرین ،مرد و زن کی کامیابیوں اور خوشیوں کو مجروح کرنے والے جارحانہ فیمنزم کے ایجنڈے کا تجزیہ کرتے ہوئے گھر،خاندان، کام کی جگہ اور ذاتی رشتوں میں اسکے ناکام ہوتے ہوئے نظام اور طریقہ کار کو بے نقاب کرتی ہیں۔ وہ فیمنزم کے ایجنڈے اور لبرل ازم کے روائتی مفروضات پرسوالات اٹھاتے ہوئے کہتی ہیں کہ:

کیا خواتین کو مکمل مساوات کےحصول کیلئے خاندان کو مکمل طور پر تباہ کرنا ضروری ہے؟

کیا اس مساوات کیلئے ایسے جنسی انقلاب اور ہک اپ کلچر کی ضرورت ہے جو شائستگی،صحبت اور جنسوں کے مابین پیار محبت کے مخلصانہ تعلقات کی صدیوں سے قائم روایات کو تباہ و برباد کردے؟

کیا فیمنزم ،کالج اور یونیورسٹی کیمپسز میں ڈیٹنگ کلچر اور عصمت دری کے بحران کا سبب نہیں بنا؟

کیا فیمنزم کو جنسوں کے مابین وہ جنگ شروع کرنے کی ضرورت تھی جس کے تحت عورتیں ،مردوں کو اپنا دشمن تصور کرتی ہیں؟

کیا فیمنزم کی ترقی نے خواتین کو اپنے گھر اور کام کی زندگی میں خوشیاں دی ہیں یا انکی پہلے سے موجود خوشیاں چھین لی ہیں؟

وہ ان تین طریقوں کی نشاندہی کرتی ہیں جن میں حقوق نسوان کی تحریک نے غلطیاں کیں: جنسی انقلاب کی حمایت، خاندانی زندگی کی تردید اور اس بات کی پرزور مخالفت کہ مرد اور عورت کے مابین جسمانی، حیاتیاتی، نفسیاتی اور جذباتی فرق نہیں ہے۔ انکا کہنا ہے کہ اس عمل کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عورتوں کیلئے عدم تحفظ اور خطرات بہت بڑھ گئے ہیں۔ آج کی عورتیں محفوظ نہیں، اور یہی وجہ ہے کہ وہ خوش بھی نہیں ہیں۔ اور یہ بات صرف خواتین تک ہی محدود نہیں بلکہ اس عمل سے مردوں کی خوشیاں بھی غارت ہو چکی ہیں۔ کیونکہ بہت سے مردوں نے عورتوں کے غیر فطری رویوں سے تنگ آکر خودکشیاں کر لیں، کچھ اپنے خاندانوں کو چھوڑ کر الگ ہوگئے۔

اب مردوں کی عدم موجودگی میں جو بچے پرورش پا رہے ہیں انکے سامنے باپ کا کوئی رول ماڈل نہیں۔ انکی بچپن کی زندگی میں باپ کی شخصیت کا فقدان انہیں بڑے ہو کر خاندان کیلئے ذمہ دار فرد اور ایک محافظ اور ستون بننے کے راستے میں حائل ہے۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ اب عورت اور مرد کے درمیان پائے والے فطری میلان اور محبت کا خاتمہ ہوچکا ہے کیونکہ اس فطری تعلق کی جگہ اب ڈیٹنگ ایپس لے چکی ہیں اور ہر فرد ہر وقت ادھر ادھر منہ مار رہا ہے۔ محبت اور تعلق کے اس جدید انداز نے عورت کو عزت اور وقار سے محروم کر دیا ہے۔ Casual Sex اور Hookup Culture نے پرانے دور کے رومانس اور فطری تعلق کو غارت کر دیا ہے۔

جنسوں کے درمیان پائے جانے والے امتیازات کی تردید کرنے اور جنسوں کے درمیان جنگ کرانے کی جو بھاری قیمت ادا کی گئی ہے وہ خاندان کی ٹوٹ پھوٹ، بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح، اسقاط حمل خواتین کی خوشیوں میں کمی، مردوں کی بے مقصدیت اوربڑھتی ہوئی عدم مساوات کی شکل میں ظاہر ہوئی ہے۔ 

جنسوں کے درمیان پائے جانے والے امتیازات کی تردید کرنے اور جنسوں کے درمیان جنگ کرانے کی جو بھاری قیمت ادا کی گئی ہے وہ خاندان کی ٹوٹ پھوٹ، بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح، اسقاط حمل خواتین کی خوشیوں میں کمی، مردوں کی بے مقصدیت اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات کی شکل میں ظاہر ہوئی ہے۔ بیسویں صدی کے وسط میں آنے والے جنسی انقلاب کی وجہ سے شادی اور زچگی کو خواتین کیلئے جیل تصور کیا جاتا ہے۔ انکا استدلال ہے کہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ، تجربہ کار اور ذمہ دار عورت کا مطلب بچوں کی پرورش میں دلچسپی رکھنے والی ماں ہوتا ہے اور ہمارے معاشرے میں زچگی کو ایک بیماری کے طور پر تصور کیا جا رہا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ اصناف کے درمیان پائے جانے والے امتیازات حقیقی ہیں اور ایک خوش اور مثالی معاشرہ وہی ہوتا ہے جس میں ہم فطرت کو قبول کرتے ہوئے زندگی گزارتے ہیں اور اس میں ہمیں زیادہ خوشیاں حاصل ہوتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ آیا مساوات کا مطالبہ، مرد و زن کا ہر چیز میں یکساں ہونے کا مطالبہ ہے؟یا اسکا مطلب یہ ہونا چاہیے کہ مرد و زن کے درمیان پائے جانے فطری فرق کا احترام کیا جائے۔ خواتین کی دلچسپیاں کیا ہیں اور کون سی چیزیں خواتین کو خوش و خرم رکھتے ہوئے انکی ذات کو مکمل کرتی ہیں؟ ان سوالوں کے جوابات میں وہ Mary Wollstonecraft، Hohn Sturat Mill، Germaine Greer اور Betty Friedan جیسے مصنفین کے خیالات کی جانچ پڑتال کرتی ہیں اور ان معاصرین کے مطالعات اور اعدادو شمار کی روشنی میں اپنے نتائج پر نگاہ ڈالتے ہوئے بتاتی ہیں کہ یہ مفکریں کہاں کہاں غلطی پر تھے۔

چارن ایک ماں،بیوی اور پروفیشل خاتون ہونے کی حیثیت سے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ چلیں میں یہ بات مان لیتی ہوں کہ صنفی کرداروں کا فرق، سماج اور ثقافت کا تخلیق کردہ ہے لیکن یہ بھی تو ایک حقیقت ہے کہ مرد اور عورت کے درمیان حیاتیاتی اور کئی دیگر بنیادی امتیازات پائے جاتے ہیں۔ ان اختلافات کو تسلیم کرنا اور انکا احترام کیا جانا چاہیے۔ ہمیں کسی طرح زیب نہیں دیتا کہ ہم مردوں کیلئے ‘زہریلی مردانگی‘ جیسی غیر موزوں اصطلاحات کا استعمال کریں کیونکہ یہ چیز اصناف کے درمیان شدید غلط فہمیوں، غصے اور ناراضگی کا سبب بن رہی ہے۔ فیمنزم کی آئیڈیالوجی تمام مردوں سے نفرت کا اظہار کرکے انکی عزت نفس پر حملہ آور ہے۔ آپ کسی بھی کالج یا یونیورسٹی چلے جائیں آپ کو ہر عورت اپنی زبان سے ‘زہریلی مردانگی’ کےجملے ادا کرتے ہوئے ملے گی۔

فرض کریں مردوں کی فطرت میں جنسی عجلت جیسی کوئی چیز پائی بھی جاتی ہے جسے آپ جارحیت سمجھتی ہیں تو کیا مرد کو گالی دینے سے اسکی یہ فطرت تبدیل ہوجائے گی؟

اگر فرض کریں مردوں کی فطرت میں جنسی عجلت جیسی کوئی چیز پائی بھی جاتی ہے جسے آپ جارحیت سمجھتی ہیں تو کیا مرد کو گالی دینے سے اسکی یہ فطرت تبدیل ہوجائے گی؟ یہ گالی اس سے زیادہ زہریلی چیز ہے جس فطرت کی طرف یہ اشارہ کرتی ہے۔ اسکی بجائے یہ بھی تو کہا جا سکتا ہے ‘مردوں میں سے بیشتر عظیم لوگ ہوتے ہیں’ لیکن کچھ لوگ عجلت اور جلد بازی میں عورت کی عزت اور توقیر سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں انہیں اپنے اس برےرویے پر غور کرنا چاہیے۔

فیمنزم کو اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ اسے اپنی توانائی، خاندانی زندگی کو دوبارہ بحال کرنے اور جنسوں کے مابین تعلقات کو مضبوط بنانے کی طرف موڑنا ہوگا۔ یہ خیال کہ مردوں نے ہمیشہ خواتین پر ظلم کیا ہے اور فیمنزم کا مقصد عورتوں کی آزادی اور خودمختاری ہے۔۔۔ یہ کہنے میں تو بہت آسان لیکن کرنے میں ناممکن ہے۔ ہمارے لئے بہترین بات یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کا خیال رکھیں کیونکہ یہ خاندان کی بقا اور یکجہتی کا پہلا قدم ہے اور خاندان تمام انسانی اداروں میں سے بہترین نیٹ ورک ہے۔ اسکی طاقت کو برقرار رکھنا اس وقت کا حقیقی چیلنج ہے۔ مونا چارین کہتی ہیں کہ

‘اگر میری یہ بات فیمنسٹ ماہرین کی سمجھ میں آجائے تو میں خوشی کے مارے اپنے آپ کو فون کرکے یہ پیغام باربار دہرائوں گی’۔

تدوین، تالیف: وحید مراد

Facebook Comments Box
Casual SexfeaturedFeminismGermaine Greer اور Betty FriedanHohn Sturat MillHookup CultureLoveMary WollstonecraftMona Charen ParkerSex Matters: How Modern Feminism Lost Touch with Sciencetoxic feminismwomen rightsاسقاط حملبڑھتی ہوئی طلاق کی شرحپاپولر فیمنزمجارحانہ فیمنزمجذباتی فرقجسمانیجنسوں کے درمیان پائے جانے والے امتیازاتجنسی انقلاب کی حمایتحیاتیاتیخاندان کی تباہیخاندان کی ٹوٹ پھوٹخاندانی اقدارخاندانی زندگی کی تردیدرومانس اور فطری تعلقزچگیزہریلی مردانگیشادیعورتوں کی خوشیاںکالج اور یونیورسٹی کیمپسز میں ڈیٹنگ کلچر اور عصمت دری کے بحران کا سبب نہیں بنا؟ عورتیںماڈرن فیمنزممرد و زن کی مکمل مساواتمردوزنمردوں کو اپنا دشمن تصور کرتی ہیںمردوں کی خودکشیاںمونا چارین پارکر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
وحید مراد

previous post
کائناتی گرد کی دھول میں، کہانی‎ —– قاسم یعقوب
next post
اوج زوال میں کیا! مخفی کمال ہے —- محمد خان قلندر

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.