تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

ذوالفقار علی بھٹو کا “خوف خدا” —— اظہر عزمی

by دانش ڈیسک 04/01/2021
written by دانش ڈیسک 04/01/2021
158

مصنف

سیاست ہمارے ملک میں گفتگو کا من پسند موضوع ہے۔ غریب سے غریب بھی پیٹ میں چاھے روٹی ہو یا نہ ہو مگر سیاست پر گھنٹوں گرم گرما روٹیاں لگا لیتا ہے۔ ملک کے کونے کونے میں سیاست پر یہ تندور لگانے والے موجود ہیں۔ آپ ان کے حال پر بے لاگ تبصرے، تجزیئے اور مستقبل سے متعلق حیرت انگیز پیش گوئیاں سنیں تو اپنی کم مائیگی کا احساس کاٹ کھانے کو دوڑے گا۔ آپ سوچیں گے کہ سیاست پر اتنی گہری نظر رکھنے والے اتنے گمنام اور ملک پر حکومت کرنے والے اتنے کم نظر کیوں ہیں اور یہ منتخب کیسے ہوجاتے ہیں۔ اس سوال کے بہت سارے جوابات ہیں مگر فی الوقت یہ ہمارا موضوع گفتگو نہیں۔

پاکستان میں سیاست کو ڈرائنگ روم سے نکال کر عوام میں لانے کا سہرا ذوالفقار علی بھٹو کے سر ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی و چیئرمین اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا تعلق ملک کے اشرافیہ سے تھا لیکن انہوں نے روایتی سیاستدانوں کے امیج کو یکسر تبدیل کردیا اور کچلے ہوئے عوام کے نجات دہندہ کے دلکش امیج کے ساتھ ابھرے۔ وہ دلوں میں گھر کرنے کا ہنر جانتے تھے۔ جہاں ایک طرف ان کے چاھنے والے ان پر فدا تھے وہاں ان کے مخالفین میں بھی کوئی کمی نہ تھی جنہیں ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت اور سیاست ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔ عالمی طاقتیں بھی ان کے عالمی سیاست میں بڑھتے قدموں کو روکنے کے درپے تھیں۔

عوام کی نفسیات، امنگوں اور خوابوں کے نباض ذوالفقار علی بھٹو جب کھلی آستینوں کے ساتھ کھدر کے سستے شلوار قمیض میں ملبوس ہو کر جلسہ سے خطاب کرتے تو اپنے دھواں دار عوامی انداز خطابت اور باڈی لینگویج کے بھرپور استعمال سے مجمع کو گرما دیا کرتے اور پوری تقریر میں انہیں اپنے ساتھ لے کر چلتے۔ جب چاھتے مجمع سے اپنی بات منواتے اور جواب میں فلک شگاف نعرے لگواتے۔ کبھی اندرا گاندھی کو مائی کہتے تو کبھی جلسہ گاہ میں اپنے مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہیں مختلف القابات سے نوازتے جس سے مخالفین بہت زچ ہوتے اور مزید مخالفت پر اتر آتے۔ یہ تندی باد مخالف ہی ذوالفقار علی بھٹو کو مزید قوت پرواز بخشا کرتی تھی۔

ذوالفقار علی بھٹو کی حاضر دماغی اور یادداشت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اس کے معترف ان کے بدترین سیاسی مخالفین بھی ہیں تو پھر ان کے حامی جو کچھ کہیں وہ کم ہے۔ امریکی صدر جان ایف کینڈی سے وائٹ ہاوس میں ہونے والی گفتگو کی گونج ایک عرصے تک سنائی دی۔ صدر کینڈی نے کہا کہ آپ وائٹ ہاوس میں کھڑے ہیں۔ جس پر ذوالفقار علی بھٹو نے برجستہ کہا تھا کہ بدقسمتی سے آپ کے وائٹ ہاوس کا فرش میرے پیروں کے نیچے ہے۔ صدر کینڈی کے لئے یہ جواب بالکل غیر متوقع تھا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی ذہانت نے مجھے متاثر کیا ہے۔ اگر آپ امریکا میں ہوتے تو یقینا ہماری کابینہ میں ہوتے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا تھا کہ اگر میں امریکا میں ہوتا تو آپ کی جگہ ہوتا۔ صدر کینڈی نے اس کے بعد مزید اس موضوع پر مزید بات نہیں کی۔

ذوالفقار علی بھٹو یادداشت کے معاملہ میں حیران کردیا کرتے تھے۔ انہیں سالوں بعد بھی پرانی سے پرانی بات اور کسی سے ایک بار ملنا اور اس کا نام یاد رہتا۔ کہتے ہیں اگر وہ کسی شخص سے دوسری بار ملتے تو اسے اس کے نام سے بلاتے۔ عام آدمی کو شخص اور نام یاد رہیں تو اتنی اہم بات نہ کہلائے لیکن سیاست کی گتھیاں، ان گنت لوگوں سے ملاقاتیں، ہر وقت کی مصروفیات اور ایسے میں کسی عام آدمی یا پارٹی ورکر کو یاد رکھنا۔ یہ ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت کا ایک ایسا پہلو ہے جو پاکستان کے سیاست دانوں میں ذوالفقار علی بھٹو کو نمایاں اور ممتاز کرتا ہے۔

80 کی دہائی میں خانیوال سے ایک فیملی کراچی منتقل ہو کر ہمارے محلے میں مکین ہوئی اور یوں ہم عمر کرار کاظم ہمارے دوست بن گئے۔ سیاست اور فلسفہ ان کا پسندیدہ موضوع تھا۔ چند سال پہلے ان کا انتقال ہوگیا ہے۔ سیاست ہم دونوں کا دلچسپ موضوع تھا۔ اکثر ان سے خانیوال کی سیاست پر بات ہوتی۔ کرار کاظم بتاتے ہیں کہ بھٹو صاحب ایک جلسے سے خطاب کے لئے خانیوال تشریف لائے۔ اس زمانے میں سیکورٹی وغیرہ کے اتنے مسائل نہ ہوا کرتے تھے۔ جلسہ کے شرکاء پنڈال کے قریب ہی بیٹھ جایا کرتے اور اپنے رہنماوں سے بالمشافہ مل بھی لیا کرتے۔ خیر جلسہ گاہ بھر چکی تھی۔ بھٹو صاحب تشریف لائے۔ سامنے پیپلز پارٹی کا ایک ورکر بیٹھا تھا۔ چہرہ کشادہ تھا۔ اس پر داڑھی نے چہرہ بہت بارعب بنا دیا تھا۔ بھٹو صاحب نے اسے دیکھا تو اسے “خوف خدا” کا نام دیا۔ نام دینے کی دیر تھی۔ یہ نام ہورے خانیوال میں مشہور ہوگیا اور پھر وہ پارٹی حلقوں اور لوگوں میں اسی نام نامی سے شہرت پا گیا۔

وقت گزرتا گیا۔ 77 کے انتخابات آگئے۔ بھٹو صاحب جلسے سے خطاب کرنے کے لئے خانیوال آئے۔ جلسے میں موجود “خوف خدا” کو موجود نہ پا کر پوچھا کہ “خوف خدا” کہاں ہے؟ یہ بھٹو صاحب کی یادداشت کا عالم تھا کہ سالوں گزرنے کے بعد اپنی پارٹی کا رکن اور اس کو دیا گیا نام یاد تھا۔ “خوف خدا” ابھی جلسہ گاہ میں نہیں پہنچا تھا۔ پارٹی کارکن دوڑ پڑے اور اسے جا کر بتایا کہ بھٹو صاحب تمھیں یاد کر رہے ہیں۔ اس کے سان گمان میں نہ تھا کہ بھٹو صاحب کو وہ یاد بھی ہوگا۔ دوڑا دوڑا جلسہ گاہ آیا اور بھٹو صاحب سے ملا۔

یہ بات بلا تردد کہی جاسکتی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کا ایک لائق ترین دماغ تھے۔ ان جیسی حاضر دماغی اور یادداشت کی صلاحیت کسی اور کو میسر نہ آئی۔ وہ آج بھی پاکستان کی سیاست کا ایک معتبر ترین حوالہ ہیں۔ 5 جنوری 1928 کو پیدا ہونے والے ذوالفقار علی بھٹو کو 4 اپریل 1979 کو قتل کے ایک مقدمے میں پھانسی دیکر امر کردیا گیا۔ پاکستان کی سیاست گڑھی خدا بخش میں آسودہ خاک ذوالفقار علی بھٹو کے اثر سے شاید کبھی باہر نہیں نکل پائے گی۔

Facebook Comments Box
BhuttofeaturedMuslim BhuttoZA BhuttoZulfiqar Ali Bhuttoبھٹوذوالفقار علی بھٹو
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
معاشی حالات اور خواتین کی مزدوری —- اسرار احمد یوسفزئی 
next post
خوش رہنا بھی ایک عادت ہے — عطا محمد تبسم

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.