تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادب

شمس الرحمن فاروقی: امامِ نقد و نظر —– معراج رعنا

by دانش ڈیسک 01/01/2021
written by دانش ڈیسک 01/01/2021
75

مجھے یہاں یہ بات کہنے یا لکھنے میں کوئی تامل نہیں کہ شمس الرحمن فاروقی محض ایک شخص کا نام نہیں بلکہ علم و آگہی کے ایک عظیم الشان ادارے کا نام تھا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ان کی موت محض ایک شخص کی موت نہیں بلکہ علم و آگہی کے اس ادارے کی موت ہے جسے انھوں نے خود خلق کیا تھا۔ ان کی شخصیت کے اتنے گوشوارے اور پہلو ہیں کہ اگر ان پر یہاں تھوڑی تھوڑی گفتگو کی جائے تو یقین جانئے کہ ایک طویل ترین کتاب بن سکتی ہے۔ نقاد، فکشن نگار، لغت نویس، شاعر اور ادبی صحافت وغیرہ ان کی علمی شخصیت کے نمایاں پہلو ہیں۔ اور یہ تمام پہلو کزشتہ ساٹھ برسوں کی طویل علمی ریاضت کے فیضانِ صالحات کے نتیجے ہیں۔

ان کی ادبی زندگی کا آغاز اس وقت ہوا جب مارکس کے سیاسی فلسفے پر ادب و تنقید کی ایک بڑی دنیا آباد ہو چکی تھی۔ ہر ادیب یا تو روایتی یا مارکسی نظریے کی پابندی کو اپنے لیے باعثِ  صد افتخار سمجھتا تھا۔ گویا اس کے لیے نظریے کا احترام اس کی خلقی ذات اور ادبی اقدار کے احترام سے کہیں زیادہ اہم تھا۔ جس کے نتیجے میں ادب میں ایک نوع کی یکسانیت نمایاں ہونے لگی تھی۔ بیزاری اور گھٹن کا احساس ادب کو اس سمت لیے جارہا تھا جہاں معنی کی رنگا رنگی کی جگہ موضوعات پر بحث و تمحیص نے لے لی تھی۔ یہاں یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ کچھ ادیبوں میں اس فکری یکسانیت سے آزاد ہونے کی خواہش موجود نہیں تھی لیکن اس خواہش کا اظہار انھوں نے کبھی اعتماد کے ساتھ نہیں کیا۔ یہی زمانہ تھا جب فاروقی صاحب اپنے پورے علمی اور ادبی کر و فر کے ساتھ عصری ادب کے منظر نامے پر مثلِ شمس کے شمس افروز ہوئے۔ چونکہ وہ انگرزی ادب کے فارغ التحصیل تھے اس لیے انھوں نے اپنے ابدائی زمانے میں انگریزی کے ایک بڑے رومانی شاعر ورڈسورتھ پر ایک مضمون لکھا تھا جو غالبا ان کا پہلا مضمون تھا۔ یہ مضمون انھوں نے دہلی سے نکلنے والا ماہنامہ “آجکل” میں بغرضِ اشاعت ارسال کیا لیکن مدیر نے یہ کہہ کے مضمون واپس کر دیا کہ یہ ہماری تنقیدی روایت سے مانوس نہیں۔ یہ واقعہ لکھنے کا مقصد یہاں صرف یہ کہ جسے مدیر موصوف نے نامانوس کہہ کے لوٹا دیا تھا، ان کو معلوم نہیں تھا کہ روسی ہئیت پسندی کا ایک بڑا نقاد وکٹر شکلووسکی اسی نامانوسیت کے فلسفے کی ایک بڑی عمارت قائم کر چکا ہے۔ اور جو بعد میں نئی تنقید ایک بڑا ذریعہ بھی بنا۔ شائد یہی وجہ رہی ہوگی کہ فاروقی صاحب نے ساٹھ کی دہائی میں الہ آباد سے ماہنامہ “شبخون” نکالنا شروع کیا۔ شب خون محض ایک رسالہ نہیں تھا جس میں عام رسالوں کی طرح تخلیق و تنقید شالع کی جاتی تھیں، بلکہ اس کی حیثیت ایک افلاطونی اکیذمی کی سی تھی جس کے ہر صفحے پر فاروقی صاحب کی علمی دستخط موجود تھی۔ مطلب یہ کہ اس میں وہی تحریریں اشاعت پذیر ہوتی تھیں جس میں کسی متھ یا مفروضے کو مسترد کرنے کا امکان موجود ہوتا تھا۔ جب تک شب خون نکلتا رہا اس میں فاروقی صاحب نےاس طریقِ کار سے کبھی سمجھوتا نہیں کیا۔

فاروقی صاحب ہاں نہ تو مغرب سے مرعوب ہونے کا رویہ موجود ہے اور نہ ہی کسی فلسفے کی کوری تقلید بلکہ ہر جگہ افہام و تفہیم کی وہ بحثیں ہیں جو خالص علمی منطق پر استوار ہیں۔ ان کی تنقید کا بنیادی مقدمہ استفسار پر قائم ہوتا ہے۔ اس لیے ان کے یہاں کوئی نظریہ یا فلسفہ غیر ضروری طور رخنہ اندازی نہیں کرتا۔ 

شب خون کی اشاعت کا ایک بڑا مقصد جدید رویوں کی روشنی میں اردو ادب کی کلاسیکی روایت اور عصری ادب کی معنویت کو انگیز کرنا تھا۔ بعض لوگ اس غلط فہمی کو عام کرنے میں پیش پہش رہے کہ فاروقی صاحب نے ترقی پسندی کی ضد میں شبخون نکالا تھا۔ جب کہ حقیقت یہ تھی کہ وہ اس کے وسیلے سے نئی شعریات کی تشکیل کے متمنی تھے۔ ظاہر ہے کہ فاروقی صاحب جس وقت اپنے شعور کی انتہا پر تھے اس وقت اردو ادب میں جدیدیت کا سورج طلوع ہو رہا تھا۔ جدیدیت در اصل تخلیقی میلانات پر مبنی ایک ذہنی تحریک تھی جسے ہمارے بعض ترقی پسند علما اپنی مخالفت میں کھڑی ہونے والی ایک سیاسی جماعت سمجھنے لگے تھے لیکن حقیقت یہ تھی کہ جدیدیت ترقی پسندی کی طرح کوئی اجتماعی شعور پر مبنی کوئی ہنگامی تحریک نہیں تھی بلکہ میلاناتی صورت_حال تھی جو تخلیقی ذات کی آزادی پر زور دیتی تھی۔ یہاں ایک فرد کو فرد کے حوالے سے اور ایک تخلیق کو دوسری تخلیق کے حوالے سے سمجھنے اور سمجھانے کے رویے پر زور دیا گیا تھا۔ شب خون کی اشاعت کے ساتھ جدید رویوں کی اشاعت بھی ممکن العمل ہونے لگی۔ ظاہر کہ جدیدیت کے پیشِ نظر ترقی پسند تحریک اور اس کا ادبی و تنقیدی سرمایا تھا اس لیے نہ چاہتے ہوئے بھی وہی جدیدیت کا ہدف بنا۔

جب ہم فاروقی صاحب کے حوالے سے جدیدیت کا ذکر کرتے ہیں تو ایک بار یہ سوال ضرور قائم کیا جانا چاہئیے کہ کیا ہمارے یہاں بھی جدیدیت کی وہی صورت قائم ہوئی جو 1920 کے آس پاس یا پھر 1941 میں جون کرو رینسم کی کتاب “نیو کریٹیسزم” کی اشاعت کے بعد مغرب میں قائم ہوئی تھی؟ اس سوال کا جواب کلی طور پر اثبات میں نہیں دیا جا سکتا۔ یہاں جدیدیت اس مغربی تصور کا فیضان نہیں تھی بلکہ اس تصور کے حوالے سے اپنی شعری اور ادبی روایت کا مطالعہ تھا۔ اس اردو میں جدیدیت کو کلی طور پر کسی ازم سے تعبیر کرنا نا مناسب ہے۔ ہمارے یہاں جدیدیت ایک ادبی صورتِ حال تھی جو امیلانات و رجحانات پر اصرار کرتی تھی جو براہ راست فرد کی داخلی دنیا سے متعلق تھے۔ فاروقی صاحب کی بنیادی تصورِ نقد کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ بات سمجھنے میں کسی کو کوئی دقت نہیں ہوگی کہ ان کے ہاں نہ تو مغرب سے مرعوب ہونے کا رویہ موجود ہے اور نہ ہی کسی فلسفے کی کوری تقلید بلکہ ہر جگہ افہام و تفہیم کی وہ بحثیں ہیں جو خالص علمی منطق پر استوار ہیں۔ ان کی تنقید کا بنیادی مقدمہ استفسار پر قائم ہوتا ہے۔ اس لیے ان کے یہاں کوئی نظریہ یا فلسفہ غیر ضروری طور رخنہ اندازی نہیں کرتا۔ مطلب یہ کہ فاروقی صاحب جب کسی تخلیق کے متعلق کوئی سوال قائم کرتے ہیں تو وہ پہلے ہی سے اس کے سارے ممکنہ جوابات سے واقف ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کے یہاں نقد و نظر کی ساری حجت نظریے کی تشکیل کے بر عکس معنی انگیزی سے عبارت نظر آتی ہے۔

فاروقی صاحب کی تنقید کا سب سے بڑا وصف متنی مرکزیت کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں ایک تخلیقی متن کی معنیاتی تعبیریں دوسرے تخلیقی متون معرضِ ظہور میں آتی ہیں۔ وہ تنقید میں کسی مروج رائے کے اتباع کے حامی نہیں تھے بلکہ مروج رائے کے استرداد میں دلالتی حجت کے قائل تھے تاکہ فاری کو وہ کھلی فضا میسر آسکے جس میں وہ پوری آزادی کے ساتھ کسی فن پارے کو پڑھ اور سمجھ سکے۔ ان کے یہاں ہر جگہ پیش پا افتادہ ادبی کینن یا استناد کو مسترد کرنے کا متشدد رویہ نمایاں ہے۔ ان کے اس تنقیدی طریقِ کار سے جہاں ایک طرف معنی کے اکتشاف میں کثرت_ تعبیر ممکن ہونے لگتی ہے وہیں دوسری طرف ذوق کی نمو پزیری کے سبب نئے فاری کا ظہور بھی ہوتا ہے جو ذہنی طور پر حد درجہ متحرک اور فعال ہوتا ہے۔ شائد یہ وجہ پے کہ فاروقی صاحب کے یہاں حسن عسکری یا کلیم الدین احمد کی طرح فاری کو ڈرانے یا دھمکانے کا تنقیدی رویہ نہیں ملتا بلکہ ایک نوع کی وارفتگی اور خود سپردگی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ یہی وہ مقام جہاں تنقید کو تخلیقی تقدس حاصل ہوجاتا ہے۔ اور یہ تخلیقی تقدس شمس الرحمن فاروقی کی تنقید میں جگہ جگہ موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ادب کا ساحر، شاہ اور صاحب قراں رخصت ہو گیا ——-صفدر رشید
Facebook Comments Box
featuredshams ur rahman faruqiShamsur Rahman Farooqiاردو تنقیدشمس الرحمان فاروقی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
پنجابی اور سندھی کہانیاں، اردو قارئین کو علاقائی ادب سے آشنا کرنے کی اچھی کوشش
next post
مٹکے سے دریا کی کہانی —- سعدیہ بشیر

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.