تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلم و ادبکتابوں پر تبصرے

“نولکھی کوٹھی” سے “کماری والا” تک —- ڈاکٹر نعیمہ بی بی

by دانش ڈیسک 13/12/2020
written by دانش ڈیسک 13/12/2020
103

sendnudesx onlyfans

اردو ناول سے میری رغبت نہ تو کوئی نئی بات ہے اور نہ ہی کسی نئے اردو ناول کو چھپتے ہی پڑھ لینا کوئی بڑا واقعہ البتہ نئے لکھے جانے والے ناول کا مجھے اپنی طرف متوجہ کر لینا ضرور انوکھی بات تھی اور یہ کہنا بجا ہے کہ ناول حسن کی صورت حال خالی— جگہیں— پر—کرو کے بعد “کماری والا” پہلا ناول ہے جسے میں نے ایک دن میں پڑھ کر ختم کر دیا مگر شاید اس نال کے طلسم سے نکلنے میں ایک سال لگ جائے۔ کماری والا علی اکبر ناطق کا دوسرا ناول ہے جو ابھی دسمبر 2020 میں بک کارنر جہلم نے شائع کیا ہے۔ یہ ناول 638 صفحات پر مشتمل ہے اور اپنے اندر موضوعات کا ایک جہان رکھتا ہے۔

علی اکبر ناطق سے میرا تعارف “نولکھی کوٹھی ‘کی بدولت ہو ہی چکا تھا مگر “کماری والا “میں جس طرح انھوں نےناول پر گرفت رکھی اور جس فنی چابکدستی سے ایک کردار ضامن کے اردگرد تمام کہانی کی بنیاد رکھی وہ قابل تعریف ہے۔ یہ ناول حقیقت کے اتنا قریب تر ہے کہ بعض اوقات پڑھتے ہوئے محسوس ہوا کہ ناول نہیں بلکہ کسی زندہ جیتے جاگتے ضامن کی کہانی خود اسی کی زبانی سنی جارہی ہے۔ فی الحقیقت عصر حاضر میں وہی فکشن اپنی جگہ بنا سکتا ہے جو حقسانہ کی عمدہ مثال ہو اور اگر کوئی حقسانہ کی تکنیک کو لے کر دیکھے تو موجودہ عہد کا یہ ناول اس کی سب بڑی مثال ہے۔ اس ناول کاطرز اسلوب اور موضوع اس ناول کو رہتی دنیا تک امر کرے گا۔

ناول کا بنیادی کردار ضامن ہے۔ جو ناول کا راوی بھی ہے۔ ناطق نے اسی کردار کے اردگرد تمام کہانی تشکیل دی ہے۔ یہی اس ناول کی سب سے بڑی خوبی ہے کہ کہانی میں بہت کم کردار رکھے گئے ہیں اور کہیں بھی ناول کے مرکزی کردار ضامن کو نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیا گیا۔ اتنا مضبوط پلاٹ اور کہانی پر اتنی کم گرفت بہت کم ناول نگاروں کےہاں نظر آتی ہے۔

یہ ناول 82 ابواب پر مشتمل ہے۔ صرف پہلا باب شاید ناول کی فنی ضرورت یا قاری کو سحر میں جکڑنے کے لیے کسی کی تلاش سے کیا گیا ہے۔ ابتدا ضامن کے کماری والا کے علاقے میں ایک خاتون کی تلاش سے ہوتی ہے۔ کہانی کا راوی ضامن اس عورت کی تلاش میں اسلام آباد سے بہت مشکلوں سے کہیں گاڑیوں پر اور کہیں پاپیادہ کماری والا کسی عورت کی تلاش میں جاتا ہے۔ جب آغاز میں وہ دیہاتوں سے گزرتا ہے تو یہاں کہانی سے زیادہ منظر کشی اور جزئیات نگاری پر توجہ دی گئی ہے۔ چونکہ ضامن کسی گاڑی کا انتظار کیے بغیر پیدل ہی سفر کا شروع کرتا ہے کیونکہ اسے شاد بیگم نامی عورت سے ملنے کی شدید تمنا ہے اور وہ اس تمنا میں کسی گاڑی کے انتظار میں وقت ضائع نہیں کر سکتا۔ بہت مشکلات و مصائب کے بعد جب وہ اپنی منزل پر پہنچتا ہے اور شاد بیگم سے ملتا ہے تو اس کی موجودہ ہئیت اور حلیہ دیکھ کر حیران اور سراسیمہ رہ جاتا ہے۔

پہلے باب کے بعد 78 ابواب تک ضامن کی کہانی منٹگمری سے لے کر اسلام آباد تک چلتی رہتی ہے۔ اس دوران کیا کچھ نہیں ہوتا۔ ضامن کے بچپن سے لے کر کماری والا کی سب ہی کہانی ان ابواب، میں ایک تسلسل سے چلتی ہے۔ جہاں ضامن کا بچپن ایک ڈسپنسر ی کے پاس گزرتا ہے۔ ڈسپنسری کہانی کے وجود کے لیے انتہائی ضروری ہے کیونکہ کہانی کے زیادہ تر کردار ڈسپنسری کے لوگ ہیں جن کی بدولت کہانی آگے بڑھتی ہے۔ جہاں نرس عدیلہ کی کہانی، اس کے بیٹے کا اغوا، اس کی واپسی، اس کی بیٹی کا بھاگ جانا، اور ان کا روپوش ہو کر اس علاقے میں چلے آنا سب شامل ہے۔ یہیں سے دس سالہ ضامن کی محبت کی کہانی تئیس برس کی خوبرو دوشیزہ زینت سے پختہ ہوتی چلی جاتی ہے۔ دوسری جانب کہانی کی دوسری مرکزی کردار ڈاکٹر فرح بھی اسی ڈسپنسری کے توسط ضامن سے ملتی ہے۔ اس کے پیچھے بھی باپ دادا کی خاندانی جائیداد کے تنازعات کی لمبی کہانی ہے جس کی بدولت روپوش ہو کر وہ اس علاقے میں آتی ہے۔ جس کے بیٹے جنید کے ساتھ بعد میں زینت بھاگ جاتی ہے۔

زینت کی ماں عدیلہ ایک مظلوم کردار جب کہ اس کا باپ ایک کٹھ پتلی کردار ہے جس میں ارتقا نظر نہیں آتا۔

بعد میں اس کردار ضامن زینت کی تلاش کرتا ہے اور ہر طرف سے مایوس ہو کر اسلام آباد آجاتا ہے اور مختلف ملازمتیں کرتا ہے۔ ہر طبقے کے لوگوں سے ملتا ہے۔ یہیں شیزا نامی لڑکی سے اس کی ملاقات ہوتی ہے اور اسی کردار کے ذریعے ناول کو انجام کی طرف لایا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ شیزا دراصل زینت کی بیٹی تھی۔ اس زینت کی جو کماری والا میں شاد بیگم کے نام سے رہتی تھی اور ضامن اس کی تلاش میں ناول کے پہلے باب سے سرگرداں تھا۔ اور اس کو لے کر شیزا کے پاس ہسپتال آتا ہے۔ جہاں شیزا زندگی و موت کی کشمکش تھی اور چند دن بعد وہ مر جاتی ہے اور اس کی لاش کو زینت کماری والا لا کر دفن کر دیتی ہے اور یوں ناول اپنے انجام تک پہنچ جاتا ہے۔

بہت سے وسیلوں سے کہانی جس منطقی انجام کی جانب بڑھتی ہے اس کے لیے ناطق نے نہ صرف کمیونسٹ نظریات کی دھجیاں اڑائی ہیں بلکہ مذہبی لحاظ سے فرقہ واریت کی وجوہات پر روشنی بھی ڈالی ہے۔ ناطق نے پاکستان کے کچھ خطوں کی عمدہ عکاسی بھی ہے۔ کراچی میں غیر محسوس طریقے سے لوگوں کی آباد کاری سے لے کر اس شہر میں باردو کی کہانی تک سب عمدگی سے بیان کیا گیا ہے اور کہانی کو کراچی سے گھما کر واپس اسلام آباد تک لے آئے ہیں۔ جہاں ضامن کی کلرکی کے دوران بیوروکریٹ اور ان کی اندرونی سیاست اور ملکی فائلوں کی تفصیلات اور ان کا طرز زندگی نہایت بے باکی سے بیان کیا ہے۔

اسلام آباد کی طرز معاشرت، اعلیٰ طبقے کی زندگی، امرا اور اشراف کی بیگمات اور بیٹیوں کی زندگیاں کچی بستیوں میں ہونے والے جنسی واقعات، شراب کی بھٹیاں اور اسلام آباد کی صحافتی زندگی میں صحافیوں کے سیاسی کالمز کی بھرمار، معاصر ادیبوں کے رویے، جنسی معاملات پر لکھنے والے ادیب، خفیہ پبلشرز، شوبز انڈسٹری اور اس کے پیچھے سیکس انڈسٹری کا کاروبار اور ایسے کئی دوسرے معاملات کو اس ناول میں عمدگی سے بیان کیا گیا ہے۔

ناطق نے اس ناول میں زندگی کو خارج اور داخل دونوں زاویوں سے دیکھنے کی کوشش کی ہے زندگی کی گہرائی و گیرائی کو جس طرح انھوں نے پیش کیا ہے اور اپنے ناول کو اپنی ذات کے حصار سے نکال کر ماحول اور گرد وپیش سے اس کا رشتہ جیسے استوار کیا ہے بہت کم ناول نگاروں کے ہاں یہ بات ملتی ہے۔ ان کا ناول عصر حاضر کی تیز رفتار بدلتی ہوئی زندگی، سنگین حالات اور نت نئے مسائل کی ترجمانی کرکے گہرے سیاسی، سماجی شعور کا احساس دلاتا ہے۔

 

Facebook Comments Box
اردو ناولعلی اکبر ناطقکماری والانعیمہ بی بی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
بھارتی مظالم: مسلمانوں کے ساتھ اب سکھ کسان نشانے پر —- وحید مراد
next post
میں لبرل اور جمہوریت پسند کیوں نہیں ہوں؟ ۔۔۔۔ سید عاطف حسین

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.