تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
علم و ادبمزاح

غالب: نئی تنقید کی زد میں (پیروڈی) — وحید الرحمن خان

by دانش ڈیسک 05/11/2020
written by دانش ڈیسک 05/11/2020
216

ہندوستان کی عوامی کتابیں دو ہیں___ آئینِ ہند اور کوک شاستر۔ ’’دیوانِ غالب‘‘ خواص کی کتاب ہے لیکن دورِ حاضر میں ہر بوالہوس نے غالب پرستی شعار کر رکھی ہے اور ہر کم فہم غالب کا طرف دار بن کر اتراتا پھرتا ہے جس طرح ذوق، شہ کا مصاحب بن کر اتراتے پھرتے تھے۔ خاص طور پر مدرس ناقدین نے وہ غالب شکنی کی ہے کہ یگانہ کی روح بھی شرماتی ہو گی۔ مدرس ناقدین کا مبلغِ علم محض ’’نوائے سروش‘‘ تک محدود ہے اور وہ تفہیمِ غالب کے لیے صرف اپنے ذوق پر انحصار کرتے ہیں۔ انہیں خبر نہیں ہے کہ اکیسویں صدی کی جدید دنیا نے ذوق سے مصنوعی ذہانت کا سفر چشمِ زدن میں طے کر لیا ہے اور تنقیدی تصورات و نظریات کے سرکش گھوڑے شمال اور مغرب سے ہوتے ہوئے اب تیزی سے جنوب کی طرف بڑھ رہے ہیں مگر ان ناقدین کا دل ابھی تک مشرق میں اٹکا ہوا ہے۔

اب وقت آگیا ہے کہ ذوقِ سلیم کو طاقِ نسیاں پر رکھ دیا جائے اور مصنوعی ذہانت کا تاج سر پر رکھا جائے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تحقیق کو پسِ پشت ڈال دیا جائے اور گوگل کو پیش نظر رکھا جائے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ’’نوائے سروش‘‘ کو نذرِ آتش کر دیا جائے بل کہ ’’دیوانِ غالب‘‘ کو بھی غرقِ دریا کر دیاجائے اور ان اشعار کے معانی کی جستجو کی جائے جو سوشل میڈیا پر غالب کے نام سے منسوب ہیں لیکن تنگ نظر مدرس ناقدین انہیں ’الحاقی کلام‘ قرار دیتے ہیں۔ انہیں یہ بات معلوم نہیں کہ اگر زندگی میں غالب کے خیال میں غیب سے مضامین آسکتے تھے تو بعد از مرگ بھی یہ معجزہ رونما ہو سکتا ہے کہ ہم ایک خلائی دور میں سانس لے رہے ہیں، جہاں اشعار بھی روشنی کی رفتار سے سفر کرکے عالمِ ارواح سے عالمِ اجسام تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہ شاعری کی راکٹ سائنس ہے۔ یہ نئی صدی کا سائنسی شعور ہے۔ اب ظاہر ہے کہ مارک زکربرگ یا کیون سسٹرام تو سوشل میڈیا پر غالب کے اشعار چسپاں نہیں کرتے۔ یہ غالبِ خستہ ہی ہے جس نے رضوان سے سازباز کرکے انٹرنیٹ کی سہولت حاصل کر رکھی ہو گی۔ مرنے کے بعد بھی اس کی شاعرانہ روح کو چین حاصل نہیں اور وہ اب بھی عالمِ بالا میںنسخۂ ہائے وفا تالیف کرتا رہتا ہے۔ اکیسویں صدی میں تفہیم غالب کے لیے ایک نئے پیراڈائم کی ضرورت ہے۔ تفہیم غالب کے لیے ہمیں ایک نئے تنقیدی معاہدے پر دست خط کرنا ہوں گے۔

غالب حیوانی ہستی کی انتہائی صورتِ حال کی آگہی رکھتے تھے، اس لیے کہ وہ خود حیوانِ ناطق تھے۔ یہ صورتِ حال کسی ایک علاقے کے حیوانوں تک محدود ہے نہ کسی خاص نسل یا بولی بولنے والی حیوانی دنیا سے عبارت ہے۔ غالب کی آہِ آتشیں سے بال عنقا جل کر داغوں کی بہار دکھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اڑنے سے پیش تر ہی اس کا رنگ زرد رہتا ہے۔ اس کا ذہن و تخیل جوہرِ آئینہ کو طوطیٔ بسمل باندھنے کی جرات رکھتا ہے۔ وہ لاشعوری سطح پر بلبل کے کاروبار کو خندۂ ہائے گل سے تعبیر کرتا ہے جس کا تعلق فلسفے، مذہبی فکر یا اخلاقی نظام سے ہرگز نہیں ہے۔ فریب نظر کے لافانی تصور کے باعث وہ زنگار کو طوطی کا عکس خیال کرتا ہے۔ حیوانی وجود کی طاقتِ پرواز امکانات کی ایک دنیا ہے جس کا تماشا شب و روز اس کے آگے ہوتا رہتا ہے جب کہ مرغِ گرفتار، حیوانی وجود کی تحدید و تخفیف کی علامت ہے۔ غالب خش عمر کو زمان و مکاں سے ماورا تصور کرتے ہیں اور رزم گہِ حیات میں اسے حریفِ شیر کمیں سمجھتے ہیں۔ اسے دہنِ شیر میں جا بیٹھنا منظور ہے مگر حیوانی حقوق سے غفلت اسے قبول نہیں کیوں کہ وہ خود حیوانِ ناطق ہے۔ بے چہرگی کا بیانیہ اسے سر کے بل کوچۂ رقیب میں لے جاتا ہے اور شناخت کا بحران اسے عرش سے پرے کرائے کا مکان لینے پر مجبور کرتا ہے۔ کرایوں میں اضافہ ایک عالم گیر مسئلہ ہے کیوں کہ دنیا اب عالمی گائوں بن چکی ہے۔ عالم گیریت نے اہلِ زمین پر زمین تنگ کر دی ہے۔ غالب یہ جان چکا ہے کہ آفرینش کے تمام اجزا زوال آمادہ ہیں اور مہرِگردوں کی حیثیت چراغِ رہ گزر سے زیادہ نہیں۔ ایسے عالم میں چاند اور مریخ پر نوآبادیات کی ضرورت ہے چناں چہ وسائل پر قبضے کے لیے انسان نے وہاں نوآبادیاتی نظام کی تشکیل کے لیے آمدورفت شروع کر دی ہے۔ یہ اور با ت ہے کہ ایڈورڈ سعید نے چاند اور مریخ پر نوآبادیاتی نظام کے مضمرات پر بحث نہیں کی۔

غالب پر مردم گزیدگی کا خوف اس طرح مسلط ہے کہ وہ آئینے سے بھی خوف کھاتا ہے جس طرح سگ گزیدہ پانی سے ڈرتا ہے۔ یہ پانی اگرچہ آبِ زر یا آبِ زم زم نہیں ہے مگر اس کی بھی قیمت ہے اور یہ بازار میں بند بوتلوں میں فروخت ہوتا ہے۔ صارف معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ پانی کی بوتلوں کے اتنے برینڈ مارکیٹ میں آ گئے ہیں کہ انتخاب مشکل ہو جاتا ہے۔ غالب کے مطابق صارفیت زدہ عہد میں شاہدِ گل کو باغ سے بازار میں آنا پڑتا ہے اور اشیا جب تک مارکیٹ میں نہیں آتیں، فروختنی نہیں ہوتیں۔ صارفیت کی کام یابی یہی ہے کہ وہ صارف کو باور کرا دے کہ پانی کا ہوا ہو جانا کہ ایک فطری عمل ہے جس سے بچنے کے لیے اسے بوتلوں میں بند کرنا ضروری ہے لیکن بازار سے خریداری کے لیے گرہ میں مال کا ہونا بھی لازمی ہے، اس لیے تو غالب نے کہا تھا:

گھر سے بازار میں نکلتے ہوئے
زہرہ ہوتا ہے آب انساں کا

یہ شعر دراصل صارفیت کے خلاف غالب کا احتجاج نامہ ہے۔ غالب جب جامِ سفال کو اس لیے اچھا قرار دیتا ہے کہ ٹوٹنے کی صورت میں بازار سے اور لایا جا سکتا ہے تو دراصل وہ ایک صارف معاشرے کی تشکیل کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کی ردِ تشکیل ضروری ہے۔ غالب کی ابتدائی شاعری دریدا کی ردِ تشکیلیت کی طرح مبہم اور پیچیدہ ہے۔ غالب کے بقول صارف معاشرے میں جامِ سفال کی طرح ہر چیز قابلِ ترک (Disposable) ہے۔ لفظ ’’ترک‘‘ کے آخری اور حتمی معنی کو اس کی کثیر معنویت سے برامد کیاجا سکتا ہے اور یہ لفظ اپنے روحانی معنی سے آگے جو مادی معنی بیان کرتاہے اس کو پسِ ساخیات کے تناظرمیں تلاش کرنا ایک معنی خیز عمل ہے۔ یہ ایک نئے معنیاتی نظام کا ڈسکورس ہے جس کے بارے میں اصغرالہٰ آبادی کا ایک بے وزن شعر ہے:

ڈسکورس تو لفط ہی سکھاتے ہیں
آدمی، آدمی بناتے ہیں

Facebook Comments Box
Ghalibاردو فکاہیہ کالمطنزومزاحغالب
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
مسلمان شہریوں کی بے ریاستی اور مودی میکرون گٹھ جوڑ — وحیدمراد
next post
بلوچستان سے آدھی ادھوری کہانیاں — محمد حمید شاہد

Related Posts

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.