تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

موٹروے جیسے سانحات، کچھ بنیادی وجوہات — ثوبیہ بتول

by دانش ڈیسک 14/09/2020
written by دانش ڈیسک 14/09/2020
143

پردہِ تہذیب میں غارت گری‎

کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرتا کہ ملک کے طول و عرض میں زیادتی کے واقعات پیش نہ آتے ہوں۔ اس بدترین ظلم کا شکار ہونے والوں کی زیادہ تعداد تین سے دس کی عمر کی بچیاں اور بچے ہیں۔ بہت سے ایسے واقعات ہیں جو لوگ بدنامی کے ڈر سے رپورٹ نہیں کرواتے۔

پچھلے دنوں وفاقی وزیر شہر یار آفریدی نے انکشاف کیا کہ بچوں کی ریپ کی لاکھوں وڈیوز برآمد ہوئی ہیں۔ اور وہ لوگ اس پہ تفتیش کر رہے ہیں۔ پھر ڈارک ویب کی بات بھی سامنے آئی کہ لوگ زیادتی کے بعد قتل کرتے ہیں ٹانگیں اور بازوں کاٹ دینا اس سب کی وڈیو بنا کے ڈارک ویب پہ ڈال دیتے ہیں اس سے ان کو پیسے ملتے ہیں۔

جب ڈاکٹر شاھد مسعود نے اشارہ دیا تھا کہ اس میں پاکستان کی کچھ طاقتور شخصیات شامل ہیں۔اس بات پہ انہیں چینل کی جاب سے ہاتھ دھونا پڑا۔ شاھد صاحب کی زندگی کو خطرہ پیدا ہوگیا۔۔۔ یہ معاملہ یوں دب گیا۔۔۔۔

یہ تو صرف ایک پہلو ہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو صرف اپنی ہوس پوری کرنے کے لئیے کسی کی عزت سے کھیلتے ہیں۔۔ ہوس کے ساتھ ساتھ بے رحمی کی ایسی ہوشربا داستانیں سننے کو ملتی ہیں کہ شیطان پہ کانوں کو ہاتھ لگائے۔۔۔۔

کوئی اکا دکا واقعہ ہو تو اس کی مخصوص وجہ سمجھ کے بندہ صبر کر جاتا ہے۔ یہاں تو پوری ایک سیریز چل پڑی ہے۔ ایسے میں سنجیدہ شہری سوچنے پہ مجبور ہوجاتا ہے ایسے کونسے عوامل ہیں جو ریاست میں ان واقعات کو پروموٹ کرنے میں، پھلنے پھولنے میں، ان کی آبیاری کرنے میں اپنا بھر پور کردار ادا کر رہے ہیں۔۔

مثلاََ:
پاکستان کے تقریبا ہر بڑے شہر میں ایسے تھیٹر موجود ہیں جہاں ڈرامے کے نام پہ اسفل درجے کی فحاشی دکھائی جاتی ہے۔ ”صرف بالغوں کے لئیے” کے جملے کے ذریعے ٹین ایجرز کی بڑی تعداد کے لئیے کشش کا سامان کیا جاتا ہے۔۔۔ صرف چند روپے میں یہ گھٹیا تفریح ہر آدمی کی پہنچ میں ہے۔

موبائل ہر شخص کے ہاتھ میں ہے۔ نوجوان نسل پورن وڈیوز دیکھ رہی ہے۔ والدین کے پاس اولاد کی ”سرچ ہسٹری” چیک کرنے کا وقت نہیں۔۔ ریاست کو پابندی لگانے کی پرواہ نہیں۔۔

معاشی افراط و تفریط عروج پر ہے۔ شدید غربت اور محرومی کا نتیجہ نوے فیصد جرائم کی صورت میں نکلتا ہے۔کیا وجہ ہے کہ سٹریٹ کرائمز اور ریپ کیسز میں اکثر مجرموں کا تعلق ایسے محروم طبقات سے ہوتا ہے۔۔

تعلیم، جہیز، معاشی مسائل کی وجہ سے بچے بچیوں کی لیٹ شادی کا رواج شدت پکڑ گیا ہے۔۔ اس لئیے بڑی تعداد جبلی خواہشات سے مجبور ہوکر غلط راستوں پہ چل نکلتی ہے جس کے نتائج آئے روز کوڑے کرکٹ کے ڈھیر سے مردہ ناجائز بچوں کے ملنے کی صورت میں نکل رہا ہے۔ اس کے علاوہ ایسے ہزاروں زندہ بچے ہیں جن کی ولدیت کے خانے میں عبدالستار ایدھی کا نام لکھا ہے۔۔

پانچویں وجہ ہماری اشرافیہ اور سٹیک ہولڈرز کا مفاد اسی میں ہے کہ پولیس ان کی کاسہ لیس بن کے رہے۔ وہ درستی کا عمل کبھی نہیں ہونے دیں گے۔۔یہ پولیس مجرموں کو تحفظ دیتی ہے۔۔۔۔

کوئی بہت پرانی بات نہیں ہے جب انٹرنیٹ اور موبائل نے عام نہیں ہوا تھا۔دیہاتوں قصبوں میں رواج تھا ک مغرب کے بعد کوئی لڑکا یا بچہ گلی پھرتا نظر آتا تھا تو گاوں محلے کے بزرگ کہا کرتے تھے ”اوئے باہر کیا کر رہا ہے چل گھر، شام ہوگئی”۔ اب سوشل فیبرک ایسا ہوگیا ہے کہ کوئی کسی کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتا۔ ایک بدترین قسم کی تنہائی نے آگھیر ہے۔ ساتھ والے ہمسائے کا پتہ نہیں۔۔۔ خودغرضی کا مظاہرہ ہم نے اس زیادتی کے کیس میں بھی دیکھا کہ خاتون نے راہ چلتے آدمی سے مدد مانگی مگر اس نے گاڑی نہیں روکی۔۔۔

پھر ہمارے ملک میں بھرپور طریقے سے کھیلوں اور تفریحی سرگرمیوں کا ماحول نہیں۔ تقریری مقابلوں اور علمی مباحث کا ٹرینڈ نہیں۔۔ نوجوانوں کے پاس کرنے کے لئیے کوئی صحت مند مشغلہ نہیں تو اس طرح کی فراغت انہیں جنسی تخریب کی طرف مائل کرتی ہے۔۔۔ فراغت خود کئی مسائل کی جڑ ہے۔۔

کسی زمانے مسجد و منبر نیکی سکھانے، اقدار و روایات کی تربیت کرنے کے مراکز تھے۔ ایسا قحط الرجال آیا ہے کہ یہ سب سے زیادہ جہالت تشدد اور غیر فطری رویوں کی آماجگاہ بن گئے ہیں۔

دین کے ترجمان اعلی اخلاق، اعلی ذہن اور اعلی تربیت کا حامل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ آنے والے نئے معاشرتی سماجی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لئیے ان کے پاس کوئی بیانیہ ہوتا ہے۔۔ اب دین کے زبردستی کےترجمان توحید و رسالت کے ایسے عامیانہ دلائل دے رہے ہوتے ہیں کہ مسلمان کا مسلمان رہنا مشکل ہے۔۔۔

یہ بیچارے ایک رکعت کے امام کیا مغربی علمی، سائنسی اور نظریاتی یلغار کا سامنا کریں گے۔۔۔ اس میں ریاست کا مجرمانہ عمل شامل ہے کہ اس نے ان کی سر پرستی نہیں کی۔معاشی مجبوریاں بھی ہیں۔۔ تو یہ کیا نوجوانوں کو نیکی سکھائیں گے۔۔ ایک یہ وجہ بھی ہے کہ وہ ہر برائی کا آسان ہدف بن رہے ہیں۔

دوسرا پاکستان میں جرائم کے مناسب حال قوانین موجود نہیں۔اگر ہیں تو عدالتی نظام اتنا بودا ہے کہ اس کو لاگو کروانے میں مکمل طور پہ ناکام ہے۔ سیاستدانوں کو اقتدار کی رسہ کشی سے فرصت نہیں۔۔ایسے میں ان کی بلا سے جہنم میں جائے عوام۔۔

ان تمام عوامل کے ہوتے ہوئے صرف قانونی تبلیغ سے تاقیامت نہ ریپ کم ہوں گے۔ نہ جرائم نیچے آئیں۔ ہر نئے واقعے پہ تھوڑی دیر ایک شور اٹھے گا۔۔۔

سیاست ہوگی۔ بھاگ دوڑ ہوگی۔۔۔ اور بس۔۔ زینب واقعے پہ اس سے کہیں زیادہ بھرپور احتجاج ہوا تھا۔مجرم بھی سزا پاگئے مگر اس کے بعد بچوں کے زیادتی کیسس میں بلکہ شدت آئی ہے۔۔۔

اہل بصیرت کہتے ہوتے ہیں کہ واقعے سے زیادہ محرکات پہ غور کرنا چاہئیے۔ پھوڑے پھنسی پہ دوائی لگانے سے بہتر ہے خون کے اندر خرابی کو دور کیا جائے۔۔۔ہر معاملے میں دور اندیشی اور گہرائی ضروری ہے۔۔۔ ورنہ اس قوم کی داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں۔۔۔

”ہے نزاع کی حالت میں یہ تہذیب جواں مرگ”

Facebook Comments Box
featuredmotorway incident
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ڈاکٹر برہان احمد فاروقی کے ساتھ ایک مصاحبہ (حصہ دوم) — جلیل عالی
next post
ایک ماں کی بے حرمتی —  فارینہ الماس

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.