تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتراجمعلم و ادبعلمیکالم

امریکا کے لوگوں کی تاریخ: ہاورڈ زن — تلخیص و ترجمہ: ناصر فاروق

by دانش ڈیسک 04/09/2020
written by دانش ڈیسک 04/09/2020
184

Young People's History of the United States, by Howard Zinn. Complete 448 page book, Now in Paperback. [read more] $19.95اک قسم کا انقلاب!

برطانوی فوج پر امریکیوں کی فتح، پہلے سے موجود مسلح افراد کے باعث ممکن ہوئی۔ تقریبا ہر سفید فام کے پاس ایک بندوق تھی، اور وہ اسے چلانا جانتا تھا۔ گو کہ انقلابی رہنما غریبوں کے ہجوم پر بھروسہ نہ کرتے تھے، مگر وہ یہ بھی جانتے تھے کہ سیاہ فام غلاموں اور انڈینزکے لیے انقلاب میں کوئی کشش نہ تھی۔ یوں اُن کے پاس اس کے سوا کوئی رستہ نہ تھا کہ سفید فام مسلح جتھوں کی سرپرستی کریں۔ یہ آسان نہ تھا۔ اگرچہ، مکینک، جہاز راں، اور دیگر محنت کش انگریزوں کے خلاف تھے، مگرجنگ کے لیے عام جذبہ شدید نہیں تھا۔ جبکہ جنگ کے دوران سفید فام آبادی کا بہت بڑا حصہ خدمات کی ادائیگی میں غیر مستقل مزاجی بھی دکھا رہا تھا، بہت ہی کم لوگ تھے، جو ڈٹے ہوئے تھے۔ جان شائی انقلابی فوج کے مطالعہ (A People Numerous and Armed) میں کہتا ہے

’’وہ مقامی سیفٹی کمیٹیوں کی دھوکے بازی سے تنگ آچکے تھے، بد عنوان حکام رسد کی ترسیل میں بددیانتی کا مظاہرہ کررہے تھے، اور عجیب بے ہنگم سے اجنبی جو بندوقیں اٹھائے ہرطرف دندناتے پھر رہے تھے، وہ خود کو انقلاب کے سپاہی کہتے تھے‘‘۔

شائی نے تخمینہ لگایا ہے کہ، شاید ایک تہائی آبادی باغی ہوچکی تھی۔ جان ایڈم کے اعدادوشمار کہتے ہیں کہ ایک تہائی مخالف تھے، ایک تہائی حمایت میں تھے، اور ایک تہائی غیرجانب دار تھے۔ ایلگزینڈر ہیملٹن، جوجارج واشنگٹن کا معاون تھا، لکھتا ہے کہ ”۔۔۔ہمارے لوگ گدھے کی طرح بے وقوف اور بھیڑ کی مانند بے سدھ ہیں۔۔۔ انھیں آزادی میں کوئی دلچسپی نہیں۔۔۔‘‘ شائی کہتا ہے کہ سفید فام خدمت گار، نیگروز، اور ریڈ انڈینز نوآبادیاتی ملیشیا میں شامل نہیں تھے۔

A People's History Banned in Tucson Schools | HowardZinn.orgتاہم میساچیوسٹس اور ورجینیا میں سفید فام فوج میں بھرتی کیے جارہے تھے، اُن سے بڑے بڑے وعدے کیے جارہے تھے۔ یہ غریب توقع کر رہے تھے کہ شاید فوج میں رہ کر اُن کے معاشی حالات بہتر ہوجائیں گے، معاشرے میں اُنھیں کوئی مقام مل جائے گا۔ ایک زخمی امریکی فوجی انٹرویو میں پیٹر اولیور کو بتاتا ہے کہ ’’میں ایک جُفت ساز تھا۔ جب یہ بغاوت برپا ہوئی، میں نے دیکھا کہ ساتھ کے مزدور محنت کش ملیشیا میں بھرتی ہورہے تھے۔ میں بھی کافی پرجوش تھا، اور اپنے کسی بھی ساتھی سے پیچھے نہیں رہنا چاہتا تھا۔ مجھ سے کہا گیا کہ پرائیوٹ سولجر کے طورپر اپنا اندراج کروا لوں۔۔۔ میں نے لیفٹننٹس کمیشن میں شمولیت کی درخواست دی، جسے قبول کرلیا گیا۔ میں اپنی ترقی متصور کررہا تھا: اگر میں دوران جنگ مارا جاتا تو ختم ہو جاتا، لیکن اگرمیرا کپتان ہلاک ہوجاتا تو میرا رینک بڑھ جاتا۔‘‘

شائی Peterborogh کی تحقیق میں کہتا ہے، کہ قصبہ کے نمایاں شہری جنگ میں کم ہی شامل رہے تھے۔ دیگر امریکی قصبات کی صورتحال بھی زیادہ مختلف نظر نہیں آتی۔ شائی کہتا ہے کہ ’’انقلابی امریکا غالبا متوسط طبقہ پرمشتمل رہا ہوگا، جو دیگر تمام طبقات کی نسبت خوشحال تھا، تاہم اس نے غریبوں کی ایک مناسب تعداد کو بھی ساتھ کرلیا تھا، پھر بھی کم ہی لوگ لڑنے مرنے پرمائل ہوئے تھے۔ اس دوران حکمران اشرافیہ کی نسلیں یہ جان چکی تھیں، کہ اگر داخلی مسائل سے نمٹنا ہے، تو جنگ جاری رکھنی ہوگی۔

انقلابی فوج کی تیاری غیر جانب دار قسم کے لوگوں کو ہنکانے جیسی تھی۔ کنیکٹی کٹ میں، مثال کے طورپر، ایک قانون منظور کیا گیا، کہ سولہ سے ساٹھ کی عمر کے درمیان تمام مردوں کی فوجی خدمات درکار ہیں۔ البتہ سرکاری حکام، وزراء، نیگروز، انڈینز، اور مخلوط یورپی غلام اس فوج میں شامل نہ کیے گئے تھے۔ جب کہ کوئی بھی ’’امیر امریکی‘‘ پانچ پاؤنڈ ادا کرکے اس عسکری خدمت سے خلاصی پاسکتا تھا۔ تاہم جب اٹھارہ افراد فوجی خدمات کے لیے حاضر نہ ہوئے، تو انھیں جیل بھیج دیا گیا، یہاں تک کہ وہ جنگ لڑنے پر آمادہ ہوگئے۔ یہ بہت بڑی بیزار اکثریت کو قومی مفاد کے نام پر استعمال کرنا تھا، جو آج تک جمہوریت کی صورت میں پنہاں ہے۔

A People's History of the United States | The New Pressانقلابی امریکی جنگ کے ابتدائی محاذوں میں شکست سے دوچار ہوئے: بنکر ہل، بروکلن ہائٹس، ہارلم ہائٹس، اور ڈیپ ساؤتھ میں ہزیمت کا سامنا ہوا؛ تاہم ٹرینٹن اور پرنسٹن میں چھوٹے محاذوں پر انھیں کامیابی ملی، اور پھر ایک اہم موڑ آیا اور حالات نے پلٹا کھایا، 1777 میں نیویارک ساراٹوگا کے بڑے محاذ پر جارج واشنگٹن کی آرمی وادی ِفارج میں صف بستہ تھی، اوربینجمن فرینکلن نے فرانسیسی حکومت سے اتحاد کے لیے مذاکرات کیے، جو انگلینڈ سے انتقام کے لیے بے چین تھی۔

جنگ کا رخ جنوب کی طرف ہوچکا تھا، جہاں برطانوی ایک کے بعد ایک فتح حاصل کررہے تھے، یہاں تک کہ امریکیوں کو فرانسیسیوں کی بھاری کُمک پہنچی۔ فرانسیسی بحریہ نے برطانوی ترسیلات کا راستہ روک دیا، اور تازہ کُمک کی راہ میں بھی حائل ہوگیا، یوں ورجینیا یارک ٹاؤن کی فتح امریکیوں کے نام رہی۔ یہ 1781کا سن تھا۔

A People's History of American Empire: The American Empire Project, A Graphic Adaptation: Zinn, Howard, Konopacki, Mike, Buhle, Paul: 9780805087444: Amazon.com: Booksاس دوران کچھ عرصہ کے لیے امریکیوں میں امیر غریب کی خلش غیر محسوس طور پر غائب ہوگئی تھی۔ تاہم عین جنگ کے دوران، فلاڈلفیا میں کہ جب بقول ایرک فونر ’’چند نوآبادکار بے حد منافع سمیٹ رہے تھے اور غریب محنت مشقت میں دبلے ہو رہے تھے‘‘، افراط زر ایک ماہ میں پینتالیس فیصد تک بڑھ گیا تھا۔ فلاڈلفیا کے ماحول میں شدید بے چینی پیدا ہوگئی تھی۔ فلاڈلفیا آرٹلری کمپنی نے اسمبلی میں پٹیشن دائر کی، کہ ’’غریب شدید مشکل میں ہیں، اور لالچی سرمایہ داروں کے خلاف شدید ہنگامہ آرائی کا قوی خدشہ ہے۔ اس لیے کچھ کیا جائے۔‘‘ اسی دوران ایک ماورائے قانون بیٹھک ہوئی، جس میں اشیاء کی قیمتوں کی کمی کا مطالبہ کیا گیا، اور رابرٹ موریس کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا گیا، کہ جس پرمنڈی سے اشیائے خوردونوش اٹھا کر ذخیرہ کرنے کا الزام تھا۔ اکتوبر میں ’’ولسن کے قلعہ کی ہنگامہ آرائی‘‘ سامنے آئی۔ ایک ملیشیا گروہ شہر میں گھُسا، اور دولت مند وکیل اور انقلابی آفیشل جیمس ولسن کے گھر کا رخ کیا، کہ جو قیمتوں میں کمی کا مخالف تھا، تاہم فلاڈلفیا کے خوشحال شہریوں نے یہ حملہ ناکام بنادیا تھا۔

دی کانٹینینٹل کانگریس، جوجنگ کے دوران نوآبادیوں پر حکومت کر رہی تھی، پر امراء کا قبضہ تھا۔ یہ سب باہم کاروباری شراکت دار اور رشتے دارتھے۔ یہ شمال جنوب اور مشرق مغرب میں باہم ربط میں تھے۔ ورجینیا کے رچرڈ ہینری لی کے میساچیوسٹس کے ایڈم خاندان سے تعلقات قائم تھے، پینسلوینیا کے شپنز سے بھی ان سے رابطے میں تھے۔ پنسلوینیا کا رابرٹ موریس ان سب کا سہولت کار تھا۔ وہ کانٹی نینٹل کانگریس کے لیے زیادہ سے زیادہ قرض کی کفایت پیدا کر رہا تھا۔

اس صورتحال نے عام انقلابی فوجی کو نظر انداز کیا، جوبغیر اجرت خدمات انجام دے رہا تھا، شدید سردی میں بھوکا مر رہا تھا، اور دیکھ رہا تھا کہ کس طرح سرمایہ دار منافع پر منافع کما رہے تھے۔ جنگ کے لیے قربانیاں ناقابل برداشت ہورہی تھیں، امراء کا تحفظ اور ثروت مندی ناقابل قبول ہوتی جارہی تھی۔ سن 1781میں، نئے سال کے پہلے دن پر، موریس ٹاؤن کے قریب پینسلوینیا کے فوجیوں نے اپنے ہی افسران پر دھاوا بول دیاتھا، ایک کیپٹن کو قتل اور دیگر کو بُری طرح زخمی کیا تھا۔ وہ پوری طرح مسلح تھے۔ افسران پرحملے کے بعد وہ رُکے نہیں، بلکہ فلاڈلفیا کی کانٹی نینٹل کانگریس کی جانب بڑھ گئے تھے۔

Howard Zinn in history class: teachers and A People's History of the United States.جارج واشنگٹن نے اس صورتحال کو بڑی ہوشمندی سے سنبھالا۔ جنرل اینتھونی وین اسے ہرلمحہ کی خبر پہنچا رہا تھا۔ اُس نے جنرل کوہدایت کی کہ طاقت کا استعمال ہرگز نہ کرے۔ اُسے خدشہ تھا کہ کہیں بغاوت اُس کی اپنی فوج میں سرایت نہ کر جائے۔ جارج واشنگٹن نے جنرل اینتھونی وین سے کہا کہ فوری طور پر فوجیوں کے تحفظات اور شکایتوں کی فہرست تیار کی جائے، اور کانگریس سے کہا کہ بھاگ نکلنے سے گریز کیا جائے، کہ مبادا کہیں فوجی مشتعل لوگوں کے ساتھ مل جائیں، اور صورتحال مزید بگڑ جائے۔ اُس نے جنرل ناکس کو فوری نیو انگلینڈ کی جانب روانہ کیا، کہ فوجیوں کو تین ماہ کی پیشگی تنخواہ پہنچائے، اور باغیوں کے خلاف پیش قدمی کے لیے آمادہ کرے۔

اب جارج واشنگٹن تیار تھا۔ چھ سو افراد جنھیں اچھا کھانا اور کپڑے پہنچائے گئے تھے، باغیوں کے خلاف پیش قدمی کرچکے تھے، اور محاصرہ کرکے ا نھیں غیر مسلح کرچکے تھے۔ باغی گروہوں کے رہنماؤں پرفورا مقدمات قائم کیے گئے، ایک کومعافی ملی، دیگر دو فائرنگ اسکواڈ کے حوالے کردیئے گئے تھے، جنھیں اُن کے اپنے پرانے ساتھیوں نے روتے ہوئے گولیوں کا نشانہ بنایاتھا۔ اس واقعہ کو جارج واشنگٹن نے ’’پیغام عبرت‘‘ قرار دیا تھا۔

Ronald Hoffman کہتا ہے، ’’انقلاب نے ڈیلاوئیر، میری لینڈ، شمالی کیرولائنا، جنوبی کیرولائنا، جارجیا، اور کسی حد تک ورجینیا کوخانہ جنگی میں جھونک دیا تھا۔‘‘ جنوب کے نچلے طبقے امریکی انقلاب کے لیے اپنے اندر کوئی کشش یا تحریک محسوس نہ کرتے تھے، وہ اس تحریک کی مزاحمت کررہے تھے، کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ انگلینڈ کے خلاف جیت ہو یا ہار، بہرصورت ایک سیاسی اشرافیہ اُن پر حاکم بنی بیٹھی ہے۔ امریکی آئین میں ’’غریب‘‘ آدمی کے لیے کچھ نہیں تھا۔ گورنر بننے کے لیے کم از کم پانچ ہزار پاؤنڈ کی جائیداد لازمی تھی، جبکہ سینیٹر کی نشست کے لیے ایک ہزار پاؤنڈ جیب میں ہونا ضروری تھے۔ یوں نوے فیصد عوام از خود سیاسی عمل اور سرکاری دائرے سے نکال باہر کی گئی تھی۔

ایلگزینڈر ہیملٹن، جو جارج واشنگٹن کا معاون تھا، نئی اشرافیہ کا کٹڑ حامی تھا، اپنا سیاسی فلسفہ یوں بیان کرتا ہے:

’’تمام طبقات تھوڑے یا بہت سے ٹکڑوں میں منقسم ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے امراء اور پیدائشی طورپر خوشحال لوگوں کی باری آتی ہے، اور پھر باقی لوگوں کا انبوہ آتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ خلق خدا کی آواز نقارہ خدا ہوتی ہے، اور اس عام کہاوت پر یقین کیا جاتا ہے، لیکن دراصل یہ حقیقت نہیں ہے۔ عام لوگ ہنگامہ خیز اور شورش پسند ہوتے ہیں۔ اس لیے امراء کے طبقہ کوہمیشہ حکومت میں مستقل حیثیت ملنی چاہیے۔ ۔ ۔ ایک ایسی جمہوری اسمبلی کس طرح لوگوں کا بھلا کرسکتی ہے، کہ جس کا چناؤ عام لوگوں میں ہی گردش کرتا رہے؟‘‘

A People's History of the United States: 1492-Present / Edition 3 by Howard Zinn | 9781138133969 | Hardcover | Barnes & Noble®آج تک، امریکی آئین کے بارے میں یہ دیو مالائیت قائم رہی ہے، کہ بہت جمہوری اور منصفانہ رہاہے! مؤرخ برنارڈ بیلن لکھتا ہے کہ ’’ہرکوئی منصف اور دانشمند حکومت کے اس نسخہ سے واقف ہے: کہ معاشرے کی ’’مسابقتی‘‘ قوتوں میں توازن قائم رہنا چاہیے، کہ کوئی بھی قوت دوسری پر غالب نہ آپائے، اوردیگر کی آزادی سلب نہ کرسکے۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ ایسا توازن ’’انقلابی امریکا‘‘ میں کس طرح قائم کیا جائے؟ کیا امریکا کے بانیان یہ توازن قائم کرنا چاہتے تھے؟ درحقیقت، وہ ایسے کسی توازن کے حق میں نہ تھے، وہ صرف اسٹیٹس کوقائم رکھنا چاہتے تھے، وہ صرف مقتدر قوتوں میں توازن قائم رکھنا چاہتے تھے۔ وہ یقینی طورپر غلاموں اور آقاؤں میں کسی قسم کی برابری نہ چاہتے تھے، بے جائیداد افراد اورصاحب جائیداد میں واضح فرق کرتے تھے، ریڈ انڈینز اور سفید فام امریکیوں میں ہرگز کسی مساوات کے قائل نہ تھے۔ بانیان امریکا کی نظر میں امریکا کی آدھی آبادی ’’مسابقتی قوتوں‘‘ میں شامل ہی نہ تھی۔ یہاں تک کہ ان کا ’’اعلان آزادی‘‘ میں کوئی ذکرنہیں کیا گیا، یہ لوگ آئین سے بھی ’غائب‘ ہیں، یہ طبقات نئی سیاسی جمہوریت میں بھی نہ معلوم رہے۔ یہ لوگ نئے نئے امریکا کی ’’خواتین‘ تھے۔

Facebook Comments Box
A People Numerous and ArmedfeaturedPeterboroghامریکا کے لوگوں کی تاریخہاورڈ زن
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
اردو ادب کا مزاح اور عہدِ یوسفی: ایک طائرانہ نظر (قسط دوم) — افضل رضوی
next post
‘مردوں کے حقوق کی تحریک’ کا جائزہ —- وحید مراد

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.