تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادب

کتنی تصویروں کے ساتھ آئی ہے شامِ زندگی –انور عباسی کی آپ بیتی حصہ 3

by انور عباسی 26/03/2017
written by انور عباسی 26/03/2017
94

ہر مصنوعی اور دو نمبر چیز کی طرح مصنوعی کھاد کا تصوّر بھی ناپید تھا۔ مال مویشیوں کا گوبر یہ ضرورت پوری کرتا۔ یہ فرض گھر کی خواتین کے سپرد ہوتا تھا جوصبح سویرے گوال سے بڑے سلیقے سے گوبر کو اٹھا کرکھیتوں میں ترتیب وار بچھاتی تھیں۔جو خواتین یہ کام خوش اسلوبی سے کرتی تھیں ان کا کھیت بڑی اچھی فصل دیتا تھا۔یہاں کے باسی کہلاتے تو زمیندار ہی تھے، لیکن پنجاب اور سندھ کے زمینداروں سے قطعی مختلف تھے اور حقیقی معنوں میں کسان ہی تھے۔ فصل کی تیاری میں مارچ کے مہینے سے ہی زمین پر کام شروع ہو جاتا تھا۔ مرد حضرات صبح سویرے ہی خود اور بیلوں کو ناشتہ کروانے کے زمین کے حوالے کرتے، معمولی سا کھانے کا وقفہ ہوتا تھا اور شام کو کہیں جا کر بیلوں کو کھولتے اور خود کھُلتے۔ عام طور پر ایک خاندان کے پاس اپنے ہی بیلوں کی جوڑی ہوا کرتی تھی، تاہم جو یہ افورڈ نہیں کر سکتے تھے وہ ایک بیل رکھتے اور اپنے ہی جیسے کسی دوسرے شخص کے بیل کے ساتھ مل کر سانجھا کرتے، جوڑی بناتے اور ہل جوتتے۔ یہ پراسیس ایک آدھ ماہ کے بعد پھر دہراتے اور بالآخر بوائی کا موسم آ جاتا۔بیج کو زمین کے سپرد کر دینا ہی کافی نہ تھا بلکہ اس کی دیکھ بھال اس طرح کرتے جس طرح اپنے بچوں کی۔ کھیت سے جنگلی جڑی بوٹیوں کا ہاتھوں سے اکھیڑنا،مکئی کے نوخیز،نرم سے،نازک سے،کومل سے کمزور پودے جوسینہ تان کر کھڑا ہونے کی بجائے رکوع کی حالت میں جانا شروع کردیںان کو دوبارہ اپنے پائوں پر کھڑا کرنا ایک مستقل کام تھا۔ایک کسان لگا تار ایک ڈیڑھ ماہ تک یہ فریضہ سر انجام دیتا تب جا کر اس کی محنت رنگ لاتی۔

برسوں بعد جب کبھی گائوں جانا ہوتا ہے اور میں اپنے کھیتوں کو دیکھتا ہوں تو ایک ہوک سی اٹھتی ہے۔ مجھے اپنے والدین یاد آ جاتے ہیں کہ وہ کس طرح محنت کرتے تھے۔ اور ہم ہیں کہ بغیر محنت کیے سب کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ہر فرد کی زبان پر یہ شکوہ ملے گا کہ اب زمین سے کوئی چیز اُگتی ہی نہیں۔ اس کی طرف کسی کا دھیان جاتا ہی نہیں کہ اس کے لیے اسے بھی کچھ کرنا چاہیے تھا۔ خوابوں کی دنیا میں رہنے والے ہم تن آسان لوگ۔ یہ رویّہ ہم سب نے مجموعی طور پر اپنا رکھا ہے۔ علم و عقل اور اجتماعی دانش بھلے ایک تقاضا کرتی رہے ہم ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ یہی رویّہ ہم نے اپنے دین کے بارے میں بھی قائم کر رکھا ہے۔ ہم بڑے مانے ہوئے اور ڈیکلیرڈ قسم کے عاشقِ رسول ہیں، لیکن رسول کی ایک بات بھی مان کر نہیں دیتے۔ ہم ہاتھ پیر ہلائے بغیر اسلامی حکومت بھی قائم کرنا چاہتے ہیں اور جنت بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ بھول جاتے ہیں کہ ایک چیز قانونِ مکافاتِ عمل بھی ہے۔

اللہ کے بندو! ربِّ کائنات نے اعلان کر رکھا ہے’ لیس للانسان الا ما سعیٰ۔ (القرآن:۳۹ /۵۳)۔ ہمارے رب نے تو واضح اعلان کیا ہے کہ: ’اولئک اصحٰب الجنۃ خلدین فیھا جزاء بما کانوا یعملون۔ (الاحقاف: ۱۴/۴۶)۔ یہ جنت میں جانے والے لوگ وہ ہوں گے جن کو جنت اپنے اعمال کے بدلے میں دی گئی ہو گی۔ لیکن ہم نیک اعمال کرنے کی بجائے اول تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں صرف زبان ہلانے سے ہی جنت الاٹ کر دی جائے گی۔ اور اگرایسا نہ بھی ہوا توخیر کوئی بات نہیں، وہاں ہماری سفارش کرنے والے ایک نہیں کئی ایک موجود ہوں گے جو ہمیں جہنم کی آگ سے بچا کر جنت کی نعمتوں سے مالا مال کر دیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کی جو نعمت ہمیں نسلی طور پر ملی ہے اس پر فخر کرنے کو ہی صرف کافی سمجھتے ہیں اور عمل سے کوسوں دور ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کچھ تقاضا کرتی ہیں اور ہمارا عمل کسی اور حقیقت کی شہادت فراہم کرتا ہے۔
ایک امریکی تھنک ٹینک PEWکے سروے کے مطابق۷۸ فیصد پاکستانی اپنے ملک میں قرآنی تعلیمات کا نفاذ چاہتے ہیں، اور صرف ۲ فیصد کا خیال ہے کہ قوانین اسلامی نہیں ہونے چاہیے۔ ہم سارے ہی اسلام کو پسند کرتے ہیں، لیکن ہم اسلام پسند لوگ ساٹھ فیصد اسپتالوں میں استعمال شدہ سرنجیں استعمال کرتے ہیں۔ پچاس فیصد اسپتالوں میں جعلی خون کی بوتلیں لگائی جارہی ہیں۔ مضرِ صحت گھی ہم بنا رہے ہیں، دودھ اب گاے بھینسوں کے تھنوں سے نہیں کیمیکلز سے خارج ہوتا ہے۔ ہم اسلام پسند ہوٹلوں میں کھلے عام لوگوں کو گدھوں اور کتوں کا گوشت کھلاتے ہیں۔ خالص اور اسلامی شہد کے نام پر چینی اور گڑ کا شیرہ ہم تیار کرتے ہیں۔ سرخ مرچوں میں اینٹوں کا بورا، مصالحاجات میں مردہ جانوروں کی آنتیںاور پھلوں میں سرخ رنگ کا ٹیکہ لگا کرفروخت کرنا ہمارا شیوہ۔ جعلی دوائیوں کی بھرمار ہمارے ہاں۔ قربانی کے جانورکو پانی پلا پلا کر موٹا بنا کر ہم ثواب حاصل کرتے ہیں۔

کرپشن، استحصال، لوٹ مار، چور بازاری، ڈاکہ زنی، ملاوٹ، بھتہ خوری، ناانصافی اور رشوت کو اسی طرح پسند کرتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ہی یہی ہے کہ ہم صرف کلمے کی برکت یا سفارش سے ہی جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ فی الحال تو ہم یہی طے کرنے میں لگے ہوئے ہیں کہ کس مسجد میں نماز پڑھنی جائز ہے اور کس میں مکروہ تحریمی۔ خواجہ سرا کی میت کو غسل دینا جائز ہے یا حرام۔ جب یہ معاملات طے پائیں گے تودوسرے معاملات ہماری توجہ حاصل کر پائیں گے۔

(۲) صنعت و حرفت

پیری فقیری

فصل اٹھنے پر اِدھر اُدھر سے پیر حضرات بھی آ دھمکتے تھے اور کسی محنت کے استحقاق کی بنیاد پر نہیں بلکہ نسلی اور نسبی ’استحقاق‘ کی بنیاد پر اپنا حصہ بٹورتے۔ عموماً سوہاوہ، جو بعد میں سوہاوہ شریف کہلایا،سے ہی پیر صاحبان تشریف لاتے تھے۔ پیروں کے علاوہ گائوں کے لوہار،موچی اور نائی وغیرہ کا بھی فصل میں حصہ ہوتا تھا۔ بعض اہلِ دانش اس حصہ داری کے کاروبار سے یہ نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ یہ پیر اور موچی یا مراثی برابرہیں۔ توبہ کریں بھئی توبہ۔ یہ گستاخی کر کے جہنم کے مستحق تو نہ بنیں۔ حالانکہ ان میں سے بعض تو اپنی محنت کا معاوضہ وصول کرتے ہیں اور بعض مفت ہی سہی لیکن اپنے علم و ہنر یا فن کی بدولت غریبوں کی کمائی لے اُڑتے ہیں۔ ظاہر ہے علم اور فنکاری یوں ہی تو نہیں مل جاتی۔ اس کے لیے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں تب جاکر یہ بلند مرتبہ مل پاتا ہے! لیکن بُرا ہو جدید تعلیم کا کہ اس نے مراثی اور پیر کے حصولِ رزق کی اس مساوات کو ختم کردیا۔اب رہی نہ وہ فصل کہ کوئی پیر آکر اپنا حصہ وصول کرتا اور شاید اس سطح کے اب پیر بھی نہ رہے جو اس معمولی سے حصے پر اکتفا کر لیں۔ اب عشق میں وہ گرمیاں ہیں نہ عشق میں شوخیاں۔ اب علم و فن کی بلندیاں کوئی اور ہی بلند تر میدان کی تلاش میں ہیں۔
اور یوں پیری و فقیری کی یہ صنعت ہمارے ہاں ختم ہو کر محض ہماری یادوں کا حصہ بن کر رہ گئی۔اب ترقی کر کے یہ صنعت ملک بھر میں سائنسی بنیادوں پر کام کر رہی ہے، جس سے ہر فرد آگاہ ہے۔یہ دور میڈیا کا دور ہے۔ چالاک لوگوں نے لوگوں کو بیوقوف بنانے کے لیے اشتہارات کا سہارا لے رکھا ہے۔ اس کی چند ایک مثالیں ہم روزنامہ جنگ بروز جمعرات ۲۹ ستمبر ۲۰۱۶ کے جنگ بازار کا صفحہ سے نقل کرتے ہیں:

(۱) اللہ کا احسان: پیر سید شاہ سلطان: استخارہ پریشانیوں سے چھٹکارہ، جو چاہو ملے گا۔ صرف ۲۴ گھنٹوں میں ہمارا عمل سات سمندر پار پتھر دل محبوب کو بھی موم کر دیتا ہے۔
(۲) اویس شاہ بخاری: فون پر استخارہ فی سبیل اللہ: آپ کی ایسی پریشانیاں جن کی وجہ سے آپ زندگی سے ناامید ہو چکے ہیں اور ہر جگہ سے ہزار کوششوں کے باوجود بجائے خوشحالی کے بد حالی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں تو وقت ضائع نہ کریں۔ صرف ایک فون کال پر اپنے مسائل مثلاً شادی، رشتوں میں رکاوٹ، محبوب کی ناراضگی،لڑائی جھگڑے، کاروبار اور اولاد کی بندش وغیرہ۔
(۳) پروفیسر گل سلطانی: ہمارے علم کی سچائی آپ کی زبان سے دوسروں کے دلوں تک پہنچے کیونکہ سو برس کا سامان اور پل کی خبر نہیں اور جو میری اسلامی مائیں،بہنیں اور اسلامی بھائی جو طرح طرح کی مصیبتوں اور پریشانیوں میں مبتلا ہیں ان کو دعوت عام دیتا ہوں وہ ایک بار امید کی آخری کرن سمجھ کر ضرور رابطہ کریں۔

(۴) عامل روبن دائود مسیح: ہمارے حاصل کردہ خاص علوم کی بدولت اپنے ہر جائز کام میں یقینی کامیابی حاصل کریں مثلاً من پسند شادی، طلاق کا مسئلہ،گھریلو ناچاقی، کاروبار، روزگار،رشتوں میں ناکامی۔ سنجیدہ لوگ رابطہ کریں۔ عورتوں کا آنا سخت منع ہے۔ اپنا ہر کام گھر بیٹھے کروانے کے لیے ایک فون کال کریں۔
(۵) آغا وحید بخاری: آزمائے ہوئے کو باربار آزمانہ عقلمندی نہیں۔ مجھ سے رابطہ کریں جو آج تک کامیابی حاصل نہیں کر سکے۔ یہ دعویٰ نہیں گارنٹی ہے۔ ہر مسئلہ کا حل صرف ایک فون کال پر۔ من پسند رشتہ خود آئے۔ امتحان میں کامیابی۔اولاد کا نہ ہونا یا ہو کر مر جانا۔ جادو ٹونے کے اثرات کا خاتمہ۔ پرائز بانڈ کا حصول، مقدمے بازی کا علاج۔ گھریلو ناچاقی، طلاق کا مسئلہ۔
(۶) پروفیسر محسن علی شاہ: ہر کام قرآنی آیات سے، اگر ہر جگہ سے دھوکہ کھا چکے ہوں تو اللہ کے پاک کلام سے  ہر دکھ کا علاج کیا جاتا ہے۔ پھر وہی مسائل کا ذکر کر کے کہا گیا کہ: بڑے سے بڑا کام ایک رات کے عمل سے ہر مشکل آسان۔
(۷) بابا مختار مسیح : آپ کا ہر جائز،ناجائز کام ۲۴ گھنٹے میں۔ خاندانی عامل جن کا کوئی بھی وار خالی نہیں جاتا۔

ہم سوچتے ہیں ہو سکتا ہے سارے ہی سچے لوگ ہوں اور درست بات کہہ رہے ہوں۔ اس فہرست میں زیادہ تر مذکورہ کاموں کی ہمیں ضرورت نہیں۔ سارے ہی جائز کام گارنٹی سے کرنے والے بابے ہیں۔ یہ بابا مختار مسیح شاید ہمارے کام آ جائیں۔ ایک دو ناجائز کام ذہن میں ہیں۔ یہ خاندانی عامل ہیں اور ان کا کوئی وار بھی خالی نہیں جاتا تو کیوں نہ ان سے رجوع کیا جائے۔ دوسرے پانچویں نمبر پر آغا وحید بخاری صاحب ہمارے کام آ سکتے ہیں۔ بس کسی دن چالیس ہزار روپے کا پرائز بانڈ خرید لیتے ہیں اور اگلے ہی ماہ ساڑھے سات کروڑ روپے تو کہیں گئے ہی نہیں۔اس منصوبے میں اگر کوئی رکاوٹ ہوئی تو ہم خود ہی ہوں گے جو ہمیشہ ہر معاملے کا تاریک پہلو ہو ذہن میں رکھتے ہیں۔ اپنے ہمزاد نے بغیر مانگے مشورہ دیا کہ ’ ’کسی بھی معاملے کا تاریک پہلو نہیں ہو سکتا، ہر بات کا صرف روشن پہلو ہی ہوتا ہے۔ مثلاً ایک چوپال میں حاجی صاحب نے خبر سنائی کہ ’ توبہ ہے کیا زمانہ آ لگا ہے۔وہ اپنے خیرو بابا ہیں نا، ان کی لڑکی آشنا کے ساتھ بھاگ گئی‘۔ دوسرے نے کہا ’شکر ہے کسی اجنبی کے ساتھ نہیں بھاگی‘۔ بھئی تم پرائز بانڈ والی انعامی رقم سے کتنے فی سبیل اللہ کام کر سکتے ہو‘‘۔ پہلی دفعہ روشن پہلو پر بھی نظر ٹھہری۔ یہ اشتہار پڑھنے کے بعد مسلسل سوچ رہے ہیں اگر ساڑھے سات کروڑ آ جائیں تو آدھی رقم خیرات کر دیں گے۔

۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔

اس تحریر کا دوسرا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

 اس تحریر کا چوتھا حصہ یہاں ملاحظہ کریں
Facebook Comments Box
آزاد کشمیرباغ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
انور عباسی

previous post
اسٹریٹ سمارٹ: حسین حقانی کے روز و شب اور قوی و ضعیف لمحات
next post
راجہ رام موہن رائے: برصغیر کا محسن ۔۔۔ محمد آصف

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.