تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

نمستے لندن ——- فرحان کامرانی

by دانش ڈیسک 16/07/2020
written by دانش ڈیسک 16/07/2020
104

یہ 2007 کی بات ہے۔ سخت گرمیوں کے موسم میں میں باڑہ گلی (صوبہ سرحد) کی جنت میں موجود تھا۔ جامعہ کراچی کے ارادہ برائے طبی نفسیات (ICP) کے دو درجن طلبہ اور چند اساتذہ وہاں ایک ورکشاپ میں مدعو تھے۔ حسین جنگل میں بنی بیرکس میں ہم لوگوں کا چند دن قیام تھا۔ یہاں آنے سے قبل ہم لوگوں نے پشاور یونیورسٹی میں بھی قیام کیا تھا اور واپسی پر ہم لوگ ایبٹ آباد میں بھی ٹھہر ے تھے۔ یہ ملک کے ہنگامہ خیز دن تھے۔ ملک میں وکلاء تحریک زوروں پر تھی اور ہمارے قیام کے دوران اور واپسی پر بھی کچھ گڑبڑ ایبٹ آباد میں ہوئی تھی۔ مگر ہم ان سب حالات کو بھول کر اُس جنت عرضی یعنی گلیات کی سیر میں محو تھے۔ کبھی ہم نتھیا گلی جاتے، کبھی ڈونگا گلی، کبھی ایوبیہ۔ دن مین کچھ گھنٹے ورکشاپ چلتی پھر گھومنا پھرنا ہوتا۔

ہم جب بھی کہیں جانے کیلئے نکلتے تو بس میں ’نمستے لندن‘ کے گانوں کا کیسٹ بجا کرتا۔ یہ گانے واجبی سے تھے مگر اُس حسین سفر کی یادوں میں مل کر بڑے خوبصورت لگنے لگے۔ میں نے وہاں سے کراچی آنے کم و بیش چھے ماہ بعد ’نمستے لندن‘ دیکھی۔ تب میری اپنی زندگی میں بھی ایک ’فلمی‘ کشمکش جاری تھی۔ انسان نوجوانی میں ایک آدھ ناکام محبت کرکے شہیدوں میں نام لکھوالینا چاہتا ہے۔ مگر آج کا میرا موضوع نہ باڑا گلی ہے، نہ ہی اپنی غیر اہم زندگی کے کوئی واقعات۔ میرا موضوع آج ’نمستے لندن‘ فلم کی روح ہے۔ ایک ایسی فلم جو کہ بہت خاص نہیں تھی لیکن اس نے ایک بہت بڑے مسئلے کو ظاہر کیا۔ مسئلہ حقیقی تھا لیکن حل فلمی تھا۔ مگر مسئلہ تھا کیا؟جو لوگ فلم دیکھ چکے ہیں وہ تو جانتے ہی ہیں اور جنہوں نے نہیں دیکھی وہ اگر دیکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ مضمون یہاں سے آگے فلم دیکھ لینے کے بعد پڑھیں۔

اُس فلم میں بنیادی مسئلہ شناخت کا ہے۔ مسئلہ خاص قومی شناخت اور اقدار کے تسلسل کی خواہش کے ذیل میں اِس فلم میں ایک دلچسپ انداز میں ظاہر ہوتا ہے۔ رِشی کپور صاحب (جو کہ ایک ہندوستانی ہیں اور برطانیہ کے شہری ہیں) اپنی بیٹی کیلئے ایک ہندوستانی داماد کی تلاش میں ہیں۔ وہ جو بھی داماد تلاش کرتے ہیں وہ انکی بیٹی کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ انکی بیٹی جو کہ برطانیہ میں پلی بڑھی ہے، سو فیصد برطانوی بن جانے کی خواہاں ہے۔ وہ جہاں نوکری کرتی ہیں اُس ادارے کے مالک میں دلچسپی لیتی ہیں اور وہ گورا صاحب بھی محترمہ میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ اُس دوران رِشی کپور صاحب اپنی بیٹی کو بھارت گھمانے کے بہانے بھارت لاکر اسکے لئے رشتے تلاش کرنے لگتے ہیں۔ اپنے گاؤں پہنچتے ہیں تو وہاں ایک پنجاب کے شیر جوان (جو کہ اکشے کمار صاحب ہیں) انہیں بھا جاتے ہیں۔ اکشے صاحب بھی اپنے والد صاحب کے دوست کی بیٹی کے عشق میں مبتلاء ہوجاتے ہیں اور فورا ً شادی پر تیار ہوجاتے ہیں۔ یہ شادی ایک ’پیکج ڈیل‘ ہے۔ شادی کے بعد اکشے کمار صاحب کو اپنے سسرال (یعنی لندن) منتقل ہونا پڑے گا۔

اسکے بعد کیا ہوتا ہے وہ جاننے کیلئے فلم دیکھ لیجئے۔ مگر یہ کہانی صرف ہندوستانی نژاد برطانویوں کی ہی نہیں یہ کہانی تو اکثر ایسے پاکستانی گھرانوں کی بھی ہے جو کہ امریکا، کینیڈا، برطانیہ، آسٹریلیا یا یورپ کے کسی ملک میں رہتے ہیں۔ جوان ہوتی بچیوں اور بچوں کیلئے اکثر اپنے وطن سے دولہا اور دلہن درامد کئے جاتے ہیں۔ خیال یہ ہوتا ہے کہ یوں خاندان اپنے مذہب، اپنی تقافت اور روایات سے منسلک رہے گا۔ وہاں رہنے والے پاکستانیوں کی بڑی تعداد اپنی کمیونٹی کے ساتھ چپک کر رہنا بھی اسی لئے چاہتے ہیں کہ اس طرح وہ اپنی اولادوں کو ’انگریزوں‘ کے اثرات سے دور رکھ لیں گے۔ مگر نمستے لندن میں جو نہیں ہوسکا تھا (یعنی اولاد کا انگریز سے بیاہ) وہ اب انگریز نگری میں بسے اکثر دیسی گھرانوں میں ہونے لگا ہے۔

اس پوری صورتحال کا ایک عجیب نفسیاتی پس منظر ہے۔ ساری ہی تیسری دنیا میں مغرب سے شدید مرعوبیت پائی جاتی ہے۔ ایسے لوگ جو کہ امریکا، برطانیہ، یورپ اور آسٹریلیا وغیرہ گئے ہیں ان میں سے بہت بڑی تعداد کی ہجرت کی وجہ معاشی نہیں تھی۔ مغرب پہنچنے کیلئے ہی جتنا پیسہ درکار ہے وہ غریب کے بس کی بات ہی نہیں۔ غریب تو بمشکل دبئی اور سعودیہ ہی جا پاتا ہے۔ ’انگریز نگری‘ تو وہی پہنچتے ہیں جن کے پاس کچھ ہوتا ہے۔ مگر کچھ ہوتے ہوئے بھی وہ انگریزوں کے دیس جانا چاہتے ہیں تو وجہ یہ ہے کہ وہاں انکو ایک برتر طرز زندگی نظر آتا ہے۔ وہاں انکو ترقی اور سماجی و معاشی استحکام نظر آتا ہے۔ اُنہیں لگتا ہے کہ یوں وہ اپنے قومی احساس کمتری سے باہر نکل آئیں گے۔ وہ بھی انگریز ہی بن جائیں گے۔ مگر ’انگریز نگری‘ میں زندگی آسان ہرگز نہیں ہوتی۔ وہاں کی مشکلات میں سخت محنت مشقت اور بالکل نئے سماج میں معاشی جدوجہد ایسے گھرانوں کے کمانے والوں کو ہلکان کردیتی ہے۔ پھر معاشی استحکام حاصل ہوتو بڑی شدت سے ہر شے سے اجنبیت محسوس ہونے لگتی ہے۔ اپنی تہذیب اور اپنے وطن سے دوری، غیروں کی بولیوں اور زبانوں کی آوازیں وطن کی ایک عجیب یاد میں ڈھل جاتی ہے۔ اس کیفیت کو ’نمستے لندن‘کے ہی ایک گیت ’تیری یاد ساتھ ہے‘ میں بہت احسن انداز میں نبھایا گیا ہے۔ غیر ملک میں رہنے والے ہی اپنے وطن کے کھانے کھاتے ہوئے بھی بیتاب ہوجاتے ہیں۔ انہیں اپنے وطن کی فلمیں اور گانے تڑپا دیتے ہیں۔ سماجی میڈیا پر یہی لوگ سب سے زیادہ اپنے ملک کی سیاست پر تبصرے کرتے ہیں، اپنے ملکوں کی کرکٹ ٹیموں کیلئے سب سے زیادہ جذباتی بھی یہی لوگ ہوتے ہیں۔ مگر اب یہ وطن پرستی اُن سے اگلی نسلوں کو منتقل نہیں ہوپاتی۔ وجہ یہ کہ اگلی نسل نے جہاں جنم لیا وہی انکا وطن ہے۔ انکو جب انکے والدین ’اپنا دیس‘ دکھانے لاتے ہیں تو انکو اپنے ماں باپ کا وطن بالکل اپنا نہیں لگتا۔ گندی گلیوں اور بے ہنگم ٹریفک سے گھن آتی ہے۔ لڑکیوں کو غریب وطن کے غریب مردوں کی نگاہیں گندی لگتی ہیں۔ لڑکوں کو وطن کی لڑکیاں جیسے نظر ہی نہیں آتیں۔ جب ایسے بچوں کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ انکو اسی وطن سے جیون ساتھی ملے گا تو وہ تڑپ جاتے ہیں۔

’انگریز نگری‘ میں زندگی آسان ہرگز نہیں ہوتی۔ وہاں کی مشکلات میں سخت محنت مشقت اور بالکل نئے سماج میں معاشی جدوجہد ایسے گھرانوں کے کمانے والوں کو ہلکان کردیتی ہے۔ پھر معاشی استحکام حاصل ہوتو بڑی شدت سے ہر شے سے اجنبیت محسوس ہونے لگتی ہے۔ اپنی تہذیب اور اپنے وطن سے دوری، غیروں کی بولیوں اور زبانوں کی آوازیں وطن کی ایک عجیب یاد میں ڈھل جاتی ہے۔

اس صورتحال میں اگر والدین کامیاب ہوجائیں اور لڑکے یا لڑکی کی شادی اپنے دیس کے لڑکے یا لڑکی سے کردیں تو اولاد خوش نہیں رہ سکتی اور اگر لڑکا یا لڑکی اپنی مرضی کا جیون ساتھی ڈھونڈ لیں تو والدین خوش نہیں رہ سکتے۔ اس فضا میں والدین جب اولاد میں وطنیت نہیں جگا پاتے تو مذہبیت جگانے کی سعی کرتے ہیں۔ مذہب اس معاملے میں والدین کیلئے کافی کارگر عامل رہتا ہے۔ بچے اگر مذہبی بن جائیں تو ظاہر ہے کہ غیر مسلم سے شادی سے گریز نہیں کریں گے۔ یوں انکا جیون ساتھی والدین کی زبان میں ’کم از کم‘ مسلمان تو ہوگا۔ ایک حد تک انکو تشفی رہتی ہے۔ میں ایک ایسی پاکستانی نژاد فرانسیسی لڑکی کو جانتاہوں جسکی شادی ایک افریقی نژاد فرانسیسی مسلمان سے ہوئی۔ یہ صورتحال بھی اُس خاندان کے پاکستانی چیپٹر کیلئے کچھ زیادہ قابلِ قبول نہ تھی۔ مگر ظاہر ہے کہ اِسکا کوئی انسداد انکے لئے ممکن نہ تھا۔

یہ وہ نفسیاتی تناظر ہے جس میں ’انگریز نگری‘ میں بسنے والی تیسری دنیا سے آئے خاندانوں کو ایک نہ ایک دن گزرنا ہی پڑتا ہے۔ اپنے اپنے ملک کی اکثریتوں سے تعلق رکھنے والے یہ لوگ جب ترقی یافتہ دنیا کی اقلیت بن جاتے ہیں تو ایک عجیب کشمکش انکی زندگی میں در آتی ہے۔ مغرب میں ضم ہوجانا اور خود کو اپنے مذہبی و قومی تشخص پر قائم رکھ کر مغرب کا شہری بنے رہنا ایک ایسا دوراہا ہے جس پر اِن بیچارے خاندانوں کی زندگیوں کی ’نمستے لندن‘ فلمائی جاتی ہے۔ اِس صورتحال میں سب سے مظلوم بیچارے والدیں ہوتے ہیں جو کہ ترقی اور بہتر طرز زندگی کے خواب لے کر جدید دنیا آئے تھے اور اب انکی اولاد اس نئی دنیا میں اتنا جذب ہوگئی کہ انکے جذبات اور خواہشات اولاد کیلئے ایک بوجھ بن گئے۔ اپنی روایات کو دیار غیر میں زندہ کھنے کے خواہاں یہ لوگ اکثر بڑے کرب سے گزرتے ہیں۔

سب سے مظلوم بیچارے والدین ہوتے ہیں جو  ترقی اور بہتر طرز زندگی کے خواب لے کر جدید دنیا آئے تھے اور اب انکی اولاد اس نئی دنیا میں اتنا جذب ہوگئی کہ انکے جذبات اور خواہشات اولاد کیلئے ایک بوجھ بن گئے۔
اپنی روایات کو دیار غیر میں زندہ کھنے کے خواہاں یہ لوگ اکثر بڑے کرب سے گزرتے ہیں۔

خیر بات اتنی سی ہے کہ اپنا وطن چھوڑنا کوئی آسان کام کبھی نہیں رہا۔ جس طرح انسان اپنے وطن میں رہتا ہے، وطن بھی اسی طرح انسان میں رہتا ہے۔ جب انسان وطن چھوڑتا ہے تو وہ سوچتا ہے کہ میں صرف وطن چھوڑ رہا ہوں اپنا مذہب اور اپنی روایات نہیں۔ انسان معاشیات کیلئے یا جدید اور برتر طرز زندگی کیلئے وطن چھوڑ سکتا ہے مگر اپنی اولاد کو اپنی ہی اقدار اور اپنی ہی تہذیب دینا چاہتا ہے۔ مگر جدید دنیا میں پیدا نئی نسل مغرب میں اپنی روح تک ڈوبی ہوتی ہے۔ وہ اپنے والدین کی اخلاقی اور تہذیبی تلقین سے بیزار آکر اُن سے پوچھتے ہیں کہ آپ نے مغرب کا چناؤ کیوں کیا؟ اس سوال کا ہر جواب والدین کو شرمندہ کرتا ہے اور اولاد کو اور زیادہ مغرور۔ اس کشمکش میں آخری شکست انہی کی ہوتی ہے جنہوں نے اپنے وطن کو خیر بات کہا تھا۔ ایسے لوگ جب دیار غیر کی ہجرت کیلئے مسکراتے ہوئے اپنے بستے باندھ رہے تھے تو شائد انہی سے اقبال عظیم نے کہا ہوگا:

اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاؤ گے
خواب ہوجاؤ گے افسانوں میں ڈھل جاؤ گے

اب تو چہروں کے خد و خال بھی پہلے سے نہیں
کس کو معلوم تھا تم اتنا بدل جاؤ گے

اپنے پرچم کا کہیں رنگ بھلا مت دینا
سرخ شعلوں سے جو کھیلو گے تو جل جاؤ گے

اپنی مٹی پہ ہی چلنے کا سلیقہ سیکھو
سنگ مرمر پہ چلو گے تو پھسل جاؤ گے

Facebook Comments Box
featuredدیار غیر کے پاکستانیوں کا المیہسمندر پار پاکستانینمستے لندن
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ڈاکٹر اسرار احمد ۔ جاوید احمد غامدی: تعلقات کا تناؤ — عبدالمجید گوندل
next post
آئیے الحاد سے گفتگو کریں۔ (پہلا محاضرہ) — حسیب احمد حسیب

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.