تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

جنسی خوف و ہراس کیسے روکا جائے؟ —- سلمان عابد

by دانش ڈیسک 08/07/2020
written by دانش ڈیسک 08/07/2020
68

اگرچہ عورتوں اور بالخصوص لڑکیوں کا جنسی خوف و ہراس کا شکار ہونا ایک عالمی مسئلہ ہے۔ عالمی دنیا سے جڑے ممالک بشمول پاکستان بھی اپنی سطح پر اس مسئلہ سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن یہ مسئلہ کم ہونے کی بجائے بڑی تیزی سے نہ صرف بڑھ رہا ہے بلکہ اس کی جو شکلیں ہمیں مختلف انداز میں دیکھنے کو مل رہی ہیں وہ بھی کافی سنگین پہلووں کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگرچہ ہم ایک قدم آگے بڑھ کر جنسی خوف و ہراس پر مبنی قوانین بھی بنالیے ہیں تاکہ اس مسئلہ سے بہتر طور پر نمٹا جاسکے۔ لیکن اس کے باوجود مسئلہ کم ہونے کی بجائے بڑھ رہا ہے۔ یہ مسئلہ اب محض عام لوگوں کی بچیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ بڑے گھرانوں کی لڑکیاں بھی جنسی خوف و ہراس کا شکار ہیں یا وہ جنسی طور پر اس مسئلہ سے دوچار ہوتی ہیں۔ ایک منطق یہ دی جاتی تھی کہ لڑکیاں کیونکہ کم تعلیم یافتہ ہوتی ہیں یا وہ ناخواندہ ہوتی ہیں اس لیے معاشرے کے طاقت ور مرد یا نوجوان بچیوں کو جنسی طور پر ہراساں کرتے ہیں۔ لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ اعلی تعلیم یافتہ لڑکیاں اعلی تعلیمی اداروں یا کام کرنے کی جگہ پر جنسی خوف و ہراس کا نشانہ بنتی ہیں اور تعلیم ہونے کے باوجود وہ ہراس کا شکار ہوتی ہیں۔

اب صورتحال یہ ہے کہ اعلی تعلیم یافتہ لڑکیاں اعلی تعلیمی اداروں یا کام کرنے کی جگہ پر جنسی خوف و ہراس کا نشانہ بنتی ہیں اور تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود وہ ہراس کا شکار ہوتی ہیں۔

ایک طرف معصوم بچیوں کا تعلق ہے تو دوسری طرف کام کرنے والی گھریلو ملازمین یا مختلف اداروں میں چھوٹے سے لے کر بڑی سطح پر اہم عہدوں پر کام کرنے والی عورتیں بھی جنسی خوف وہراس کا نشانہ بنتی ہیں۔ یہ تصویر ظاہر کرتی ہے کہ ہمارے جیسے معاشروں میں سیاسی، سماجی، معاشی بنیادوں پر بچیوں اور عورتوں کو مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان مسائل میں ایک مسئلہ جنسی خوف و ہراس کا بھی ہے۔ عمومی طور پر تو بہت سی بچیاں و عورتیں اپنے خلاف ہونے والے جنسی خوف وہراس کو اپنے اندر ہی دبا لیتی ہیں۔ کیونکہ ان کو ڈر ہوتا ہے کہ اگر وہ اس بات کو اپنے گھر یا خاندان تک لے کر جاتے ہیں تو یہ معاملہ خو دان کے لیے بھی ایک بڑی پریشانی کا سبب بن سکتا ہے۔ گھر و خاندان کی سطح پر پہلا علاج اس کا یہ تلاش کیا جاتا ہے کہ بچی یا عورت کو تعلیم اور ملازمت چھڑوا کر گھر بٹھادیا جاتا ہے۔ دفتری یا کام کی سطح پر بھی بہت سی کم عمر کی جوان لڑکیاں یا عورتیں اپنے معاشی بوجھ کی وجہ سے وہاں آواز اٹھانے کی بجائے خاموشی اختیار کرتی ہیں۔ کیونکہ الزام کی صورت میں خود ان ہی بچیوں یا عورتوں پر جوابی طور پریا تو سنگین الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔

حالیہ دنوں میں لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارے میں بچیوں کے ساتھ جنسی خوف و ہراس کے کچھ واقعات کا سامنے آنا اور لڑکیوں کا بلا خوف ججھک اس پر آواز اٹھانا ظاہر کرتا ہے کہ معاملہ کی سنگینی کافی حد تک بڑھ گئی ہے۔ جب بھی بچوں و بچیوں کے ساتھ جنسی خوف وہراس یا ذیادتی کے واقعات مدارس کی سطح پر ہوتے ہیں تو بہت ہنگامہ برپا ہوتا ہے۔ اصولی طور پر ہونا بھی چاہیے کہ دینی مدرسے یا مسجد میں بیٹھ کر اس طرح کا گھناونا کھیل قابل گرفت ہے اور وہ بھی مذہب سے جڑے استادوں کی سطح پر۔ لیکن اب یہ مسئلہ محض مدارس تک محدود نہیں بلکہ اعلی اور بڑے مہنگے تعلیمی اداروں سے بھی یہ مسائل اٹھ رہے ہیں۔ استاد اور بچوں یا بچیوں کا جو مقدس رشتہ ہے اس کی جس انداز سے ہمیں یہاں پامالی کے مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں تو بہت کوفت ہوتی ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں یا ہم تعلیم اور تربیت یا بہتر معاشرے کی تشکیل کے نام پر کہاں جارہے ہیں۔

بنیادی طور پر ہماری تعلیم اور تربیت کے عمل میں ایک بڑا گہرا تضاد ابھرکر سامنے آرہا ہے۔ تعلیم اور تربیت میں جو بڑی خلیج پیدا ہو رہی ہے اس نے معاشرے میں مختلف نوعیت کے سماجی مسائل کو بگاڑ کی صورت میں پیش کیا ہے۔ ان مسائل کی جڑ محض تعلیمی ادارے ہی نہیں بلکہ عملی طور پر ہمارے گھر، خاندان اور محلہ سمیت سماج کا مروجہ نظا م بھی ہے جہاں بچیوں اور عورتوں کے ساتھ مختلف نوعیت کی تفریق، تعصب یا استحصال پایا جاتا ہے۔ حکومت نے اس مسئلہ کو دو سطحوں پر حل کرنے کی کوشش کی۔ اول لوگوں کو سماجی شعور دیا جائے کہ وہ اس طرز کے مسائل سے خود کو دور رکھیں اور لوگو ں میں یہ شعور دیا جائے کہ ہمیں بچیوں اور عورتوں کی عزت کرنی چاہیے۔ دوئم حکومت نے اس مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر جنسی خوف وہراس کے خاتمہ میں قانون سازی کی ہے تاکہ جو لوگ اس کی گرفت میں آتے ہیں ان کو قانونی طور پر نمٹا جائے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہاں قوانین تو بنادیے جاتے ہیں اول اس کے بارے میں بہت زیادہ شعور و آگاہی نہیں ہوتی، دوئم قوانین میں یا تو سقم ہوتا ہے یا اس پر عملدرآمد کا نظام بہت کمزور ہوتا ہے۔

اب لڑکوں کو بھی مختلف وجوہات کی بنا پر لڑکیوں سے جنسی خوف و ہراس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سوشل یا ڈیجیٹل میڈیا کے بڑھتے ہوئے پھیلاو کی وجہ سے اب ہمیں بچوں و بچیوں کے ساتھ جنسی خوف و ہراس کے نئے پہلووں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو سوشل میڈیا اور اس کے مختلف ٹولز سے جڑے ہوتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہاں سوشل میڈیا کا پھیلاو تو بڑھ رہا ہے مگر اس کا مثبت استعمال کیسے کیا جائے اور کیا ریڈ لائن ہے جو کراس نہیں کرنی اس کی تعلیم یا شعور موجود نہیں۔ سائبر کرائم سے بھی بچوں و بچیوں کو کوئی آگاہی نہیں ہوتی۔ یہ مسئلہ اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ ہمیں اسکولوں سے کالجوں یا یونیورسٹیوں یا مدارس کی سطح پر بچوں، بچیوں سمیت اساتذہ کے درمیان تواتر سے یہ واقعات سننے کو ملتے ہیں۔ حکومتی ہدایات پر جنسی خوف وہراس کی کمیٹیاں بھی سرکاری اور غیر سرکاری تعلیمی اداروں و دفاتر میں موجود ہیں، مگر مسئلہ وہی ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے۔ یہ مسئلہ محض لڑکیوں تک محدود نہیں بلکہ اب لڑکوں کو بھی مختلف وجوہات کی بنا پر لڑکیوں سے جنسی خوف و ہراس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ مسئلہ ایک طرف اخلاقی قدروں سے جڑا ہوا ہے تو دوسری طرف اس مسئلہ کا براہ راست تعلق ہمیں اپنے کام کے پروفیشنل ازم کے نظام میں کمزور تربیت سے بھی جڑا نظر آتا ہے۔ ہم بدقسمتی سے رشتوں کی اہمیت کھورہے ہیں یا جو ان مسائل سے نمٹنے کے ہم نے نظام بنائے ہوئے ہیں ان کی نگرانی، شفافیت اور جوابدہی کا نظام اس حد غیر موثر ہے کہ مسئلہ حل ہونے کی بجائے زیادہ بگاڑ کا شکار ہوجاتا ہے۔ ہمارا رسمی میڈیا اس طرز کی سماجی بحثوں سے بہت دور ہے اور اسی طرح مذہبی و سیاسی جماعتیں یا علمائے کرام بھی ان مسائل کو اپنی بحث میں لانے یا سماجی شعور کے پھیلاو میں آگے بڑھنے کی بجائے اسے اہم مسئلہ نہیں سمجھتے۔ پارلیمنٹ اور ارکان پارلیمنٹ کا کردار بھی بہت محدود ہے اور وہ بھی اسے کوئی بڑا مسئلہ نہیں سمجھتے۔

اصولی طور ہمیں معاشرے کی تشکیل نو، اس کے تربیتی نظام، سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے کردار، تعلیمی نظام سے جڑی اصلاحات، پڑھایا جانے والا نصاب، میڈیا کی تعلیم سمیت جو کچھ میڈیا میں دکھایا جارہا ہے یا جو فیصلہ سازی کرنے والے سیاسی، سماجی، انتظامی و قانونی ادارے ہیں بشمول گھر اور خاندان کے نظام میں بہت کچھ کرنا ہوگا۔ خاص طور پر ہماری نوجوان نسل جنسی خوف وہراس کے خلاف سوشل میڈیا اور اپنے اپنے تعلیمی اداروں یا محلوں کی سطح پر ایسی تحریک یا دباو کو پیدا کریں جو ہر سطح پر معاشرے میں جنسی خوف وہراس کے خاتمہ میں کلیدی کردار ادا کرسکے۔ کیونکہ اگر ہم نے ایک مہذہب یا ذمہ دار معاشرہ بننا ہے اور لوگو ں یا بچیوں یا عورتوں کو بغیر کسی خوف، ڈر سے باہر نکالنا ہے تو ہمیں ایک ایسا سازگار ماحول درکار ہے جو سب کے لیے قابل قبول ہو، لیکن یہ کام حکومت تن تنہا نہیں کرسکتی بلکہ ہر فریق کو ہر ادارے کو اپنی اپنی سطح پر ان آوازوں کو اٹھانا ہوگا جو سماجی برائیوں کے زمرے میںآتے ہیں اور جو عورتوں و بچیوں کی آزدانہ نقل وحمل کو روکنے سمیت ان میں ڈر اور خوف کی کیفیت کو پیدا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی عورت کا احساس کمتری اور فیمنزم کی ضرورت 

اس موضوع پہ ایک گفتگو:

Facebook Comments Box
featuredSexual Harassmentاسکول ہراسمنٹجنسی ہراسگیہراسمنٹ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
پاکستانی عورت کا احساس کمتری اور فیمنزم کی ضرورت — خرم شہزاد
next post
اوور لوڈنگ: خطرہ کی گھنٹی —— سعدیہ اسلم

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.