تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلمیکالممذہبی

اسلامی تاریخ کی گرما گرم بحث — فرحان کامرانی

by دانش ڈیسک 03/07/2020
written by دانش ڈیسک 03/07/2020
77

حال ہی میں ایک واقعے نے ہمارے سماجی میڈیا پر بڑی دھوم مچائی۔ مذہبی طبقہ اس واقعے سے بڑا جذباتی نظر آیا۔ طرح طرح ویڈیوز اس خاص معاملے پر سامنے آتی رہیں۔ پھر علماء کے بیانات۔ اور قسم قسم کے ٹوئیٹ اور اسٹیٹس آتے رہے۔ بات قومی اسمبلی تک پہنچی۔ بحث بڑی پرانی تھی۔ معاملہ تھا باغ فدک کا۔ ایک مذہبی شخصت نے اس واقعے پر کچھ رائے زنی کی تھی۔ میرا آج کے مضمون میں اس رائے پر رائے زنی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ نہیں ہی اس کے صحیح یا غلط ہونے پر میں کوئی حَکم بن سکتا ہوں۔ میں تو بس ایک تاریخ کا ایک ادنیٰ طالب علم ہوں اور نفسیات کا ایک معمولی استاد ہوں۔ مجھے اپنے معمولی ہونے پر الحمدللہ کوئی شک نہیں۔ اور دین پر یا اسکی تاریخ پر بات کرنے کی میری کوئی جرات ہی نہیں۔ میرا سوالات تو بہت چھوٹے ہیں اور میری ہی طرح معمولی ہیں۔ یہ سوالات ایسے تمام علماء سے ہے جو کہ باغ فدک کے حوالے سے کسی بھی قسم کی گفتگو میں شامل رہے ہیں۔ میرے سوالات ایسے تمام احباب سے بھی ہے جو کہ اس معاملے پر رائے زنی کرنا اپنا ایمانی مسئلہ سمجھتے ہیں۔

میرے سوالات یہ ہیں؛ کیا اس مسئلے پر بحث کرنے والوں نے کبھی خود باغ فدک دیکھا ہے؟ کیا وہ باغ فدک کی سالانہ پیداوار بتا سکتے ہیں؟ کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ آج باغ فدک کس کی ملکیت ہے؟ اور سب سے بڑھ کر کیا وہ باغ فدک کا رقبہ بیان کرسکتے ہیں؟

اِن سوالات کو پڑھ کر ایسے بہت سے اشخاص نے شائد باغ فدک لکھ کر انٹر نیٹ پر سرچ کیا ہو۔ ممکن ہے کچھ لوگوں کو اِن سوالات کے جوابات معلوم بھی ہوں مگر اس موضوع پر دھواں دار تقاریر کرنے والوں کی اکثر یت اِن باتوں سے لاعلم ہوگی۔ اَب اُن ہی تمام افراد سے اگر پوچھا جائے کہ ظہر کی فرض نماز میں کتنی رکعات ہوتی ہیں تو سب کا جواب ہوگا ۴۔ اس جواب میں الحمد للہ شیعہ اور سنی میں بھی کوئی تفریق نہیں۔ اِنہی افراد سے سوال کیجئے کہ روزے کس مہینے میں فرض ہیں تو جواب ہوگا رمضان اور اس جواب میں بھی مسلمانوں کے کسی بھی مسلک اور فرقے میں کوئی فرق نہیں۔

ان دونوں قسم کے سوالوں کے جوابات کے فرق کی وجہ بڑی ہی سادہ ہے۔ نماز ہمارے ایمان کا حصہ ہے، فدک ہماری تاریخ کا حصہ ہے۔ ایمانیات کو ایمانیات کے اصولوں سے جانچا جاتا ہے اور تاریخ کو تاریخ کو اصولوں سے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ تاریخ کو اُس دور کے مخصوص تناظر میں پرکھا جاتا ہے۔ آج کے اصولوں سے گزرے ہوئے کل کا تجزیہ درست نہیں ہوسکتا۔ تاریخ کے ایک واقعے کو پوری تاریخ سے کاٹ کر بھی نہیں دیکھا جاسکتا اور سب سے بڑھ کر تاریخی واقعات، کہ جن کا تذکرہ تاریخ کی مستند کتب میں موجود ہے، اور قصے کہانیوں کو ملایا نہیں جاسکتا۔ پھر بات یہ بھی ہے کہ تاریخ پر مورخین کو بات کرنی چاہئے۔ تاریخ کے مباحث خالص عالمانہ مباحث ہیں کہ جن کو نہ تو عوام کی تفریح بننا چاہئے نہ ہی یوٹیوب کی ویڈیو۔ مگر بدقسمتی سے آج تاریخ ایک قسم کی تفریح بن گئی ہے۔ اور اس حالیہ واقعے میں علمائے دین نے جو کردار ادا کیا ہے اِس سے بھی یہ معاملہ مزید عجیب ہوگیا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہمارے ملک میں کبھی باغ فدک، کبھی سندھ کی فتح کبھی واقعہ کربلا، کبھی جنگ صفین، جمل اور کبھی نہروان کیوں باعث نزاع بن جاتے ہیں؟ کیا یہ سب واقعی کوئی ایسے زخم ہیں جو کہ رِس رہے ہیں یا پھر وجہ کچھ اور ہے؟

اس پورے معاملے کی سب سے بنیادی وجہ آج کی تاریخ میں یہ ہے کہ دین ہماری اجتماعی اور انفرادی زندگی میں اب ایک مکمل اجنبی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہمارا سماج اب مغربی سرمایہ دارانہ سماج کا سستا سا چربہ ہے۔ ہماری خواہشیں، امنگیں، امیدیں ساری ہی سرمائے کے گرد گھومتی ہیں۔ لوگ ترقی، جمہوریت، آزادی وغیرہ جیسے تمام ہی تصورات پر مکمل ایمان لا چکے ہیں۔ لوگ اپنی محافل میں زمینوں کی قیمتوں کے تذکرے پر ہی نشے میں آجاتے ہیں یا غش کھا کر گرنے لگتے ہیں۔ کسی کی اچھی نوکری ہوجائے تو یو ں لگتا ہے کہ اسکی تو جیسے مغفرت ہی ہوگئی۔ اب لوگوں کو جہنم میں جانے سے زیادہ اس بات سے ڈر لگتا ہے کہ کہیں انکا اے ٹی ایم کارڈ کبھی رات کو پیسے نکالتے ہوئے مشین میں نہ پھنس جائے۔ لوگوں کو اصل زندگی میں ’انکریمنٹ‘ اور ’پرموشن‘ کے رِستے زخم ستاتے رہتے ہیں۔ پھر اسکے بعد یہ غم دل کو ’سرکے‘کی طرح گلاتے رہتے ہیں کہ انکے کلاس فیلو کی تنخوہ اُن سے دگنی ہے۔ لیکن سرمایہ داری کے ادنیٰ حرکارے کی زندگی میں کوئی خاص رنگینی تو ہوتی نہیں اور نون، تیل اور لکڑی کے مسائل میں کوئی ڈرامائیت بھی نہیں ہوتی ہے نہ ہی کوئی رومانویت اسلئے یا تو لوگ فلمیں دیکھ کر اپنی زندگی کی ڈرامائیت کی کمی پوری کرتے ہیں۔ مگر فلم تو یک بہرحال ایک حرام تفریح ہے۔ ایسے میں بے رنگ زندگی میں رنگ بھرنے کا ایک ذریعہ مذہب بھی ہے۔ پھر مذہب کے عقائد و عبادات کی زندگی زُہد تقویٰ کی متقاضی ہے۔ قناعت و انکساری کی متقاضی ہے۔ اتنی محنت کون کرے اور اس سرمایہ داری کے کاموں کے ساتھ کون یہ اضافی بوجھ اُٹھائے۔ اسلئے مذہبی تاریخ ایک نامعلوم برعظم کی طرح نظر آتا ہے۔ اب مذہبی تاریخ پر زبانی جمع خرچ سے لوگوں کو جزباتی تسکین بھی مل جاتی ہے اور یوں بھی لگتا ہے کہ جیسے وہ تو کوئی اسلام کی خدمت ہی کر رہے ہیں۔

اس پورے نفسیاتی تناظر سے یہ نت نئی مذہبی تاریخ کی بحثیں برامد ہوتی ہیں۔ مساجد و مدارس سے منسلک افراد کو معلوم ہے کہ اب انکا مقام بڑی حد تک سماج میں بہت محدود ہے۔ آج کی تاریخ میں ہمارے معاشرے میں عملاً انکا مصرف مساجد کا نتظام چلانا ہے۔ اس ذیل میں نماز پڑھانے کے علاوہ قرآن پڑھانا، نکاح پڑھانا ہی انکے کام رہ گئے ہیں۔ وہ اپنے مدارس، جامعات و مساجد کی چہار دیواریوں میں بند ہیں اور سماج پر انکا اثر بس واجبی سا ہے۔ ایسے میں یا تو وہ مسلکی مباحث کے ذریعے خود کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہی یا پھر تاریخی مباحث سے۔ مذہبی تاریخ کے مباحث میں عوام کی دلچسپی کو دیکھ کر ایسی باتیں کرنے سے انہیں خود کو سماج میں فعال ثابت کرنے کا موقع نظر آتا ہے۔

کتنی عجیب بات ہے کہ ہمارے ملک میں مذہب پربڑی بڑی باتیں کرنے والے اور تاریخ پر اخلاقی حکم لگانے والے لوگ ماضی میں تو حق و باطل کی تلاش میں لگے رہتے ہیں لیکن حال میں حق کون ہے اور باطل کون نہ اسکا کوئی شعور رکھتے ہیں اور نہ ہی ایسا کوئی شعور انکی زندگیوں میں کہیں جھلکتا ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ اسلامی تاریخ کے واقعات کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ہر کچھ ماہ بعد ایک نئی بحث شروع کرنے والے لوگ یہ نہیں بتا پاتے کہ یہ مباحث اگر اتنے اہم ہیں تو پچھلے چودہ سو سال میں یہ باتیں مسلمانوں کی جمیع اکثریت میں بحث کا کھلونا کیوں نہیں بنے؟

کتنی عجیب بات ہے کہ آج نبیؐ کی میراث میں ملنے والے باغ کی ملکیت پر بحث کرنے والوں کے یہاں جب کوئی اس دنیا سے جاتا ہے تو اسکی میراث شریعت کت مطابق نہیں بانٹی جاتی۔ فدک پر بحث کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں نبی ؐ کی اصل میراث دین ہے۔ مسلمان ہونا کوئی مزاق یا ’تفریح‘ نہیں۔ یہ کوئی فیشن یا مشغلہ نہیں۔ یہ ایک ایسی زندگی ہے جو کہ اللہ کیلئے ہے۔ کاش یہ باتیں کرنے والے اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکتے اوردیکھتے کہ اسلام پر بڑی بڑی باتیں کرنا کتنا آسان ہے اور اسلامی زندگی کتنا مشکل۔ مگر آج تو اسلامی تاریخ مسلمانوں کا کھلونا ہے۔ بہتر ہوگا کہ یہ لوگ فلمیں دیکھ کر ہی اپنی زندگی کی بے رنگی کو دور کرلیں۔ یقینا فلمیں دیکھنا، مذہب کو تفریح بنانے سے تو کم تر درجے کا گناہ ہی ہو گا۔ کاش ایسی باتیں کرنے والوں کا اے ٹی ایم کارڈ مشین میں پھنس جائے۔ یا انکا انرکیمنٹ نہ لگے یا انکے گہرے دوست کی تنخواہ اُن سے تین گنا زیادہ ہوجائے تاکہ سرمایہ داری کے ان ادنیٰ پرزوں کو اصل رِستے زخموں کا اپنے مخصوص تناظر میں کچھ اندازہ ہوسکے۔

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
اردو کا ایک گمنام شاعر: خستہ گلشن آبادی — اظہر عزمی
next post
دو مینار، پاکستان بیتی —- تحریر:نعیم الرحمٰن

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.