تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

عامر تھکالے خوش قسمت ہے — فرحان کامرانی

by دانش ڈیسک 26/06/2020
written by دانش ڈیسک 26/06/2020
147

ابھی حال ہی میں پشاور سے ایک عجیب خبر آئی۔ معلوم ہوا کہ وہاں ایک نوجوان کو پولیس نے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر اسکو برہنہ کرکے اسکی ویڈیو بھی بنائی۔ اس نوجوان کا جرم یہ تھا کہ اس نے مبینہ طور پر ایک ویڈیو بنا کر پولیس کو گالیاں دی تھیں۔ اس وقت عامر تھکالے نشے میں تھا۔ اِن گالیوں کا پس منظر یہ ہے کہ عامر بیچارا دہاڑی دار ملازم تھا اور اِس لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہ افلاس کا شکار تھا۔ اُس بیچارے کو اپنی سمجھ کو مطابق اسکے زمہ دار پولیس والے لگے تو اسنے پولیس کو گالیں بکیں۔ بعد میں اُس نے ایک ویڈیو بنا کر پولیس سے معافی بھی مانگی تھی۔ خیر کسی کو گالی بکنا تو اچھا عمل نہیں مگر جو اُسکے ساتھ کیا گیا اِس سے پتہ چلتا ہے پولیس نے اپنے آپ کو اسکی گالیوں کے لائق ثابت کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ انسان کا بڑا پن اُسکے معاف کردینے کی اہلیت سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ ویسے بھی کسی فرد یا ادارے کو گالی بکنے والوں کے خلاف قوانین موجود ہیں۔ اگر پولیس کو عامر کو معاف نہیں کرنا تھا تو وہ اُسے اُسکے اس جرم میں گرفتار کرکے قانونی کاروائی بھی کرسکتی تھی مگرپولیس نے اُس بیچارے پر بہیمانہ تشدد کرکے اسکی ننگی ویڈیو بنانے اور وائرل کرنے کو اپنا انصاف سمجھا۔

اِس واقعے میں پاکستان کے خاص تناظر میں کوئی ’خاص‘ بات نہیں۔ یہ تو خیبر پختون خواہ کی بات ہے، پنجاب میں تو پورے پورے خاندان کے لوگوں کو گولیوں سے بھون ڈالا جاتا ہے۔ میں خود چار سال تک سند ھ پولیس کے ایک یونٹ میں نوکری کرتا رہا ہوں۔ وہاں ایک ڈی ایس پی صاحب بڑے فخر سے اپنے ’انکاونٹرز‘ کی کہانیاں سنایا کرتے تھے۔ بڑے فخر سے اس بات کا ذکر ہوتا تھا کہ چودھری اسلم تو کب کی سینچری مکمل کرچکا۔ بعد میں راؤ انوار نے نقیب اللہ کو انتہائی بہیمیت سے ہلاک کیا تو دنیا نے دیکھ لیا کے ہمارے ملک کی پولیس کے آگے ہمارے ملک کی عوام کی کیا اوقات ہے۔

پولیس والوں کی غنڈہ گردی تو ایک طرف رہی، پاکستان میں تو الحمد للہ پولیس والوں کے گھر والے بھی محلے میں بدمعاش بنے پھرتے ہیں۔ میرے زمانہ طالب علمی کی بات ہے ایک روز بس پر سوار یونیورسٹی جارہا تھا۔ بس لوگوں سے بری طرح بھری تھی۔ میں دروازے پر پائدان پر کھڑا تھا۔ ایک پولیس والے کو بس سے اترنا تھا اُسکا اسٹاپ نکل گیا تو اس نے چیخنا، چلانا گالیاں بکنا شروع کیا۔ دروازے سے نکلتے ہوئے اُسے میری وجہ سے رکاوٹ ہوئی تو اُس نے بہت جلال میں مجھے بس کے دروازے سے پیس دیا، گالیاں بکیں پھر نیچے اترا۔ یہ شخص پولیس کا ایس پی یا ڈی ایس پی نہیں تھا، یہ ایک معمولی کانسٹیبل تھا۔ اور بغیر بس کا کرایہ دیے بس میں سفر کررہا تھا۔ اور اسکا رویہ ایک عام مسافر کے ساتھ اتنا برا تھا۔ عام مسافر جو کہ کرایہ دے کر بس میں سفر کررہا تھا۔ عام مسافر جس کے دیے کرائے سے بس چلتی ہے۔

پولیس والے بسوں میں، رکشوں میں، ٹیکسیوں میں مفت میں سفر کرتے ہیں۔ دکانداروں، ٹھیلے والوں، کھوکھے، چائے والوں سے مفت میں چیزیں کھاتے ہیں، بھتہ لیتے ہیں۔ اور تو اور سندھ پولیس کے بہت سے اہلکار چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں بھی ملوث ہیں۔ میں نے پولیس میں ۴ سال کی ملازمت میں محض دو طرح کے لوگ دیکھے، ایک چور، دوسرے کام چور۔ جو چور ہیں وہ ہر قسم کی بدعنوانی کرنے پر آمادہ ہیں وہ قتل کرسکتے ہیں، اغوا برائے تاوان کرسکتے ہیں، ڈکیتی کرسکتے ہیں۔ جو کام چور ہیں وہ کسی کونے کنارے میں بیٹھ کر کوئی ایڈمنسٹریشن کی کمپیوٹر والی ٹاسک لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔ہر وقت پولیس کی سہولیات کا رونا رویا جاتا ہے مگر کام نہیں کیا جاتا۔ سندھ میں تو پولیس کی وردی ہر قسم کے ظلم کرنے کا ایسا لائسنس ہے کہ اسکا اندازہ باآسانی اقرار الحسن کے ایک پروگرام کو دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے جس میں ایک پاک قومی رضاکار کی وردی پہنے نقلی ڈی ایس پی کو شہر میں عورتوں کی عزت دری کرتا، لوگوں کو گولیاں مارتا دکھایا گیا ہے۔ اکثر پولیس والے یہ رونہ روتے رہتے تھے کہ محکمے میں انکا فلاں کام نہیں ہورہا۔ وجہ پوچھی جائے تو معلوم ہوتا تھا کہ کام کروانے جتنے پیسے نہیں ہیں۔ پتہ چلتا ہے کہ پولیس والے تو اپنے بھائی بندوں کو بھی نہیں بخشتے۔ بغیر رشوت یا دباؤ کے انکا بھی کوئی کام نہیں ہوتا۔

پولیس کا اپنا ماحول ایسا ہے کہ جس میں تشدد اندر تک بھرا ہوا ہے۔ پولیس والوں کے نفسیاتی ٹیسٹ لیتے ہوئے میری روح اکثر کانپ جایا کرتی تھی۔ اس طرح کے نفسیاتی نمونے مجھے کبھی شزوفرنیا کے شکار افراد میں بھی کم ہی ملے۔ روش یہ ہے کہ کسی ڈی ایس پی اور ایس ایس پی کو اپنے عملے کے کسی فرد کو سیدھا کرنا ہوتا ہے تو اسے اپنے دفتر بلوا کر پٹواتا ہے۔ یہ پولیس کے محکمے میں معمولی بات ہے۔

یہ کتنی بھیانک صورتحال ہے۔ یہ کیسی عجیب بات ہے۔ اس پس منظر میں تو بیچارا عامر تھکالے خوش قسمت ہے۔ وہ زندہ تو ہے۔ کیا معلوم پولیس والوں کو زیادہ جلال آجاتا تو اس پیچارے کو تشدد کے بعد مار ہی دیا جاتا۔ پاکستان میں ویسے بھی پولیس کے ہاتھوں مرنے والے مظلوم ایک دو نہیں ہزاروں ہیں۔ زرا سوچئے کہ جب راو انوار کے ہاتھوں ہونے والے ایک پولیس مقابلے میں ایک مظلوم نوجوان کو ماردیا گیا تو کیا ی ممکن نہیں کہ اُس سے قبل ہونے والے کئی سو پولیس مقابلوں میں اسکے ہاتھوں مرنے والے سارے لوگ نقیب اللہ کی طرح مظلوم ہی ہوں؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ چودھری اسلم کے ہاتھوں مرنے والے سارے لوگ بھی بیچارے سارے لوگ مظلوم ہی ہوں؟

اس پورے تناظر میں بیچارا عامر تھکالے تو بہت خوش قسمت انسان ہے۔ وہ زندہ تو ہے۔ عزت و حرمت گئی تو کوئی بات نہیں، ویسے بھی پاکستان میں مرتے دم تک عزت و توقیر بچ جانا ہی کسی معجزے سے کم نہیں۔ اپنی برہنہ ویڈیو پر بھی عامر کو شکر ادا کرنا چاہئے کہ پولیس والوں نے صرف برہنہ ہی کیا اور جنسی زیادتی کرتی ویڈیو بنالیتے تو انہیں کون روکتا؟ عامر کے جسم کے سارے زخم بھر جائیں گے اور روح کے زخم پاکستان میں کوئی معنی رکھتے ہی نہیں۔ ویسے اگر عامر تھکالے افریقی ہوتا اور اس پر امریکی پولیس نے یہ ظلم کیا ہوتا تو ابھی پاکستان میں ہر طرف عامر تھکالے کیلئے لوگ جذباتی ہوگئے ہوتے۔ سماجی میڈیا پر ٹرینڈ چل پڑ ہوتا۔ مگر عامر بیچارے کیلئے ایسا کچھ بھی ہوگا نہیں اسلئے کہ وہ پاکستانی ہے اور ظلم کرنے والی ہمارے اپنے وطن کی پولیس ہے۔ اسی لئے تو عامر تھکالے خوش قسمت ہے۔ corinna kopf cumshot

Facebook Comments Box
featuredپشاور پولیس گردیعامر تھکالےفرحان کامرانی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
There_ is_ No_ Honor_ In_ Killing —- Bubbly_ Shaikh
next post
جورڈن پیٹرسن : فیمنزم کے ستائے ہوئے مردوں کا مسیحا —- وحید مراد

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.