تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

پرندے کی رہائی — نعیم صادق

by دانش ڈیسک 14/06/2020
written by دانش ڈیسک 14/06/2020
75

جب چھوٹی سی آٹھ سالہ زہرہ نے غلطی سے چٹخنی کھولی تو اس نے نہ صرف پنجرے سے پرندے کو آزاد کیا بلکہ اپنی جان کو بھی اذیت اور غلامی کی زندگی سے آزاد کردیا۔ کچھ منٹوں میں وہ بھی جارج فلائیڈ کی طرح سانس لینے سے محروم ہوگئی۔ پاکستان میں چائلڈ لیبر استحصال اور ظلم و ستم کا ایک مکروہ تسلسل ہے۔ جسے دولت مند مالدار طبقے فروغ دیتے ہیں اور ریاست نظر انداز کرتی ہے۔ جس کے نتیجے میں لاکھوں بے سہارا اور غلامی سے دوچار بچوں کو اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بچوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے ان گنت قوانین اور کارروائیوں،، کمیشنوں،، کمیٹیوں،، اور ہیلپ لائنوں کی موجودگی کے باوجود، پاکستان ایک تسلسل سے اپنے بچوں کی حفاظت میں ناکام رہا ہے۔ روزانہ ان میں سے لاکھوں افراد زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنتے ہیں، وہ اپنے والدین کے ساتھ رہنے، اسکول جانے، اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنے اور بچپن کا مزہ لینے کے حق سے محروم ہیں۔ بچوں کے تحفظ کے غیر فعال محکمے اور بے حس پولیس صرف آگ میں ایندھن ڈال نے کا کام کرتی ہے۔

کیا پاکستان اس سلسلے میں ناکافی قانون سازی کا شکار ہے؟ جی نہیں، یہ ضرورت سے زیادہ، متضاد اور مجرمانہ قانون سازی کا شکار ہے۔ بچوں کے تحفظ کے 35 سے زائد قومی اور صوبائی قوانین کی موجود گی کے باوجود، کوئی دو ایسے قانون نہیں ہیں جو اس بات پر متفق ہیں کہ کب اور کہاں،کوئی بچہ گھریلو ملازم ہوسکتا ہے یا نہیں۔ بہت سے قوانین تو بچے کی بنیادی تعریف پر متفق نہیں ہیں۔ یعنی بچے کی عمر 18، 16، 14 یا 12 سال سے کم عمر بچے کہلانے کے مستحق ہیں یا نہیں۔

بچوں کے لیے پورے پاکستان میں ایک ہی قانون نافد العمل ہونا چاہیئے۔ جو پورے پاکستان میں لاگو ہو۔ آئین کے آرٹیکل 11 (3) کو اس طرح تبدیل کرنا چاہئے: ‘‘16 سال سے کم عمر کا کوئی بچہ کسی بھی گھر، فیکٹری، کان، مضر یا غیر مضر روزگار میں کسی بھی حیثیت سے ملازم نہیں ہوگا۔ 16 سے 18 سال کی عمر کے بچے صرف ان پیشوں میں کام کرسکتے ہیں جہاں کام کرنے میں کوئی خطرہ نہ ہو۔ اور ان کے کام کرنے کے حالات اور مقررہ گھنٹوں کو وضاحتی ضابطے کے تحت واضح کیا جائے۔

بچوں کے حقوق سے متعلق کنونشن کی 1990 میں توثیق ہونے کے بعد، پاکستان کو چائلڈ رائٹس ایکٹ پر قومی کمیشن بنانے میں 27 سال اور کمیشن کے قیام میں مزید 3 سال کا عر صہ لگا۔ سندھ چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی ایکٹ کو 2011 میں نافذ کیا گیا تھا۔ لیکن یہ اتھارٹی 2016 تک قائم نہیں ہوئی۔ 2019 میں نافذ ہونے والا،،،پنجاب ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ،،ابھی تک کمیٹیوں کے نوٹیفکیشن کا منتظر ہے۔ سندھ، خیبر پختون خوا (کے پی) اور بلوچستان نے گھریلو ملازمین کے لئے ابھی تک قانون بنانے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ ترکی میں آوارہ کتوں کی دیکھ بھال اور توجہ کے قوانین ہمارے بچوں کے لئے ہمارے حفاظتی اقدامات سے کہیں زیادہ موثر ہیں۔

پاکستان بچوں سے بدسلوکی کا ایک واحد ڈیٹا بیس اور ایک بھی قومی ہیلپ لائن قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یہاں دو درجن سے زیادہ نیم دلی سے کام کرنے والی ہیلپ لائنز ہیں جو یا تو بہت کم یا کچھ بھی مدد فراہم نہیں کرتی ہیں۔ سندھ چائلڈ پروٹیکشن ہیلپ لائن 1121، پچھلے تین ماہ سے بند پڑی ہے اور اس ہیلپ لائین سے کوئی جواب نہیں دیا جاتا ہے۔ زینب الرٹ ایکٹ 2020 کے تحت تشکیل دینے کے لئے ایک ایجنسی،، زارا،، کو نوٹیفیکش کرنے پر حکومت اپنی ذمہ داری سے گریزاں نظر آتی ہے۔ ملک بھر میں بچوں کی حفاظت کے لئے ایک ہی ہیلپ لائن ہونی چاہئے۔ جہاں شہریوں کی جانب سے 16 سال سے کم عمر بچوں کے گھریلو ملازمین کے معاملات کی اطلاع دینے پر ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

یہ پولیس کی ذمہ داری ہونی چاہیئے کہ وہ خود شکایت موصول ہونے پر شکایت دہندہ کے پاس جائے۔ صرف ایک فون کال موصول ہونے پر، پولیس کو ہی جائے وقوعہ پر پہنچنا، معلومات اکٹھا کرنا، ایف آئی آر درج کرنا، تحقیقات کا آغاز کرنا اور مجرموں کو پکڑنے کے لئے ضروری دیگر تمام کارروائیوں پر عملدرآمد کرنا چاہئے۔ بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے ہزاروں واقعات میں سے، صرف چند مٹھی بھرواقعات ہی ہوتے ہیں جن میں مجرموں کو سزا ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ لاہور میں 100 بچوں کے زیادتی اور قاتل نے بھی رضاکارانہ طور پر خود ہی گرفتاری دی تھی۔ اس طرح، ہمارا بوسیدہ نظام انصاف مجرموں کے لئے محفوظ راستہ کو یقینی بنانے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اسے ختم ہونا چاہئے۔

ریاست اور اشرافیہ کی ملی بھگت کے بغیر اس طرح کا خوفناک ناانصاف اور غیر انسانی سلوک کا نظام قائم نہیں رہ سکتا اور نہ ہی ترقی کرسکتا ہے۔ موجودہ صورت حال میں ہمارے بچے گھریلو ملازمین بن کر اسی طرح تشدد کا نشانہ بن کر مارے جاتیرہیں گے۔ کیوں کہ ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور ان کی گردنوں میں ظالمانہ نظام کا بھاری وزن ہے۔ آئیے اپنی زہراؤں اور زینب کے لئے اسی طرح کھڑے ہوجائیں جس طرح دنیا جارج فلائڈ کے لئے کھڑی ہوئی ہے۔

Facebook Comments Box
child abusechild safetyبچوں کا تحفظبچے
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
عورت کی پہچان —– رومانہ ملک   
next post
تاریخ گُم گَشتہ: خاتمہ کتاب (Epilogue) مائیکل مورگن — ترجمہ: ناصر فاروق

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.