تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالمکلچرکلچر، آرٹ

کراچی ہاٹ اور ثقافت کی دکانیں —- فرحان کامرانی

by دانش ڈیسک 14/06/2020
written by دانش ڈیسک 14/06/2020
191

کچھ عرصی قبل ملک کے بعض اخبارات میں کراچی کے عجائب گھر میں قائم ثقافتی اشیاء کی دکان ’کراچی ہاٹ‘ کے بارے میں کچھ مضامین پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اُن مضامین میں بڑی توصیف تھی کہ کس طرح یہ دکان سندھ کی ثقافت کو فروغ دے رہی ہے۔ عجیب بات ہے کہ ایک جانب عملی طور پر ثقافت مر رہی ہے اور دوسری جانب اِس نوع کے دکھاوے کے ثقافتی تماشو ں سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ثقافت کی حفاظت ہو گئی مگر ہمارا یہ اعتراض تفصیل طلب ہے۔

ثقافت ایک حقیقی شے ہے۔ ایک ایسی چیز جو اس ثقافت سے منسلک افراد کے لئے طرز زندگی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ثقافت کوئی ماسک یا کوئی ’کوسٹیوم‘ نہیں کہ اداکاری کے وقت پہننا ہے بعد میں اتار دیا۔ آج سے بیس سال قبل تک کراچی میں ہونے والی شادیوں میں معلوم ہو جاتا تھا کہ جس کی شادی ہو رہی ہے، اس کے باپ دادا، بہار سے آئے تھے، UP سے، CP سے، پنجاب سے یا حیدر آباد دکن یا کسی اور علاقے سے۔ ایسا اُن شادیوں میں ہونے والی رسوم سے، لباس کے چناؤ سے اور دیگر چیزوں سے معلوم ہو جاتا۔ اُس سے بیس سال قبل تو یہ بات شادی کے کھانوں سے بھی باآسانی معلوم ہو جایا کرتی مگر اب یہ حال ہے کہ کراچی کی ہر شادی میں ثقافتی رسوم تو کیا نکاح تک بھی ہال میں نہیں ہوتا۔ بارات، ولیمہ، مہندی، مایوں دراصل ساری ہی تقریبات بالکل ایک سی ہوتی ہیں۔ ’ڈسکو لائٹس‘ اور دلہا دلہن کی آمد، ڈرون کیمرے، برائڈل شاور، الغرض، اب ایک بھیانک یکسانیت نے اہل کراچی کی ساری ثقافتی رنگا رنگی کو ختم کر دیا۔

خیر کراچی جیسا ثقافتی خلاء تو ملک میں کم ہی شہروں میں ہے۔ ایک شہر بے رنگی میں کراچی کا بھی باپ ہے۔ اس شہر کا نام ہے اسلام آباد۔ وہاں گملے میں لگی غیر ملکی ثقافت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اب دیگر شہر بھی کراچی اور اسلام آباد کی ہی نہج پر چل پڑے ہیں۔ گاؤں البتہ ابھی کافی حد تک اپنی ثقافتوں سے جڑے ہیں مگر وہاں بھی شہری اثرات ایک زہریلے لمس کی طرح سرایت کر رہے ہیں۔

میں 2010ء میں گلگت اور استور گیا۔ وہاں پر پیدا ہونے والے ثقافتی بحران کو دیکھ کر میری روح کانپ گئی۔ ایک ایسا علاقہ جو نہ صرف قدرتی حسن سے مالا مال ہے بلکہ قدیم تہذیبوں کے نشانات سے بھی مزین ہے وہ آج NGO’s کے نشانے پر ہے۔ وہاں پر ’ترقی ترقی‘ کے راگ الاپ کر لوگوں کو ایک ایسی ذہنی الجھن میں مبتلا کیا گیا ہے کہ وہ اب بڑی حد تک ثقافتی طور پر یتیم ہوتے جا رہے ہیں۔ اِس کی سب سے بڑی مثال یہ کہ گلگت شہر میں اب روایتی لباس پہنے نوجوان شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں۔ اب سارے ہی نوجوان مغربی لباس پہننا چاہتے ہیں اور اپنی زبانوں، بولیوں اور ثقافت کو ترک کر کے ایک نوع کے Deformed انگریز بن جانا چاہتے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ Deformed انگریزوں کی اس دور افتادہ جگہ پر کیا قدر ہو گی؟ اسلئے یہ پورا سماج ہی ’نرس‘ اور ’وارڈ بوائے‘ بن کر کراچی اور دیگر شہروں کی کچی آبادیوں میں پہنچتا جاتا ہے۔

سندھ کے دیہی علاقوں میں بھی اب سندھی ٹوپی اور اجرک کی جگہ ’کیپ‘ اور ’ٹی شرٹ‘ لے رہی ہے۔ پختون خوا کی روایتی پگڑیاں بھی اب نوجوانوں کو بوجھ لگتی ہیں۔ بات صرف پگڑیوں اور ٹوپیوں کی ہے بھی نہیں، ہمارے سماج میں مروج تعلیم کچھ اس نوع کی ہے کہ جس کو بھی یہ مل جاتی ہے وہ اپنی ثقافت سے شرمندہ ہونے لگتا ہے۔ 2008ء کی بات ہے، ہم لاہور گئے، وہاں ہمارے ایک دوست نے روایتی لاہوری اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمیں لاہور گھمانے کی ذمہ د اری اٹھائی۔ اب وہ جب بھی ہمیں گھمانے لے کر جاتے تو وہی ’فورٹریس‘ مال یا کسی اور جدید بازار۔ ہماری سمجھ میں نہ آتا کہ وہ یہ بات کیوں نہیں سمجھ پا رہے کہ ہم لاہور کا تاریخی ورثہ دیکھنا چاہتے ہیں۔خیر وہ تو ہم نے خود ہی گھوم لیا، مگر بعد میں اندازہ ہوا کہ محترم دراصل ہم کراچی والوں کو یہ بتانا چاہتے تھے کہ وہ اور اُن کا شہر بہت ”ماڈرن“ ہے جب کہ ہمیں اُن کا شہر پرکشش ہی اسلئے لگتا تھا کہ اُس شہر کی ایک قدیم ثقافت ہے۔

جیسے جیسے قدیم ثقافتی نشانات سماج سے مٹنے جاتے ہیں ویسے ویسے یہ کلچر ڈے جیسے چونچلے بڑھتے ہی جاتے ہیں۔ کلچر نہ تو کوئی شو پیس ہے نہ ہی کوئی تھیٹر کا ایکٹ۔ کلچر تو زندگی کا ایک اسلوب ہے اور جس کا اپنا اسلوب ہوتا ہے اُس کو کبھی یاد دہانی کی ضرورت نہیں ہوتی مگر اب ڈھکوسلوں سے ثقافت کی گرتی عمارت کو سہارا دینے کی سعی جاری ہے بلکہ لوگوں کو لگ رہا ہے کہ کلچر کو بڑا فروغ مل گیا۔ اسلئے آپ بھی ’انجوائے‘ کیجئے اور کراچی ہاٹ سے ثقافتی تحفہ خرید کر اپنی دوست کے ’برائڈل شاور‘ پر اسے ’گفٹ‘ کیجئے۔ جئے کلچر۔۔۔

Facebook Comments Box
culturefeaturedKarachi Haat Shopفرحان کامرانیکراچی کلچرکلچر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
خاندان بھر کی پریشانی —- نعیم صادق
next post
’تفسیر ابن کثیر‘ کے تفسیر ی اصول — محمد زوہیب حنیف

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.