تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلمیکالم

تہذیب و ترتیب: طبِ قدیم: ارتقاء و اہمیت کا مختصر جائزہ — محمد شاہ جہان اقبال

by دانش ڈیسک 03/04/2020
written by دانش ڈیسک 03/04/2020
140
طبِ قدیم کا میڈیکل سائنس کی بنیادوں لہو صرف ہوا۔
حالیہ کرونا بحران میں چین نے اس وائرس سے نمٹنے کے لیے اپنی قدیم حکمت اور ہربل ادویہ سے بھی خوب کام کیا اور کامیاب ٹھہرے۔
طب قدیم کس قدر انسانی فطرت سے قریب تر ہے اسکا جائزہ اس سلسلہ کی پہلی تحریر میں لیا گیا ہے۔ آنے والی تحاریر اس موضوع کے مختلف پہلووں کو بیان کریں گی۔


وعلمہ الادم الاسماء کلہا
“اورآدم کو تمام اسماء کاعلم عطا کیا ”

حضرت آدم کو اللہ تعالی نے بہت سے علوم سے بہرہ مند فرمایا، دنیا کے علوم کی اگر دو بڑی اقسام کی جائے تو ایک کو علم الادیان اور دوسرا کو علم الابدان کہنا بے جا نا ہوگا۔ جس طرح دوسرے علوم و فنون ترقی کرتے رہے اسی طرح علم الابدان کی ترویج و ترقی بھی ہوتی رہی۔ علم الابدان کی ایک اہم شاخ علم طب ہے جس میں جسم کی حالتِ صحت اور حالتِ مرض پر بحث کیجاتی ہے۔

علمِ طب نےجدید میڈیکل سائنس کے لئے بنیادیں فراہم کی ہیں۔
طب کے آغاز، مرکز اور موجد کے حوالے سے تاریخ میں مختلف آراء گردش کرتی رہتی ہیں ان میں سے جدید تحقیق کے مطابق طب کا اولین مرکز “مابین النہرین” کوقراردیاگیاہے۔ 1952ء میں کریمر اور مارٹر لیوی نے پرانی حشتی تختیوں کو اولین طبی دستاویز قرار دیا ہے اس وقت سمیری سلطنت کی ایک قوم جو دجلہ فرات کے درمیانی علاقے میں آباد تھی یہ تقریبا تین ہزار سال قبل مسیح کا زمانہ بنتا ہے۔

بعد ازاں دو ہزار سال قبل مسیح سمیری قوم دو حصوں میں منقسم ہوئی جن میں ایک شمالی اور دوسرا جنوبی حصہ بنا، شمالی حصہ آشودیوں کے قبضہ میں آیا اس تحقیق کے مطابق اسقلی بیوس پہلا باقاعدہ یونانی طبیب ہے۔

اس کے بعد بقراط (460_ 377) قبل مسیح میں ایک جید عالم تھا۔ اس نے طب کی باقاعدہ تدوین کی اور مصری، مابین النہرین کے بکھرے طبی علوم کو جمع بھی کیاانہی کا معاصر سقراط جن کے قابل شاگرد افلاطون یہ اپنے زمانے کے متعدد علوم کے ماہر تھے طب میں ان کا حصہ قابلِ ستائش ہے۔ افلاطون کے ہی شاگرد ارسطو جو نہ صرف طبیب بلکہ علم منطق کے بانی بھی شمار کیے جاتےہیں انہوں بہت سی طبی کتب لکھ کر طبی و معالجاتی علم و عمل میں اضافہ کیا۔ ارسطو کی اعصاب (Nerves) پر تحقیق اور عروقِ دمویہ کا مرکز دل کو قرار دینا طب کا عظیم کار نامہ ہے۔ طب کا یہ سنہری دور کروٹ لیتا عیسوی دور میں پہنچا اس زمانے کی جامع شخصیت جالینوس ہیں۔ امام ابن خلدون جالینوس کے متعلق کچھ یوں رقمطرازہیں:

” قدمامیں علم طب کےامام جس کی کتابوں کا ترجمہ عربی میں کیا گیا جالینیوس ہے کہتے ہیں جالینوس حضرت عیسیؑ کا ہمعصر تھا۔ البتہ اس کی کتابیں معیاری مانی گئی ہیں”  (مقدمہ ابن خلدون ص610)

یہ وہ پہلا محقق ہے جس نے طب کو سائنس کہا۔ منافع الاعضاء (physiology) میں جسم کے ,6500, وظائف بیان کیے, قوی کی فعلیاتی تشریح، 500 عضلات کی صراحت، گردوں کی کارکردگی، پیدائش بول کی وضاحت، معدے کی ساخت اور فعل ور امراض کا خوابوں سے تعلق بیان کیا۔ اس حوالے سے جارج سارٹن کا بیان بڑا اہمیت کا حامل ہے۔ وہ لکھتےہیں۔

“جالینوس تک تحقیقات میں منافع الاعضاء (فزیالوجی )، علم الجنین کے میدان میں تحقیقات نے علم طب کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا”  (پیش لفظ کلیاتِ صابر ص، 8)

طب یونانی جب عرب کی سرزمین تک پہنچی تو اس میں گراں قدر اضافہ ہوئے عہد رسالتؐ کی فیوض و برکات نے اسے چار چاند لگا دیئے اس طرح یہ طب اسلامی کے روپ میں جلوہ گر ہوئی اس حوالے سے جارج سارٹن کا بیان بڑا اہمیت کا حامل ہے۔ وہ لکھتے ہیں

” جالینوس تک تحقیقات میں منافع الاعضاء (فزیالوجی )، علم الجنین کے میدان میں تحقیقات نے علم طب کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا”  (پیش لفظ کلیاتِ صابر ص، 8)

عرب کی سرزمین میں حارث بن کلدہ اور الحکم دمشقی کی طبی خدمات قابل قدر ہیں۔ مالک بن مروان کے عہد میں مایہ ناز اطباء ماسر جوئیہ، تیا ذوق، ماہر کیمیا دان خالد بن یزید اور جابر بن حیان جن کا نامیاتی اور غیر نامیاتی مرکبات میں کارنامہ قابلِ داد و تحسین ہے۔ مامون الرشید کے زمانے میں بیت الحکمت جیسا عظیم الشان ادارہ قائم کیا گیا جس سے بےشمار کتب کا عربی میں ترجمہ کیا گیا۔
ابن مسکویہ جس نے سب سے پہلے بندروں کا (Dissection) کیا اور تشریح الاعضاء (Anatomy) اور منافع الاعضاء (physiology) میں گراں قدر اضافہ کیا۔

انہی کے شاگرد حنین بن اسحاق نہیں ہڈیوں کے گودے (Bone Marrow) پتہ (Gall Blade) کی ساخت کے بارے مکمل تفہیم فراہم کی، جو بعدمیں امراض دمویہ اور امراض جگر کو سمجھنے میں کلیدی کردار کا حامل بھی ٹھہری۔ یاد رہے حنین بن اسحاق عرب عالم کا سب سے بڑا مترجم ہے۔

Jabir Bin Hayyan: The Father of Chemistry - جابر بن حیان٬ عظیم ...طبِ اسلامی میں محمد بن زکریا الرازی کا نام بھی سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہے رازی نے عصب راجع (Vagus Nerve) کی ہنجری ساخت آنکھ کے عضلہ ہدبیہ کے افعال، روشنی میں آنکھ کی پُتلی کے سکڑنے اور پھیلنے کے عمل اور small pox اور measles کے درمیان فرق جیسے عظیم کارنامے سرانجام دیئے اس فرق کی وضاحت سے امراض اطفال پر بحث کا نیا در وا ہوا۔ اس ہی دور کے علی بن عباس مجوسی جنہوں نے اپنے کتاب “کامل الصناعہ” میں عروقِ شعریہ (capillaries) کے نظام کی, بچے کی پیدائش میں رحم کے عضلاتی سکیڑ سےبچے کی پیدائش کی مکمل معرفت بخشی۔

اس دور میں ابوسہیل مسیحی نے دل کے کواڑیوں (cordic Valve)  کی ساخت اور افعال کو مکمل شرح و بست کے ساتھ بیان کیا۔ انھوں نے ہی غذائی نالی کے مختلف مراحل پر غذا کے انجذاب واستحالہ (Digestive Metabolism) کی تشریح اور فرق کو بیان کیا۔
اس طرح القاسم الزہراوی جنہوں نے آلات جراحی کو متعارف کروایا بلکہ جدید سرجری کی بنیادبھی ڈالی، انہی کو علم الجراحت کا بانی قرار دیا جاتا ہے۔

گیارہویں صدی میں ابن الہیشم نے کتاب “المناظر” لکھ کر آنکھ سے لے کر دوربین اور خورد بین تک کے بند دروازے کھول دیئے۔ الہیشم نے (visual Perception) کو جس طرح بیان کیا آج تک من و عن چلا آرہا ہے۔ ابن الہیشم نے عدسہ (Lens) کی اصطلاح اور شکیبہ کے عمل کی وضاحت بھی کی، اس صدی کے شہرہ آفاق طبیب شیخ الرائس بوعلی سینا جن کی مشہور کتاب “القانون فی الطب” (Canon of Medicine) نے یورپ کی بہت سی یونیورسٹیوں پر اپنا راج جمائے رکھا۔ بوعلی سینا نے پہلی بار سخت نسیج (Tough Tissue) مثلاً ہڈی وغیرہ کے ورم اور سوجن کو قبول کرنے کی صلاحیت کو بیان کیا۔ بوعلی سینا نے canon of medicine میں اعصاب، عضلات، وریدوں، شریانوں نیز ہڈیوں سے متعلق امراض و علامات کے متعلق ادوایات کے استعمال کو مکمل شرح سے بیان کیا۔ امراض تنفس میں سانس کی کیفیت و کمیت اور اس کے تغیرات کی تشریح پیش کی جو آج بھی مسلمات کا درجہ رکھتی ہے۔

گیارہویں بارہویں صدی کے عالم طبیب میں جبرائیل بن عبداللہ ابی بن صادق، علی بن عیسیٰ، عبداللہ بن جبرائیل، اسماعیل جرجانی، ابو البرکات بغدادی، ابن زہر، ابن ابیطار، تیرہویں صدی کے شرف الدین، انقف، ابن نفیس، ابن نفیس جو دوران خون کے موجد بھی کہلاتے ہیں۔

Química artesanal | Capitan Swing y Saint Le Mortچودھویں صدی میں کمال الدین فارسی، منصور بن محمد، ابن خاتمہ، ابن خاتمہ ہی نئی جراثیم تھیوری کے اولین شارح ہیں انہوں نے طاعون کی وبا میں جراثیم کی مختلف اقسام اور ان کے انسانی جسم سے تعلق کو بھی ثابت کیا، ابھی قریب ہی کے زمانے کے طبیبِ حاذق حکیم اجمل خان، حکیم عبدالوہاب انصاری جو علم طب کے مایہ ناز معالج تھے۔ ان کی نباضی کا چرچا چار سو تھا نبض اور قارورے سے بغیر لیبارٹری ٹیسٹ امراض کی تشخیص کا وہ مکمل ملکہ رکھتے تھے۔ ان کی نباضی کے متعلق کتاب “اسرار شریانیہ” سے بہت سے اطباء نے حیران کن استفادہ کیا اور کر رہے ہیں۔

انیسویں صدی کے عظیم مجدد اور محقق حضرت دوست محمد صابر ملتانی جنہوں نے طب میں مجددیت کا فریضہ سرانجام دیا۔ آپ نے طب کی دنیا میں اپنی بے شمار تصانیف سے انقلاب پیدا کیا۔ آپ نے طب کی تجدید فرمائی اور قانون مفرد اعضاء (Simple Organ Patty) سے متعارف کروایا۔ امراض کی ماہیت، سوزش و اورام کی مکمل تصریح، فرنگی طب کی لاعلمی، مفرد اعضاء کی انسانی جسم میں اہمیت ان کا اخلاط سے تعلق، اخلاط کے پیدائش کا مکمل جائزہ، مفرد و مرکب ادویات کے جسم پر اثرات، غذا کا صحت اور مرض میں کردار، کیفیات سے پیدا عارضی علامات کا تجزیہ، ڈاکٹر ہانیمن کے فلسفہ سورا، سائیکوسس اور سفلس کا بہترین علمی محاکمہ، طب یونانی کی، 42، (کم و بیش) نبضوں کو چھ میں ضم کرنے کا کارنامہ اور اس کے علاوہ دیگر علمی وطبی مباحث نے طب کے واسطے نئی راہیں کھول دیں۔ اس وقت ملک کے طول و عرض میں صابر ملتانی رحمۃ اللہ تعالی کی پیش کردہ تھراپی سے ہزاروں طبیب، مخلوقِ خدا کی خدمت میں سرگرم ہیں۔ آپ کی پیش کردہ تھراپی کو انشاءاللہ وقتاً فوقتاً پیش کرتا رہوں گا تاکہ ہمیں اس بات کا مکمل ادراک نصیب ہو کہ طب میں کس قدر جان ہے۔ اور یہی ہماری فطرت کا قریب ترین معالجہ بھی ہے۔
بقول علامہ اقبال
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندہءِ صحرائی یا مردِ کہستانی

Facebook Comments Box
capillariesDigestive MetabolismfeaturedSimple Organ Pattyابن ابیطارابن الہیشمابن خاتمہابن زہرابن مسکویہابو البرکات بغدادیابوسہیل مسیحیاسماعیل جرجانیالحکم دمشقیالقاسم الزہراویالقانون فی الطبالمناظرالہیشمبوعلی سیناتیا ذوقجابر بن حیانجالینوسجبرائیل بن عبداللہ ابی بن صادقحارث بن کلدہحکمتحکیمحکیم اجمل خانحکیم عبدالوہاب انصاریحنین بن اسحاقدوست محمد صابر ملتانیشاہ جہاں اقبالطبطبِ قدیمعبداللہ بن جبرائیلعروقِ شعریہعلی بن عیسیٰکمال الدین فارسیمابین النہرینماسر جوئیہمحمد بن زکریا الرازیمنصور بن محمدیونانی طبیب
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
گڑیا —- ناعمہ قاضی
next post
ذوالفقار علی بھٹو: مجموعہ اضداد —– پروفیسر غلام شبیر

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.