تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلم و ادبفکشن

حاشیے میں لکھی ہوئی کہانی —- نجیبہ عارف

by ڈاکٹر نجیبہ عارف 28/03/2020
written by ڈاکٹر نجیبہ عارف 28/03/2020
153

جیسے ہی شام گہری ہوتی ہے، بیس منٹ سے آنے والی آوازیں اونچی ہونے لگتی ہیں۔ ڈھن ڈھن ڈھڑن۔ ۔ ۔ ڈھن ڈھن ڈھڑن۔ ۔ ۔ ۔ ڈھن ڈھن ڈھڑن۔ ۔ ۔

ان آوازوں میں موسیقی کم، شور زیادہ ہوتا ہے۔ ایک تند و تیز، خود سر وحشت کا شور۔ ایک سرکش بے بسی، یا بے بس سرکشی کا باغیانہ لحن۔ غصے کاکریلا غم کی تلخ نیم پر پھیلتا جاتا ہے۔

”وہ پھرڈرم بجانے لگا ہے“۔ اس کی ماں فکرمندی سے اس کے باپ کی طرف دیکھتی ہے۔

باپ بے فکری سے شانے اچکاتا ہے اور اس کی ماں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ فکر کی کوئی بات نہیں، خود ہی آہستہ آہستہ ٹھیک ہو جائے گا۔ پھر وہ اندر اپنے کمرے میں چلا جاتا ہے اور ٹی وی دیکھنے میں منہمک ہو جاتاہے یا کم از کم منہمک نظر آتا ہے۔

ماں بھی بستر پر لیٹ جاتی ہے اور کتاب اٹھا لیتی ہے۔ وہ پڑھنے میں مشغول ہونے کی شدت سے کوشش کرتی ہے۔ کئی کئی منٹ کے بعد وہ اس کوشش میں کامیاب بھی ہو جاتی ہے اور چند ایک جملے پڑھ کر دل ہی دل میں انھیں دہرانے اور سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ دو ایک بار کی مشقت سے اس کا دل الجھنے لگتا ہے۔ وہ کتاب بند کر دیتی ہے۔

”اب چیزیں آسانی سے میری سمجھ میں نہیں آتیں۔ میں بوڑھی ہو گئی ہوں۔ “ وہ خود سے شکایت کرتی ہے۔ اور کتاب بند کر کے ٹی وی کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے۔

”پھر Hunger Games؟ آخر کیوں دیکھتے ہیں یہ خونخوار فلمیں آپ؟ کیا مزا ملتا ہے آپ لوگوں کو؟ کیسی فطرت ہوتی ہے آپ مردوں کی؟“ وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی ہے اور دبی آواز میں احتجاج کرتی ہے۔ باپ کوئی توجہ نہیں دیتا۔ اس کی طرف دیکھتا تک نہیں، نہ اس کی کسی بات کا جواب دیتا ہے۔

ماں دوبارہ کتاب اٹھا لیتی ہے اور پڑھنے کی کوشش کرتی ہے۔ پھر کتاب بند کر کے سائڈ ٹیبل پر پٹخ دیتی ہے اور کوئی اور کتاب اٹھا کر کھول لیتی ہے۔ توجہ قائم نہیں ہوتی۔ اس کے اندر جیسے چھری کی نوک سی چبھ رہی ہے۔

وہ کتاب بند کر کے دوبارہ ٹی وی کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے۔

سکرین پر ایک قتل ہوتا ہے۔ تیر کسی انجانی سمت سے آتا ہے اور کسی انجان کے کلیجے کے پار ہو جاتا ہے۔ ایک سترہ اٹھارہ سال کے نوخیز کلیجے کے پار۔ دور کہیں، کچھ اور لوگ، خفیہ کیمروں کی مدد سے یہ سارا منظر دیکھتے اور خوشی سے چلاتے ہیں۔ ان کے کھیل میں جان پڑ چکی ہے۔ سکرین پر دو منظر ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ ایک طرف تیر کھانے والا نوجوان اپنی محبوبہ کی باہوں میں دم توڑنے کو ہے، اس کی محبوبہ کے چہرے پر وہی بے بس سرکشی یا سرکش بے بسی ہے، جس کی آواز بیس منٹ سے آرہی ہے،

ڈھن ڈھن ڈھڑن۔ ۔ ۔ ۔ ڈھن ڈھن ڈھڑن۔ ۔ ۔ ۔ ڈھن ڈھن ڈھڑن۔ ۔ ۔ ۔ ۔

دوسری طرف ایک پر آسائش کمرے میں کچھ لوگ ایک بہت بڑی سکرین پر خفیہ کیمروں کی مدد سے فلمایا جانے والا جنگل کا یہ منظر دیکھ رہے ہیں اورخوش ہو رہے ہیں کہ ان کا شو بہت کامیاب جا رہا ہے۔

ماں ایک دو منٹ تک صبر سے یہ کھیل دیکھتی رہتی ہے اور پھراپنے شوہر پر برسنے اور چیخنے لگتی ہے:

”آپ کو کسی اور کا بھی احساس ہے یا نہیں؟ کیا یہ کمرہ صرف آپ کا ہے؟ آپ یہاں اکیلے بیٹھے ہیں؟ آپ کو نہیں معلوم، کہ مجھے یہ مار دھاڑ، یہ قتل و غارت کے سین زہر لگتے ہیں۔ آپ کے سینے میں دل ہے یا نہیں؟ آپ کیسے یہ تشدد بھری فلمیں دیکھتے ہیں؟ آپ کیسے یہ کھیل برداشت کرتے ہیں؟ آپ کیسے انسان ہیں؟ آپ۔ ۔ آپ۔ ۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ اندر سے اتنے بے حس ہیں۔ “

”کیا ہو گیا بھئی، یہ سب کچھ تو محض ایک فلم ہے، حقیقت تھوڑا ہی ہے۔ “ اس کا شوہر سکون سے ٹی وی کی سکرین پر نظریں جمائے جمائے بولتا ہے۔

اس کے لہجے کا سکون ماں کو اور بھی بر افروختہ کر دیتا ہے۔

”یہ فلم ہے؟ جی نہیں، یہ حقیقت ہے، یہ حقیقت کا ایک امکان ہے۔ اس امکان کو ہمیں کیوں دکھا یا جارہا ہے؟ کیا اس لیے کہ ہم اس امکان کو اپنی حقیقت بنا لیں؟ ہمیں تشدد پر آمادہ کرنے کے لیے؟ یہ سازش ہے۔ یہ ظلم ہے۔ یہ سراسر ناانصافی ہے۔ اور آپ اس ظلم میں شریک ہوتے ہیں۔ اس کا حصہ بنتے ہیں؟ آپ ان فلموں کو پسند کرتے ہیں۔ آپ۔ ۔ ۔ “ وہ ہسٹیریائی انداز میں چلاتی ہے تو اس کا شوہر غصے سے ٹی وی بند کر دیتا ہے اور ریموٹ اس کے سامنے پھینک دیتا ہے۔ پھر بغیر کوئی لفظ بولے، کروٹ بدل کر لیٹ جاتا ہے۔

اس کے کروٹ بدلتے ہی ماں کے اندر وحشت کا ایک سمندر بپھرنے لگتا ہے۔ ٹی وی کی آواز ختم ہوتے ہی بیس منٹ سے ڈرم کی آواز سنائی دینے لگتی ہے:

ڈھن ڈھن ڈھڑن۔ ۔ ۔ ۔ ڈھن ڈھن ڈھڑن۔ ۔ ۔ ۔ ڈھن ڈھن ڈھڑن

اس کا جی چاہتا ہے دیوار سے سر ٹکرائے، الٹی کھڑی ہو جائے، کچھ ایسا کرے کہ زمین آسمان کی گردش رک جائے۔

شوہر کے منھ موڑ لینے سے وہ اندر سے کمزور پڑ جاتی ہے۔ ڈرم کی آواز اس کے ارد گرد پھیل جاتی ہے، اسے اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے، اس کے کانوں پر ہتھوڑے بن کر برستی ہے۔

”سنیں۔ ۔ سنیں ذرا۔ ۔ ۔ وہ کیسے ڈرم بجا رہا ہے۔ ۔ ۔ “ وہ اپنے شوہر کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر اسے زور زور سے ہلاتی اور جھنجھوڑتی ہے۔

”تمھی نے لے کر دیا ہے یہ ڈرم اسے۔ ۔ ۔ میں نے منع بھی کیا تھا۔ “

شوہر کے اس طعنے پر اس کا خون کھول اٹھتا ہے۔

”اسی لیے لے کر دیا تھا کہ وہ اپنا غصہ نکال لے۔ ڈرم بجا کر نکال لے۔ بندوق نہ اٹھائے، چھریاں نہ چلائے۔ “

ہاں تو پھر ٹھیک ہے، بجانے دو اسے۔ اب کیوں اعتراض ہے؟

”اعتراض؟ اعتراض؟ میں اعتراض کر رہی ہوں؟“ ماں پھر بپھرنے لگتی ہے۔

”آپ سمجھتے کیوں نہیں؟ مجھے تکلیف ہو رہی ہے۔ وہ غصے میں ہے۔ وہ خود کو بے بس محسوس کر رہا ہے۔ وہ اپنی بے بسی پر کڑھ رہا ہے۔ اس کے اندر وحشت جمع ہو رہی ہے۔ یہ موسیقی نہیں ہے، یہ احتجاج ہے۔ وہ نعرے لگا رہا ہے۔ اس کے ہاتھ میں سٹک نہیں،ڈنڈے ہیں۔ “

”تمھی پر گیا ہے وہ! یہ وحشت تمھی سے لی ہے اس نے!“باپ منھ پھیرے پھیرے کہتا ہے۔

ماں کی قوتِ برداشت ختم ہو جاتی ہے۔

وہ تیزی سے بستر سے اٹھ کر باہر نکل جاتی ہے اور سیڑھیاں اترنے لگتی ہے۔ ڈرم کی آواز تیز ہونے لگتی ہے۔ شور سے اس کے کان پھٹنے لگتے ہیں۔ وہ بیس منٹ کے دروازے کو ہلکا سا دھکیلتی ہے۔ دروازہ اندر سے بند ہے۔ وہ دروازے پر آہستہ سے دستک دیتی ہے۔ کوئی جواب نہیں آتا۔ وہ پھر دستک دیتی ہے۔ پھر کوئی جواب نہیں آتا۔

ماں کی آنکھوں سے آنسو ڈھلکنے لگتے ہیں۔

وہ ایک دو منٹ وہیں کھڑے کھڑے آنسو بہاتی ہے۔ پھر آنسو اچھی طرح پونچھ لیتی ہے اور زور سے دستک دیتی ہے۔ دروازہ کھل جاتا ہے۔

وہ دروازہ کھول کر، ماں پر نظر ڈالے بغیر، دوبارہ ڈرم بجانے لگتا ہے۔ ماں اس کے قریب پڑے پلنگ پر بیٹھ جاتی ہے اور اس کے چہرے کی طرف دیکھنے لگتی ہے۔

آخر وہ ڈرم بجانا بند کر دیتا ہے اور سوالیہ نظروں سے ماں کی طرف دیکھتا ہے۔ ماں کچھ نہیں بولتی۔ پھر وہ کہتا ہے۔

”جی؟؟؟؟“۔

ماں کو سارے لفظ بھول جاتے ہیں۔ اس کے چہرے پر ایک شدید تناؤ پیدا ہو جاتا ہے جسے بیٹا سختی پر محمول کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ ماں اسے شور مچانے پر ڈانٹنے آئی ہے۔

”اگر شور سے اتنا ہی گھبراتے ہیں تو کمرے کو ساؤنڈ پروف کروادیں۔ ۔ ۔ اپنے کمرے سے نکل کر بیس منٹ میں تو شفٹ ہو گیا ہوں اب اور کیا کروں؟“ بیٹا تند اورسرد لہجے میں بولتا ہے۔

”بیٹا، میں شور سے گھبرا کر نہیں آئی۔ ۔ ۔ “ ماں اسے بتانا چاہتی ہے کہ وہ اس کی تکلیف کم کرنے کے لیے آئی ہے، لیکن بتا نہیں پاتی۔ اسے ڈر لگتا ہے کہ اس کا بیٹا اس کی باتوں پر یقین نہیں کرے گا۔

”تو اور کس لیے آئی ہیں؟ یہی مسئلہ ہو گا نا کہ بابا کو سونا ہے، رات کا وقت ہے، آواز دور تک جائے گی۔ پڑوسی ڈسٹرب ہوں گے۔ ۔ ۔ “ اس کا بیٹا تلخ لہجے میں اس کی نقل اتارتا ہے۔ وہ اندر سے دکھ جاتی ہے۔ اس کا دل ٹوٹنے لگتا ہے، لیکن وہ ہمت نہیں ہارتی۔

”نہیں بیٹا، میں تو یہ کہنے آئی ہوں کہ اس طرح ڈرم بجانے سے کیا ہوگا؟ بھول جاؤ اب اس بات کو، جو ہونا تھا ہو گیا؟ یہ کون سا ایسی بڑی بات ہے۔ ابھی۔ ۔ ۔ ۔ “

”کیا بھول جاؤں؟ کیوں بھول جاؤں؟ آخر میرا قصور کیا تھا؟ انھوں نے میری بات ہی نہیں سنی، وہ مجھ سے مل تو لیتے، میری بات تو سن لیتے، مجھے دیکھ تو لیتے۔ “

وہ اس کی بات کاٹ دیتا ہے۔

”انھوں نے تو مجھے بلایا تک نہیں، میرے کاغذات دیکھ کر ہی انکار بھیج دیا۔ اگر وہ مجھے انٹرویو کے لیے بلاتے تو میں انھیں قائل کر سکتا تھا کہ میں ہمیشہ کے لیے نہیں جا نا چاہتا۔ صرف گھومنے کے لیے جانا چاہتا ہوں، مجھے دنیا دیکھنے کا شوق ہے۔ “

اس کی آواز بھرا جاتی ہے۔ ماں کے اندر کٹار سی اترتی ہے۔ وہ سوچتی ہے، دوبارہ ویزے کے لیے اپلائی کر دے۔ پھر خیال آتا ہے، کہ دوبارہ انکار ہو گیا تو امکانات بالکل ہی معدوم ہو جائیں گے۔ یہی سوچ کر وہ کافی عرصے سے اپنے بیٹے کو ٹالتی آرہی تھی۔

”میں نے تو تمھیں بتایا تھا بیٹا، کتنا سمجھایا تھا کہ اس عمر کے نوجوانوں کو ویزا ملنا آسان نہیں ہے۔ مت اپلائی کرو، ایک بار انکار ہو جائے تو ہمیشہ کے لیے اس انکار کا حوالہ دینا پڑتا ہے۔ “

”مگر کیوں؟ انکار کیوں ہو جائے؟ آخر کیوں؟ میں نے کیا کیا ہے؟ میں کوئی دہشت گرد ہوں؟“

”تم دہشت گرد نہیں ہو، مگر یہ بات انھیں تو معلوم نہیں ہے ناں!“ماں نے اذیت ناک لہجے میں کہا۔

”کیوں معلوم نہیں ہے؟ کیا ہم میں سے ہر ایک کو ثابت کرنا پڑے گا کہ وہ دہشت گرد نہیں ہے؟“

اس کی باتیں ماں کے دل کو کاٹ رہی ہیں۔

”مجھ میں اور ان میں کیافرق ہے آخر؟“ وہ آئینے کے سامنے جا کر کھڑا ہو جاتا ہے۔

”آخر ویزے کی ضرورت ہی کیو ں ہوتی ہے؟ میں بغیر ویزے کے کہیں نہیں جا سکتا؟ میں اس دنیا میں اپنی مرضی سے نہیں گھوم سکتا؟“

”نہیں، بالکل نہیں، یہ عالمی قانون ہے، ہمیں ہر حال میں اس کا حترام کرنا ہوگا۔ “

ماں سختی سے اسے ٹوکتی ہے۔ اسے وہم ہونے لگتا ہے کہ کہیں وہ کوئی غیر قانونی راستہ اختیار نہ کر لے۔ اسے اپنے شوہر کی باتیں یاد آتی ہیں جو اپنے بیٹے کی اس خواہش کو شروع ہی سے کچل ڈالنا چاہتا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کے دل میں دنیا دیکھنے اور گھومنے پھرنے کی خواہش پیدا ہو۔ وہ چاہتا تھا وہ صرف پڑھائی پر توجہ دے۔ صبح سویرے سکول کالج جائے، شام کو سیدھا واپس گھر آئے اور اپنی کتابیں کھول کر بیٹھ جائے۔ بالکل ویسے ہی جیسے اس کے والد اس سے چاہتے تھے۔

یہ ماں ہی تھی جس نے اپنے بیٹے کے دل میں زندگی اور دنیا کی وسعتیں سمیٹ لینے کی خواہش پیدا کی تھی۔ کبھی کہانیوں سے، کبھی کتابوں سے، کبھی نظموں سے، کبھی باتوں باتوں میں۔ اسے ان خطّوں کے قصے سنائے تھے جو کرۂ ارض کے دوسرے کنارے پر تھے۔ ان لوگوں کی باتیں، جو برف کے گھروں میں رہتے ہیں، صحراؤں میں خانہ بدوش پھرتے ہیں یا پھر بڑے بڑے شہروں کے اونچے اونچے سکائی سکریپرز میں رہتے ہیں۔ ان کہانیوں نے اس کے اندر کی آگ میں چنگاریاں ڈال دی تھیں اور وہ بھڑک اٹھی تھی۔ اب وہ بے تاب تھا۔ زندگی کی نیرنگیوں کو اپنے اندر سمو لینے کے لیے، قوموں، نسلوں، زمینوں کے سب رنگ دیکھنے کے لیے۔ کب سے وہ ماں کے کانوں میں سرگوشیاں کر رہاتھا۔

”میں وہاں رہنا نہیں چاہتا۔ میں واپس آ جاؤں گا۔ میں تو بس دیکھنا چاہتا ہوں۔ اس ساری دنیا کو۔ “

وہ اسے سمجھاتا رہتا۔ وہ سن کر سوچ میں پڑ جاتی۔

حالات اب ویسے نہیں رہے تھے جیسے خود اس کے بچپن میں تھے۔ دنیا کس تیزی سے بدل چکی تھی۔ اب دنیا کے رنگوں کو دیکھنے کے لیے آزادانہ گھومنا پھرنا ممکن نہیں رہا تھا۔ سو سو طرح کے مرحلے تھے۔ روپے پیسے کے علاوہ بھی کئی طرح کے قصے تھے، کئی طرح کی آزمائشیں تھیں۔

باپ تو پہلے ہی اس خیال کا مخالف تھا۔ وہ ماں سے اکثر ناراض ہو جاتا کہ اس نے کیوں اکلوتے بیٹے کے دل میں ایسی آرزو پیدا کی تھی جسے پورا کرنا ان کے بس میں نہ تھا۔ ماں خود کو اور بھی مجرم سمجھنے لگتی اور خود سے لڑتی۔

آخر ایک دن اس نے ہتھیار ڈال دیے۔ وہ اپنے بیٹے کی نگاہوں کی بے تابی پہچان گئی اور اس نے باپ سے چوری چوری اس کے سفر کے انتظامات شروع کر دیے۔

پیسے جمع کر لیے گئے تھے، آخری مرحلہ ویزے کا تھا۔ اس کا بیٹا بہت پر امید تھا۔ اسے یقین تھا کہ ویزا مل جائے گا۔ نہ ملنے کی کوئی وجہ ہی نہیں تھی۔ اس کی جیب میں رقم موجود تھی۔ وہ ایک ایسے سکول کا تعلیم یافتہ تھا جس کی ڈگری بین الاقوامی طور پر تسلیم کی جاتی تھی۔ وہ اس ملک کے پر امن باسی تھے۔ اس کے اور اس کے والدین کے خلاف کسی طرح کی کوئی بات ثابت نہیں کی جا سکتی تھی۔

یہ ٹھیک ہے کہ اس کے ملک میں دہشت گردی کا فتنہ تیزی سے پھیل رہا تھا لیکن وہ تو خود اس کا شکار ہو رہے تھے۔ اسے امید تھی کہ ویزا افسر اس کی بین الاقوامیت کو فروغ دینے کی خواہش کی تحسین کرے گا۔ وہ یہ جان کر خوش ہو گا کہ اس ملک کا ایک نوجوان انتہا پسندی کو شکست دینے کے لیے دنیا کے سفر پر روانہ ہونے والا ہے۔

اس کے دل میں ایسی ہی امیدوں کے باغ کھلے ہوئے تھے۔

لیکن یہ امیدیں پوری نہ ہو سکیں۔ اس کی توقع کے بالکل خلاف، ویزا افسر کے سامنے پیش ہونے اور اپنی بین الاقوامیت کا اظہار کرنے کا موقع ہی نہ آسکا۔ عرضی ڈالنے کے کچھ ہی دن بعد اس کا جواب آگیا۔ اس کی عرضی رد ہو گئی تھی۔

اس دن سے وہ اپنے کمرے میں بند تھا۔ ماں اور باپ ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے۔ گھر پر سناٹا تھا۔ کبھی کبھی بیس منٹ سے ڈرم بجانے کی آواز آجاتی تھی۔ ماں بھی دن مین دو تین بار اس کے کمرے میں چکر لگا آتی، حالاں کہ وہ کسی سے بات نہیں کرنا چاہتاتھا۔ ماں چاہتی تھی وہ اپنے دل کا غبار نکال لے۔ لیکن جب وہ بولنے لگتا تو ماں کا دل بیٹھنے لگتا۔

اس کے دل میں نفرت بھر گئی تھی۔ اس کا لہجہ سرد ہو گیا تھا۔

اس کی باتوں میں یکا یک فہم و شعور کی جھلک دکھائی دینے لگی تھی۔ اسے نظر آ رہا تھا کہ دنیا کی وسعتوں کو چھو کر دیکھنے کی اس کی خواہش بکھر چکی ہے۔ آئندہ کئی برسوں تک دنیا اس قابل نہیں ہو سکے گی کہ اس کے خطے کے باشندے بلا خوف و خطر دوسرے خطے کے رنگوں میں نہا سکیں۔ شکوک و شبہات کے سیاہ بادلوں نے بینائی سلب کر لی تھی۔ اس کے بڑھتے قدم روک دیے گئے تھے۔ وہ بار بار خود سے الجھتا تھا۔ ماں سے پوچھتا تھا، اپنی جلد کا رنگ دیکھتا تھا، اپنے پاسپورٹ کو گھورتا تھا۔

ماں کا دل ہول کھانے لگاتھا۔

وہ دیر تک چپ چاپ اس کے پاس بیٹھی رہی اور اس کی باتیں سنتی رہی۔

وہ سوال جن کا اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔

پھر وہ بوجھل قدموں سے اٹھی اور اپنے کمرے میں آگئی۔

اس کا شوہر اسی طرح کروٹ بدلے لیٹا ہوا تھا۔

وہ بھی پلنگ کے دوسری طرف جا کر لیٹ گئی اورسونے کی کوشش کرنے لگی۔

نیند اس کے قریب نہیں پھٹکی تو اس نے تکیے کے نیچے سے ریموٹ نکالا اور ٹی وی چلا دیا۔

Hunger Games اپنے کلائمکس پرتھی۔

وہ محوہو کر فلم دیکھنے لگی۔


نوٹ: حالیہ وبائی صورت حال کے تناظر میں، برطانوی ٹیلی وژن پروگرام London Realمیں، ۱۸ مارچ، ۲۰۲۰ کو انگریزی کے ایک معروف مصنف اور مقرر ڈیوڈ آئیک کی Hunger Games Society قائم کرنے کی منصوبہ بندی کے حوالے سے کی جانے والی گفتگو کے تناظر میں پانچ سال پہلے لکھا گیا افسانہ جو ماہنامہ ’’سنگت ‘‘کوئٹہ میں شائع ہوا تھا۔ یہ گفتگو درج ذیل لنک پر سنی جا سکتی ہے:

https://youtu.be/gMTZu6_TjU8

ن۔ع۔

 

Facebook Comments Box
corona storyNajeeba Arifافسانہکرونا مہانینجیبہ عارفوبا کے دن
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ڈاکٹر نجیبہ عارف

Prof. Dr Najeeba Arif has been appointed as Chair person Academy of Lettres, Islamabad. She was Dean of the Faculty of Languages and Literature (FLL) at International Islamic University Islamabad (IIUI). Dr. Najeeba is a Professor at the Department of Urdu in International Islamic University, Islamabad and is the founder-editor of the Index of Urdu Journals. She is a creative writer, poet and critic. She has authored and edited thirteen books and published more than 50 research papers in national and international journals and volumes like Annual of Urdu Studies (US), The Journal of Indology and South Asian Studies (Germany) and the Encyclopedia of the World of Islam. Her collection of poetry Ma’āni se Ziyāda won the Oxford University Press Award for Urdu Literature, 2015. She has also published her short stories, travel narratives and memoirs. In research, her field of interest is socio-political study of South Asian literature, Sufism and its literary manifestations and Occidentalism. She studied the impact of 9/11 on Urdu fiction and poetry in 2010 and presented it in a conference at the University of Wisconsin, Madison. Her post-doc research at SOAS focused on the Study of travel narratives of the South Asian Muslims who visited Europe in the colonial period and compiled their views about the West. She discovered and edited a few rare manuscripts of the travelogues and biographies of South Asian Muslims, penned in the eighteenth and nineteenth century. She also studied and wrote about classical Punjabi Sufi poets including Bullhe Shah, Mian Muhammad Bakhsh, Ali Hayder Multani and Ghulam Rasul Alampuri. She has presented papers in several International and national conferences and seminars in and out of Pakistan. Translation is one of her recent passions and she has translated multiple writings from English to Urdu, including a voluminous book on Mysticism, Philosophy and Science. She edited the renowned research journals Meyār (2009-2010) and Bunyād, (2013-2016) in the past.

previous post
نیازی بناتا نہیں آشیانہ —- مظفر حسن بلوچ کا اورنگزیب نیازی پر خاکہ
next post
میری کھڑکی میں اب بھی سرخ پھول کھلتے ہیں ——- راحیلہ سلطان

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.